Feb 7, 2026 11:08 AM Asia/Kathmandu
ہمیں فالو کریں:
خانقاہِ مارہرہ مطہرہ اصلاح و عرفان کا سرچشمہ

خانقاہِ مارہرہ مطہرہ اصلاح و عرفان کا سرچشمہ

13 Nov 2025
1 min read

خانقاہِ مارہرہ مطہرہ اصلاح و عرفان کا سرچشمہ

__آصف جمیل امجدی

اسلامی تاریخ کے صفحات پر اگر ہم روحانی تجدید و اخلاقی اصلاح کے مراکز تلاش کریں تو برصغیر کی خانقاہیں ان میں سب سے نمایاں نظر آتی ہیں۔ ان خانقاہوں نے نہ صرف عقیدہ و عمل کی اصلاح کی بل کہ انسان کے ظاہر و باطن دونوں کو نورِ ایمان سے منور کیا۔

یہی وہ مراکز تھے جہاں دین کتابوں سے نہیں کردار سے پڑھایا جاتا تھا جہاں تصوف محض وجد نہیں بل کہ عمل و تربیت کا عملی نظام تھا۔ ان خانقاہوں نے قرآن و سنت کی تفسیر کو اخلاق و سلوک کی زبان میں سمجھایا معاشرے کے ٹوٹے ہوئے دلوں کو جوڑا اور بندگانِ خدا کو مخلوقِ خدا کی خدمت کا پیغام دیا۔ انہی روحانی مراکز میں سے ایک درخشندہ نام "خانقاہِ عالیہ قادریہ برکاتیہ مارہرہ مطہرہ" کا ہے۔ جو برصغیر کی روحانی و علمی تاریخ میں محورِ عرفان و مرکزِ اصلاح کی حیثیت رکھتی ہے۔

برصغیر میں خانقاہی نظام کا پس منظر

اسلام جب برصغیر میں پہنچا تو اس کے ساتھ عشق و اخلاق کی وہ روشنی بھی آئی جو دلوں کو بدلنے والی تھی۔ صوفیائے کرام نے یہاں کا رخ کیا بت پرستی کے اندھیروں میں توحید کی شمع روشن کی اور انسانیت کو مساوات و محبت کا درس دیا۔خانقاہیں ان روحانی قلعوں کی مانند تھیں جنہوں نے علم و عمل، اور عرفانِ الٰہی کو ایک ہی نظام میں سمو دیا۔حضرت معین الدین چشتی، حضرت بختیار کاکی، حضرت نظام الدین اولیاء رحمھم اللہ وغیرہ نے جس خانقاہی روایت کو مضبوط کیا وہ بعد میں ہندوستان کی روحانی شناخت بن گئی۔

خانقاہِ مارہرہ مطہرہ کا تاریخی پس منظر

خانقاہِ عالیہ قادریہ برکاتیہ مارہرہ مطہرہ کی تاریخ برصغیر میں روحانی بیداری کی تاریخ ہے۔ اس کی بنیاد حضرت سید شاہ آلِ رسول احمد نوری برکاتی علیہ الرحمہ نے رکھی جو سلسلہ قادریہ کے جامع وارث تھے۔ یہ خانقاہ ایسی روحانی درس گاہ بنی جس نے ظاہر و باطن دونوں کیتربیت کا نظام قائم کیا۔ یہاں علم و عشق کے دو دریا ایک دوسرے میں یوں ملے کہ ان کی موجوں نے برصغیر کے روحانی منظرنامے کو ہمیشہ کے لیے بدل دیا۔ حضرت آلِ رسول علیہ الرحمہ کے خلفاء و مشائخ نے برصغیر کے مختلف خطوں میں اصلاح و دعوت کی قندیل روشن کی جس کی روشنی آج بھی نمایاں ہے

خانقاہِ مارہرہ مطہرہ کا مقام و جغرافیائی محل وقوع

مارہرہ مطہرہ ضلع اٹاوہ (اترپردیش، ہند) میں واقع ہے جو جغرافیائی لحاظ سے شمالی ہند کا قلبِ روحانیت ہے۔یہ مقام نہ صرف اہلِ تصوف کی روحانی قیادت کا مرکز رہا بل کہ یہاں سے شمالی و جنوبی ہند تک اصلاحی مشن پھیلا۔

یہاں کی فضا ذکر و اذکار سے معمور ہے اور آج بھی اس بستی میں “یا رسولَ اللہ ﷺ” کی صدائیں گونجتی ہیں۔خانقاہ کی یہ جغرافیائی وسطیت ہی اس کے فیضانِ روحانی کی وسعت کی ضامن بنی۔

(حوالہ: تذکرہ مشائخِ برکاتیہ، مطبع نظامی دہلی، ص ۴۵۔)

برکاتی سلسلے کی امتیازی خصوصیات

سلسلۂ برکاتیہ کی ایک نمایاں خصوصیت “علم و عشق” کا حسین امتزاج ہے۔ یہاں شریعت و طریقت کے درمیان کوئی تضاد نہیں۔ برکاتی مشائخ نے ہمیشہ اس بات پر زور دیا کہ تصوف شریعت کے بغیر باطل ہے اور علمِ ظاہر کے بغیر عرفانِ باطن ناقص۔ان کے نزدیک ولایت کا معیار ریاضت نہیں بل کہ اتباعِ مصطفیٰ ﷺ ہے۔ اسی لیے برکاتی سلاسل میں عشقِ رسول ﷺ کو محورِ تصوف قرار دیا گیا۔

(حوالہ: برکاتِ مارہرہ، مولانا عبدالحی برکاتی، ص ۶۷۔)

علمی مرکز کے طور پر خانقاہِ مارہرہ کا کردار

خانقاہِ مارہرہ مطہرہ نے علمی دنیا میں وہ انقلاب برپا کیا جس نے دینی علوم کو روحانیت سے جوڑ دیا۔ یہاں کے مشائخ نے علم کو عبادت کا درجہ دیا اور تعلیم کو تزکیۂ نفس کا وسیلہ بنایا۔یہی وہ خانقاہ ہے جس کے فیضان سےاعلیٰ حضرت امام احمد رضا بریلوی علیہ الرحمہ جیسے عبقری علماء نے استفادہ کیا۔حضرت شاہ آلِ رسول، سید شاہ ابوالحسین احمد نوری، اور شاہ برکات علی رحمھم اللہ نے علم و تحقیق کی ایسی بنیاد رکھی کہ یہ خانقاہ پورے ہند میں “جامعۂ ولایت” بن گئی۔

(حوالہ: نزہۃ الخواطر، جلد ۶، ص ۱۵۴۔)

 خانقاہ برکاتیہ مارہرہ مطہرہ کا عصر حاضر میں کردار

آج جب دنیا الحاد، بے راہ روی، اور مغربی فکری یلغار میں مبتلا ہے خانقاہِ مارہرہ مطہرہ اپنی قدیم روحانی روایت کے ساتھ ایمان و اخلاق کی حفاظت کر رہی ہے۔یہ خانقاہ آج بھی محبتِ رسول ﷺ اتحادِ امت، اور خدمتِ خلق کے اصولوں پر قائم ہے۔مارہرہ کے مشائخ و خلفاء نہ صرف برصغیر بل کہ عالمی سطح پر روحانی رہنمائی انجام دے رہے ہیں۔ یہ خانقاہ اس عہد میں روحانی تربیت کی سب سے روشن علامت ہے۔(حوالہ: ماہنامہ برکاتیہ، شمارہ جولائی ۲۰۲۳ء، ص ۴۵۔)

نوجوان نسل کے لیے پیغامِ مارہرہ مطہرہ

مارہرہ مطہرہ کا پیغام نوجوان نسل کے لیے روشنی کا مینار ہے:“ایمان میں یقین، عمل میں اخلاص، اور سلوک میں محبت۔”یہ پیغام کہتا ہے کہ روحانی ترقی صرف کتابوں سے نہیں بل کہ خدمت، سادگی، اور اتباعِ مصطفیٰ ﷺ سے حاصل ہوتی ہے۔نوجوان اگر خانقاہی نظام کے فیضان سے جڑ جائیں تو ان کے دل نورِ عرفان سے روشن ہو سکتے ہیں اور ان کی زندگی مقصد سے بھر سکتی ہے۔(حوالہ: ملفوظاتِ آلِ رسول، ص ۸۹۔)خانقاہِ عالیہ قادریہ برکاتیہ مارہرہ مطہرہ نہ صرف روحانیت کا مرکز ہے بلکہ امتِ مسلمہ کے اخلاقی، فکری اور دینی احیاء کا سرچشمہ بھی ہے۔یہ وہ خانقاہ ہے جہاں تصوف کی روح قرآن سے وابستہ ہے جہاں علم و عشق ایک دوسرے کے ہم رکاب ہیں اور جہاں کے ہر ذرے میں  اصلاحِ امت کی حرارت محسوس ہوتی ہے۔

[مضمون نگار روزنامہ "شانِ سدھارتھ

 

Abdul Jabbar Alimi

عبدالجبار علیمی نظامی نیپالی۔

چیف ایڈیٹر نیپال اردو ٹائمز 8795979383