Sep 1, 2026 10:53 AM Asia/Kathmandu
ہمیں فالو کریں:
یہ وقت نفرت کا نہیں، نیپال کے ساتھ کھڑے ہونے کا ہے*

یہ وقت نفرت کا نہیں، نیپال کے ساتھ کھڑے ہونے کا ہے*

31 Aug 2026
1 min read

*یہ وقت نفرت کا نہیں، نیپال کے ساتھ کھڑے ہونے کا ہے* 

_محمد عمران ندوی

_ آج ہمارا پیارا وطن نیپال ایک انتہائی کربناک اور آزمائش کی گھڑی سے گزر رہا ہے۔ حالیہ تباہ کن سیلاب نے ملک کے کئی علاقوں میں ایسی تباہی مچائی ہے کہ ہر حساس دل غم سے نڈھال ہے۔ کسی کا گھر اجڑ گیا، کسی کا کاروبار تباہ ہوگیا، کوئی اپنے پیارے سے محروم ہوگیا اور کوئی آج بھی اپنے مستقبل کی فکر میں پریشان ہے۔ یہ صرف نیپال کا دکھ نہیں، بلکہ ہر اس انسان کا دکھ ہے جس کے دل میں انسانیت زندہ ہے۔ ایسے وقت میں پوری نیپالی قوم کو ایک دوسرے کا سہارا بن کر کھڑا ہونا چاہیے، کیونکہ قدرتی آفت مذہب، ذات، زبان اور علاقے کی تفریق نہیں کرتی۔ اس مشکل گھڑی میں نیپالی مسلمان بھی اپنے وطن کے دوسرے شہریوں کے ساتھ برابر کھڑے ہیں۔ جہاں کہیں مدد کی ضرورت محسوس ہوئی، وہاں مسلمانوں نے اپنی استطاعت کے مطابق مالی تعاون کیا، دعاؤں کے لیے ہاتھ اٹھائے، 

متاثرین کے ساتھ ہمدردی کا اظہار کیا اور سوشل میڈیا کے ذریعے بھی اہلِ وطن سے بڑھ چڑھ کر امداد کرنے کی اپیل کی۔ ہمارے لیے یہ صرف کسی ایک طبقے کا مسئلہ نہیں؛ یہ ہمارے وطن نیپال کا مسئلہ ہے، اور نیپال کا دکھ ہمارا دکھ ہے۔ ہم آج بھی اپنے مصیبت زدہ بھائی بہنوں کے ساتھ کھڑے ہیں اور ان شاء اللہ جب تک ضرورت باقی ہے، اپنی استطاعت کے مطابق ان کی مدد کرتے رہیں گے۔ لیکن دل کو سب سے زیادہ تکلیف اس وقت ہوتی ہے جب اسی قومی مصیبت کے درمیان کچھ نفرت پسند اور خصوصاً مدھیش طرف کے ہندو شرپسند عناصر سوشل میڈیا پر زہر گھولنے میں مصروف ہوجاتے ہیں۔ کوئی مسلمانوں کو اس سانحے کا ذمہ دار قرار دیتا ہے، کوئی مذہبی منافرت پھیلاتا ہے، کوئی کمنٹس میں گالی گلوچ کرتا ہے اور بعض لوگ تو اللہ تعالیٰ اور رسولِ اکرم ﷺ کی شان میں بھی نازیبا الفاظ استعمال کرنے سے باز نہیں آتے۔ ایسے لوگوں کو سمجھنا چاہیے کہ وطن کی مصیبت کے وقت نفرت کی آگ بھڑکانا نیپال سے محبت نہیں بلکہ نیپال کے زخموں پر نمک چھڑکنے کے مترادف ہے۔ ہم نیپال حکومت اور نیپال پولیس سے مؤدبانہ گزارش کرتے ہیں کہ سوشل میڈیا پر نفرت پھیلانے، مذہبی جذبات کو مجروح کرنے، گالی گلوچ کرنے اور لوگوں کو ایک دوسرے کے خلاف اکسانے والے عناصر کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کی جائے۔ آزادیِ اظہار کا مطلب یہ ہرگز نہیں کہ کسی کو دوسروں کے مذہب، مقدسات یا عزت و احترام کو پامال کرنے کی آزادی حاصل ہوجائے۔

 قانون سب کے لیے برابر ہونا چاہیے اور جو شخص معاشرے میں نفرت اور فساد پھیلانے کی کوشش کرے، اسے قانون کے دائرے میں لانا ضروری ہے۔ اور افسوس کی بات یہ بھی ہے کہ نیپال سے باہر بیٹھے کچھ نفرت پسند عناصر منافق مسلمان اس تباہی پر خوشی کا اظہار کر رہے ہیں اور سوشل میڈیا پر یہ کہہ رہے ہیں کہ "اللہ کا عذاب آگیا" اور اس پر خوشی منا رہے ہیں۔ ایسے لوگوں سے ہم صرف اتنا کہنا چاہتے ہیں کہ دوسروں کی مصیبت پر خوش ہونے سے پہلے اپنے دل اور اپنے اعمال میں جھانک کر دیکھو۔ اگر اپنے اوپر مصیبت آئے تو اسے آزمائش، امتحان اور صبر کا موقع قرار دیتے ہو، تو دوسروں پر مصیبت آنے پر فوراً اسے اللہ کا عذاب قرار دینے کا اختیار تمہیں کس نے دیا؟ کسی قدرتی آفت کے بارے میں حتمی فیصلہ سنانا کہ یہ فلاں قوم پر اللہ کا عذاب ہے، انسان کے اختیار میں نہیں؛ اللہ ہی بہتر جانتا ہے کہ کسی واقعے کی اصل حقیقت کیا ہے۔ مصیبت زدہ انسان کی تکلیف کو اپنی شہرت، سیاسی مفاد یا نفرت پھیلانے کا ذریعہ بنانا کسی بھی صورت انسانیت نہیں۔ مذہب ہمیں دوسروں کی تکلیف پر خوش ہونا نہیں، بلکہ مظلوم و مصیبت زدہ انسان کے ساتھ ہمدردی کرنا سکھاتا ہے۔ اگر واقعی دل میں دین اور انسانیت کا درد ہے تو کسی کے دکھ پر جشن منانے کے بجائے اس کے لیے دعا کرو، اس کی مدد کرو اور اس کے غم کو کم کرنے کی کوشش کرو۔ آج نیپال کو نفرت کی نہیں، محبت کی ضرورت ہے؛ الزام تراشی کی نہیں، اتحاد کی ضرورت ہے؛ ایک دوسرے کو نیچا دکھانے کی نہیں، ایک دوسرے کا ہاتھ تھامنے کی ضرورت ہے۔ 

ہم سب سے پہلے نیپالی ہیں، یہ وطن ہم سب کا مشترکہ گھر ہے، اور جب اس گھر پر مصیبت آتی ہے تو اس کے ہر فرد کا فرض ہے کہ وہ اپنے اختلافات بھلا کر اپنے وطن کے ساتھ کھڑا ہو۔ ہمیں یاد رکھنا چاہیے کہ سیلاب نے ہمارے گھروں، راستوں اور بستیوں کو نقصان پہنچایا ہے، لیکن ہمیں اپنے دلوں میں نفرت کا سیلاب نہیں آنے دینا۔ آج اگر کوئی مسلمان اپنے نیپالی بھائی کے لیے چند روپے عطیہ کرتا ہے، کسی متاثرہ خاندان کے لیے راشن پہنچاتا ہے، دعا کرتا ہے یا لوگوں سے امداد کی اپیل کرتا ہے تو وہ صرف ایک فرد کی مدد نہیں کر رہا، بلکہ اپنے وطن کی خدمت کر رہا ہے۔ اسی طرح جو بھی نیپالی شہری کسی مصیبت زدہ انسان کی مدد کرتا ہے، وہ اس ملک کی انسانیت اور اتحاد کو مضبوط کرتا ہے۔ یہ وقت ایک دوسرے سے پوچھنے کا نہیں کہ تم کس مذہب سے ہو؛ یہ وقت ایک دوسرے سے پوچھنے کا ہے کہ تمہیں کس چیز کی ضرورت ہے۔ یہ وقت نفرت کے نعرے لگانے کا نہیں، امداد کے ہاتھ بڑھانے کا ہے۔ یہ وقت سوشل میڈیا پر گالیاں دینے کا نہیں، دعاؤں اور ہمدردی کے پیغامات پھیلانے کا ہے۔ یہ وقت نیپال کو تقسیم کرنے کا نہیں، بلکہ پوری قوت کے ساتھ یہ ثابت کرنے کا ہے کہ مشکل وقت میں نیپالی قوم ایک ہے۔ ہم اپنے وطن نیپال کے لیے دعا کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ اس سرزمین کو ہر آفت، مصیبت اور تباہی سے محفوظ فرمائے، تمام متاثرین کی حفاظت فرمائے، جاں بحق ہونے والوں کی مغفرت فرمائے، زخمیوں کو صحت عطا فرمائے اور جن کے گھر اور روزگار تباہ ہوئے ہیں، انہیں پہلے سے بہتر زندگی عطا فرمائے۔ 

نیپال ہمارا وطن ہے، نیپال ہمارا گھر ہے، نیپال کا دکھ ہمارا دکھ ہے اور نیپال کی خوشی ہماری خوشی ہے۔ آئیں عہد کریں کہ ہم نفرت کے بجائے محبت، تعصب کے بجائے انسانیت اور تقسیم کے بجائے اتحاد کو فروغ دیں گے۔ کیونکہ قدرتی آفات ہمیں توڑنے نہیں، بلکہ یہ یاد دلانے آتی ہیں کہ ہم سب ایک دوسرے کے سہارے ہیں۔ نیپال زندہ باد

Abdul Jabbar Alimi

عبدالجبار علیمی نیپالی۔

چیف ایڈیٹر (9701714929) (8795979383)