Mar 15, 2026 02:34 AM Asia/Kathmandu
ہمیں فالو کریں:
بے حیائی کا عالمی دن ! عبدالجبار علیمی نیپالی

بے حیائی کا عالمی دن ! عبدالجبار علیمی نیپالی

12 Feb 2026
1 min read

بے حیائی کا عالمی دن !

ایڈیٹر کے قلم سے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

دنیا کی تاریخ اس حقیقت کی گواہ ہے کہ قوموں کی ترقی صرف مادی وسائل، ٹیکنالوجی یا معاشی استحکام سے وابستہ نہیں ہوتی، بلکہ اس کی اصل بنیاد اخلاقی اقدار، تہذیبی شعور اور سماجی توازن پر قائم ہوتی ہے۔ جب کسی معاشرے میں اچھائی اور برائی کے پیمانے دھندلا جائیں، جب حیا اور بے حیائی کے درمیان حدِ فاصل کمزور پڑنے لگے، تو وہاں بظاہر چمک دمک کے باوجود ایک خاموش زوال جنم لینے لگتا ہے۔

ہر سال 14 فروری کو منایا جانے والا دن اسی بدلتے ہوئے اخلاقی منظرنامے کی ایک واضح علامت بن چکا ہے۔ اسے محبت کے اظہار کا دن کہا جاتا ہے، مگر عملی طور پر اس دن کی جو شکل معاشرے میں ابھرتی ہے، وہ سنجیدہ سوچ رکھنے والے حلقوں کے لیے باعثِ تشویش ہے۔ محبت جیسے مقدس جذبے کو جذباتی نمائش، نمائشی سرگرمیوں اور وقتی وابستگیوں کے ساتھ جوڑ دینا دراصل اس جذبے کی عظمت کو محدود کرنے کے مترادف ہے۔

محبت اپنی اصل میں ایک سنجیدہ، باوقار اور ذمہ دارانہ احساس ہے۔ یہ تعلق، احترام، وفاداری اور ایثار کا نام ہے۔ لیکن جب محبت کو محض ایک دن، چند رسمی تحائف، اور ظاہری اظہار تک محدود کر دیا جائے تو اس کی روح متاثر ہوتی ہے۔ اس سے بھی زیادہ تشویشناک پہلو یہ ہے کہ محبت کے نام پر ایسے رویّے فروغ پاتے ہیں جو اخلاقی حدود، سماجی وقار اور تہذیبی حساسیت سے متصادم ہوتے ہیں۔

اسلام، جو انسانی فطرت کا ترجمان اور اخلاقی توازن کا محافظ ہے، محبت کی نفی نہیں کرتا۔ بلکہ اسلام محبت کو ایک مقدس اور پاکیزہ جذبے کے طور پر تسلیم کرتا ہے۔ والدین سے محبت، اولاد سے شفقت، میاں بیوی کے درمیان مودّت، انسانیت سے ہمدردی — یہ سب وہ صورتیں ہیں جنہیں اسلام نے نہ صرف جائز قرار دیا بلکہ ان کی حوصلہ افزائی بھی کی ہے۔

مگر اسلام محبت کے نام پر بے راہ روی، بے حیائی اور حدودِ اخلاق سے تجاوز کی اجازت نہیں دیتا۔ قرآنِ کریم کا واضح پیغام یہ ہے کہ انسان ان تمام راستوں سے بھی دور رہے جو اخلاقی انحراف کا سبب بن سکتے ہیں۔ اسلامی معاشرت میں حیا کو بنیادی قدر کی حیثیت حاصل ہے۔ حیا صرف لباس کا مسئلہ نہیں، بلکہ فکر، کردار اور رویّے کا نام ہے۔

بدقسمتی سے جدید دور میں میڈیا، اشتہارات اور سماجی رجحانات نے اس دن کو اس انداز میں پیش کیا ہے کہ گویا یہ جدید تہذیب کی ناگزیر علامت ہو۔ نوجوان نسل، جو فطری طور پر جذباتی اور اثر پذیر ہوتی ہے، ان رجحانات سے سب سے زیادہ متاثر دکھائی دیتی ہے۔ محبت کے نام پر تعلقات کی سنجیدگی کمزور پڑ رہی ہے، جذبات کو ذمہ داری پر فوقیت دی جا رہی ہے، اور وقتی کشش کو مستقل وابستگی سمجھ لیا گیا ہے۔

یہ سوال انتہائی اہم ہے کہ کیا محبت کسی ایک دن کی محتاج ہے؟ کیا محبت کا اظہار محض رسمی سرگرمیوں اور نمائشی انداز تک محدود ہونا چاہیے؟ کیا حقیقی محبت وہ نہیں جو احترام، ذمہ داری اور اخلاقی وقار کے ساتھ جڑی ہو؟

سماجی حقیقت یہ ہے کہ جب کسی معاشرے میں بے حیائی معمول بننے لگے تو اخلاقی حساسیت بتدریج ختم ہونے لگتی ہے۔ وہ رویّے جو کبھی معیوب سمجھے جاتے تھے، رفتہ رفتہ قابلِ قبول بن جاتے ہیں۔ یہی وہ خاموش تبدیلی ہے جو معاشرتی توازن کو متاثر کرتی ہے۔

ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم جذبات کے بجائے شعور سے کام لیں۔ اندھی تقلید کے بجائے اپنی تہذیبی، اخلاقی اور مذہبی شناخت کو پیشِ نظر رکھیں۔ محبت کو بے حیائی، نمائش اور وقتی رجحانات سے الگ کرتے ہوئے اس کے اصل مقام پر بحال کریں۔

محبت ایک مقدس جذبہ ہے  اسے وقتی تہواروں اور سطحی تصورات کی نذر نہیں ہونا چاہیےکیونکہ جب محبت سے ذمہ داری نکل جائے تو وہ محض خواہش رہ جاتی ہے،اور جب معاشرہ حیا کھو دے تو وہ ترقی نہیں کرتا  اپنا توازن کھو دیتا ہے

Abdul Jabbar Alimi

عبدالجبار علیمی نظامی نیپالی۔

چیف ایڈیٹر نیپال اردو ٹائمز 8795979383