*جہیز: ایک مہلک سماجی بیماری اور بیداری کی دعوت*
محمد علی شیر قادری نظامی
سکونت: روضہ شریف، مہوتری نیپال
اے اہلِ شعور! اگر دل ابھی زندہ ہے تو خود سے یہ سوال ضرور کرو: کیا نکاح، جو رحمت، مودّت اور سکون کا سرچشمہ ہے، ہم نے اسے سودے بازی کا ذریعہ کیوں بنا دیا؟ وہ رشتہ جو اخلاص، اعتماد اور محبت سے جڑنا چاہیے تھا، اسے ہم نے سامان اور نقدی کے پلڑے میں کیوں تولنا شروع کر دیا؟ یہ محض ایک رسم نہیں، بلکہ ہمارے اخلاقی زوال اور روحانی کمزوری کی واضح علامت ہے۔ہم خود کو دھوکہ دینے کے لیے اسے “تحفہ” کہتے ہیں، مگر جہاں شرط ہو، توقع ہو، دباؤ ہو—وہ تحفہ نہیں، جبر ہے۔ اس جبر کا سب سے بڑا شکار وہ باپ بنتا ہے جو اپنی بیٹی کو عزت کے ساتھ رخصت کرنا چاہتا ہے مگر معاشرتی دباؤ اسے قرض، فکر اور بے بسی کی دلدل میں دھکیل دیتا ہے۔ وہ بیٹی، جو رحمت بن کر گھر سے رخصت ہوتی ہے، اسی رسم کی وجہ سے آزمائش بن جاتی ہے۔ عزت کے نام پر ذلت کا یہ بوجھ نہ صرف ایک فرد بلکہ پورے خاندان کی کمر توڑ دیتا ہے۔اگر ہم اپنی رہنمائی کے لیے سیرتِ طیبہ کی طرف رجوع کریں تو ہمیں واضح ہدایت ملتی ہے۔اللہ کے پیارے رسول حضرت محمّد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے: “سب سے بابرکت نکاح وہ ہے جو سب سے زیادہ آسان ہو۔” یہ مختصر مگر جامع ارشاد ہمارے لیے ایک مکمل اصول ہے۔ اس میں نہ صرف سادگی کی تلقین ہے بلکہ اس بات کی طرف اشارہ بھی ہے کہ نکاح کو بوجھ بنانا دراصل برکت سے محرومی کا سبب ہے۔ جب ہم اس پاکیزہ تعلیم کو نظر انداز کرتے ہیں اور نکاح میں مطالبات، جہیز اور نمود و نمائش کو شامل کرتے ہیں تو ہم خود اپنے ہاتھوں سے اس برکت کو ختم کر دیتے ہیں۔اسلاف اور بزرگانِ دین کی زندگیاں بھی اسی حقیقت کی گواہ ہیں۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ اور حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہاکا نکاح سادگی کی اعلیٰ مثال ہے۔ چند ضروری اشیاء
پر مشتمل ایک مختصر سا گھرانہ، مگر اس میں محبت، قناعت اور سکون کی ایسی دولت تھی جو آج کے پُرتکلف گھروں میں ناپید دکھائی دیتی ہے۔ اسی طرح
حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے نکاح کو آسان بنانے کی تلقین فرمائی، کیونکہ وہ جانتے تھے کہ جب رشتے سادہ ہوں گے تو معاشرہ بھی متوازن اور خوشحال ہوگا۔
صوفیاء کرام نے بھی دنیاوی لالچ کو روحانی بیماری قرار دیا ہے۔ حضرت خواجہ معین الدین چشتی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ “جس دل میں حرص ہو، وہاں سکون نہیں ٹھہرتا۔” یہی حرص جب نکاح میں شامل ہو جائے تو وہ رحمت کے بجائے زحمت بن جاتی ہے۔ حضرت جنید بغدادی رحمۃ اللہ علیہ کا قول ہے کہ “اخلاص وہ دولت ہے جو کمی کو بھی کمال بنا دیتی ہے۔” اگر نکاح اخلاص پر قائم ہو تو وسائل کی کمی بھی خوشیوں میں رکاوٹ نہیں بنتی۔جہیز نے ہمارے معاشرے میں ایک ایسی سوچ کو جنم دیا ہے جہاں عزت کو دولت سے ناپا جاتا
ہے، اور بیٹی کو بوجھ سمجھا جانے لگتا ہے۔ اس کا نتیجہ گھریلو تنازعات، ذہنی دباؤ اور بے سکونی کی صورت میں ظاہر ہوتا ہے۔ ایسے ماحول میں پروان چڑھنے والی اولاد نہ وہ سکون پا سکتی ہے اور نہ وہ مثبت کردار کی حامل بن پاتی ہے جو والدین اور قوم کے لیے باعثِ فخر ہو۔ جس گھر کی بنیاد ہی لالچ اور مطالبے پر ہو، وہاں سے اٹھنے والی نسلیں اکثر انہی کمزوریوں کو آگے بڑھاتی ہیں۔اہلِ دل جانتے ہیں کہ اصل برکت مال و اسباب میں نہیں بلکہ نیت کی پاکیزگی میں ہے۔ جب نکاح میں اخلاص اور سادگی ہو تو قلیل وسائل بھی کافی ہو جاتے ہیں، مگر جب لالچ شامل ہو جائے تو کثرت بھی بے سکونی میں بدل جاتی ہے۔اب وقت آ گیا ہے کہ ہم محض گفتگو پر اکتفا نہ کریں بلکہ عملی اقدام کریں۔ ایسے رشتوں کو رد کریں جہاں جہیز یا نقدی کا مطالبہ ہو، اور ایسے لوگوں کا سماجی بائیکاٹ کریں جو اس برائی کو فروغ دیتے ہیں۔ سادہ شادیوں کو اپنائیں اور اسے باعثِ فخر سمجھیں۔ نوجوان نسل کو یہ شعور دیں کہ وہ اس روایت کے خلاف کھڑی ہو، کیونکہ یہی وہ قوت ہے جو معاشرے کو بدل سکتی ہے۔
تعلیم، میڈیا اور سماجی رہنما اگر اس پیغام کو عام کریں کہ عزت کردار میں ہے نہ کہ جہیز میں، تو یقیناً ایک مثبت تبدیلی آ سکتی ہے۔ ہمیں اپنی ترجیحات بدلنی ہوں گی اور سادگی کو اختیار کرنا ہوگا۔
یاد رکھو! تبدیلی کا آغاز تم سے ہوتا ہے۔ اگر تم نے اپنے عمل کو درست کر لیا تو معاشرہ خود بخود سنورنے لگے گا۔ آج عہد کرو کہ ہم ایسے رشتے قائم کریں گے جو محبت، اخلاص اور سادگی پر مبنی ہوں، تاکہ ہماری آنے والی نسلیں سکون، اعتماد اور اعلیٰ اقدار کے ساتھ پروان چڑھیں۔ آؤ ایک ایسا معاشرہ تشکیل دیں جہاں بیٹی رحمت ہو، بوجھ نہیں، جہاں شادی آسان ہو مشکل نہیں، اور جہاں اولاد والدین کے لیے راحت اور قوم کے لیے فخر کا باعث بنے۔
