حضور سید العلماء آل مصطفی قادری برکاتی رحمۃ اللہ علیہ
محمد ظفر احمد علیمی
متحدہ ہندستان کے عظیم و قدیم دینی و علمی خانوادوں میں خطۂ برج کا خانوادۂ برکات مارہرہ مطہرہ اپنی مثال آپ ہے جس کی درخشاں تاریخ صدیوں پر محیط ہے، جس کے دامن میں نمایاں شخصیات صفحۂ ہستی پر رونما ہوئیں اور اپنے اپنے وقتوں میں گلشن برکات کی خوشبو سے زمانے کو معطر کرتی رہیں، انہیں شخصیات میں حضور سید العلماء آل مصطفی قادری برکاتی رحمۃ اللہ علیہ کی ذات مبارک بھی ہے، جن کی حیات و خدمات کے مختصر تذکرے کو روئے قرطاس پر بکھیرنے کی ادنی کوشش ہے.
سید العلماء آل مصطفی مارہروی
ولادت :۲۵ / رجب المرجب ۱۳۳۳ ھ مطابق ۹ جون ۱۹۱۵ءبروز بدھ، بمقام مارہرہ مطہرہ،
نام : آپ کا پورا نام آل مصطفی اولاد حیدر ، عرفیت سید میاں اور لقب ”سید العلماء“ ہے.
نسب :
۱- حضرت سیدنا شاہ آل مصطفی اولاد حیدر قادری علیہ
۲- حضرت سید شاه آل عبا قادری قدس سره
٣- حضرت سید شاہ حسین حیدر قدس سره
۴- حضرت سید شاہ محمد حیدر قدس سره
۵- حضرت سید دلدار حیدر قدس سره
٦- حضرت سید منتجب حسین قدس سره
٧۔ حضرت سید ناظم علی قدس سرہ
٨- حضرت سید حیات النبی تاتو میاں قدس سرہ
٩- حضرت سید سید حسین قدس سره
۱۰- حضرت سید ابوالقاسم قدس سره
١١ - حضرت سید جان محمد قدس سره
۱۲ - حضرت سید حاتم قدس سره
۱۳ - حضرت سید بدرالدین عرف بدلے میاں قدس سرہ
۱۴- حضرت سید ابراہیم قدس سره
۱۵ - حضرت سید پیارے میاں قدس سرہ
۱۶ - حضرت سید حسن قدس سره
۱۷- حضرت سید محمود عرف بدھن میاں قدس سرہ
۱۸ - حضرت سید بڑھا میاں قدس سرہ
۱۹- حضرت سید جمال الدین قدس سره
۲۰ - حضرت سید ابراهیم قدس سره
۲۱ - حضرت سید ناصر قدس سره
۲۲ - حضرت سید مسعود قدس سره
۲۳ - حضرت سید سالار قدس سره
۲۴ - حضرت سید محمد صغری قدس سرہ ( فاتح بلگرام )
۲۵ - حضرت سید علی قدس سره
۲۶ - حضرت سید حسین قدس سره
۲۷ - حضرت سید ابوالفرح ثانی قدس سره
۲۸ - حضرت سید ابوالفراس قدس سره
۲۹- حضرت سید ابوالفرح واسطی قدس سرہ (سادات زیدیہ بلگرام کے جدا مجد )
۳۰- حضرت سید داؤ د قدس سره
۳۱- حضرت سید حسین قدس سره
۳۲- حضرت سید کی قدس سره
۳۳ - حضرت سید زید سویم قدس سره
۳۴ - حضرت سید عمر قدس سره
۳۵ - حضرت سید زید دوم قدس سره
۳۶ - حضرت سید علی عراقی قدس سره
۳۷ - حضرت سید حسین قدس سره
۳۸ - حضرت سید علی قدس سره
۳۹ - حضرت سید محمد قدس سره
۴۰ - حضرت سید عیسی موتم اشبال قدس سره
۴۱ - حضرت سید زید شہید رضی اللہ تعالیٰ عنہ
۴۲ - حضرت سیدنا امام زین العابدین رضی اللہ تعالیٰ عنہ
۴۳ - حضرت سیدنا امام حسین شہید کربلا رضی اللہ عنہ
۴۴ - حضرت سید السادات مولا علی مشکل کشا کرم اللہ وجہہ الکریم
زوج خاتون جنت حضرت فاطمہ الزہراء رضی اللہ عنہا ( بنت )
۴۵ - حضور سرور کائنات فخر موجودات محمد مصطفی صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم ۔
تحصیل علم : حفظ قرآن حکیم کا آغاز ان کی والدہ ماجدہ نے کرایا اور تکمیل حافظ ابراہیم برکاتی صاحب نے کرائی، آٹھ سال کی عمر میں ہی حافظ قرآن ہونے کا شرف حاصل کیا. اس کے بعد فارسی کی پہلی کتاب بھی اپنی والدہ ماجدہ سے پڑھی۔ اور خال محترم سید شاہ اولا در سول محمد میاں صاحب قدس سرہ سے علوم درسیہ مروجہ کا اکتساب کیا، تفسیر قرآن، علم حدیث، منطق،علم کلام، صرف و نحو اور ادب عالیہ میں کمال حاصل کیا ۔ اس کے بعد تعلیم کے اگلے مراحل طے کرنے کے لئے جامعہ معینیہ اجمیر شریف میں حضور صدر الشریعہ، ،شیخ الطریقہ مولانا امجد علی اعظمی رحمۃ اللہ علیہ کی بارگاہ میں حاضر ہوئے۔
حضور صدر الشریعہ کی بارگاہ میں تحصیل علوم و فنون کے لیے حاضر ہونے کے متعلق شارح بخاری علامہ شریف الحق امجدی تحریر فرماتے ہیں :حضرت تاج العلماء قدس سرہ نے پہلے حضرت صدر الشریعہ کے وہاں مفاوضہ عالیہ امضا فرمایا کہ میں چاہتا ہوں کہ اپنے بھانجے سید آل مصطفے سلمہ کو آپ کی خدمت میں تعلیم کے لیے بھیجوں ۔ حضرت صدر الشریعہ قدس سرہ نے بخوشی بلکہ بصد خوشی اسے منظور فرمایا۔ عریضہ میں تحریر فرمایا کہ صاحبزادے صاحب تشریف لائیں۔ میرے پاس جو کچھ ہے سب ان کے جد امجد کا عطیہ ہے۔ یہ ان کی امانت ہے، تشریف لا کر اپنی امانت مجھ سے واپس لے لیں، حضرت تاج العلماء قدس سرہ نے پھر مفاوضہ عالیہ امضا فرمایا کہ سید آل مصطفی فلاں ٹرین سے فلاں وقت اجمیر شریف پہنچ رہے ہیں۔ حضرت صدر الشریعہ قدس سره بنفس نفیس مع چند تلامذہ کے حضرت سید العلماء کو اسٹیشن لینے تشریف لے گئے، اور بڑے اعزاز واکرام کے ساتھ ان کو لائے اور ان کے طعام کا بندوبست اپنے گھر کیا، تین دن کے بعد حضرت صدر الشریعہ قدس سرہ نے حضرت سید العلماء سے دریافت فرمایا۔ صاحبزادے! آپ کسی لیے تشریف لائے ہیں؟ فرمایا: پڑھنے کے لیے آئے ہیں۔ فرمایا: اب جب کہ آپ پڑھنے کے لیے تشریف لائے ہیں، طالب علموں کی طرح رہنا ہوگا. اس قیمتی لباس کے بجائے معمولی سادہ لباس پہننا ہوگا، اور شہزادگی کا تصور ختم کر کے ایک طالب علم کا ذہن بنانا ہوگا.
حضرت صدر الشریعہ خود بازار تشریف لے گئے، معمولی کپڑا خریدا اور سلوایا، پہنایا اور پھر تعلیم شروع کی، پہلی بار جب حضرت صدر الشریعہ کی درس گاہ میں تشریف لے گئے کھڑے نہیں ہوئے، جب کہ اس کے قبل جب حضرت سید العلماء تشریف لاتے، ان کی تعظیم کے لیے کھڑے ہو جاتے، دست بوسی فرماتے ۔ اپنی جگہ بٹھاتے ۔ حضرت سید العلماء جب پہلی بار درسگاہ میں آئے تو حضرت صدر الشریعہ تعظیم کے لیے کھڑے کیا ہوتے، ہلے بھی نہیں اور طلبہ کی صف میں بیٹھنے کا اشارہ کیا ، حضرت سید العلماء طلبہ کے ساتھ بیٹھ گئے، مگر چہرے پر کچھ دوسرے آثار تھے، حضرتصدر الشریعہ بھانپ گئے اور فرمایا: صاحبزادے ! تعلیم اور اخذ فیض کے لئے ضروری ہے کہ آپ طالب علم اور متعلم کی طرح رہیں اور جب تک آپ کی تعلیم جاری ہے ایک طالب علم کا مزاج رکھتے ہوئے محنت سے پڑھیں. حضرت سید العلماء رحمۃ اللہ علیہ نے اسے سنا اور جب تک زیر تعلیم رہے ایک نیاز مند طالب علم کی طرح زندگی گزار دی ۔ اس کا نتیجہ ہے کہ سید العلماء ہوئے.
اس واقعہ سے پیر زادگان خصوصاً سید زادگان کو عبرت حاصل کرنی چاہئے کہ جو اپنی سیادت کے غرور میں اس کی تمنا رکھتے ہیں کہ اساتذہ ان کو اپنے برابر اپنی مسند پر بٹھا کر پڑھائیں اور اساتذہ کو اپنا استاذ نہیں جانتے بلکہ اپنا غلام جانتے ہیں ۔ سیادت کی فضیلت اپنی جگہ لیکن ایک عالم اور استاذ کی فضیلت کہیں بڑھ کر ہے ۔ سیادت کی فضیلت ایک جزئی فضیلت ہے لیکن علم کی فضیلت کلی ہے ۔ اس لیے امت کا اس پر اجماع ہے، ایک غیر سید عالم ایک سید غیر عالم سے افضل ہے۔
مقالات شارح بخاری، باب اول، ج 3،ص)(٠190/191))
اور آپ نے مولوی، عالم ( دینیات میں پوسٹ گریجویشن کی ڈگری کے برابر ) کی سند پنجاب یونیورسٹی سے حاصل کی ، طیبہ کالج علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے ادویہ ہندی و یونانی اور عمل جراحی میں ڈی۔ آئی۔ ایم ایس کا ڈپلوما بھی کیا۔
علمی خدمات : حضور سید العلماء آل مصطفی علیہ رحمہ کی اولو العزم ذات اور مثالی کردار میں اور تصلب فی الدین، استقامت علی المذہب، علمی جلالت، تنظیمی صلاحیت ، فتوی نویسی تقریر و خطابت ، تصنیف و تالیف ، ذوق شعر و ادب، بحث و مناظرہ ، امام احمد رضا سے عشق و محبت، مسلک رضا کی کامیاب ترجمانی، احترام علما و اور مشایخ و مدارس اسلامیہ کی سرپرستی کا جزبہ ان کے اندر پیہم تھا.
حضور سید العلماء سید شاہ آل مصطفیٰ سید میاں علیہ الرحمہ۱۹۴۹ء میں بمبئی تشریف لائے یہاں کی جماعت بکر قصابان نے سید میاں کو بمبئی کی مسجد کھڑک کی امامت کی پیش کش کی جو سید میاں نے قبول کر لی ۔ اس طرح مارہرہ کا سید شہر مبئی کی گہما گہمی کا ایک جزو بن گیا۔
اور بمبئی کے اہل سنت اور مسلک حق بلکہ پورے ہندوستان کی سنیت کے لیے ایک موثر آواز کی شکل میں ممبئی میں ورود مسعود سب کے لیے نیک فال ثابت ہوا ، جس ستارے کو خانقاہ برکاتیہ کے اکابرین نے رشک قمر بنایا تھا اس کی چمک دمک سرزمین بمبئی میں آکر نکھرنے لگی اور دلوں کی دنیا میں انقلاب بر پا کر دیا۔
آل انڈیا سنی جمعیۃ العلماء کا قیام :
مفتی محبوب علی رضوی پر کیس ہونے کے بعد علماء اہلسنت کو اس بات کا احساس ہوا کہ ہماری کوئی مضبوط تنظیم نہیں ہے اور پھر بمبئی کے مقتدر اہل سنت نے بالا تفاق یہ طے کر لیا کہ اہل سنت کو بھی اپنی ایک مضبوط اور مستحکم تنظیم قائم کر لینی چاہیے۔ چناں چہ تمام عمائد اہل سنت بشمول مفتی اعظم ہند کے مشورے سے ” ١٩٥٨ء آل انڈیا سنی جمعیۃ العلماء کا قیام عمل میں آیا، اور حضور شیر بیشہ سنت اورحضور سید العلماء عليهما الرحمۃ والرضوان نے اس جماعت کی تشکیل میں بنیادی کردار ادا کیا ، اور اس کے قیام میں جماعت اہل سنت کے اکابرین نے انمول دعاؤں اور قیمتی مشوروں سے نوازا، اس جماعت کے سر پرست تا جدار اہل سنت حضور مفتی اعظم ہند علامہ شاہ مصطفی رضا نوری بریلوی اور شہنشاہ خطابت حضور محدث اعظم ہند سید محمد کچھو چھوی علیہما الرحمہ منتخب ہوۓ اور صدر بالاتفاق حضور سید العلماء سید آل مصطفی قادری مارہروی علیہ الرحمہ کو چنا گیا، پورے ہندوستان میں آل انڈیا سنی جمعیۃ العلماء کی شاخیں قائم کی گئیں۔ حضور سید العلماء نے آل انڈیا سنی جمعیہ العلماء کے ذریعے اہل سنت کی کتنی نمایاں خدمات انجام دیں، یہ ایک لمبی داستان ہے۔
سید میاں کو جمعیت سے عشق تھا، پیار تھا، محبت تھی ، ۱۹۷۴ء کے شروع میں جب بعض حلقوں کی طرف سے سنی جمعیۃ العلماء کے مقابلے میں ایک نئی تنظیم کا شوشہ چھوڑا گیا تو سید میاں تڑپ اٹھے، بے چین ہو گئے۔ کانپور کے ایک زبردست مجمع میں تقریباً ایک لاکھ افراد سے خطاب کرتے ہوئے اعلان کیا کہ میں سید زادہ ہوں سنی جمعیۃ العلماء کی پرورش و پرداخت میں میرے بوڑھے خون کے قیمتی قطرات صرف ہوئے ہیں۔ میں اپنے جیتے جی اسے مرنے نہیں دوں گا، میں اپنے خون کا آخری قطرہ تک اس کی آبیاری میں صرف کر دوں گا۔“
اسی جوش و جذبے کے ساتھ آپ زندگی کی آخری سانس تک سنی جمیعۃ العلماء کی صدارت کرتے رہے
تصنیفات : نئی روشنی` فیض تنبیہ` مقدس خاتون
وفات :11 جمادی الاخری 1394ھ
== حوالہ جات ==
{{سید العلماء شخص و عکس}}
{{مقالات شارح بخارے}}
🖋️ محمد ظفر احمد علیمی
