Feb 7, 2026 07:42 AM Asia/Kathmandu
ہمیں فالو کریں:
نیپال میں مشائخِ مارہرہ کا روحانی فیضان

نیپال میں مشائخِ مارہرہ کا روحانی فیضان

13 Nov 2025
1 min read

نیپال میں مشائخِ مارہرہ کا روحانی فیضان

از:ابوالعطر محمد عبدالسلام امجدی برکاتی

برصغیر کی روحانی تاریخ میں خانقاہِ برکاتیہ مارہرہ شریف ایک ایسا نورانی مرکز ہے جہاں علم و عرفان، محبت و اخلاص، اور تربیت و روحانیت کا حسین امتزاج صدیوں سے جاری و ساری ہے۔ یہ وہ مرکزِ فیضان ہے جہاں سے عشقِ مصطفی ﷺ کی خوشبو، تصوف کی لطافت، علم کی روشنی، اور امت کی اصلاح کا پیغام ہر سمت پھیلتا رہا۔یہ خانقاہ  نہ صرف ایک علمی و روحانی درسگاہ ہے بلکہ ایک ایسی ربانی تحریک بھی ہے جس نے دلوں کو حیاتِ نو عطا کی، قوموں کو فکری استقامت دی، اور امت کو عشق و عمل کا درس دیا۔ یہ خانقاہ محض عمارت یا رسمی مدرسہ نہیں بلکہ ایک زندہ روحانی تحریک ہے جو دلوں کو حیاتِ نو عطا کرتی ہے، کردار کو سنوارتی ہے، اور امت کو عشق و عمل کا پیغام دیتی ہے۔ 

اسی روحانی تسلسل کی کرنیں نیپال کی سرزمین پر بھی اپنی جلوہ سامانی دکھا چکی ہیں۔ نیپال کے ترائی کے سرسبز میدانوں سے لے کر بلند پہاڑوں کی وادیوں تک، جنکپور سے لے کر کاٹھمانڈو کی گلیوں تک، اس بابرکت خانقاہ کا فیضان ہر طرف روشنی بکھیر رہا ہے۔ جہاں مشائخِ مارہرہ کے قدم بوسی کا شرف حاصل کرنے والوں نے اپنی روح و دل کو منور پایا، وہاں کے دل و دماغ میں نور و روحانیت کی ایسی کرنیں پھوٹی کہ ہر جگہ عشقِ رسول ﷺ، اخلاص اور محبت کی خوشبو محسوس ہوئی۔یہ پاکیزہ نسبت اور روحانی ربط وہاں کے ماحول میں ایک لطیف و دلنشیں رونق لے آیا، جس نے غفلت و بیگانگی کے گھنے سائے یکسر مٹا دیے۔ اب ان مقامات پر ذکر و فکر، محبت و وفا، اور اتباعِ سنت کی خوشبو ہر طرف پھیلی ہوئی ہے، اور فضائیں نورانی بہاروں سے معطر ہیں۔ یہ سب مشائخِ مارہرہ کی نظرِ کرم اور فیضِ روحانی کا روشن جلوہ ہے، جس نے نیپال کی فضاؤں کو بھی اپنے نور و برکت کی تابناک روشنی سے منور کر دیا۔

نیپال میں سلسلۂ برکاتیہ کا پہلا ورود:

نیپال میں سلسلۂ برکاتیہ کا پہلا نمایاں ورود ربیع الاول ۱۳۹۳ھ میں ہوا، جب حضور سیدالعلما علیہ الرحمہ نے وہاں کے جلیل القدر عالم و مفتی، حضور شیرِ نیپال مفتیجیش محمد صدیقی برکاتی علیہ الرحمہ کی دعوت پر تشریف لے جا کر تین روزہ عظیم الشان روحانی اجتماع میں شرکت فرمائی۔ اس اجتماع میں ہزاروں اہلِ ایمان شریک ہوئے اور ہندوستان و نیپال کے متعدد مشائخ و علما نے شرکت کر کے اس محفل کو تاریخِ روحانیت کا نادر باب بنا دیا۔

یہ وہ روحانی لمحہ تھا جب نیپال کے مختلف اضلاع اور بہار کے متعدد علاقوں سے آئے ہوئے ہزاروں عشاق نے حضور سیدالعلما علیہ الرحمہ کے دستِ حق پرست پر بیعت کی سعادت حاصل کی اور سلسلۂ عالیہ برکاتیہ میں داخل ہوئے۔ جو لوگ لاعلمی میں پھلواری بے شرع پیروں سے مرید ہوچکے تھے وہ اپنی بیعت توڑ کر آلِ رسول، جگر گوشۂ بتول حضور سیدالعلما علیہ الرحمہ کے دستِ حق پرست پر بیعت ہوگئے۔ صرف عوام ہی نہیں بلکہ اہلِ علم و فقہ کی ایک بڑی تعداد نے بھی اس بیعت کے ذریعے اپنی روحانی وابستگی کو خانقاہِ مارہرہ شریف سے مضبوط کیا۔ یہی وہ برکت و نسبت کا سرچشمہ ہے جس سے نیپال میں آج تک دین کی روشنی اور روحانیت کی لہر جاری ہے۔

نیپال میں علمی و روحانی اثرات اور مشائخِ عظام کی آمد:

اسی فیضان کے اثر سے اس خانقاہِ برکاتیہ سے منسوب کئی ادارے نیپال کی سرزمین پر قائم ہوئے، جہاں علم و عرفان کے چراغ روشن ہیں۔ متعدد علمی و دینی تصانیف بھی اسی نسبت کے فیضان سے منصۂ شہود پر آئیں۔ ان میں حضرت شیر نیپال علیہ الرحمہ کا مجموعۂ فتاویٰ فتاویٰ برکات، ایک مختصر مگر جامع رسالہ تحفہ برکات، اور فقیر کی تصنیف خطباتِ برکات شامل ہیں، جو چھتیس علمی و اصلاحی خطبات پر مشتمل ہے۔ ان میں احادیثِ نبویہ سے مزین مواعظِ حسنہ اور سنجیدہ فکری نکات قاری کے دل میں ایمان کی تازگی پیدا کرتے ہیں۔اسی روحانی تسلسل میں مشائخِ مارہرہ کے دیگر جلیل القدر سادات و مشائخ کی نیپال آمد نے بھی اس خطۂ ارضی کو نور و برکت سے معمور کر دیا۔ خانقاہِ برکاتیہ مارہرہ شریف کے مشائخِ عظام میں ایک نہایت جلیل القدر نام حضور احسن العلما حضرت علامہ الحافظ الشاہ مصطفیٰ حیدر حسن البرکاتی علیہ الرحمہ کا بھی ہے، جن کے فیضان و برکات کی ضیا سے نیپال کی سرزمین مدتوں تک منور و مزین رہی۔ آپ کی نگاہِ کرم نے نیپال کے علمائے دین، مشائخ و مبلغین، اور عوامِ اہلِ سنت کے لیے ایسی روحانی فضائیں پیدا کیں جن کی خوشبو آج تک دلوں کو معطر کر رہی ہے۔ نیپال کے علما کی دینی خدمات کو آپ ہمیشہ سراہتے اور اپنی دعاؤں کی خوشبو سے نیپال کے برکاتی گلزار کو مہکاتے رہتے۔ خصوصاً حضور شیر نیپال مفتی جیش محمد صدیقی برکاتی علیہ الرحمہ سے آپ کی محبت اور شفقت ایسی تھی کہ گویا نیپال کا گلشن آپ کی دعاؤں کے پھولوں سے لالہ‌زار بن گیا۔

حضور احسن العلما علیہ الرحمہ نے حضور شیرنیپال علیہ الرحمہ کی عظیم فقہی تصنیف ’’فتاویٰ برکات‘‘ پر جو تاثرات و تقریظ تحریر فرمائی، وہ ان کی علمی گہرائی، محبت و اعتماد، اور نیپال کے علماء کے ساتھ روحانی ربط کی جیتی جاگتی دلیل ہے۔ 

حضور نظمی میاں علیہ الرحمہ اور دیگر مشائخ کی نیپال آمد: 

حضور سید العلما اور حضور احسن العلما علیہما الرحمہ کے بعد، حضور نظمی میاں علیہ الرحمہ اور دیگر جلیل القدر سادات و مشائخ کی نیپال آمد نے اس خطۂ ارضی کو عشق و ولایت کی خوشبو سے معمور کر دیا۔ جب حضور نظمی میاں اپریل ۲۰۱۰ء میں جلسۂ برکات النبی لہنہ شریف میں تشریف فرما ہوئے، تو انہوں نے حضرت شیرنیپال علیہ الرحمہ کی شان میں وہ تاریخی جملہ ارشاد فرمایا جو آج بھی نیپال کے اہلِ محبت کے دلوں میں گونج رہا ہے:’’ہاں آپ کا پسینہ گرے گا، وہاں نظمی کا خون گرے گا۔‘‘یہ الفاظ صرف محبت کے اظہار نہیں بلکہ خانقاہی رشتے کو روحانی قرابت میں بدل دینے والا کلمۂ معرفت اور اخلاص بھی ہیں۔ ان سے نہ صرف نیپال کے اہلِ ایمان کے دلوں کو شدتِ جذبات اور محبتِ مرشد کی لہر محسوس ہوئی بلکہ خانقاہِ مارہرہ کی روحانی برکت بھی ان کی روحوں میں رچی بس گئی۔

اسی طرح حضور نظمی میاں کے فرزندِ ارجمند، سید سبطین حیدر میاں کی تشریف آوری بھی نیپال کے لیے خیر و برکت کا پیغام ثابت ہوئی۔ انہوں نے خانقاہِ برکاتیہ کے پیغامِ اعتدال، عشقِ رسول ﷺ، اور خدمتِ انسانیت کو وہاں کے نوجوانوں تک پہنچایا۔ ان کے بیانات اور مجالس نے روحانیت کو نئی تازگی بخشی، اور خانقاہ کے پیغام کو عوامی سطح پر مستحکم اور راسخ کر دیا۔

حضرت سید امان میاں مدظلہ العالی کی نیپال آمد اور فیضانِ برکات کی تجدید:

فیضانِ برکات کا یہ سلسلہ آج بھی جاری ہے۔ خانقاہِ مارہرہ شریف کے نوجوان ولیعہد، شہزادۂ امینِ ملت، حضرت سید امان میاں مدظلہ العالی کی زیارت و تشریف آوری نیپال کے عاشقانِ اہلِ بیت اور وابستگانِ سلسلہ برکاتیہ کے لیے روحانی تازگی اور تجدیدِ فیضان کا باعث بنتی ہے۔ آپ کی آمد نے وہاں کے دلوں میں وہی نور، یقین، اور اخلاص زندہ کیا جو حضور سیدالعلما علیہ الرحمہ کے قدموں سے شروع ہوا تھا۔حضرت سید امان میاں کی زیارت و فیضان، نیپال کے اہلِ محبت کے لیے روحانی تجدید کا موقع ہے۔ ان کے معزز وجود اور پیغام نے وہاں کے نوجوانوں میں عشقِ رسول ﷺ، محبتِ مرشد، اور خدمتِ دین کے جذبے کو فروغ دیا، اور خانقاہِ برکاتیہ کے پیغام کو ایک نئی روشنی اور تازگی عطا کی۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ خانقاہِ مارہرہ  کے مشائخ کی مسلسل آمد اور نیپال کے علما و عوام کے ساتھ قلبی تعلق نے اس خطۂ ارضی کو خانقاہی محبت، نورانیت، اور روحانیت کا مرکز بنا دیا ہے۔

آمدِ حضور سیدالعلما علیہ الرحمہ اور منظرِ بیعت:

شروع میں حضور سید العلما علیہ الرحمہ کے ورود مسعود کی طرف اشارہ ہوچکا ہے، یہاں ان کی آمد، فیضان و برکات کی چند جھلکیاں تفصیل کے ساتھ پیش کرتے ہیں، جسے نیپال کے معتمد عالمِ دین حضرت مولانا عبدالجبار منظری برکاتی صاحب نے اپنی کتاب "نقوشِ حیاتِ شیرنیپال" میں قلمبند کیا ہے۔آپ لکھتے ہیں:

’’محبوب العلماء حضرت مولانا محبوب رضا صاحب حضور سیدالعلما عظمتِ خاندانِ برکات کو مظفر پور اسٹیشن سے بذریعہ کار لے کر آئے۔ جیسے ہی حضرت کی آمد کی خبر ہوئی، حضرت شیر نیپال خود تمام اساتذہ، علمائے کرام اور طلبہ کے ساتھ استقبال کے لیے سڑک پر نکل آئے۔ نعرۂ تکبیر، رسالت اور نعرۂ غوثیت کی صدائیں بلند ہوئیں۔ علمائے کرام کے جھرمٹ میں سیدالعلما جامعہ حنفیہ تشریف لائے۔ حضرت کے شاہانہ مزاج کے مطابق شیر نیپال نے اپنے کمرہ میں حضور سیدالعلما کے قیام کا انتظام فرمایا تھا — نئی پلنگ، نیا گدا، نیا تکیہ، نئی چادر، نیا پردہ، سب دیدہ زیب اور خوبصورت۔ طویل سفر کے باوجود حضور سیدالعلما ہشاش بشاش نظر آ رہے تھے، چہرہ کھلا ہوا، نورانیت پھوٹ رہی تھی، ایسا لگتا تھا جیسے اپنے وقت کا شہنشاہ جلوہ فرما ہے۔‘‘رات کے بارہ بجے جب سامعین کا مجمع شباب پر تھا، حضرت اناؤنسر صاحب نے حضور سیدالعلما علیہ الرحمہ کا تعارف صوفیانہ انداز میں کرایا اور خطابت کا اعلان فرمایا۔ حضرت نے خطبۂ مسنونہ کے بعد اپنی تقریر شروع کی، اور ان کی نورانی صورت سے ایسا محسوس ہو رہا تھا جیسے نورِ عرفان کی موسلا دھار بارش ہو رہی ہو۔ دو ڈھائی گھنٹے حضرت نے خطاب فرمایا، اور بوقتِ فجر صلوٰۃ و سلام کی پرنور صداؤں کے ساتھ پہلی شب کا جلسہ بحسن و خوبی اختتام پذیر ہوا۔

منظری صاحب نے منظرِ بیعت کو بیان کرتے ہوئے لکھا ہے:’’آج ۱۳؍مارچ ۱۹۷۳ء ہے۔ حضور سیدالعلما نے غسل کا ارادہ فرمایا، فوراً غسل خانہ کی صفائی کی گئی ،غسل سے فراغت کے بعد بیعت کا سلسلہ شروع ہوا۔ حضرت شیر نیپال، حافظ خلیل صاحب، صوفی عطاالرحمن لہنہ، حافظ انوارالحق اور راقم عبدالجبار منظری نے حضور سیدالعلما کے دستِ اقدس پر بیعت کی اور سلسلہ قادریہ برکاتیہ میں داخل ہوئے۔ پھر عوام کا ہجوم امڈ آیا اور حضرت نے فرمایا: مفتی جیش صاحب کو بلا لاؤ، ہماری طرف سے سلسلہ میں لوگوں کو داخل کریں، ہم ان کو اجازت و خلافت عطا کرتے ہیں۔’ حضرت شیر نیپال نے فرمایا: آپ حضور سیدالعلما کے ہاتھ میں ہاتھ دے رہے ہیں۔ سرکارِ غوثِ اعظم رضی اللہ عنہ آپ سب کو اپنی غلامی میں قبول فرما رہے ہیں۔‘‘

یہ ایمان افروز واقعات صرف یادگار لمحات نہیں بلکہ خانقاہِ مارہرہ شریف کے فیضانِ باطنی کی لازوال داستان کے روشن اور زریں اوراق ہیں، جو صدیوں سے دلوں کو منور، کرداروں کو سنوار، اور معاشروں کو ایمان و اخلاق کی روشنی سے معمور کرتے آئے ہیں۔ یہ واقعات واضح ثبوت ہیں کہ خانقاہِ مارہرہ شریف کا فیضان آج بھی زندہ ہے، اور اس کی برکتیں زمان و مکان کی حدود سے ماورا ہو کر روحوں کو تازگی اور قلوب کو حرارتِ ایمان عطا کر رہی ہیں۔

یوں نیپال میں خانقاہِ برکاتیہ مارہرہ شریف کے مشائخ کی آمد اور ان کے فیضان و برکات کا سلسلہ نہ صرف ایک روحانی تاریخ کی تصویر ہے بلکہ اس کا عملی ثبوت بھی ہے کہ علم، تزکیہ، محبتِ رسول ﷺ، اور خدمتِ خلق کو کس طرح ایک زندہ تحریک میں پرویا جا سکتا ہے۔ اوریہ فیضان صرف فرد کے دل و دماغ تک محدود نہیں رہا بلکہ نیپال میں علم و فقه، تزکیہ و تربیت، اور عاشقانِ رسول ﷺ کے دلوں میں تعلقِ روحانی کی ایسی بنیاد رکھ دی جو آنے والی نسلوں کے لیے رہنمائی کا سرچشمہ ہے۔ 

خاکپائے اولیا

تاراپٹی،دھنوشا(نیپال)

حال مقیم:دوحہ قطر

۹؍نومبر ۲۰۲۵

Abdul Jabbar Alimi

عبدالجبار علیمی نظامی نیپالی۔

چیف ایڈیٹر نیپال اردو ٹائمز 8795979383