مفتی ساز ادارہ 'مرکز تربیت افتا: ایک تعارف
عبد السبحان بزمی مصباحی امجدی.مدھوبنی بہار
اس جہان رنگ و بو میں انسانوں کی آمد کا سلسلہ جاری ہے، پھر ایک متعینہ مدت گزار کر دار بقا کی طرف کوچ کر جانا حتمی ہے، سوائے خدا کے کسی کو دوام نہیں، ہر کوئی فنا کی منزل طے کرکے رہے گا، لیکن ان میں سے کچھ ایسے افراد ہیں جو ظاہری حیات سے روپوش ہو جانے کے بعد بھی ان کی یادیں خانۂ دل و ذہن میں روشنی بکھیرتی ہیں، ان کے دینی و دنیوی خدمات آج بھی درست راہ کی رہنمائی کر رہی ہیں، ان کے اخلاص و کردار کی بدولت انہیں حیات جاویداں کی دولت میسر ہے، انہیں عظیم المرتبت افراد میں استاذ العلما و الفقہا صاحب تصانیف کثیرہ حضور فقیہ ملت مفتی جلال الدين احمد امجدی علیہ الرحمہ کی شخصیت ممتاز نظر آتی ہے، حضور فقیہ ملت وہ نایاب ہستی ہے کہ جب تک باحیات تھے آپ کے تصنیفی و تحقیقی، اصلاحی، فقہی و شرعی اور سماجی خدمات کے توسط سے ملک ہی نہیں بلکہ بیرون ملک بھی مستفید ہوتے تھے اور تاہنوز ہو رہے ہیں اور ہوتے رہیں گے ان شا اللہ تعالیٰ.
بے مثالی ہے شہا علمی جلالت تیری
دیدنی علم و ہنر کی ہے یہ رفعت تیری
علم و تحقیق و تمدن سے تھا گہرا رشتہ
تھی زمانہ پہ عیاں شان فقاہت تیری(بزمی)
حضور فقیہ ملت علیہ الرحمہ کے کارنامہ و خدمات دینیہ کا دائرہ کافی وسیع ہے. انہیں خدمات دینیہ میں ایک ممتاز و منفرد، اور ناقابل فراموش کارنامہ "مرکز تربیت افتا" کا قیام ہے. جس کی بنیاد آپ نے اپنی عمر کی اواخر میں رکھ کر دین متین کی گراں قدر خدمات انجام دی، جو خالص تخصص فی الفقہ یعنی فقہ و افتا کی تعلیم کے لئے ہی مختص ہے. یہ مفتی ساز ادارہ ملک ہند و پاک کا سب سے پہلا اور نمایاں کارنامہ ہے، یہ وہ علمی سر چشمہ ہے جہاں تشنگانِ علوم فقہ، بڑے بڑے معیاری جامعات اور اداروں سے فارغ التحصیل ہو کرفتوی نویسی کی مشق و تربیت سے سیراب ہوتے ہیں اور میدان افتا کے گل مہکار بن کر ملک و بیرون میں دین و سنت کی نکہتیں بکھیرتے ہیں. یہ سب حضور فقیہ ملت کے فکر و تدبر اور خلوص و للہیت کی دین ہے. آئیے مرکز کے قیام و کارنامے کی جھلکیاں ملاحظہ کرتے ہیں :
تاسیسی احوال:
حضور فقیہ ملت علیہ الرحمہ ایک بالغ النظر اور کہنہ مشق زبردست محقق و مدرس، بڑے مصنف و مفتی تھے، اوائل عمری سے ہی فقہ و فتاوی کی خدمت انجام دیتے رہے
، اور عوام و خواص کے معاملات میں شرعی رہنمائی کرتے رہے، جس کی بنا پر فقہ و فتوی کی اہمیت اور افادیت آپ پر روز روشن کے مانند عیاں تھی؛ اس لیے آپ نے ایک ایسا ادارہ کھولنے کا عزم مصمم کیا جس میں خالص افتا کی تعلیم و تربیت کا شعبہ ہو.
فقیہ ملت علیہ الرحمہ نے اپنے گاؤں اوجھاگنج میں اپنی ذاتی اور وسیع و عریض زمین سے کچھ حصہ آرام گاہ کے لیے چھوڑ کر بقیہ پوری زمین "مرکز تربیت افتا دار العلوم امجدیہ اہل سنت ارشد العلوم" کے لیے وقف فرما دیا اور ١٤١٦ ھ میں اس شعبہ کا باقاعدہ قیام فرمایا.
افتتاح : ١٤١٦ھ میں حضور شارح بخاری، فقیہ اعظم ہند، مفتی اشرفیہ حضرت علامہ مفتی شریف الحق امجدی علیہ الرحمہ نے "رد المحتار" کی عبارت خوانی سے اس کا افتتاح فرمایا.افتا کورس (اقامتی/ مراسلاتی) : ملک بھر سے علما و فضلا یہاں رہائشی طور پر ٢/ سال تک فتوی نویسی کی تربیت حاصل کرتے ہیں. جو یہاں رہ کر کسی وجہ سے مشق افتا نہیں کر سکتے ان کے لیے آپ نے ١٤١٧ء میں ٥/سالہ مراسلاتی کورس کا اہتمام فرمایا، خط و کتابت کے وساطت سے افتا کی تربیت لیتے ہیں (اب یہ کورس حالات کے پیش نظر ٣/ سال کا
حضور فقیہ ملت علیہ الرحمہ کے کاندھے پر کر دیا گیا ہے) پھر عرس حضور فقیہ ملت علیہ الرحمہ کے موقع پر سند و دستار دیا جاتا ہے. حضور فقیہ ملت علیہ الرحمہ کے زمانہ میں ہی اس علمی و فنی گلشن کی نکہت ملک بھر میں پھیل گئی تھی ، اور چہار جانب "العلم نور" کی ضیا بکھیر رہا تھا ، اور اب بھی اسی کر و فر کے ساتھ دن بہ دن ترقیاتی منازل سے ہمکنار ہو رہا ہے.
تو نے بخشا ہے ہمیں علم و ادب کا گلشن
عطربیز آج بھی ہے دہر میں نکہت تیری
ذمہ داران مرکز:
مرکز کی ساری ذمہ داریاں تھیں، اور مرض و نقاہت کے باوجود آپ ہی فقہ و افتا کی تعلیم و تربیت اور مشق ممارست کی نگرانی بھی فرماتے تھے. اور تو اور اپنے بعد اس ادارہ کے حوالے سے بڑے فکر مند رہتے، کیوں کہ فتویٰ نویسی کافی مشقت آمیز اور محنت طلب فن ہے جو ہر ناکس و کس کی بات نہیں، اس کے لیے آپ اپنے صاحبزادے مفتی ابرار احمد امجدی دام ظلہ العالی کو منتخب فرمایا، بار بار انہیں اس بات کی طرف ابھارتے رہتے اور خوب زور دیتے کہ میرے بعد تم کو ہی اس ذمہ داری کو نباہنا ہے. اس لیے فراغت کے بعد اپنے سرپرستی میں ان پر کافی توجہ دی، میدان افتا کا شہسوار بنانے میں کافی تگ و دو فرمایا، مسائل کی عقدہ کشائی کے حل کے اصول سکھاتے رہیں، عمر کے آخری ایام تک یوں ہی سلسلہ چلتا رہا،
اسی سبب آپ کے دور میں ہی فتویٰ نویسی میں کافی مہارت حاصل ہو گئی تھی، اس حوالے سے حضور فقیہ ملت علیہ الرحمہ کے مکتوبات کے دو تراشیں ملاحظہ فرمائیں: (١) "مولانا نسیم صاحب کے لکھے ہوئے فتاوی کو برابر نقل کرتے رہو اور فقہ کی طرف خاص توجہ دو کہ تمہیں، ہمارا صحیح قائم مقام ہو کر مفتی ہی بننا ہے وقت کو ضائع مت کرنا کسی غلط لڑکے کے ساتھ ہرگز نہ رہنا، نماز نہایت پابندی کے ساتھ پڑھنا اور مولانا محمد نسیم صاحب کے حکم کی خلاف ورزی ہرگز نہ کرنا". (مکتوبات فقیہ ملت، بنام شہزادۂ فقیہ ملت ابرار احمد، ص: ٨٧، ط: فقیہ ملت اکیڈمی)
(٢)" تم محنت سے پڑھ رہے ہو اس سے خوشی ہوئی. حافظ اعجاز تو محض درس و تدریس میں مصروف ہو کر رہ گئے اور مولانا انوار احمد کو گھر کی نگرانی کے لیے مجبوراً کتب خانہ میں لگا دینا پڑا اب باقی بچے تم اور ازہار احمد. مگر ازہار احمد کے لیے عالم ہونے تک تو شاید میری زندہ ہی نہیں رہوں گا. میری عین تمنا ہے کہ تم محنت سے علم دین حاصل کر کے میری زندگی ہی میں میری جگہ سنبھال لو امید ہے کہ تم میری اس تمنا کو پوری کرنے کے لیے دن رات ایک کر کے لگن کے ساتھ علم حاصل کرنے کی کوشش کرو گے" (مرجع سابق، ص: ٨٨-٨٩)
بعد وصال:
حضور فقیہ ملت علیہ الرحمہ نے تقریباً ٧/ سال تک مرکز میں رہ کر زیر تدریب علماے کرام کی عمدہ تربیت فرمائی، اور اس علمی و فقہی باغ کو بڑی جہد پیہم سے آبیاری فرما کر
خوب نکھار دیا، ابھی اس کی دو بہاریں ہی مشاہدہ کر پائے تھے کہ ٣/ جمادی الآخرۃ ١٤٢٢ھ کو شب میں داعئ اجل کو لبیک کہا اور اللہ کو پیارے ہو گئے، اس کے بعد مرکز کی ذمہ داریاں مفتی ابرار احمد امجدی صاحب قبلہ کے کندھوں پر آ گئیں، اور سراج الفقہا محقق مسائل جدیدہ مفتی نظام الدین رضوی مصباحی صاحب، جامعہ اشرفیہ، مبارک پور کو اس گلشن کی شادابی کی بقا کے لیے منتخب کیا گیا، مفتی صاحب کی خدمت کی بدولت یہ گلشن علم و فن مسلسل پھولتا پھلتا رہا، اور زیر تذریب افتا، طلبہ کو بصیرت افروز ہدایات و اصلاحات اور شرعی تحقیقات و تجربات سے نوازتے سنوارتے رہے. مگر ٢٠١٦ء میں جامعہ اشرفیہ مبارک
پور کی صدارت افتا اور دوسرے مصروفیات کے باعث اس اہم ذمہ داری سے دستبردار ہو گئے اور اب صدارت فرما رہے ہیں.نیز حضور فقیہ ملت علیہ الرحمہ کے چھوٹے شہزادے حضرت مولانا مفتی محمد ازہار احمد امجدی مصباحی ازہری دام ظلہ العالی ۲۰۱۴ء کے اخیر میں جامعہ ازہر مصر سے شعبۂ حدیث پر چھ سالہ کورس کی تکمیل کے بعد مرکز کے انتظام وانصرام اور فتوی نویسی جیسے اہم کام انجام دینے میں اپنے بڑے بھائی مفتی محمد ابرار احمد امجدی برکاتی صاحب دام ظلہ العالی کے دست و بازو بنے ہوئے ہیں اور بہترین رفیق کار کی حیثیت سے بہترین مددگار ہیں، پھر چند ہی مہینوں کے بعد ۲۰۱۵ء میں جب حضرت مفتی محمد ابرار احمد امجدی برکاتی دام ظلہ العالی کی ضلع "بستی" کے قریب ایک مدرسہ میں سرکاری نوکری ہوگئی؛ تو آپ ان کی نگرانی میں مستقل طور پر افتا اور دیگر امور کی ذمہ داری بحسن وخوبی انجام دینے لگے، بحمدہ تعالی استاذ گرامی کا یہ سلسلہ مکمل نظم وضبط کے ساتھ اب تک جاری و ساری ہے اور حضور فقیہ ملت علیہ الرحمہ کی نقش قدم پر چلتے ہوئے مرکز تربیت افتا کو مزید
بلندیوں سے ہمکنار کرنے میں کوشاں رہتے ہیں.
فتاوی کی تعداد:
جب حضور فقیہ ملت علیہ الرحمہ نے’’ مرکز تربیت افتا‘‘ کا قیام فرمایا اور یہاں رہ کر تربیت کا کام شروع فرمایا تو شرعی مسائل کے استفتا کے لیے لوگوں کے سوالات کا سلسلہ یہاں بھی جاری ہوگیا اس لیے تربیت افتا کے قیام کے بعد ہی آپ نے ایک دارالافتا بھی قائم فرمایا اور اس میں آنے والے سوالات کا تحقیقی جوابات حضرت خود بہ نفس نفیس تحریر فرماتے اور کچھ فتاوی کی تربیت پانے والے علما سے تحریر کرواتے اور خود اس کی اصلاح فرما کر تصدیق فرماتے، بحمدہ تعالی آج بھی یہ کام شہزادہ حضور صدر الشریعہ محدث کبیر حضرت علامہ ضیاء المصطفی قادری صاحب قبلہ دام ظلہ، شہزادہ حضور فقیہ ملت حضرت مولانا انوار احمد صاحب قبلہ زیدہ مجدہ، صدر اعلی مرکز تربیت افتا کی سرپرستی اور وقت کے عظیم محقق ومفتی سراج الفقہا حضرت علامہ مفتی محمد نظام الدین رضوی مصباحی دام ظلہ، شہزادہ فقیہ ملت حضرت علامہ مفتی محمد ابراراحمدامجدی برکاتی، ناظم اعلی مرکز تربیت افتا اور حضرت مولانا مفتی محمدازہار احمد امجدی مصباحی ازہری زید مجدہم کی نگرانی، اصلاح اور تصدیق سے رواں دواں ہے، اب تک کے کل فتاوی کی تعداد ١٤/ رجسٹروں میں محفوظ کم وبیش ٣٥٢٨٤ ہیں۔مطبوعات کی تعداد: یہاں سے جاری ہونے والے مطبوعہ فتاوی کی تعداد دو ہیں: (۱) ’’فتاوی فقیہ ملت‘‘ جو حضور فقیہ ملت علیہ الرحمۃ والرضوان کی حیات ہی میں آپ کی تصدیقات و تصویبات سے مزین ہوا اورآپ کی وفات کے کچھ دنوں بعد ہی دو ضخیم جلدوں میں زیور طبع سے آراستہ ہوا اور ملک و بیرون ملک کے قارئین کی زینت مطالعہ بن چکے ہیں. (۲) ’’فتاوی مرکزتربیت افتا‘‘جو وقت کے عظیم محقق و مفتی سراج الفقہا استاذ گرامی حضرت علامہ مفتی محمد نظام الدین رضوی مصباحی دام ظلہ اور شہزادہ فقیہ ملت حضرت علامہ مفتی محمد ابرار احمد امجدی برکاتی زید مجدہ جیسے محقق مستند مفتیان کرام کی تائید و تصدیق اور تصحیح وتصویب سے دو ضخیم جلدوں میں زیور طبع سے آراستہ ہو چکا ہے۔ اور ہر سال پابندی سے موجودہ دور کے آنے والے نوپید مسائل کو فقہی سالنامہ کے نام سے موسوم کر کے زیور طبع سے آراستہ کیا جاتا ہے، الحمد للہ امسال بھی ٢٥؍نومبر ٢٠٢٥ء کے عرس فقیہ ملت کے حسین موقع پر ٣٠/ واں سالنامہ چھپ کر ہماری نگاہوں کے سامنے جلوہ بار ہوگا ان شا اللہ تعالی۔
حضور فقیہ ملت علیہ الرحمہ کے صاحبزاگان استاذ گرامی حضرت مولانا مفتی ابرار احمد امجدی اور حضرت مولانا مفتی ازہار احمد امجدی ازہری مصباحی دام ظلہما، اس گلشن کی دیکھ ریکھ میں کوئی کسر نہیں چھوڑی ہے، اپنے علمی و تحقیقی استعداد اور جانفشانی سے روز و شب اسے مزید نکھارنے مہکانے دمکانے سجانے اور تر و تازہ رکھنے کے خاطر مستقل طور پر اس کی آبیاری فرما رہے ہیں، اور اپنے والد گرامی کے مقاصد عظمی کی تکمیل کے لیے کوشاں نظر آتے ہیں. باری تعالیٰ ان کے خدمات کو شرف قبولیت عطا فرمائے اور دارین کی برکت و سعادت سے بہرہ ور کرے.
خدا کرے کہ یہ چمن یوں ہی لہلہاتا رہے، خزاں کی رت سے محفوظ رہے اور لمحہ بہ لمحہ اس کی شگفتگی و شادابی کے اسباب میسر کرے. آمین ثم آمین یا رب العالمین
بجاہ النبی الکریم الامینﷺ
عبد السبحان بزمی مصباحی امجدی
مدھوبنی بہار
دارالافتا مرکز تربیت افتا اوجھا گنج بستی یوپی۔
٢٣/جمادی الأولی ٤٧ھ
