May 10, 2026 05:27 PM Asia/Kathmandu
ہمیں فالو کریں:
"عرس: روحانیت سے تفریح تک"

"عرس: روحانیت سے تفریح تک"

30 Apr 2026
1 min read

"عرس: روحانیت سے تفریح تک"

کبھی ایسا تھا کہ جب کسی مستند، متقی اور صاحبِ حال بزرگ کا وصال ہوتا، تو ان کی برسی محض ایک رسمی اجتماع نہیں بلکہ ایک روحانی میلہ ہوتی تھی—ایسا میلہ جس میں دلوں کی زمینیں سیراب ہوتیں، ایمان تازہ ہوتا اور تعلقِ الٰہی مضبوط ہوتا۔ عرس دراصل “وصال” کی خوشی کا اظہار تھا؛ بندے کے اپنے رب سے جا ملنے کی یاد، جس میں قرآن کی تلاوت ہوتی، نعت و منقبت کی صدائیں بلند ہوتیں، اذکار و اوراد سے فضا معطر ہوتی، اور لنگر کے ذریعے اخوت و سخاوت کا عملی مظاہرہ کیا جاتا۔ وہ محفلیں ایسی تھیں جیسے خشک زمین پر بارش—خاموش مگر زندگی بخش۔

مگر وقت کی گرد نے اس روایت کے آئینے کو دھندلا دیا ہے۔ آج عرس کی کثرت تو ہے، مگر اس کی روح کہیں گم ہو گئی ہے۔ جو محفلیں کبھی ذکر و فکر کا مرکز تھیں، وہ اب رفتہ رفتہ شور و ہنگامہ کا میدان بنتی جا رہی ہیں۔ ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے روح نکل گئی ہو اور صرف جسم باقی رہ گیا ہو—ایک خالی خول، جس میں نہ وہ تاثیر ہے نہ وہ نور۔

مزید افسوسناک پہلو یہ ہے کہ کچھ مقامات پر عرس کو قوالیوں کے مقابلے، اور مرد و خواتین کے درمیان نمائشی کشمکش کا رنگ دے دیا گیا ہے۔ وہ محفلیں جو کبھی دلوں کو جھکاتی تھیں، اب جذبات کو ابھارتی ہیں؛ جو کبھی آنکھوں میں آنسو لاتی تھیں، اب محض تالیوں اور شور کا ذریعہ بن گئی ہیں۔ یوں لگتا ہے جیسے ذکر کا چراغ بجھا کر تفریح کی مشعل جلا دی گئی ہو۔

چندہ جمع کیا جاتا ہے، لوگ ثواب کی نیت سے حصہ بھی لیتے ہیں، مگر نیت کی پاکیزگی اور عمل کی درستگی میں فاصلہ بڑھتا جا رہا ہے۔ جب عبادت کی صورت بدل کر نمائش میں ڈھل جائے، تو ثواب کی جگہ اندیشہ پیدا ہو جاتا ہے۔ یہ وہ مقام ہے جہاں خیر کا 

دروازہ بند نہیں ہوتا، مگر اس کا راستہ دھندلا ضرور ہو جاتا ہے۔

اس صورتِ حال کا ایک اور نقصان یہ ہے کہ مخالفینِ مسلک ان بے اعتدالیوں کو بنیاد بنا کر پورے مکتبِ فکر کو نشانہ بناتے ہیں۔ چند افراد کی غلطیوں کا بوجھ پوری جماعت پر ڈال دیا جاتا ہے، اور یوں اہلِ سنت کی سنجیدہ علمی و روحانی روایت کو بدنام کیا جاتا ہے۔ حالانکہ اصل تعلیمات نہ اس اسراف کی اجازت دیتی ہیں، نہ اس قسم کی بے اعتدالیوں کی۔

سچ تو یہ ہے کہ قوم نے مزارات، عرس اور جلسوں کو رفتہ رفتہ “تفریح” کا ذریعہ بنا لیا ہے۔ وہ مقامات جو کبھی تزکیۂ نفس کے مراکز تھے، اب وقتی تسکین کے اڈے بنتے جا رہے ہیں۔ جیسے کوئی قیمتی موتی بازار کی دھول میں گم ہو جائے، ویسے ہی روحانیت کا جوہر ظاہریت کی بھیڑ میں کھو گیا ہے۔

ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم اس روایت کو اس کی اصل روح کے ساتھ زندہ کریں۔ عرس کو پھر سے ذکر، فکر، تعلیم اور اصلاح کا مرکز بنایا جائے۔ قرآن خوانی، سیرتِ اولیاء کے بیان، اصلاحی تقاریر، اور حقیقی روحانی تربیت کو فروغ دیا جائے۔ قوالی اگر ہو بھی تو اس کے آداب و حدود قائم رہیں، اور مقصد دلوں کو نرم کرنا ہو، نہ کہ محض دل بہلانا۔

اہلِ علم، مشائخ اور ذمہ دار افراد کو آگے بڑھ کر اس بگڑتی ہوئی صورتِ حال کی اصلاح کرنی ہوگی۔ عوام کی رہنمائی کی جائے، انہیں بتایا جائے کہ اصل عرس کیا تھا اور کیا ہونا چاہیے۔ کیونکہ اگر بنیاد درست ہو تو عمارت خود سنور جاتی ہے، اور اگر بنیاد ہی کمزور ہو تو ظاہری خوبصورتی دیرپا نہیں رہتی۔

آخرکار، ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ عرس ایک چراغ ہے—اگر اسے روحانیت کے تیل سے روشن رکھا جائے تو یہ دلوں کو منور کرے گا، اور اگر اسے خواہشات کی ہوا کے حوالے کر دیا جائے تو یہ بجھ بھی سکتا ہے۔ انتخاب ہمارے ہاتھ میں ہے: ہم اسے نور کا ذریعہ بنائیں یا محض ایک وقتی تماشا ۔

محمد عباس الازہری✍️

Abdul Jabbar Alimi

عبدالجبار علیمی نیپالی۔

چیف ایڈیٹر نیپال اردو ٹائمز (9701714929) (8795979383)