ایران کے ساتھ جنگ جلد ختم ہو جائے گی نشانہ بنانے کے لیے کچھ باقی نہیں بچا:ٹرمپ
واشنگٹن:(ایجنسیاں)
صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران کے ساتھ جنگ جلد ختم ہو جائے گی کیونکہ اب عملی طور پر ایسا کچھ باقی نہیں بچا جسے نشانہ بنایا جا سکے۔ٹرمپ نے ویب سائٹ ’ایکسیس‘ کے ساتھ پانچ منٹ طویل گفتگو کے دوران مزید کہا کہ اب صرف کچھ معمولی چیزیں باقی ہیں، میں جب بھی اسے ختم کرنا چاہوں گا یہ ختم ہو جائے گی۔ ویب سائٹ کے مطابق ٹرمپ نے علانیہ طور پر اشارہ دیا کہ ان کا آپریشن بڑی حد تک اپنے اہداف حاصل کر چکا ہے تاہم امریکی اور
اسرائیلی حکام نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ امریکی صدر نے ابھی تک لڑائی روکنے کے حوالے سے کوئی اندرونی ہدایت جاری نہیں کی ہے۔ٹرمپ نے ویب سائٹ کو بتایا کہ جنگ بالکل ٹھیک سمت میں جا رہی ہے اور ہم اپنے مقررہ وقت سے بہت آگے ہیں۔ ہم نے ایران کو اس سے کہیں زیادہ نقصان پہنچایا ہے جس کی ہم نے ابتدائی چھ ہفتوں کے دوران توقع کی تھی۔ انہوں نے وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ وہ بقیہ مشرق وسطیٰ پر نظریں جمائے بیٹھے تھے،
اب وہ ان 47 برسوں کی قیمت چکا رہے ہیں جو انہوں نے موت اور تباہی پھیلانے میں گزارے۔ یہ ان کا بدلہ ہے اور وہ اتنی آسانی سے سزا سے نہیں بچ پائیں گے۔مصنوعی ذہانت کا استعمال
امریکی سینٹرل کمانڈ نے بدھ کو اعلان کیا ہے کہ وہ ایرانی فضائی حدود کے وسیع رقبے پر کنٹرول حاصل کر چکی ہے۔سینٹرل کمانڈ کے سربراہ ایڈمرل بریڈ کوپر نے بریفنگ کے دوران تصدیق کی کہ امریکی افواج ایران پر حملوں کے لیے مصنوعی ذہانت (آرٹیفیشل انٹیلی جنس) کا
استعمال کر رہی ہیں انہوں نے مزید کہا کہ ایران پر ہمارے حملے فیصلہ کن اور غیر متوقع ہیں اور ہم ایران کے خلاف بھرپور طاقت کا استعمال جاری رکھیں گے۔سینٹرل کمانڈ نے اس بات پر زور دیا کہ ان کی توجہ اس نکتے پر مرکوز ہے کہ ایران کو آبنائے ہرمز میں جہاز رانی کی آمد و رفت میں خلل ڈالنے کی اجازت نہ دی جائے۔
امریکی سینٹرل کمانڈ نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ ایرانی بحریہ کا بیڑا اب جنگ سے باہر ہو چکا ہے اور ہم نے سلیمانی کلاس کی آخری ایرانی کشتی کو بھی تباہ کر دیا ہے۔
