سخن زار فاؤنڈیشن کے زیرِ اہتمام مشاعرہ
لکھنؤ(ابوشحمہ انصاری)
اردو زبان و ادب کے فروغ کے لیے سرگرم منفرد مشاعرہ اور سخن زار فاؤنڈیشن کے زیرِ اہتمام معروف شاعر عادل لکھنوی کی یاد میں گزشتہ روز ایک شاندار اور باوقار مشاعرہ منعقد ہوا۔ مشاعرے میں اردو کے ممتاز شعرا اور ادب دوستوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔
مشاعرے کی صدارت معروف ادبی شخصیت صدر فاروق عادل نے فرمائی، جبکہ مشاعرے کی نظامت معروف شاعر آصف بلال نے نہایت خوش اسلوبی اور برجستگی کے ساتھ انجام دی۔ اپنے صدارتی خطاب میں صدرِ مشاعرہ نے کہا کہ ہم اردو والے ایک بڑے خاندان کی مانند ہیں، جہاں روایت اور محبت ایک دوسرے سے جڑی ہوئی ہیں۔
مشاعرے میں شریک شعرانے اپنے منتخب اشعار پیش کر کے سامعین کو محظوظ کیا۔ خواتین شاعرات کی نمائندگی کرتے ہوئے خوشبو پروین کے اشعار کو خاص پذیرائی ملی۔ انہوں نے کہا۔
مدتوں بعد مخاطب ہوئی تجھ سے لیکن
تیرے لہجے میں ابھی تک ترا ہم دکھ رہا ہے
شاہ رخ عبیر نے کہا۔
وہ ڈھونڈ مچ رہی ہے تیری نشانیوں کی
پھیلا کے رکھ دیا ہے ہم نے ہی گھر ہمارا
وسیم سدھراتھ نگری نے رہنمائی اور خود آگاہی کے موضوع پر اشعار پیش کیے۔
میں اگر خود نہ بھولتا رستہ
بھولے بھٹکوں کو راستہ دیتا
سفر نقوی نے زندگی اور موت کے فلسفے کو اپنے منفرد انداز میں بیان کیا۔
مٹی میں کھیلنے کا حسیں تجربہ رہا
ہم قبر میں گئے تو پریشاں نہیں ہوئے
عطا المصطفی نے عشق کی شدت کو نمایاں کیا۔
حادثے روز ہوئے موت نہ آئی لیکن
عشق کرنا ہی پڑا جان سے جانے کے لیے
ناظمِ مشاعرہ آصف بلال نے بطور شاعر بھی سامعین سے خوب داد وصول کی۔
ہم ایسے لوگ بہت دیر تک نہیں رہتے
یقین جانیے کوئی کمال ہو رہا ہے
نتن کبیر نے محبت اور تحفظ کے جذبات کو شعری پیرائے میں پیش کیا۔
دھیان میں رکھ کے تجھے گھر نیا بنوایا ہے
چوکھٹے اتنی اٹھا دی ہیں ترا سر نہ لگے
اہتمام صادق نے دل کی کیفیات کو سوالیہ انداز میں بیان کیا۔
پوچھنا یہ تھا کہ دستِ یار چھو لے وے اگر
دل کے دیرینہ سبھی ناسور بھر جائیں گے کیا
نظام نوشاہی نے سماجی تضاد پر بھرپور طنز کیا۔
ہر سال حج کو جاتا ہے اتنا امیر ہے
لیکن کسی غریب کے گھر تک نہیں گیا
آصف صدیقی نے بے بسی اور وقت کی سختی کو بیان کیا۔
بے بسی پہ میری یارو مت ہنسو سمجھا کرو
آئے گی تم سب کی باری اور باقی کچھ نہیں
آخر میں منتظمین نے تمام شعرا ،سامعین اور معاونین کا شکریہ ادا کیا۔ یہ مشاعرہ عادل لکھنوی کی یاد میں ایک کامیاب اور یادگار ادبی نشست ثابت ہوا۔
