Feb 7, 2026 07:42 AM Asia/Kathmandu
ہمیں فالو کریں:
ابوالقاسم حضرت سید شاہ محمداسماعیل حسن مارہروی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کامختصرتعارف

ابوالقاسم حضرت سید شاہ محمداسماعیل حسن مارہروی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کامختصرتعارف

13 Nov 2025
1 min read

ابوالقاسم حضرت سید شاہ محمداسماعیل حسن مارہروی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کامختصرتعارف

تحریر: غیاث الدین احمد عارفؔ مصباحیؔ نظامیؔ

 مشیر اعلیٰ نیپال اردو ٹائمز

اسم گرامی:

آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کا اسم گرامی اسماعیل حسن (رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ) ہے،یہ نام آپ کے نانا سید شاہ غلام محی الدین رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے تجویز فرمایا۔

ولادت مبارک: 

آپ کی ولادت مبارک ۳/ محرم الحرام 1272ہجری کو مارہرہ مطہرہ  ،ضلع ایٹہ ،یوپی میں ہوئی۔

کنیت ولقب: 

آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کی کنیت ابو القاسم اور لقب شاہ جی میاں ہے۔ تاریخ خاندان برکات صفحہ۵۷؍ پر ہے کہ اس  کنیت اور لقب کی تعیین اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان فاضل بریلوی قدس سرہٗ کے مرشد گرامی    حضرت سید شاہ آل رسول مارہروی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ  کی زبان مبارک سے ہوئی۔

دیگر القابات حسنہ:

حضور تاج العلماء سید شاہ اولاد رسول محمد میاں قادری رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے آپ کو ’’مفاوضات طیبہ ‘‘ کے سرورق پر ان پاکیزہ القابات سے یاد فرمایا ہے:بقیۃ السلف،حجۃ الخلف،واقف اسرار شریعت وطریقت،عارف رموز معرفت وحقیقت،زینت آرائے مسند برکاتیہ غوثیہ مطہرہ حضرت مولانا حاجی حافظ وقاری سید شاہ ابوالقاسم محمد اسماعیل حسن صاحب قادری، برکاتی، آل احمدی رضی اللہ تعالیٰ عنہ بالرضی السرمدی۔ ان کے علاوہ مختلف جگہوں پر وقت کے جید علماے کرام اور صاحبان طریقت ومعرفت نے آپ کو زبدة الكاملين، عمدة العارفين، شیخ الکاملین، عارف باللہ ، فنافی الرسول وغیرہ جیسے معزز ومکرم القابات سے یاد کیا ہے ۔

سلسلۂ نسب:

 حضرت ابو القاسم مولاناسید شاہ اسماعیل حسن مارہروی بن حضرت سید محمد صادق بن حضرت سید اولا د رسول بن حضرت شاہ سید آل برکات ستھرے میاں بن حضرت سید شاہ حمزہ بن سید شاہ آل محمد بن سید شاہ برکت اللہ بن سید شاہ اویس بن سید شاہ عبد الجلیل بن  سید شاہ عبد الواحد بلگرامی۔ الی آخرہ۔(علیہم الرحمۃ والرضوان) آپ کا سلسلہ نسب چند واسطوں سے سید الشہداء حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ کے توسط سے حضرت مولا علی کرم اللہ وجہہ الکریم تک پہنچتا ہے۔

خاندانی پس منظر:

آپ کے جدّ اعلیٰ سیدعلی عراقی رضی اللہ تعالی عنہ ترک وطن فرما کر قریہ واسطہ میں تشریف لا کر قیام پذیر ہوئے، یہ قریہ عراق عجم اور عراق عرب کے درمیان واقع ہے حضرت سید علی عراقی کے احفاد سے حضرت ابو الفرح واسطی اپنے چار صاحبزادوں کے ساتھ سلطان غزنوی کے زمانہ میں واسطہ سے غزنی تشریف لائے، ان میں سے ایک صاحبزادے سید ابو فراس ہیں جو جد سادات بلگرام کہلاتے ہیں۔ سید ابوالفراس تو کچھ عرصہ بعد ایک صاحبزادے کے ہمراہ واسطہ وآپس تشریف لے گئے اور بقیہ تین صاحبزادوں نے ہندوستان کا قصد فرمایا۔ سید ابو فراس نے جاجیز میں اقامت اختیار فرمائی، انہی کے احفاد میں سے حضرت سید محمد صغریٰ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ ہیں جنہوں نے سلطان شمس الدین التمش کے ایما پر راجہ بل گرام سے (جو سخت کافر اور بڑا سرکش تھا )جہاد کیا اور اس کے قتل کے بعد ۶۱۴؍ہجری میں فتح پائی۔ سلطان شمس الدیننے اس فتح کی خوشی میں بلگرام کا وسیع علاقہ حضرت کی جاگیر میں دے دیا ۔بلگرام کا اصل نام پہلے ’’سری‘‘تھا حضرت نے تبدیل فرما کر اس کا نام بلگرام رکھا، اس وقت سے حضرت کا خاندان حضرت میر سید عبدالواحد بلگرامی رحمۃ اللہ علیہ تک بلگرام میں رہا، اس کے بعد حضرت میر عبدالواحد بلگرامی کے بڑے صاحبزادے حضرت سید شاہ عبدالجلیل ۱۰۱۷؍ ہجری میں مارہرہ  شریف تشریف لائے۔ اسے آباد فرمایا اس وقت سے آج تک حضرت کی اولاد مارہرہ  شریف میں ہے۔ حضرت میر عبدالجلیل کے فرزند خرد حضرت سید شاہ اویس تھے،ان کے فرزند اکبر صاحب البرکات حضرت سید شاہ برکت اللہ مارہروی تھے انہی کی نسبت سے سلسلہ قادریہ برکاتیہ ہے۔(ماہنامہ اشرفیہ کاسیدین نمبرصفحہ:۲۷۷؍۲۷۸)

 تحصیل علم : 

آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے حفظ قرآن کریم حضرت حافظ ولی داد خان مارہروی ،حضرت حافظ قادر علی لکھنوی،حضرت  حافظ عبد الکریم ملکپوری رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہم کی نگرانی میں مکمل فرمایا۔اورحضرت مولانا شاہ عبد الشکور مہامی ، حضرت مولانا محمد حسن سنبھلی ، حضرت مولانا فضل اللہ فرنگی محلی، اورحضرت  مولاناشاہ عبد القادر بدایونی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہم سے درسیات کی تکمیل فرمائی۔ طریقت و تصوف و اخلاق ومعارف کی تعلیم اپنے والد ماجد  اورحضرت شاہ آلِ رسول، حضرت شاہ ابو الحسین نوری میاں، حضرت تاج الفحول بدایونی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہم سے حاصل کی۔

جوانی میں حفظ قرآن کریم :

 آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کو کلام الہی سے اس قدر شدید محبت تھی کہ آپ نے جوانی میں قرآن کریم حفظ فرمایا جیساکہ تاریخ خاندان برکات صفحہ۶۰؍ درج ہے:حضور تاج العلماء رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ فرماتے ہیں کہ: آپ نے جوانی کی عمر میں اپنے دلی شوق سے قرآن کریم حفظ کرنا شروع کیا اور ۱۲۹۳ھ میں اختتام فرمایا ۔ حضرت کے چھوٹے چچا سید حسن عسکری صاحب نے فقرہ’’حافظ شد‘‘ ( حافظ ہوئے) میں اس کی تاریخ فرمائی اور حضرت کے والد ماجد رحمہ اللہ نے اس کی خوشی میں حضرت کی فرمائش سے سیتا پور میں مسجد تعمیر فرمائی ۔

بیعت و خلافت:

آپ نے  اپنے نانا حضرت سید  شاہ غلام محی الدین رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ سے شرف بیعت اورخلافت واجازت  کی سعادت حاصل کی۔ ان کے علاوہ اپنےوالد ماجد  اور حضرت شاہ نوری میاں، حضرت شاہ ظہور حسین ، اور حضرت تاج الفحول مولا نا شاہ عبد القادر بدایونی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہم  کی بارگاہوں سے بھی خلافت اور اوراد و وظائف کی اجازت پائی۔

عقد نکاح:

آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کا عقدنکاح آپ کے سگے ماموں حضرت سید شاہ نور المصطفی رحمۃ اللہ علیہ کی چھوٹی صاحبزادی محترمہ سیدہ منظور فاطمہ رحمۃ اللہ علیہا سے ہوا ۔

اولاد:

آپ کے دو صاحب زادے تھے؛حضرت سید شاہ غلام محی الدین فقیر عالم ،تاج العلماءحضرت مولانا  سید محمد میاں قادری برکاتی  (رحمۃ اللہ علیہما)اور چار صاحبزادیاں تھیں جن کے اسمائے گرامی یہ ہیں؛ سیدہ زاہدہ فاطمہ منی بیگم،سیدہ اعجاز فاطمہ سجاد بیگم ،سیدہ حمیرہ خاتون رضیہ بیگم،سیدہ  اکرام فاطمہ شہر بانو(رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہن)

 اخلاق واوصاف:

آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ  کااخلاق و  کردار نہایت پاکیزہ، باوقار اور روحانیت سے معمور تھا۔ مناجات، عبادت، ذکر و فکر آپ کےدائمی معمولات میں شامل تھے۔ ظاہری علوم کے ساتھ ساتھ باطنی طریقت و تصوف کی تعلیم بھی ورثے میں ملی تھی۔ اس ظاہری وباطنی فضیلت کے حامل ہونے اور عظیم خانوادے سے ہونے کے باوجودآپ کے اندر بے انتہا انکسار اور تواضع تھا ، اپنے اساتذہ اور مشائخ کا حددرجہ احترام کرتے تھے، اور  کبروغرور اور نخوت سے پاک تھے۔آپ نے ایک کامل مرشد کی حیثیت سے ہمیشہ اپنے مریدین کی راہِ حق کی طرف رہنمائی کی، اور معاشرے میں دینی و اخلاقی اصلاح کا کام انجام دیا۔ آپ کے جملہ معاملات، گفتگو اور رویے میں نرم مزاجی، رحم و شفقت، حلم و بردباری کی خوب صورت  جھلک تھی۔خامیوں پر پردہ رکھتے، اچھائیوں کی حوصلہ افزائی کرتے۔یعنی آپ کی پوری زندگی عبادت الہی اور عشق رسول ﷺ سے عبارت تھی، احکام خداوندی اور فرامین مصطفوی صلی اللہ تعالی علیہ وسلم پر عمل آپ کی زندگی کا جزو لاینفک تھا ،یقیناً آپ سیرت و صورت میں اپنے سلف کے آئینہ دار اور زہد و اتقاء میں بزرگوں کی سچی تصویر تھے۔

سلسۂ قادریہ سے گہرا لگاؤ:

 جس وقت آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ مسند سجادگی پر رونق افروز ہوئے اس وقت آپ کو تیرہ سلاسل کی اجازت حاصل تھی لیکن سلسلۂ قادریہ سے آپ کو خاندانی روایت کے مطابق قلبی  لگاؤ تھا، اس لئے آپ نے اسی سلسلے کو فروغ بخشا، اسی کے فیوض و برکات سے مریدین و متوسلین کو مالا مال کیا اورشب وروز اسی سلسلے کی اشاعت کی جدو جہد فرمائی۔علما و مشائخ کو اسی سلسلے میں مرید کیا اور خلافت کی دولت سے بے بہا سرفراز فرمایا۔ 

آپ کی تصانیف:

 آپ نے متعدد کتب و رسائل تصنیف فرمائیں جن میں سے چند یہ ہیں: (١)مفاوضات طیبہ ( ۲ ) گلدستۂ چمنستان سنیت ( ۳ ) مجموعه رسائل منظوم ( ۴ ) رساله رد القضاء من الدعاء في أعمال دفع الوبا  ( ۵ ) کرامات ستھرے میاں ( ۲ ) مجموعۂ کلام۔ ( مجدد برکاتیت کی حیات و خدمات، ص : 21)

آپ کےخلفاء:

 آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ   کے خلفاء میں آپ کے دونوں صاحب زادے،ا ور حضور احسن العلما کے والد ماجد حضرت سید شاہ آل عبا قادری صاحب ، و سید العلماء وغیرہ ہیں۔آپ کے مشہور خلفاء میں ایک عظیم نام حضرت شیر بیشۂ اہل سنت حضرت علامہ حشمت علی لکھنوی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ   کاہے۔(اہل سنت کی آواز،2014ء ، خصوصی شمارہ: خلفائے خاندان برکات، ص، 190 تا 215] میں ملاحظہ فرمائیں۔) 

دین میں تصلب:

 آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ مسلک حق، اہل سنت و جماعت پر سختی سے عمل پیرا تھے اور اس معاملے میں حد درجہ متصلب تھے۔بد مذہبوں سے انتہائی نفرت فرماتے تھے اور ہر اس شخص سے قطع تعلق کر لیتے جس کے اندر بد مذہبیت پائی جاتی ۔ اپنے تمام متعلقین و متوسلین کو بھی اسی کا پیغام دیتے تھے۔جیساکہ ملفوظات مشائخ مارہرہ صفحہ۳۱؍ پر ہے کہ آپ نے ارشاد فرمایا :’’مذہب اہل سنت و جماعت پر ایسے جمے ہوئے رہیں کہ دوسرے متعصب جانیں اور شریعت مطہرہ کو اپنا دستور العمل بنائیں، مذہب اہل سنت کے پھیلانے اور بدعت کو مٹانے اور بد دین و بے دینوں کے رد کو اپنا مقصود نظر ٹھہرائیں۔

اعلیٰ حضرت کی حمایت ومحبت:

خانوادہ برکاتیہ امام احمد رضا قدس سرہٗ  العزیزکا پیر خانہ تھا اس لیے آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ خاندان برکات کے جملہ افراد سے عقیدت مندانہ رشتہ رکھتے تھے اور اسی طرح خانوادہ برکات کے مشائخ اور معاصرین بھی آپ کو حد درجہ چاہتے تھے، آپ کے ہر فتوے اور تحریر کو تسلیم کرتے تھے، اگر اعلیٰ حضرت رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کے خلاف کوئی زبان طعندراز کرتا تو اس کی سخت گرفت فرماتے تھے۔ حضرت سید شاہ ابوالقاسم مارہروی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ بھی اس سلسلے میں بڑے حساس تھے۔جیسا کہ پروفیسر سید جمال الدین اسلم برکاتی مارہروی اس حوالے سے لکھتے ہیں کہ:مفاوضات طیبہ سے اس بات کی بھی صریح وضاحت  ہو جاتی ہے کہ امام اہل سنت مجدد دین و ملت الشاہ مولانا احمد رضا خان فاضل بریلوی قادری برکاتی علیہ الرحمۃ الرضوان ابتدا ہی سے خانقاہ برکاتیہ کے روحانی فرزند اور رکن رکین تسلیم کیے گئے ،خانقاہ برکاتیہ سے مسلک اعلیٰ حضرت کی ترویج اشاعت کا جو سلسلہ جاری ہے وہ ایک موروثی فریضہ ہے دراصل مسلک اعلیٰ حضرت خانقاہ برکاتیہ کا عظیم ترین علمی و دینی تحفہ ورثہ ہے جو ایک نسل کے بعد دوسری نسل میں منتقل ہوتا رہتا ہے اور ان شاءاللہ منتقل ہوتا رہے گا۔(اہل سنت کی آواز، اکتوبر۱۹۹۶)

حالات زمانہ پر نظر:

عام طور سے دیکھا جاتا ہے کہ خانقاہی افراد کو دنیا اور دنیا کے حالات سے کوئی خاص دل چسپی نہیں رہتی لیکن ان کے برعکس آپ صرف گوشہ نشین صوفی نہ تھے بلکہ ملکی اور بین الاقوامی حالات و معاملات پر گہری نظر رکھتے تھے۔ تحریک خلافت ،تحریک پاکستان، تحریک ترک موالات وغیرہ کے بارے میں وہی موقف تھا جو اکابر اہل سنت کا رہا ہے۔ اس وقت جب بھی سنیت کے خلاف کوئی مضمون وغیرہ اخبارات و رسائل میں شائع ہوتا تو فورا نوٹس لیتے، مصروفیات سے وقت بچا کر دینی کتب کے مطالعے میں مشغول رہتے تھے

سفر آخرت:

 آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کا وصال یکم صفر المظفر ۱۳۴۷ھ مارہرہ شریف میں ہوا۔ آپ کا مزار مقدس خانقاہ برکاتیہ (مارہرہ شریف) میں مرجع خلائق ہے۔

خادم التدریس: مدرسہ عربیہ سعیدالعلوم،یکما ڈپو ،لکشمی پور،مہراج گنج(یوپی)

 

 

 

 

Abdul Jabbar Alimi

عبدالجبار علیمی نظامی نیپالی۔

چیف ایڈیٹر نیپال اردو ٹائمز 8795979383