دور حاضر کے حالات اور ہماری ذمہ داریاں
ام کلثوم برکاتی خیری ۔پرنسپل جامعہ ام حبیبہ للبنات ،موتی نگر جاجمؤ کانپور
بسم اللہ الرحمن الرحیم
إن الله لا يغير ما بقوم حتى يغيروا ما بانفسهم (سورہ الرعد )
ترجمہ بے شک اللہ کسی قوم کی حالت نہیں بدلتا جب تک وہ خود اپنی حالت نہ بدلیں
اگر ہم اپنے آپکو سدھارپن یعنی نماز کی پابندی کریں اخلاق کو درست کریں نیک نیت سے اپنے تمام کام انجام دیں تو یقینا اللہ تبارک و تعالی ہمارے پورے معاشرے کو بہتر بنا دیگا
حدیث عن ابی ھریرة رضی الله عنہ قالَ قَالَ رَسُولُ الله صلى الله علم ان الله لا ينظرُ إِلَى صُورَكُمْ وَأَمْوَالِكُمْ وَلَكِن ینظر الی قلوبکم و اعمالكم (صحیح مسلم)
ترجمہ حضرت ابوھریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صل اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا بے شک اللہ تمہاری صورتوں اور تمہارے مال کو نہیں دیکھتا لیکن دیکھتا ہے تمہارے دلوں کو اور تمہارے اعمال کو اصل اصلاح دل اور عمل کی ہے اگر انسان اندر سے ٹھیک ہو جائے تو معاشرہ بھی خود بخود درست ہو جائے گا۔
آج کا دور جسے ہم سائنس اور ترقی کا دور کہتے ہیں ظاہر میں بے شمار سہولتوں اور آسانیوں سے بھرا ہوا ہے لیکن حقیقت میں یہ دور کئی اعتبار سے نہایت افسوس ناک بن چکا ہے۔ انسان نے چاند تاروں تک کا سفر طے کر لیا بڑی بڑی ایجادات کرلی مگر افسوس کہ وہ اپنے دل اور کردار کو سنوارنے میں پیچھے رہ گیا آج کا انسان باہر سے جتنا روشن نظر آتا ہےاندر سے اتنا ہی تاریک ہوتا جا رہا ہے
حیرت و افسوس کی بات یہ ہے کہ ہم نے ترقی کا معیار صرف دنیاوی آسائشوں بنا لیا ہے، اچھا گھر، مہنگی گاڑی اور اعلیٰ ملازمت کو کامیابی سمجھ لیا ہے۔ جب کہ سچائی امانت داری حیا اور خوف خدا جیسے اوصاف کو نظرانداز کردیا گیا ہے نتیجہ یہ ہے کہ معاشرہ ظاہری طور پر ترقی کر رہا ہے مگر اخلاقی طور پر زوال کا شکار ہے آج جھوٹ بولنا ایک عام بات بن چکی ہے، دھوکا دینا چالاکی سمجھاجاتا ہے اور دوسروں کے حقوق پامال کرنا معمول بن گیا ہے۔ لوگ ایک دوسرے کی کامیابی سے خوش ہونے کے بجائے حسد کرنے لگے ہیں۔ یہ تمام برائیاں اس بات کی علامت ہیں کہ ہم نے اپنے دلوں کی اصلاح کو بھلا دیا گیا ہے۔مزید افسوس اس بات پر ہے کہ ہم نے اپنی زندگی سے دین کو نکال دیا ہے نماز جیسی اہم عبادت کو عبادت کو بوجھ سمجھا جاتا ہے، جبکہ قرآن پاک کو سمجھنے اور اس پر عمل کرنے کی طرف توجہ ہی نہیں ہے حالانکہ یہی وہ ذریعہ ہے جو انسان کو صحیح راستہ دکھاتا ہے اور اس کی زندگی کو سنوارتا ہے ۔آج کے دور میں موبائل اور سوشل میڈیا نے جہاں معلومات کو عام کیا ہے وہیں بے شمار برائیوں کو بھی ابھارا ہے نوجوان نسل قیمتی ے، فضول چیزوں میں برباد کر رہی ہے بے حیائی فضول گفتگو دلوں کو سخت کر رہا ہے ، والدین اور استاد کا ادب
کم ہوتا جا رہا ہے یہ سب حالات ہماری توجہ کے مستحق ہیں افسوس کی بات یہ بھی ہے کہ ہم دوسروں کی اصلاح کی فکر بہت کرتے ہیں مگر اپنی اصلاح کو بھول جاتے ہیں ہم معاشرہ کو برا کہتے ہیں مگر یہ نہیں جانتے کہ معاشر ہم ہی سے ہے اگر ہر ہر فرد خود کو برا جانے اور اپنی خامیوں کو سمجھے تو معاشرہ خود بخود سنور جائے گا۔
لیکن ان تمام خرابیوں کے باوجود امید کا دروارہ بند نہیں ہوا اللہ عزوجل نے ہمیں شعور و عزت و سمجھ عطا کی ہے تاکہ ہم اپنی غلطیوں کو پہچانے اور ان کی اصلاح کریں ضرورت اس بات کی ہیں کہ ہم اپنے اندر تبدیلی لائیں اپنی زندگیوں میں سچائی ریاست دیانت داری صبر شکر اور خوب خدا کو پیدا کریں نماز کی پابندی قرآن کو سمجھ کر پڑھیں اور عمل کریں ہمیں چاہیے کہ ہم اپنے بچوں کو دینی تعلیم اور اخلاقی تربیت پر خاص توجہ دیں تاکہ وہ ایک اچھے. انسان بنے
اگر ہم واقعی اس دور کو بہتر بنانا چاہتے ہیں تو ہمیں اپنی ۔ ترجیحات کو بدلنا ہوگا دنیا کے ساتھ دین کو بھی اہمیت دینا ہوگا ہمیں اللہ عزوجل کے بتائے راستہ پر چلنا ہوگا
اور اسی احساس کے ساتھ ام کلثوم کہتی ہے کہ ، کاش ہم سب اپنے کردار کو سنوار لیں تاکہ ہمارا معاشرہ پھر سے روشن اور اور بھلائی کا گہوارا بن جائے اور یہ دعا کرتی ہے کہ اللہ تبارک و تعالٰی ہمیں دین پر قائم رکھے اور ہمارے دلوں میں سچائی محبت اور خوف خدا پیدا فوائے
( آمین ) www.nepalurdutimes.com
