اقلیتوں کے تعلیمی حقوق پر عدلیہ کی مضبوط دستک
از: تحریر: یوسف شمسی
ـــــــــــــــــــــــــــــــ
ملک میں اقلیتی حقوق، مذہبی آزادی اور آئینی بالادستی کے حوالے سے الہٰ آباد ہائی کورٹ کا حالیہ فیصلہ نہایت اہم اور تاریخی نوعیت کا حامل ہے۔ عدالتِ عالیہ نے اپنے واضح اور دو ٹوک فیصلے میں یہ بات تسلیم کی ہے کہ بغیر سرکاری منظوری کے مدرسہ قائم کرنا اور چلانا مسلمانوں کا آئینی حق ہے اور انتظامیہ محض منظوری نہ ہونے کی بنیاد پر ایسے اداروں کو بند نہیں کر سکتی۔
یہ مقدمہ اتر پردیش کے سرحدی اور پسماندہ ضلع شراوستی میں واقع مدرسہ اہلِ سنت امام احمد رضا سے متعلق تھا، جسے یکم مئی 2025 کو ضلع اقلیتی بہبود افسر کے حکم کے ذریعے بند کر دیا گیا تھا اور مدرسہ کے دروازوں پر سرکاری سیل لگا دی گئی تھی۔ اس کارروائی نے نہ صرف مدرسہ انتظامیہ بلکہ پورے علاقے کے مسلم سماج میں تشویش اور بے چینی کی فضا پیدا کر دی تھی، کیونکہ یہ قدم براہِ راست آئینی حقوق پر ضرب کے مترادف تھا۔
مدرسہ کمیٹی نے اس یک طرفہ اور غیر آئینی اقدام کے خلاف الہٰ آباد ہائی کورٹ سے رجوع کیا۔ مفصل سماعت کے بعد عدالت کے معزز جج جسٹس سبھاش ودیارتھی کی یک رکنی بنچ نے ضلع اقلیتی بہبود افسر شراوستی کے یکم مئی 2025 کے حکم کو منسوخ کرتے ہوئے یہ ہدایت دی کہ مدرسہ پر لگائی گئی سیل چوبیس گھنٹوں کے اندر کھولی جائے۔
عدالت نے اپنے فیصلے میں آئینِ ہند کے آرٹیکل 30(1) کی صریح تشریح کرتے ہوئے کہا کہ ملک کی اقلیتوں کو یہ بنیادی حق حاصل ہے کہ وہ اپنے مذہبی و ثقافتی تشخص کے تحفظ کے لیے تعلیمی ادارے قائم کریں اور انہیں چلائیں۔ اگر کوئی مدرسہ نہ تو ریاست سے مالی امداد طلب کرتا ہے اور نہ ہی کسی قسم کی سرکاری منظوری چاہتا ہے، تو انتظامیہ کو اسے بند کرنے کا کوئی اختیار حاصل نہیں۔
یہ فیصلہ اس لحاظ سے بھی نہایت متوازن ہے کہ عدالت نے آزادی اور ضابطے کے درمیان واضح حد کھینچ دی ہے۔ عدالت نے یہ بھی کہا کہ بغیر منظوری کے چلنے والے مدارس سرکاری گرانٹ، ریاستی بورڈ امتحانات اور سرکاری سرٹیفکیٹس کے اہل نہیں ہوں گے۔ گویا آئینی آزادی کے ساتھ ساتھ ریاستی قوانین کی عمل داری کو بھی تسلیم کیا گیا ہے۔
اس مقدمے میں مدرسہ کے منتظم عبدالرحمن کی جانب سے دائر کی گئی رٹ پٹیشن نمبر 307/2026 میں ان کے وکلا سیدہ فاروق احمد اور دیویندر موہن شکلا نے سپریم کورٹ کے حالیہ فیصلے انجم قادری بنام یونین آف انڈیا کا حوالہ دیتے ہوئے مؤقف اختیار کیا کہ ان کا موکل آئینی دائرے میں رہتے ہوئے اپنے ادارے کو چلا رہا ہے، کیونکہ اس نے نہ تو سرکاری امداد مانگی ہے اور نہ ہی منظوری کی درخواست دی ہے۔
سماعت کے دوران وکلا نے سپریم کورٹ کے اس مستند فیصلے کا بھی حوالہ دیا جس کا تعلق کیرالہ ایجوکیشن ایکٹ سے ہے، جس میں اقلیتی تعلیمی اداروں کو تین زمروں میں تقسیم کیا گیا ہے:
اوّل، وہ ادارے جو نہ منظوری لیتے ہیں اور نہ مالی امداد حاصل کرتے ہیں؛
دوم، وہ جو منظوری لیتے ہیں مگر مالی امداد نہیں لیتے؛
سوم، وہ جو منظوری اور مالی امداد دونوں حاصل کرتے ہیں۔عدالت نے اس تقسیم کو تسلیم کرتے ہوئے واضح کیا کہ پہلے زمرے کے اقلیتی اداروں پر ریاستی پابندیاں عائد کرنا آئین کے منافی ہے۔
یہ فیصلہ محض ایک مدرسہ کی بحالی تک محدود نہیں بلکہ اس کے دور رس اثرات ہیں۔ ملک بھر میں ایسے متعدد مدارس اور اقلیتی تعلیمی ادارے ہیں جو محدود وسائل کے ساتھ، عوامی تعاون سے اور خالص دینی و سماجی مقصد کے تحت کام کر رہے ہیں۔ ان اداروں کے لیے یہ فیصلہ ایک مضبوط آئینی سہارا فراہم کرتا ہے اور انتظامیہ کو یہ پیغام دیتا ہے کہ وہ آئینی حدود سے تجاوز نہ کرے۔
ضرورت اس امر کی ہے کہ ریاستی افسران آئینِ ہند کے بنیادی اصولوں، بالخصوص مذہبی آزادی اور اقلیتی حقوق کا احترام کریں۔ تعلیمی اداروں کو شک و شبہ کی نگاہ سے دیکھنے کے بجائے انہیں سماج کی فکری و اخلاقی تشکیل کا حصہ سمجھا جائے۔ مدارس صدیوں سے تعلیم، تہذیب اور اخلاقی تربیت کا مرکز رہے ہیں اور انہیں غیر ضروری انتظامی دباؤ کا نشانہ بنانا نہ انصاف کے تقاضوں سے ہم آہنگ ہے اور نہ جمہوری اقدار سے۔
الہٰ آباد ہائی کورٹ کا یہ فیصلہ محض ایک عدالتی حکم نہیں بلکہ آئینِ ہند کی روح کا باضابطہ اعلان ہے۔ یہ فیصلہ اقلیتی حقوق کے تحفظ، مذہبی آزادی اور آئینی وقار کی ایک مضبوط مثال ہے، جو اس حقیقت کی یاد دہانی کراتا ہے کہ بھارت کا آئین اختلاف کے ساتھ جینے اور تنوع کے ساتھ آگے بڑھنے کا نام ہے۔
