حمیدیہ گرلز ڈگری کالج میں پانچ روزہ "آؤ فارسی سیکھیں" ورکشاپ کا شاندار اختتام
فارسی صرف زبان نہیں بلکہ ہماری تاریخ، تہذیب اور روشن مستقبل کی چابی ہے: ڈاکٹر رانی حفیظ حمیدیہ گرلز ڈگری کالج، پریاگ راج میں پانچ روزہ "آؤ فارسی سیکھیں" ورکشاپ کا شاندار اختتام پذیر ہو گیا. اس پانچ روزہ ورکشاپ کا انعقاد کالج کی پرنسپل پروفیسر ناصحہ عثمانی کی صدارت اور شعبہ فارسی کی اسسٹنٹ پروفیسر ڈاکٹر شبانہ عزیز کی نگرانی میں کیا گیا تھا. ورکشاپ میں طالبات کی ایک بڑی تعداد نے شرکت کر کے فارسی زبان سیکھنے اور اس کے تئیں اپنے گہرے شوق کا ثبوت دیا. اختتامی تقریب میں الہ آباد یونیورسٹی کے شعبہ فارسی کی ڈاکٹر رانی حفیظ نے بحیثیت مہمانِ مقرر شرکت کی. انہوں نے "ہندوستان میں فارسی زبان و ادب کا مستقبل" کے عنوان پر طالبات سے نہایت معلوماتی خطاب کیا.
ڈاکٹر رانی حفیظ نے کہا فارسی زبان دنیا کی قدیم ترین زبانوں میں سے ایک ہے جس نے صدیوں تک برصغیر پر حکومت کی. یہ صرف الفاظ کا مجموعہ نہیں بلکہ مشرق کی تہذیب، تاریخ اور فلسفے کی روح ہے. انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ موجودہ عالمی دور میں اردو اور دیگر زبانوں کی بقا فارسی سے وابستہ ہے. فارسی اور اردو کا رشتہ بہت گہرا ہے ہماری اردو شاعری، روزمرہ کا لہجہ اور ثقافت فارسی الفاظ اور گرامر کے بغیر ادھوری ہے. اگر ہم آنے والے وقت میں میر، غالب اور اقبال جیسے عظیم شعراء کے کلام کو گہرائی سے سمجھنا چاہتے ہیں تو ہمارے لیے فارسی زبان کا علم ہونا بے حد ضروری ہے. فردوسی کا شاہنامہ، مولانا روم کی مثنوی، شیخ سعدی کی گلستاں و بوستان اور حافظ شیرازی کی غزلیں عالمی ادب کا انمول اثاثہ ہیں جن کے مطالعے سے انسان کو اعلیٰ اخلاقی اقدار اور صوفیانہ افکار کی آگاہی ملتی ہے. ڈاکٹر رانی حفیظ نے بتایا کہ وقت کے ساتھ ساتھ فارسی کی اہمیت اور مستقبل میں اس کی ضرورت مزید بڑھتی جا رہی ہے. ہندوستان کی نئی تعلیمی پالیسی (NEP) 2020 کے تحت فارسی کو 'کلاسیکی زبان' کا درجہ دیا گیا ہے جو اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ حکومتِ ہند بھی اس عظیم ثقافتی ورثے کی اہمیت کو تسلیم کرتی ہے. عام طور پر لوگ سوال کرتے ہیں کہ آج کے دور میں فارسی سیکھنے کا کیا فائدہ ہے. اس کا جواب دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ گلوبلائزیشن کے اس دور میں فارسی بولنے والوں کی مانگ تیزی سے بڑھ رہی ہے.
ایرانی حکومت کے ساتھ بڑھتے ہوئے تجارتی معاہدے، بین الاقوامی تعلقات، سفارت کاری، سیاحت اور مشرقِ وسطیٰ کے ساتھ اقتصادی رابطوں کے شعبے میں فارسی جاننے والوں کے لیے شاندار مواقع موجود ہیں. ہماری لائبریریوں میں لاکھوں فارسی اور تاریخی دستاویزات موجود ہیں. آنے والے وقت میں جب ہم اپنی تاریخ کو از سرِ نو دریافت کریں گے تو ہمیں ایسے قابل محققین اور مترجمین کی شدید ضرورت ہوگی جو فارسی پڑھ اور سمجھ سکیں. انہوں نے طالبات کی حوصلہ افزائی کرتے ہوئے کہا اگر آپ فارسی زبان کے ساتھ ساتھ کسی دیگر عالمی زبان میں بھی مہارت حاصل کر لیں تو آپ ترقی اور بلندی کی اس منزل تک پہنچ سکتی ہیں جہاں تک آپ کے تخیل کے پرندوں کی پرواز بھی نہیں پہنچ سکتی. خطاب کے آخر میں انہوں نے یاد دلایا کہ ہندوستان میں فارسی تقریباً 1000 سال تک علمی، دفتری اور ادبی زبان رہی ہے. مغل دورِ حکومت میں یہ رابطے کی سب سے بڑی زبان تھی یہاں تک کہ ہمارے روزمرہ کے بہت سے الفاظ اسی زبان کی دین ہیں. مزید یہ کہ فارسی روحانیت اور تصوف کی زبان رہی ہے. ہندوستان میں اسلام کی ترویج اور صوفیائے کرام کے پیغامات زیادہ تر فارسی کے ذریعے ہی عام ہوئے. اس لیے فارسی ماضی کا ایک شاندار باب ہی نہیں بلکہ ہمارے حال اور مستقبل کے لیے بھی ایک اہم اثاثہ ہے. اس پروقار اختتامی تقریب میں کالج کی طالبات اور اساتذہ نے کثیر تعداد میں شرکت کی اور ورکشاپ کے کامیاب انعقاد پر شعبہ فارسی کی کوششوں کو سراہا.
