اُردو صحافت کا گوہر نایاب ڈاکٹر محمد گوہر
تحریر: یوسف شمسی
رابطہ:
9162216560
کبھی کبھی وقت کی رفتار میں ایسے لمحات بھی آتے ہیں جب کوئی خبر محض اطلاع نہیں رہتی بلکہ دلوں پر ایک گہرا نقش چھوڑ جاتی ہے، اور انسان کو یہ احساس دلا جاتی ہے کہ کچھ شخصیات کا بچھڑ جانا دراصل ایک پورے عہد کے سمٹ جانے کے مترادف ہوتا ہے۔ ایسی ہی ایک دلگداز خبر نے اردو صحافت کے حلقوں کو سوگوار کر دیا جب محترم محمد گوہر صاحب کے انتقال کی خبر عام ہوئی۔
اردو صحافت کی دنیا میں کچھ شخصیات ایسی ہوتی ہیں جو محض اپنے عہد تک محدود نہیں رہتیں بلکہ اپنی فکر، کردار اور خدمات کے ذریعے ایک مستقل حوالہ بن جاتی ہیں۔ محمد گوہر صاحب بھی انہی باوقار اور باکمال شخصیات میں شمار ہوتے تھے جنہوں نے اپنی پوری زندگی قلم کی حرمت، سچائی کی پاسداری اور معاشرتی شعور کی بیداری کے لیے وقف کر دی۔ وہ صحافت کو ایک مقدس فریضہ سمجھتے تھے اور اس کی پاسداری میں
کبھی مصلحت یا ذاتی مفاد کو حائل نہیں ہونے دیا۔
محمد گوہر صاحب کی شخصیت سادگی، وقار اور متانت کا حسین امتزاج تھی۔ وہ کم گو مگر بااثر انسان تھے۔ ان کی گفتگو میں ٹھہراؤ، لہجے میں شائستگی اور انداز میں ایک خاص کشش تھی جو سننے والے کو متاثر کیے بغیر نہیں رہتی تھی۔ وہ نہایت سنجیدہ طبیعت کے حامل تھے، مگر جہاں ضرورت ہوتی وہاں نرم مزاجی اور شفقت کا پہلو بھی نمایاں ہو جاتا تھا۔ ان کے اندر ایک رہبر کی سی بصیرت اور ایک استاد کی سی شفقت پائی جاتی تھی۔
انہوں نے نہایت کم وقت میں اپنی ایک الگ اور نمایاں پہچان قائم کر لی تھی، جو ان کی غیر معمولی صلاحیتوں، محنت اور اخلاص کا واضح ثبوت ہے۔ عام طور پر ایسی پہچان بنانے میں برسوں لگ جاتے ہیں، مگر انہوں نے اپنی لگن، دیانت اور پیشہ ورانہ مہارت کے ذریعے بہت ہی مختصر عرصے میں صحافتی دنیا میں اپنا ایک منفرد مقام پیدا کر لیا۔ ان کی ادارت میں شائع ہونے والی تحریریں نہ صرف معلوماتی ہوتیں بلکہ فکری رہنمائی کا ذریعہ بھی بنتیں۔ان کی شخصیت کا ایک نہایت روشن اور قابلِ تحسین پہلو یہ بھی تھا کہ وہ بے شمار ملی اداروں اور ضرورت مند افراد کی خاموشی سے مدد کیا کرتے تھے۔ وہ نمود و نمائش سے کوسوں دور رہ کر خدمتِ خلق کو اپنا شعار بنائے ہوئے تھے۔ کتنے ہی لوگ ایسے ہیں جنہوں نے ان کے دستِ تعاون سے فائدہ اٹھایا، مگر وہ خود کبھی اس کا ذکر نہیں کرتے تھے۔ یہی خاموشی ان کی عظمت کا سب سے بڑا ثبوت ہے۔
صحافتی میدان میں ان کی خدمات نہایت نمایاں اور دیرپا ہیں۔ انہوں نے صحافت کو کبھی ذاتی مفاد یا محض شہرت حاصل کرنے کا ذریعہ نہیں بنایا بلکہ اسے ایک امانت سمجھ کر نبھایا۔ ان کی تحریروں میں حق گوئی، توازن، سنجیدگی اور گہرائی نمایاں ہوتی تھی۔ وہ ہر موضوع کو باریک بینی سے سمجھ کر پیش کرتے تھے، جس کی وجہ سے ان کا قلم قارئین کے لیے اعتماد اور اعتبار کی علامت بن چکا تھا۔
بطور چیف ایڈیٹر روزنامہ تاثیر، محمد گوہر صاحب نے ادارتی ذمہ داریوں کو نہایت دیانت داری اور بصیرت کے ساتھ انجام دیا۔ ان کی قیادت میں اخبار نے نہ صرف معیاری صحافت کو فروغ دیا بلکہ سماجی اور ملی مسائل کو بھی بھرپور انداز میں اجاگر کیا۔ وہ نئے لکھنے والوں کی حوصلہ افزائی میں ہمیشہ پیش پیش رہتے تھے۔ ان کی رہنمائی سے کئی نوجوان قلمکاروں نے اپنی شناخت قائم کی، جو آج بھی ان کے احسان کو قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔
ذاتی حوالے سے ان کی شفقت آمیز نظر ہمیشہ یادوں کا حصہ رہے گی۔ محترم گوہر بھائی میری تحریروں کو جس سلیقے اور محبت سے اپنے اخبار میں جگہ دیتے تھے، وہ میرے لیے باعثِ حوصلہ اور سرمایۂ افتخار ہے۔ ان کا یوں رخصت ہو جانا گویا ایک عہد کا ورق پلٹ جانا ہے۔ ان کی کمی دیر تک محسوس کی جاتی رہے گی اور ان کی یادیں دلوں میں چراغ کی مانند روشن رہیں گی۔
ذاتی زندگی میں وہ ایک نہایت مخلص، ہمدرد اور
خلوص سے بھرپور انسان تھے۔ ان کا دروازہ ہمیشہ دوستوں، ساتھیوں اور لکھنے والوں کے لیے کھلا رہتا تھا۔ ان کی مسکراہٹ، ان کا خلوص اور ان کا بے لوث رویہ ہر ملنے والے کے دل میں گھر کر جاتا تھا۔ وہ اپنے اخلاق و کردار سے دوسروں کے لیے ایک مثال تھے۔
محمد گوہر صاحب کی زندگی اس حقیقت کی آئینہ دار تھی کہ اصولوں پر قائم رہنے والے افراد وقتی طور پر شاید مشکلات کا سامنا کرتے ہیں، مگر تاریخ میں ان کا نام ہمیشہ عزت و وقار کے ساتھ لیا جاتا ہے۔ انہوں نے جس جرات کے ساتھ حقائق کو بیان کیا اور جس ثابت قدمی کے ساتھ اپنے نظریات پر قائم رہے، وہ آج کے دور میں ایک روشن مثال ہے۔ ان کی صحافت میں نہ صرف خبروں کی ترسیل تھی بلکہ ایک دردِ دل، ایک فکری بصیرت اور ایک اصلاحی جذبہ بھی شامل تھا، جو قاری کے دل و دماغ پر دیرپا اثر چھوڑتا تھا۔
افسوس کہ اتنی کم عمری میں ان کا دنیا سے رخصت ہو جانا ایک ایسا سانحہ ہے جس نے ہر ذی شعور دل کو غمزدہ کر دیا۔ یوں محسوس ہوتا ہے جیسے ایک روشن چراغ وقت سے پہلے ہی بجھ گیا ہو، اور ایک بھرپور عہد اپنی تکمیل سے قبل ہی اختتام پذیر ہو گیا ہو۔ ان کی وفات نے اردو صحافت میں ایک ایسا خلا پیدا کر دیا ہے جسے پُر کرنا آسان نہیں ہوگا۔
تاہم حقیقت یہ ہے کہ عظیم شخصیات اپنے افکار، کردار اور خدمات کے ذریعے ہمیشہ
زندہ رہتی ہیں۔ محمد گوہر صاحب بھی اپنی تحریروں، اپنی سوچ اور اپنی دیانتدار صحافت کے ذریعے ہمیشہ یاد رکھے جائیں گے۔ ان کی زندگی آنے والی نسلوں کے لیے ایک مشعلِ راہ ہے، جو انہیں سچائی، دیانت اور خلوص کے راستے پر گامزن ہونے کا سبق دیتی رہے گی۔
یوں تو وقت کے ساتھ بہت سی آوازیں مدھم پڑ جاتی ہیں، مگر کچھ صدائیں ایسی ہوتی ہیں جو زمانے کی گرد سے بھی دھندلا نہیں پاتیں۔ محمد گوہر صاحب کی آواز بھی انہی میں سے ایک تھی۔ ان کی تحریریں، ان کے افکار اور ان کا اسلوبِ صحافت ہمیشہ زندہ رہے گا اور اہلِ قلم کے لیے ایک معیار کا درجہ رکھے گا۔
