سیرت طیبہ میں خدمتِ خلق کا پیغام
*محمد ارمان قادری، مصباحی ۔*
*فاؤنڈر: الامان ایجوکیشنل سوسائٹی، مرادآباد*
اسلام ہر اعتبار سے پوری دنیا کے انسانیت کے حقوق کو گھیرے ہوئے کیونکہ وہ ایک کامل، جامع اور انسان دوست مذہب ہے، جس کی بنیاد اللہ کی بندگی اور مخلوق کی خدمت پر رکھی گئی ہے۔ یہ دین انسان کو صرف عبادات کا پابند نہیں بناتا بلکہ اسے محبت، ہمدردی، عدل، مساوات اور خدمتِ خلق جیسے اوصاف سے مزین ہونے کی بھی دعوت دیتا ہے۔
اور رحمتِ عالم، نبی آخر الزمان حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ مذہب اسلام کے سب سے بڑے داعی ہیں اور آپ کی زندگی تمام احکام اسلام کی عکاسی کرتی ہیں۔ آپ کی سیرتِ طیبہ انسانیت کے ہر طبقے کے لیے رہنمائی کا سرچشمہ ہے۔ چاہے یتیم ہو یا مسکین، غلام ہو یا آزاد، عورت ہو یا مرد، مسلم ہو یا غیر مسلم، دوست ہو یا دشمن آپ نے ہر ایک کے ساتھ ایسا حسنِ سلوک فرمایا کہ رہتی دنیا تک آپ کا کردار تمام انسانیت کے لیے مشعلِ راہ ہے۔آپ کی زندگی سے ہمیں اپنے ماتحتوں ملازموں اور دوسرے بندگانِ خدا کے ساتھ برتاؤ کرنے کے بارے میں رہنما اصول ملتے ہیں:
لوگوں کو نفع پہنچانے اور ان کو تکلیف سے دور رکھنے کے بارے میں آپ فرماتے ہیں:
"خَيْرُ النَّاسِ أَنْفَعُهُمْ لِلنَّاسِ" (الجامع الصغیر، حدیث: 4162)
“سب سے بہتر انسان وہ ہے جو دوسروں کے لیے سب سے زیادہ نفع بخش ہو”
آپ نے یہ بھی ارشاد فرمایا: الْمُسْلِمُ مَنْ سَلِمَ الْمُسْلِمُونَ مِنْ لِسَانِهِ وَيَدِهِ۔(صحیح البخاری)
مسلمان وہ ہے جس کی زبان اور ہاتھ سے دوسرے مسلمان محفوظ رہیں۔
یعنی مسلمان اپنے ہاتھ اور زبان سے دوسرے مسلمانوں کو کوئی تکلیف نہیں پہنچاتا بلکہ وہ اپنے کردار سے حضور ﷺ کے کردار کی عکاسی کرنے کی کوشش کرتا ہے آئیے اب دیکھتے ہیں کہ حضور ﷺ کا عظیم کردار کیسا تھا:
حضور ﷺ کا دل یتیموں، مسکینوں بے سہارا لوگوں اور زندہ درگور ہوتی بچیوں کے لیے محبت اور شفقت سے لبریز تھا۔ آپ نے ان کی کفالت کو جنت کی ضمانت قرار دیا اور ان کو معاشرے میں عزت و مقام عطا فرمایا۔جبکہ زمانۂ جاہلیت کا وہ ایسا دور تھا کہ اس وقت انسانیت کی کوئی قدر و قیمت نہ تھی اور غلاموں ماتحتوں ملازموں کے ساتھ بد سے بدتر سلوک کیا جاتا، بچیوں کو زندہ درگور کر دیا جاتا، جو بچ جاتیں ان کو حقوق سے محروم کر دیا جاتا تھا۔
یتیموں اور مسکینوں سے حسنِ سلوک:
ارشادِ نبوی ﷺہے:
أنا وكافل اليتيم في الجنة هكذا، وَأَشَارَ بِالسَّبَّابَةِ وَالْوُسْطَى۔۔(بخاری: 5304) “میں اور یتیم کی کفالت کرنے والا جنت میں اس طرح ہوں گے (جیسے یہ دو انگلیاں)”
غلاموں اور کمزوروں سے مساوات:
نبی کریم ﷺ نے غلاموں کو انسانیت کا درجہ دیا، ان سے حسن سلوک کیا اور مساوات کا عملی مظاہرہ فرمایا۔حضرت بلال حبشی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو کھانے کعبہ کی چھت پر اذان دینے کا شرف عطا فرمایا، حالانکہ وہ سابقہ غلام تھے۔ حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں:
"میں نے دس سال تک رسول اللہ ﷺ کی خدمت کی، آپ ﷺ نے کبھی مجھے "اف" تک نہ کہا، نہ کبھی یہ فرمایا: "یہ کیوں کیا؟" اور نہ یہ فرمایا: "یہ کیوں نہ کیا؟"(بخاری:5304)
اس کی ایک اور واضح دلیل یہ ہے کہ نبی رحمت ﷺ نے صحابہ کرام کو اپنے ما تحتوں سے معاملات کے آداب سکھائے اور حسن سلوک کی ترغیب دیتے ہوئے فرمایا:
"تمہارے خادم تمہارے بھائی ہیں، اللہ نے انہیں تمہارے ماتحت بنایا ہے۔ لہٰذا جس کے ماتحت کوئی بھائی ہو، تو اسے چاہیے کہ وہ اسے وہی کھلائے جو خود کھاتا ہے، اور وہی پہنائے جو خود پہنتا ہے، اور ان سے ان کے طاقت سے بڑھ کر کام نہ لے۔ اگر ان سے ایسا کام لے جو ان کی طاقت سے بڑھ کر ہو تو پھر خود بھی ان کی مدد کرے"(بخاری:2545)
بیماروں کی تیمارداری:
نبی اکرم ﷺ کی سیرتِ طیبہ کا ایک مبارک گوشہ یہ ہے کہ آپ نہ صرف اپنوں کی، بلکہ غیروں کی بھی عیادت فرمایا کرتے تھے۔ حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے،فرمایا:
"ایک یہودی لڑکا نبی کریم ﷺ کی خدمت کیا کرتا تھا۔وہ بیمار ہو گیا، تو نبی کریم ﷺ اس کی عیادت کے لیے تشریف لے گئے۔آپ اس کے سرہانے بیٹھ گئے اور اس سے فرمایا: "اسلام لے آؤ (مسلمان ہو جاؤ)" وہ نوجوان اپنے والد کی طرف دیکھنے لگا اب تک حضور کے کریمانہ انداز سے وہ یہودی بھی متاثر ہو چکا تھا اس لیے اس نے کہا کہ ابو القاسم کی اتباع کرو چنانچہ اس لڑکے نے اسلام قبول کر لیا"(بخاری: 1356)
دشمنوں کے ساتھ بھی حسنِ سلوک:
آقائے کریم ﷺ نے دشمنوں کے ساتھ بھی اخلاق، رحمت اور ہمدردی کا مظاہرہ فرمایا۔ واقعہ طائف کا وہ دل سوز منظر یاد کیجیئے، جب کہ طائف کے لوگوں نے آپ ﷺ کو لہو لہان کر دیا تھا، تو فرشتۂ کوہ(پہاڑوں پر مسلط فرشتہ) کی پیشکش کے باوجود آپ نےفرمایا میں ان کی ہلاکت نہیں بلکہ ان کی ہدایت چاہتا ہوں۔
اور مسلم شریف کی حدیث پاک میں ہے:
"عن أبي هريرة قال: قيل: يا رسول الله ادع على المشركين،قال: إني لم أبعث لعّانا وإنما بعثت رحمة" (مسلم 2599)
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے: کہا گیا: “یا رسول اللہﷺ ! مشرکوں پر بددعا کیجیے”
آپ ﷺ نے فرمایا: “میں لعنت کرنے والا بنا کر نہیں بھیجا گیا، بلکہ مجھے رحمت بنا کر بھیجا گیا ہے”
فتحِ مکہ کے موقع پر عام معافی کے اعلان کو رہتے دنیا تک فراموش نہیں کیا جا سکتا۔
جب محسنِ انسانیت ﷺ فاتح کی حیثیت سے مکہ مکرمہ میں داخل ہوئے تو فرمایا:
" اذْهَبُوا فَأَنْتُمُ الطُّلَقَاءُ" (ابن ہشام، جلد 2) “جاؤ! تم سب آزاد ہو”
عورتوں کے حقوق کا تحفّظ:
نبی آخر الزماں ﷺ نے عورت کو وہ عزت و مقام عطا فرمایا،کہ بیٹی کو رحمت اور بیوی کے ساتھ حسن سلوک کو بہترین اخلاق قرار دیا۔
ارشادِ نبوی ﷺ ہے: "خَيْرُكُمْ، خَيْرُكُمْ لِأَهْلِهِ، وَأَنَا خَيْرُكُمْ لِأَهْلِي"(ترمذی: 3895)
“تم میں سب سے بہتر وہ ہے جو اپنے گھر والوں کے ساتھ اچھا ہو، اور میں تم سب سے بہتر ہوں اپنے اہل کے ساتھ”
لوگ آج کہتے ہیں کہ عورتوں کو حقوق دیئے جائیں،ان کو مقام و مرتبہ دیا جائے لیکن وہ یہ بھول جاتے ہیں کہ پیغمبر اسلام محمد ﷺ نے عورتوں کو وہ مقام عطا فرمایا کہ ان کو جنت میں جانے کا سبب ہی بنا دیا۔
رحمت عالمﷺ کا فرمان ہے :
"جس شخص کی تین بیٹیاں، یا تین بہنیں، یا دو بیٹیاں، یا دو بہنیں ہوں، اور وہ ان کے ساتھ اچھا سلوک کرے اور ان کے بارے میں اللہ سے ڈرتا رہے (یعنی ان کا حق ادا کرے)، تو اس کے لیے جنت ہے"(سنن الترمذی:1913)
حضور ﷺ مخلوق رب العالمین کے ساتھ جو خدمت کا جذبہ رکھتے تھے اس کا اندازہ حضرت خدیجہ رضی اللہ تعالی عنہا کے ان الفاظ سے لگایا جا سکتا ہے جو اپ نے حضور ﷺ سے پہلی وحی کے وقت اپ کو دلاسہ دیتے ہوئے کہے تھے۔
جب پہلی وحی کے بعد نبی ﷺ غارِ حرا سے حالت اضطراب میں گھر واپس آئے تو حضرت خدیجہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے تسلی دیتے ہوئے کہا "اللہ کی قسم! اللہ آپ کو ہرگز رسوا نہیں کرے، آپ صلہ رحمی کرتے ہیں، سچ بولتے ہیں، کمزوروں کا بوجھ اٹھاتے ہیں، مہمان نوازی کرتے ہیں، اور حق کے کاموں میں مدد کرتے ہیں۔"(بخاری: 3)
یہ الفاظ آپ کی سیرت طیبہ اور خدمتِ خلق پر روشن دلیل ہیں۔ نبی کریم ﷺ کی سیرتِ طیبہ ہمیں سکھاتی ہے کہ انسانیت، خدمتِ خلق، عدل و انصاف، محبت و ہمدردی، رحم و کرم، مساوات اور معاشرتی فلاح دینِ اسلام کی روح ہے۔آپ کی زندگی سے ہمیں پتہ لگتا ہے کہ خدمتِ خلق صرف ایک اخلاقی فریضہ ہی نہیں بلکہ نبوی سنت ہے جسے اپنا کر ہم ایک بہتر فرد، بہتر معاشرہ، اور بہتر اُمت بن سکتے ہیں۔
اللہ تعالی ہمیں حضور ﷺ کی سیرت پر چلنے، دوسروں کی خدمت کرنے، اور دنیا میں خیر و بھلائی پھیلانے والا بنائے۔
آمین، یا رب العالمین!
