Feb 7, 2026 07:41 AM Asia/Kathmandu
ہمیں فالو کریں:
حضور فقیہِ ملت علیہ الرحمہ: حیات وخدمات اور تفقہ فی الدین

حضور فقیہِ ملت علیہ الرحمہ: حیات وخدمات اور تفقہ فی الدین

21 Nov 2025
1 min read

حضور فقیہِ ملت علیہ الرحمہ: حیات وخدمات اور تفقہ فی الدین

ادیب شہیر علامہ نور محمد خالد مصباحی برکاتی ازہری

مرکزی خازن علما فاؤنڈیشن نیپال

نام: 

جلال الدین احمد، 

لقب: فقیہ ملت، نازشِ اہلسنت، استاد الفقہاء۔

والد گرامی:

 جناب جان محمد۔

ولادت:

 ۱۳۵۲ھ مطابق ۱۹۳۳ عیسوی، اوجھا گنج، بستی۔

یومِ وصال: ۴ جمادی الاخری ۱۴۲۲ ہجری، ۲۴ اگست ۲۰۰۱ عیسوی، شبِ جمعہ ۱۲:۵۵ پر۔

مزارِ مبارک:

 مرکز تربیت افتاء، دارالعلوم امجدیہ اہلسنت ارشد العلوم اوجھا گنج۔ اسی مقام پر آپ کا عرس ہر سال بڑی دھوم دھام سے منایا جاتا ہے۔

شرفِ بیعت واجازت وخلافت

آپ کو زمانۂ طالب علمی سے ہی صدر الشریعہ بدر الطریقہ حضرت مفتی محمد امجد علی صاحب اعظمی قدس سرہ العزیز سے گہری عقیدت تھی، اور جب یہ معلوم ہوا کہ آپ اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان بریلوی علیہ الرحمہ والرضوان کے خلیفہ ہیں تو آپ کی عقیدت اور زیادہ ہوگئی۔ صدر الشریعہ سے مرید ہوکر سلسلہ قادریہ رضویہ میں داخل ہوگئے۔ اپ کوحضور سراج الاصفياء سيدي سركار سيد مصطفي حيدر حسن ميان عرف حضور اخسن العلماء مارہروی عليه الرحمة والرضوان نے اجازت وخلافت عطا فرمائی ۔

//اولاد و امجاد//

حضور فقیہ ملت علیہ الرحمہ کے چار صاحبزادے ہیں۔ حضرت نے اپنے چاروں صاحبزادگان کو عالم دین بنا کر علم دین مصطفیٰ سے اپنی محبت کا ثبوت پیش کر دیا۔ راقم کے آپ کے صاحبزادگان سے اچھے مراسم ہیں۔ بڑے صاحبزادے حضرت علامہ اعجاز احمد قادری صاحب قبلہ۔ حضرت علامہ مفتی انوار احمد صاحب قبلہ امجدی سجادہ نشین اور خلیفہ ہیں۔ حضرت علامہ مفتی ابرار احمد صاحب قبلہ مرکز تربیت افتاء کے نگران اعلیٰ ہیں۔ اور چھوٹے صاحبزادے حضرت علامہ مفتی ازہار احمد صاحب قبلہ مصباحی فاضلِ حدیث (ایم اے) جامعہ ازہر مصر، آپ سے میری ملاقات اسی سال ۲۰۲۵ عرس قاسمی مارہرہ مقدسہ میں ہوئی تھی۔ چاروں صاحبزادگان حسن اخلاق کے پیکر ہیں۔ اللہ ان سب کو سلامت رکھے اور حاسدین کے حسد سے محفوظ رکھے۔

آپ کی تعلیم و تربیت

والد گرامی جناب جان محمد صاحب کے شاگرد مولوی محمد زکریا صاحب سے سات سال کی عمر میں پورا قرآن ناظرہ پڑھا اور ساڑھے دس سال کی عمر میں حفظِ قرآن مکمل کیا۔ پھر عربی، فارسی کی ابتدائی تعلیم حاصل کر کے ۱۹۴۷ عیسوی کے ہنگامہ کے فوراً بعد ناگپور تشریف لے گئے، جہاں آپ دن بھر کام کرتے، جس سے پچیس تیس روپیہ ماہانہ اپنے والدین کی خدمت میں بھیجتے اور بقیہ پیسے سے اپنے کھانے پینے کا انتظام بھی کرتے اور بعد نماز مغرب اپنے درسی ساتھیوں کے ساتھ تقریباً بارہ بجے رات تک قائدِ اہل سنت رئیس القلم حضرت علامہ ارشد القادری علیہ الرحمہ سے مدرسہ اسلامیہ شمس العلوم، بکرا منڈی مومن پورہ میں درسِ نظامیہ کی تعلیم بھی حاصل کرتے۔ آخرکار ۲۴ شعبان ۱۳۷۵ھ مطابق ۱۹ مئی ۱۹۵۲ عیسوی کو قائد اہل سنت کے دست مبارک سے ناگپور میں آپ سندِ فراغت سے نوازے گئے۔ بعدہ اپنے استاذ قائد اہلسنت علیہ الرحمہ کے حکم پر آپ دبولیا بازار، جمشید پور (بہار) مدرسہ قادریہ بھاوپور، پھر قطب المشائخ حضور شعیب الاولیاء علیہ الرحمہ کی دعوت پر ۱۹۵۴ میں براؤں شریف تشریف لے گئے، پھر وہیں کے ہوکر رہ گئے۔ تعلیم کے لیے ناگپور میں آپ نے جو مشقتیں اٹھائی ہیں، آج کے طالبان علوم نبویہ کے لیے آپ کی زندگی مشعلِ راہ ہے۔

تلامذہ

دارالعلوم فیض الرسول جیسی عظیم درسگاہ کے سبھی فارغین تقریباً مفتی جلال الدین امجدی صاحب کے شاگرد اور تربیت یافتہ ہیں جو ملک و بیرون ملک دینی خدمات انجام دے رہے ہیں۔ ہمارے نیپال کے لمبنی پردیش کے فیض الرسول براؤں شریف کے فارغین تمام علماء و فضلاء آپ کے شاگرد ہیں۔

دینی خدمات

حضرت فقیہ ملت مفتی جلال الدین امجدی کی دینی خدمات کا دائرہ بہت وسیع ہے، بلکہ بستی ضلع کی تاریخ میں آپ کا اس حیثیت سے کوئی شریک و سہیم نظر نہیں آتا کہ آپ نے ہر محاذ پر انمٹ نقوش چھوڑے ہیں۔

بیالیس سالہ تدریس کا ایک طویل سلسلہ ہے۔ تصنیف و تالیف کے میدان میں بھی آپ اپنے تمام ہم وطنوں سے فائق تھے۔ اللہ تعالیٰ اپنے خصوصی فضل سے کسی کو فقہ و حکمت کی دولت اور فتویٰ نویسی کی بصیرت عطا فرماتا ہے جیسا کہ حدیث پاک میں ہے: من یُرِد اللہُ بہ خیراً یُفقِّہہُ فِی الدِّین (بخاری ج ۱ ص ۱۶)

ترجمہ: اللہ تعالیٰ جس کے ساتھ بھلائی کا ارادہ فرماتا ہے تو اس کو دین کا فقیہ بناتا ہے۔ آپ کی حیات ہی میں آپ کی فقاہت کے بارے میں مولانا ڈاکٹر غلام یحییٰ انجم بستوی مصباحی استاذ ہمددر یونیورسٹی (نئی دہلی) فرماتے ہیں: بستی ضلع کے آپ واحد مرجع فتاویٰ ہیں، جید مفتی جن کو نہ صرف روحِ فتویٰ نویسی کا مکمل ادراک ہے بلکہ فقہ کے غامض مسائل اور جزئیات پر عبور حاصل ہے اور ملک کے صفِ اول کے مفتیانِ کرام میں آپ کا شمار ہوتا ہے، یہی وجہ ہے کہ آپ کی شہرت ملک کی سرحد پار کر گئی ہے۔ (تذکرہ علمائے بستی ص ۷۹ مطبوعہ المجمع الاسلامی مبارکپور)۔

حضور صدر الشریعہ علامہ شاہ مفتی امجد علی اعظمی رضوی خلیفۂ مفتی عالم امام احمد رضا بریلوی (قدس سرہما) مصنف بہار شریعت سے سچی عقیدت و محبت اور نسبت و ارادت تھی۔ جس کا تذکرہ کرتے ہوئے حضرت فقیہ ملت خود ارشاد فرماتے ہیں: مرید کو اگر پیر سے حقیقت میں خلوص ہو تو پیر کے وصفِ خاص کا عکس مرید میں پایا جانا ضروری ہے، اسی لیے پیر کے وصفِ خاص کی جھلک اگر مرید میں نہ پائی جائے تو ہم اسے مرید صادق نہیں سمجھتے۔ سیدی مرشدی صدر الشریعہ علامہ مولانا حکیم ابو العلا محمد امجد علی صاحب رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ علوم و فنون میں کامل دستگاہ رکھتے تھے، فقاہت کا وصف ان میں سب سے ممتاز تھا، تو یہ حضرت صدر الشریعہ رحمۃ اللہ علیہ ہی کا فیض ہے کہ درس و تدریس، تصنیف و تالیف اور دارالعلوم کی دیگر مصروفیات کے ساتھ پچیس سال میں ڈیڑھ ہزار سے زائد فتاوے لکھے جو فل اسکیپ سائز کے ایک ہزار سے زائد صفحات پر پھیلے ہوئے ہیں۔ (انوار الحدیث، مصنف کے حالات ص ۵۰۸ رضا پبلی کیشنز لاہور)۔

تصنیفی خدمات

حضرت فقیہ ملت علامہ مفتی جلال الدینامجدی دامت برکاتہم العالیہ کی علمی و دینی خدمات میں تصنیفی و قلمی خدمات کو جو نمایاں 

مقام حاصل ہے وہ اہل علم و شائقین مطالعہ سے پوشیدہ نہیں۔ تدریس و افتاء اور تبلیغی دوروں کے ساتھ ساتھ آپ نے اتنی کثیر علمی و اصلاحی کتب تصنیف کر ڈالی ہیں کہ حیرت ہوتی ہے اور اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ خدائےتعالیٰ نے آپ کے اوقات میں اسلاف کی سی برکت عطا فرمائی تھی۔ آپ کی تمام تصانیف کا تذکرہ اور ان پر تفصیلی تبصرہ کثیر صفحات کا متقاضی ہے اس لیے سردست صرف اجمالی ذکر پر ہی اکتفا کر رہا ہوں:

 (۱) فتاویٰ فیض الرسول۔

(۲) انوار الحدیث: حضرت فقیہ ملت علیہ الرحمہ کی اکثر تصانیف اہم ہیں مگر انوار الحدیث اپنی انفرادیت اور ضرورت کی وجہ سے سب پر بھاری ہے۔ اس پر ۲۷ صفحات کا ایک شاندار و جاندار مقدمہ ہے جسے مصنف کے استاذ گرامی حضرت علامہ ارشد القادری صاحب مہتمم و بانی جامعہ فیض العلوم جمشید پور (بہار) نے اپنے قلم زر نگار سے سپرد قرطاس فرمایا۔ مقدمہ کے آغاز میں حضرت علامہ تحریر فرماتے ہیں: ایک عرصہ سے اس امر کی ضرورت محسوس کی جا رہی تھی کہ عامۂ مسلمین اہلسنّت کے لیے اردو زبان میں احادیث مقدسہ کا کوئی مستند مجموعہ تیار کیا جائے لیکن کسی بھی زبان کے مطالب و معانی کو دوسری زبان میں منتقل کرنا جتنا مشکل کام ہے وہ اہل علم و بصیرت پر مخفی نہیں خصوصیت کے ساتھ احادیث نبویہ کا اردو ترجمہ تو اس لحاظ سے اور بھی زیادہ مشکل ہے۔ کہ ایمان و اسلام کی تفصیلات اور شریعت کے احکام کا وہ اصل ماخذ بھی ہے۔ اس لیے مطالب و معنی کی تعبیر میں الفاظ و بیان کی ذرا بھی لغزش ہوگی تو نہ صرف یہ کہ اسلام کے شارح کا مقصود و مدعا ادا ہونے سے رہ جائے گا۔… ترجمۂ احادیث کے سلسلے میں صرف ہر دو زبان کی واقفیت کافی نہیں بلکہ مطالب و معانی کی صحیح تعبیر پر قدرت کے ساتھ ساتھ حدیث فہمی کی فقہی بصیرت، شروح و تاویلات کا گہرا مطالعہ، اسلاف کے دینی و فکری مزاج اور ذات نبوی علیہ الصلوٰۃ والسلام کے ساتھ غایت درجہ عشق و عقیدت اور والہانہ جذبہ و احترام کا تعلق بھی نہایت ضروری ہے۔ خدا کا شکر ہے کہ فاضل جلیل حضرت مولانا مفتی جلال الدین احمد امجدی زید مجدہٗ اس عظیم خدمت کی انجام دہی کے لیے آمادہ ہو گئے اور سالہا سال کی محنت و عرق ریزی کے بعد انہوں نے مستند حدیثوں کا ایک اردو مجموعہ مرتب کر کے قوم کے سامنے پیش کیا۔ میں اپنے علم و یقین کی حد تک کہہ سکتا ہوں کہ مولانا موصوف اپنے علم و تقویٰ، بصیرت و ذکاء اور عشق و وجدان کی لطافتوں، طہارتوں اور سعادتوں کے اعتبار سے قطعاً اس خدمت کے اہل ہیں۔ اور بلا شبہ ان کی یہ خدمت احترام و اعتماد کی نظر سے دیکھے جانے کے قابل ہے۔

  (۳) عجائب الفقہ عرف فقہی پہیلیاں۔

(۴) خطباتِ محرم: اس کتاب میں فقیہ ملت نے محرم کے واعظین کے لیے خاص طور سے بارہ وعظ تحریر فرما دیے ہیں جن کا مقصد اصلی عام واعظین کو غلط روایات اور غیر مستند حکایات سے بچانا ہے۔

(۵) انوار شریعت عرف اچھی نماز: یہ کتاب عام لوگوں کے لیے ایک بیش بہا دینی خزانہ ہے جس میں ۷۷ عنوانات کے تحت اکثر ان ضروری مسائل کو پیش کر دیا گیا ہے جن کی عام طور سے مسلمانوں کو ضرورت پڑتی ہے۔ اجمالی فہرست ملاحظہ ہو: عقائد اور کفر و شرک کا بیان، وضو، غسل، تیمم اور نماز کا بیان، جمعہ و عیدین کے خطبے، قربانی، عقیقہ، نماز جنازہ، زکوٰۃ و عشر، صدقہ فطر، روزہ، نکاح و طلاق، عدت کے مسائل، کھانے پینے، لباس و زینت اور سونے اٹھنے کے آداب، فاتحہ کا آسان طریقہ اور اسلامی کلمے۔ گویا حضرت فقیہ ملت نے دریا کو کوزہ میں بند کر دیا ہے۔ (۶) تعظیم نبی (صلی اللہ علیہ وسلم): صحابۂ کرام اور اسلاف عظام کے اقوال و احوال کی روشنی میں شرعی دلائل کو سامنے رکھتے ہوئے تعظیم و احترام کا نہایت دل نشیں اور ایمان افروز تذکرہ جس کو پڑھنے کے بعد دل میں عظمتِ رسول کا چراغ روشن تر ہو جاتا ہے۔

(۷) حج و زیارت: یہ کتاب حج و زیارت کے مسائل پر مشتمل ہے۔ آج کے زمانے میں اس کتاب کا مطالعہ ہر حاجی کے لیے نہایت درجہ کارآمد ہے۔ کیوں کہ اس میں مسائل کے ساتھ حج کے سفر کی دیگر ضروریات کو بھی بیان کر دیا گیا ہے۔ کتاب کا اندازِ بیان اس قدر دل نشیں ہے کہ اس کو پڑھنے والا تھوڑی دیر کے لیے اپنے آپ کو دیارِ حرم کی سیر کرتا ہوا محسوس کرنے لگتا ہے۔

(۸) باغِ فدک اور حدیث قرطاس: باغِ فدک اور حدیث قرطاس سے متعلق رافضیوں کے اعتراضات کے تحقیقی و مسکت جوابات دیتے ہوئے حضرت فقیہ ملت مفتی جلال الدین امجدی نے شیخین کریمین سیدنا صدیق اکبر اور سیدنا امیر المؤمنین عمر فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہما کی شخصیت کو بالکل بے غبار ثابت کیا ہے۔

(۹) معارف القرآن: ایمان و عقیدے کو سنوارنے والی چند آیاتِ کریمہ کا انتخاب کر کے ان کا ترجمہ اور تفسیر پیش کی گئی ہے۔

 (۱۰) اوجھڑی کا مسئلہ: اوجھڑی وغیرہ سے متعلق مفتیان کرام کے فتاوے کا مجموعہ۔

(۱۱) علم اور علماء: قرآنی آیات اور احادیث طیبہ نیز اقوالِ بزرگانِ دین کی روشنی میں علم، علماء اور طلبہ کی فضیلت۔

(۱۲) بد مذہبوں کے رشتے: آج کل بد مذہب بالخصوص وہابی سنی گھروں میں شادیاں کر کے وہابی تحریک کو فروغ دے رہے ہیں اور بھولے بھالے جاہل مسلمان اکثر ان کے دامِ مکر میں آ بھی جاتے ہیں۔ اس لیے اس کی سخت ضرورت تھی کہ قرآن و حدیث کی روشنی میں عام لوگوں کو بد مذہبوں سے ملنے جلنے اور شادی بیاہ کرنے کی مذمت و قباحت بتائی جائے۔ حضرت مفتی صاحب قبلہ نے یہ کتاب لکھ کر امت مسلمہ پر بہت بڑا احسان کیا ہے۔

(۱۳) نورانی تعلیم: یہ بچوں کی دینی تعلیم کا ایک بہترین نصاب ہے۔

(۱۴) بزرگوں کے عقیدے: اس کتاب میں مختلف فیہ مسائل پر مستند حوالہ جات کی روشنی میں بزرگانِ دین و اسلافِ کرام کے عقائد و نظریات پیش کر کے مسلک اہلسنّت و جماعت کی حقانیت ثابت کی گئی ہے۔

(۱۵) محققانہ فیصلہ: یہ کتاب ان آٹھ مختلف فیہ مسائل پر دلائل کا نچوڑ ہے جو آئے دن موضوعِ بحث ہوا کرتے ہیں، اس کے عنوانات ملاحظہ ہوں: بدعت، صلاۃ و سلام، انگوٹھے چومنا، نذر و نیاز، اقامت کے وقت بیٹھنا، اذان خطبہ کی جگہ، بزرگوں کے ہاتھ پاؤں کو بوسہ دینا، ایصال ثواب اور فاتحہ۔

(۱۶) سید الاولیاء: یہ حضرت سید احمد کبیر رفاعی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کے حالات، کرامات اور ملفوظات پر مشتمل ہے۔

(۱۷) ضروری مسائل: چند ضروری اہم مسائل پر تحقیقی فتاوے کا مجموعہ۔

(۱۸) حرمت سجدۂ تعظیمی: غیر خدا کو سجدۂ تعظیمی کے حرام اور سجدۂ تعبدی کے کفر ہونے پر شافی بحث اور تحقیقی دلائل پر مشتمل نہایت مفید رسالہ۔

(۱۹) گلدستۂ مثنوی: مولانا جلال الدین محمد رومی جو مولانا روم کے نام سے مشہور ہیں ان کی مثنوی معنوی کو جو شہرت و مقبولیت حاصل ہے محتاج بیان نہیں۔

(۲۰) سوانح لطیف: یہ قطب وقت حضرت شاہ عبداللطیف صاحب ستھنوی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کے مختصر حالاتِ زندگی پر مشتمل ہے۔

حضرت فقیہ ملت دامت برکاتہم کی تصانیف کی

ایک بہت بڑی خصوصیت یہ ہے کہ عام فہم ہوتی تھیں اور علمی مباحث بھی حضرت فقیہ ملت آسان اسلوب میں پیش فرماتے تھے، یہی وجہ ہے کہ آپ کی تمام تصانیف آپ کی زندگی ہی میں ہاتھوں ہاتھ نکلی اور ہندوستان کے علاوہ پاکستان میں بھی اکثر تصانیف چھپ کر مقبول ہو چکی ہیں۔ کئی کتابیں ہندی زبان میں بھی منتقل ہو چکی ہیں، مثلاً انوار الحدیث، انوار شریعت، محققانہ فیصلہ، یہ کتابیں تو چھپ چکی ہیں۔ اور بد مذہبوں سے رشتے ہندی میں زیرِ طبع ہے۔ ضرورت ہے کہ حضرت فقیہ ملت کی دیگر کتابیں بھی ہندی، نیپالی، بلکہ انگریزی و گجراتی اور بنگالی زبانوں میں شائع ہوں۔

بچوں کے دینی نصاب پر لکھی ہوئی آپ کی کتاب "نورانی تعلیم" قاعدہ اول تا پنجم پرائمری درجات میں نہایت مقبول ہے اور بر اعظم ایشیا کے علاوہ امریکہ، افریقہ، انگلینڈ اور ہالینڈ وغیرہ ممالک میں بھی داخلِ نصاب ہو چکی ہے۔ اللہ تعالیٰ اسے اور مقبولیت عطا فرمائے، آمین۔

تصلب فی الدین اور امر بالمعروف و نہی عن المنکر

حضرت فقیہ ملت دامت برکاتہم العالیہ کا تصلب فی الدین آپ اس حدیثِ رسول (صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم) پر بڑی حد تک عامل تھے:

من رَأی مِنکُم مُنکَرًا فَلْیُغَیِّرْہُ بِیَدِہٖ وَمَن لَّم یَستَطِع فَبِلِسَانِہٖ فَمَن لَّم یَستَطِع فَبِقَلبِہٖ وَذٰلِکَ اَضعَفُ الایمَانِ۔ (مشکوٰۃ)

ترجمہ: تم میں جو کوئی خلافِ شرع بات دیکھے تو چاہیے کہ اس کو اپنے ہاتھ سے مٹا دے اور اگر اس کی استطاعت نہیں تو اس کو زبان سے رد کرے اور اگر اس میں بھی عاجز ہو تو دل سے اس کو برا جانے اور یہ ایمان کا کمزور ترین درجہ ہے۔حضرت مفتی جلال الدین امجدی صاحب کے پیش نظر یہ حدیث بھی تھی:

 اِذَا ظَھَرَتِ الفِتَنُ اَو قَالَ البِدَعُ وَلَم یُظْہِرِ العَالِمُ عِلمَہٗ فَعَلَیہِ لَعنَۃُ اللہِ وَالمَلٰٓئِکَۃِ وَالنَّاسِ اَجمَعِینَ لَایَقبَلُ اللہُ مِنہُ صَرفًا وَّلَا عَدلًا۔ (صواعق محرقہ ص ۲) ترجمہ: جب فتنے ظاہر ہوں اور بے دینی پھیلنے لگے اور ایسے موقع پر عالم اپنا علم نہ ظاہر کرے تو اس پر اللہ کی، فرشتوں کی اور تمام لوگوں کی لعنت ہے، اللہ تعالیٰ نہ اس کا فرض قبول کرے گا اور نہ نفل۔

ان دونوں مذکورہ حدیثوں کی روشنی میں حضرت فقیہ ملت پوری قوت اور توجہ سے امر بالمعروف اور نہی عن المنکر پر کاربند تھے۔ اور مداہنت و مصلحت سے دور رہ کر اعلانِ حق میں کسی کی پروا نہیں فرماتے۔ اس کے لیے آپ کی تصانیف بھی گواہ ہیں اور آپ کے کھلم کھلا مواعظ بھی، خاص طور سے آپ نے اپنے علاقے کو بہت سی بدعات اور خلافِ شرع رسموں سے پاک کرنے میں جو کوشش فرمائی وہ قابلِ رشک اور لائقِ تقلید ہے۔ آپ نے جن بدعات و خرافات کا تقریراً و تحریراً رد فرمایا ہے ان کی مختصر فہرست پر اکتفا کیا جاتا ہے:

(۱) غیر خدا کو سجدۂ تعظیمی حرام اور سجدۂ تعبدی کفر ہے۔

(۲) گستاخانِ رسول، علمائے دیوبند اور ان کے پیروکاروں کی تردید۔

(۳) تعزیہ اور اس سے متعلق محرم کی خرافات کا رد۔

(۴) فاسق و بد عمل اور شریعت کا مذاق اڑانے والے پیروں کی مخالفت۔

(۵) بد مذہبوں اور بد عقیدوں کے وہاں رشتہ داری کی حرمت و مذمت بیان کرنا اور اس سلسلے میں سنیوں کی رہنمائی کرنا۔

(۶) شادی کی بری رسموں کے خلاف اعلانِ حق۔

(۷) خواجہ خضر کے تہوار کے نام سے پھیلائی ہوئی برائیوں کا قلع قمع کرنا۔

(۸) اوجھڑی اور دیگر حرام ناجائز اشیاء جنہیں لوگ عام طور سے کھاتے ہیں ان کی حرمت و مذمت فرمائی اور کتاب چھاپ کر اس مسئلے کو عام سے عام تر کیا۔

 (۹) سوم، چہلم وغیرہ کے موقع پر عام مردوں کے نام ایصالِ ثواب کی دعوت کی روک تھام کرنا اور صحیح مسئلے پر عمل کی تلقین کرنا۔

 (۱۰) دیوبندیوں اور دیگر گمراہ مصنفوں کی مروجہ کتب مثلاً، بہشتی زیور، مفتاح الجنہ، راہ نجات وغیرہ کے خلاف تحریک چلا کر سنی کتب بالخصوص بہار شریعت، قانون شریعت، انوار شریعت وغیرہ کو رواج دینا۔

(۱۱) قرآن شریف مع ترجمہ اعلیٰ حضرت قدس سرہ اور بہار شریعت از صدر الشریعہ علیہ الرحمہ میں عرصہ سے جو کتابت کی اغلاط چلی آ رہی تھیں آپ نے ان کی نشاندہی فرمائی اور رسائل و اخبارات کے ذریعہ قوم کو آگاہ کیا۔

اصلاحی پیغام طالبان علومِ دینیہ کے نام

حضرت فقیہ ملت مفتی جلال الدین امجدی دامت برکاتہم نے طالبانِ علومِ دینیہ کے نام جو اصلاحی پیغام نشر فرمایا ہے وہ آبِ زر سے لکھنے کے لائق ہے۔ ذیل میں اس کا اختصار پیش کیا جاتا ہے:

 (۱) خلوص کے ساتھ خدمتِ دین کو زندگی کا مقصد قرار دو، حصولِ زر کو مقصدِ زندگی نہ بناؤ۔

(۲) مسجد یا مدرسہ کے ملازم کے معنی میں عالم نہ بنو، نائبِ رسول کے معنی میں عالم بنو۔

(۳) قرآن مجید اور حدیث شریف کے ساتھ فقہ کا زیادہ مطالعہ کرو۔

(۴) علمائے اہلسنّت خصوصاً اعلیٰ حضرت امام احمد رضا علیہ الرحمہ والرضوان کی تصنیفات کا مطالعہ کرو۔

 (۵) عالم کی سند مل جانے کو کافی نہ سمجھو بلکہ زندگی بھر تحصیلِ علم میں لگے رہو کہ حقیقت میں علم حاصل کرنے کا زمانہ فراغت کے بعد ہی ہے۔

(۶) خود بھی با عمل بنو اور دوسروں کو بھی با عمل بنانے کی دن رات کوشش کرتے رہو۔

 (۷) بد مذہب اور دنیا دار عالم سے دور بھاگو جیسے شیر سے، بلکہ اس سے بھی زیادہ کہ وہ جان لیتا ہے اور یہ ایمان برباد کرتا ہے۔

 (۸) گورنمنٹ کے الحاق سے مدارس کو بچاؤ کہ اس سے اکثر دینی مدارس دنیا دار ہو گئے اور تعلیم بھی برباد ہو گئی، اور مکر و فریب سے گورنمنٹ کا بھی پیسہ نہ لو کہ عذر و بدعہدی مطلقاً سب سے حرام ہے۔

 (۹) دین میں کبھی مداہنت اختیار نہ کرو، بلکہ حق گوئی اور بے باکی اپنا شعار بناؤ۔ (۱۰) اپنے روپے کو بینک میں رکھنے اور دوسرے کاروبار میں لگانے کے بجائے دینی کام میں لگاؤ، کتابیں تصنیف کرو اور انہیں چھپوا کر اسلام کی زیادہ سے زیادہ اشاعت کرو۔

(۱۱) اساتذہ کے حقوق کو تمام مسلمانوں کے حقوق پر مقدم رکھو اور انہیں کسی طرح کی ایذا نہ پہنچاؤ ورنہ علم کی برکت سے محروم ہو جاؤ گے۔ 

آپ کے ان اقوال کا مطالعہ کرنے سے پتہ چلتا 

ہے کہ ایک عالم دین اور ایک انسان میں انسانیت کی جو خصوصیات پائی جانی چاہیے وہ سب اللہ پاک نے آپ میں ودیعت کر دی تھیں۔ زمانۂ طالب علمی جامعہ اشرفیہ مبارکپور ۱۹۹۲ تا ۱۹۹۸ آپ کا تذکرہ جمیل اپنے اساتذہ

کرام سے سنتا رہتا تھا۔ آپ اسلاف کے حقیقی یادگار تھے۔ مجھے یاد ہے کہ جب آپ کہیں ممتحن بن کر جاتے تو آپ کے علمی جاہ و جلال، رعب و دبدبہ کا عالم ہوتا کہ طلباء آپ کا نام سن کر کانپ جاتے تھے۔ بطورِ ممتحن امتحان گاہ میں بھی طلباء کو محنت سے تعلیم حاصل کرنے کی ترغیب دیتے تھے۔

//چند خصوصیات//

حضور فقیہ ملت علیہ الرحمہ کی چند خصوصیات جو انہیں معاصر علماء و مشائخ سے ممتاز کرتی ہیں:

 حق گوئی، بے باکی، تقویٰ و پرہیزگاری، وقت کی پابندی، سفر و حضر میں نمازوں کی وقت پر ادائیگی (جو ایک سچے ولی اللہ کی نشانی ہے)، دین کو دنیا پر ترجیح دینا جیسے اوصاف آپ کے اندر کامل طور پر پائے جاتے تھے۔ فرماتے ہیں: "موسلا دھار بارش، لو کے تھپیڑے اور سخت سے سخت سردی بھی ہمیں اب تک اپنے پروگرام کے مطابق سفر کرنے سے نہیں روک سکی، میں اپنے ارادہ پر سختی سے عمل کرتا ہوں، یہاں تک کہ میری اہلیہ بیمار تھیں اور حالت بہت زیادہ نازک تھی مگر میں اپنے پروگرام کے مطابق وطن سے چل پڑا اور ابھی راستہ ہی میں تھا، براؤں شریف نہیں پہنچا تھا کہ انتقال ہو گیا۔… کبھی جھوٹے بیمار بن کر رخصتِ علالت نہیں لی، اسی لیے دارالعلوم کے قانون کے مطابق ۳۲ سالہ خدمات کی تقریباً چودہ ماہ کی رخصتِ علالت محفوظ ہے۔

یہ تھے اللہ والے جن کے دم قدم سے سنیت جگمگا اٹھی اور ہر طرف "قال اللہ و قال الرسول" کی صدا گونج اٹھی۔ "الاستقامۃ فوق الکرامۃ" کے مطابق آپ کی استقامت علی الدین ہی آپ کی ولایت کی نشانی ہے۔

ابر رحمت تری مرقد پر گہر باری کرے

 حشر تک شان کریمی ناز برداری کرے

Abdul Jabbar Alimi

عبدالجبار علیمی نظامی نیپالی۔

چیف ایڈیٹر نیپال اردو ٹائمز 8795979383