Feb 7, 2026 09:15 AM Asia/Kathmandu
ہمیں فالو کریں:
وزیر اعظم کے بیان پر مسلم کمیونٹی کا غصہ، گمراہ کن بیان فورا واپس لی جائے:سابق وزیر مملکت ذاکر حسین

وزیر اعظم کے بیان پر مسلم کمیونٹی کا غصہ، گمراہ کن بیان فورا واپس لی جائے:سابق وزیر مملکت ذاکر حسین

27 Nov 2025
1 min read

وزیر اعظم کے بیان پر مسلم کمیونٹی کا غصہ، گمراہ کن بیان فورا واپس لی جائے:سابق وزیر مملکت ذاکر حسین

 نمائندہ نیپال اردوٹائمز احمدرضاابن عبدالقادراویسی 

مدھیش وزیر اعظم سشیلہ کار کی کا ایک عوامی بیان سوشل میڈیا پر وائرل ہونے کے بعد نیپالی مسلم کمیونٹی نے سخت اعتراض ظاہر کیا ہے۔ جس کے بعد وزیر اعظم کے دفتر کی خاموشی کو اس بیان کی سرکاری حیثیت سمجھا گیا اور اس بیان پر مسلم کمیونٹی نے شدید ناراضگی ظاہر کی۔ سابق وزیر مملکت اور آئین ساز اسمبلی کے رکن محمد ذاکر حسین کے مطابق وزیر اعظم کا بیان بے بنیاد من گھڑت گمراہ کن اور سماجی ہم آہنگی کو بگاڑنے والا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ آئینی عہدے پر فائز شخص کی جانب سے کسی مذہب یا کمیونٹی کو نشانہ بنا کر غلط معلومات پیش کرنا افسوسناک اور نامناسب ہے۔ اس کا اصل مقصد کیا تھا ؟ مسلم کمیونٹی کا سوال بیان میں کہا گیا ہے کہ گزشتہ چند مہینوں سے ملک کے حساس حالات کے دوران وزیر اعظم کا اس قسم کا تبصرہ کرنا بذات خود مشکوک ہے۔مسٹر حسین کے مطابق ”ہندو مسلم معاملات میں صحیح یا غلط کا فیصلہ وزیر اعظم کی ذمہ داری نہیں ہے۔ اسلام، مسلمانوں اور خواتین سے متعلق تاریخی حقائق کو الٹ کر پیش کرنا ملک کی مذہبی رواداری کو نقصان پہنچا سکتا ہے۔ وزیر اعظم کا یہ اشارہ کہ انصاف آریہ کے پاس ہے، مسلمانوں کے پاس نہیں، مسلم کمیونٹی پر بلا جواز الزام ہے اور اس سے معاشرے میں غیر ضروری تناؤ پیدا ہو سکتا ہے۔ کس مسلمان ملک میں عورتوں کو زندہ دفن کیا جاتا ہے؟ الٹا، جلانے، زندہ جلا کر مارنے یا ریپ کے بعد قتل کے واقعات تو ہمارے اپنے معاشرے میں بارہا دیکھے گئے ہیں ۔ ان کے مطابق اسلام سے پہلے عرب میں رائج غیر انسانی رسومات جیسے لڑکیوں کو زندہ دفن کرنا ہستی پر میرا، غلاموں پر ظلم ان سب کا خاتمہ پیغمبر محمد صلی شما ای ایم کی تعلیمات کے ذریعے ہوا۔کیا تھا. وہ اس تاریخی حقیقت کا بھی ذکر کرتے ہیں کہ ہندوستان میں بھی مسلم حکمرانوں نے ستی پرتھا کے خاتمے میں اہم کردار ادا ا تھا۔ انہوں نے وزیر اعظم کے بیان کو غیر علمی اورتعصب پر مبنی قرار دیا۔ خواتین کو حقوق نہ دینے کی بات بالکل غلط ہے۔ بیان میں یہ بھی کہا گیا کہ آج کے مسلم معاشرے میں خواتین کو تعلیم سے محروم رکھنے کا دعوی حقیقت سے مطابقت نہیں رکھتا۔ عرب ممالک کے سرکاری و نجی اداروں میں خواتین کی نمایاں شرکت ہے۔ نیپال میں بھی مسلم بچیوں کی اسکول حاضری کسی بھی طرح کم نہیں ہے۔“مذہبی ہم آہنگی کو بگاڑنے کی کوشش ناقابل قبول: ہے۔ مسٹر حسین نے مزید واضح کیا : ” نیپالی مسلم کمیونی کو ہندو یا کسی بھی دوسرے مذہب سے کوئی مسئلہ نہیں۔ ہمارا معاشرہ باہمی احترام، بقائے باہمی اور ہم آہنگی پر قائم ہے۔ یہ بھی ایک سوال ہے کہ کابینہ میں مسلم نمائندگی کیوں نہیں؟ اگر وزیر اعظم کو واقعی مسلمانوں اور خواتین کے حقوق کی فکر ہے تو آئین میں شامل مسلم کمیونٹی کے افراد مرد یا خواتین کو کابینہ میں شامل کرنے کا سوال بھی اٹھتا ہے۔ مسٹر حسین نے اپنے سوال میں پوچھا: ”کیا ملک میں کوئی بھی نیپالی مسلمان وزیر بننے کے لائق نہیں؟“گمراہ کن بیان واپس لیجے مسلم کمیونٹی کا مطالبہ: بیان کے آخر میں مسٹر ذا کر حسین نے وزیر اعظم سشیلہ کار کی سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنا بیان فورا واپس لیں اور حساس موضوعات پر ذمہ داری کے ساتھ، مطالعہ کی بنیاد پر اور حقائق کے مطابق موقف پیش کریں۔ انہوں نے کہا کہ مسلم کمیونٹی ملک میں امن، استحکام اور ہم آہنگی کے لیے پر عزم ہے۔ ان کے مطابق مذہبی عقیدے کو ٹھیس پہنچانا کسی بھی طور مناسب نہیں۔ ملک کی سر براہ حکومت کی جانب سے ایسا بیان آنا افسوسناک ہے

Abdul Jabbar Alimi

عبدالجبار علیمی نظامی نیپالی۔

چیف ایڈیٹر نیپال اردو ٹائمز 8795979383