Oct 30, 2026 04:56 PM Asia/Kathmandu
ہمیں فالو کریں:
1مضمون: محاسبۂ نفس: اصلاحِ ذات سے تعمیرِ معاشرہ تک

1مضمون: محاسبۂ نفس: اصلاحِ ذات سے تعمیرِ معاشرہ تک

29 Oct 2026
1 min read

مضمون: محاسبۂ نفس: اصلاحِ ذات سے تعمیرِ معاشرہ تک

تعریف : اپنی ذات کا محاسبہ کرنا خود احتسابی کہلاتا ہے؛ یعنی اقوال، افعال، کردار، اور اعمال میں اپنی خوبیوں ،خامیوں سے آگاہ ہونا اور ذاتی طور پر اپنے آپ کو بہتر بنانا۔ درحقیقت اس عمل کا تعلق اپنی ذات سے ہوتا ہے اس لیے کہ دوسروں کا احتساب اور اپنے اپ کو دوسروں کے لیے موثر بنانا اس وقت تک ممکن نہیں ہے جب تک  اپنی ذات کی معرفت اور اپنے اعمال و احوال کی شناخت حاصل نہ ہو ؛ مزید یہ کہ اپنی ذات کو فراموش کر کےاولا غیر پر اس کو محمول کرنے کی صورت میں بھلائی کی توقع نہیں کی جا سکتی۔

 ضرورت و اہمیت : فرد کی اصلاح اور معاشرے کی فلاح و بہبود، نیز انفرادی و اجتماعی زندگی کی خوشحالی کے لیے ایک مؤثر نظامِ احتساب ناگزیر ہے؛ تاہم اس نظام کی حقیقی بنیاد خود احتسابی اور اپنی ذات کی خبرگیری پر قائم ہوتی ہے۔ خود احتسابی انسان کے داخلی و خارجی معاملات میں پوشیدہ کوتاہیوں کی نشان دہی کرکے ان کے ازالے اور بہتری کی راہ ہموار کرتی ہے۔ یہ ریا سے پاک خالص بندگی اور تقویٰ و پرہیزگاری کے حصول میں معاون ثابت ہوتی ہے، جس کے نتیجے میں خود غرضی اور نفس پرستی جیسی رذیل صفات کا خاتمہ ہوتا ہے، جبکہ فکرِ آخرت، نیکیوں کی رغبت، تہذیب و شرافت، عدل و انصاف اور دیگر معاشرہ پرور و انسانیت افروز اوصاف پروان چڑھتے ہیں۔ یوں گناہوں سے نفرت اور نیکیوں سے محبت انسان کی روزمرہ زندگی کا مستقل حصہ بن جاتی ہے۔

قرآن و سنت میں خود احتسابی:

اللہ تعالی قران حکیم میں ارشاد فرماتا ہے:

 

ترجمہ:  اے ایمان والو اللہ سے ڈرو اور ہر جان دیکھے کہ کل کے لیے کیا آگے بھیجا اور اللہ سے ڈرو بے شک اللہ کو تمہارے کاموں کی خبر ہے۔اور ان جیسے نہ ہو جو اللہ کو بھول بیٹھے تو اللہ نے اُنھیں بلا میں ڈالا کہ اپنی جانیں یاد نہ رہیں وہی فاسق ہیں۔ترجمہ۔(سورۃالحشر ، 59, الآية18,19)

گزشتہ ایات میں یہودیوں اور منافقین کی عہد شکنی اور مکرو فریب کو بیان کرنے کے بعد ان آیات میں اللہ تعالیٰ مومنوں کو نصیحت فرما رہا ہے کہ تم خوش فہمی میں مبتلا ہو کر اپنی آخرت کی بابت فراموش مت بیٹھنا! بلکہ اداء فرائض و اجتناب معاصی اور اوامر و نواہی کے بارے میں اللہ تعالی سے ڈرو اور اپنے نفس کا محاسبہ کرو کہ کیا تم نے اپنی آخرت کی خاطر کچھ توشہ اکٹھا کیا ہے؟ اس سے پہلے کہ تمہارے اعمال کا میزان بر سرعام قائم کیا جائے تم خود اپنے اعمال کو نکھار لو اپنے نفس کو سنوار لو اور منافقین کے طرز عمل کو چھوڑ دو۔

میرے عزیزو خبردار! جو شخص بھی اپنے نفس کے متعلق خیر و خوبی کا خواہاں ہو اسے چاہیے کہ وقتاً فوقتاً اپنے نفس کے ساتھ خلوت نشینی اختیار کرے اور اس کا ایک ٹھوس اور پر خلوص محاسبہ کرے۔

حدیث پاک میں ہے: 

ترجمہ :  رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”عقلمند وہ ہے جو اپنے نفس کا محاسبہ کرے، اور موت کے بعد کی زندگی کے لیے عمل کرے، اور عاجز وہ ہے جو اپنے نفس کو خواہشوں پر لگا دے، پھر اللہ تعالیٰ سے تمنائیں کرے۔ (الترمذي)

عقل، جو انسان کی علمی و فکری صلاحیت کی اساس اور مرکز ہے، حضورِ اکرم ﷺ نے اس کی حقیقی قدر و منزلت واضح کرتے ہوئے فرمایا کہ حقیقی دانا وہ ہے جو اپنے نفس کا محاسبہ کرے اور ابدی زندگی کے لیے عمل کرے، نہ کہ وہ جو خواہشاتِ نفس کا اسیر ہو کر محض زعمِ خویش میں خود کو عقل مند سمجھ بیٹھے۔

 

 

خود احتسابی سے غفلت کے نتائج:

 اللہ تعالی خسارہ اٹھانے والوں کے بارے میں ارشاد فرماتا ہے:

ترجمہ۔: بیشک وہ حساب کا خوف نہ رکھتے تھے۔(سورة النبأ، 78، الآية 27 )

یقیناً جو شخص اس بات سے بے پروا ہے کہ اس کے اچھے برے اعمال کا حساب کتاب نہیں ہوگا وہ خسارے میں ہے پروردگار عالم کی عطا کردہ جن نعمتوں کے سائے تلے وہ زندگی کے مراحل طے کر رہا ہے کیا اس زعم میں مبتلا ہے کہ اس سے اس بارے میں سوال نہیں کیا جاۓ گا؟ یقیناً اس کی تفتیش کی جائے گی! ایسی حالت میں کہ وہ بولنے سے قاصر ہوگا بایں طور کہ اس کی زبان پر تالا لگا دیا جائے گا اور اس کے دست و پا بارگاہ خداوندی میں متکلم و شاہد ہوں گے، اس وقت اس کے پاس افسوس کے سوا کوئی چارہ نہیں ہوگا، کیا وہ بھول گیا کہ  جس آسمان کے ساۓ تلے دن کے اجالے اور اندھیری رات میں وہ گناہوں میں مصروف عمل تھا، ایک طرف تو وہ حقوق اللہ جیسی محبوب ذمہ داری کو فراموش کیے ہوئے تھا تو دوسری طرف اس کے حرکات و سکنات اور رد عمل سے ایسا محسوس ہوتا تھا کہ وہ حقوق العباد جیسی عظیم ذمہ داری سے بر طرف ہو گیا ہے، ایسا لگتا تھا کہ فرائض و واجبات سے اس کا تعلق ہی نہیں ہے، اوامر و نواہی کا لحاظ کھو بیٹھا ہے، جھوٹ، غیبت، حقد ،حسد، کِبر، خیانت اور ظلم و ستم جیسی آلائشوں میں زندگی گزارنا ہی اس کا اصل مقصد حیات ہے در اصل وہ ان اعمال خسیسہ کی سر گرمیوں میں یہ بھول بیٹھا تھا کہ قہر جلیل اور بطش شدید اس کا پیچھا کر رہی ہے ۔

خود احتسابی کا عملی طریقہ:

لہذا  ہم میں سے ہر شخص کو چاہیے کہ اپنے نفس کے ساتھ ایک احتسابی وقفہ گزارے جس میں وہ اپنے اعمال صالحہ و اعمال طالحہ کو یاد کرے، اللہ کی عطا کردہ ذمہ داریاں جو اس پر عائد ہیں ان میں غور و فکر کرے دیکھے کہ فرائض و واجبات کے ساتھ اس کا کیا معاملہ ہے کیا شرائط و ارکان کی پاسداری بروئے کار ہے یا پس پشت نماز کے وقت مسلمانوں کی جماعت کے ساتھ شرکت کا کیا معاملہ ہے فجر و عصر کی نمازوں کا کیا حال ہے کیا نوافل و مستحبات سے اس نے رشتہ جوڑا ہے تاکہ فرائض و واجبات میں سرزد ہونے والی کمیوں اور کوتاہیوں کا ازالہ ہو جاۓ اور دامنِ دل محبتِ الٰہی سے معمور اور بارگاہِ خداوندی سے قریب ہو جائے ۔

یوہیں اسے چاہیے کہ دیگر عبادات کے بارے میں بھی اپنا محاسبہ کرے۔اپنے آپ سے یہ بھی پوچھے کہ جو تعلقات قائم کیے یا جو رشتے ختم کیے، جن تقریبات و مجالس میں شرکت کی جو وعظ و گفتگو کی جو سفر کیے کیا یہ سب اللہ کی رضا کے لیے تھا؟ یا محض لوگوں کی خوشامد، تعلق داری اور دکھاوے کے لیے؟

یہ سوالات مشکل ہیں اور ان کے جوابات اس سے بھی زیادہ مشکل ہیں۔ لیکن یہ ایسی حقیقتیں ہیں جنہیں ہر انسان کو اپنے بارے میں قبول کرنا چاہیے اور اپنے دل و دماغ سے ان پر غور کرنا چاہیے، تاکہ وہ اپنی اصلاح کرے اور اپنی زندگی کو بہتر بنائے۔اس سے پہلے کہ موت اچانک آ جائے اور انسان کو دنیا سے رخصت کر دے، اسے اپنے نفس کا محاسبہ کر لینا چاہیے؛ کیونکہ موت کے بعد پچھتاوے کا کوئی فائدہ نہیں ہوگا۔

اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:

ترجمہ: اس دن آدمی کو اس کا سب اگلا پچھلا بتادیا جائے گا۔ بلکہ آدمی خود ہی اپنے حال پر پوری نگاہ رکھنے والا ہوگا ۔ اگرچہ اپنی سب معذرتیں لا ڈالے ۔

(سورة القيامة،75, الآية، 13,14,15)

گھریلو معاملات میں خود احتسابی:

خود احتسابی کا دائرہ صرف عبادات اور انفرادی اعمال تک محدود نہیں ہے؛ بلکہ انسان کی گھریلو زندگی بھی اس کا ایک اہم خطہ ہے گھر ہی وہ جگہ ہے جہاں انسان کے اخلاق، کردار اور رویے کی اصل شناخت اور آزمائش ہوتی ہے کیونکہ اہل خانہ کے درمیان مانوسیت اور قربت یوہیں کبھی کبھار گھر کا بڑا فرد ہونے کی وجہ سے  یہ صفات فطری طور پر بلا تکلف (Naturally) عمل میں آتے ہیں اور نفس کی سرکشی و بے باکی پر قابو نہیں ہوپاتا ہے تاہم بسا اوقات گھر سے باہر دکھاوے کی آمیزش اور باہری افراد کے خوف کی بدولت اصلیت پردے میں چھپ جاتی ہے اور سطحی طور پر نرمی اور صبر کا اظہار ہوتا ہے لہذا خود سے یہ پوچھنا چاہیے کہ اہل خانہ سے ہمارے روابط کس طرح کے ہیں والدین کی فرمانبرداری اور خدمت میں ہمارا کتنا وقت صرف ہوتا ہے؟ بیوی بچے، بہن بھائی اور دیگر افراد کے ساتھ حسن سلوک کا کیا معاملہ ہے کیا کسی فرد کو زبان و عمل یا غلط رویے سے تکلیف تو نہیں پہنچتی ہے غصے کے وقت سامنے والے کی لحاظ داری اور نفس پر قابو ہوپاتا ہے کہ نہیں ۔

حضور پاک صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

"تم میں سب سے بہتر وہ ہے جو اپنے اہلِ خانہ کے لیے بہتر ہو، اور میں تم سب سے بڑھ کر اپنے اہلِ خانہ کے لیے بہتر ہوں۔"  (الترمذي)

یوہیں جب ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالی عنہا سے پیارے آقا صلی اللہ علیہ وسلم کی گھریلو زندگی کے بارے میں پوچھا گیا تو آپ نے ایک نہایت ہی خوبصورت اور سبق آموز عادت کریمہ کا تذکرہ فرمایا، فرماتی ہیں:

"آپ ﷺ اپنے اہلِ خانہ کے کام میں مشغول رہتے اور ان کے کاموں میں ہاتھ بٹاتے تھے۔" (صحيح البخاري)

حضور سرور کائنات صلی اللہ علیہ وسلم کی ان پیاری احادیث میں عمومیت کا پہلو نمایاں ہے؛ یعنی کہ سب سے بہتر انسان وہ ہے جو اسلامی نقطۂ نظر سے اپنے اہل خانہ کے لیے ہر اعتبار سے بہتر ہو بسا اوقات ایسا دیکھنے کو ملتا ہے کہ آدمی معاشرے کی خیر خواہی میں تو کوئی کوتاہی نہیں کرتا ہے، اخلاقی طور پر لوگوں سے نرمی اور محبت کا اظہار، عملی طور پر لوگوں کی رہنمائی، مالی و اقتصادی امداد، غربا و مساکین کی دلجوئی حتی کہ بہت سارے بھلائی کے کاموں میں حصہ لیتا ہے لیکن صرف انہیں مصروفیات میں مشغولیت کے باعث اہل خانہ سے غافل ہو جاتاہے، جس کے نتیجے میں والدین کی ضروریات سے بے اعتنائی، ان کے حقوق کی ادائیگی میں کوتاہی اور نہ چاہتے ہوئے بھی بیوی بچوں سے دوری اور ان نوعیت کے دیگر نامناسب مسائل جنم لیتے ہیں۔

 حالانکہ پیارے آقا صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت طیبہ پر عمل کرنے کا تقاضا تو یہ ہے کہ انسان اپنی معاشرتی ذمہ داریوں کے ساتھ گھریلو ذمہ داریوں کو بھی پیشِ نظر رکھے؛ والدین کی فرمانبرداری اور خدمت کا خصوصی اہتمام کرے، بیوی بچوں سے محبت و شفقت کا اظہار کرے، بہن بھائیوں کے ساتھ حسنِ سلوک روا رکھے، اور ان کےث دکھ، پریشانی اور تناؤ کے لمحات میں ان کے لیے وقت نکالے۔ اسی طرح خوشی کے مواقع کو بھی باہمی محبت، انس اور خوش گوار تعلقات کے فروغ کا ذریعہ بنائے۔ 

مالی معاملات میں خود احتسابی:

مال اللہ تعالی کی ایک عظیم نعمت اور انسانی زندگی کی بقا واستحکام کا ایک اہم ذریعہ ہے؛ انسان کی پیدائش سے لے کر موت تک، بچپن سے لے کر ازدواجی زندگی کی مختلف مراحل تک اور تعلیم سے لے کر علاج و معالجے اور دیگر ضروریات  زندگی میں اہم کردار ادا کرتاہے حتی کہ زندگی کے ہر موڑ پر اس کی ضرورت محسوس ہوتی ہے ۔

یہ زندگی کا وہ اہم رکن ہے جس کے حصول کے لیے انسان بسا اوقات اپنا گھر بار چھوڑنے دوست و احباب سے دوری اختیار کرنے اور مسلسل محنت و مشقت میں خود کو مصروف رکھنے پر مجبور ہوتا ہے؛ تب کہیں جا کر اسے اپنی ضروریات پوری کرنے اور زندگی کے معاملات کو سنبھالنے کے لیے مال میسر آتا ہے۔

لیکن سوال یہ ہے کہ لوازمات زندگی کی تکمیل کے لیے جو یہ اس قدر تگ و دو کر رہا ہے ، جس کے حصول کے لیے زندگی کا ایک اہم حصہ صرف کر رہا ہے، کیا اس کے جائے حصول و خرچ کے بارے میں محاسبہ کرتا ہے؟ کہیں ایسا تو نہیں ہے کہ فانی زندگی کی عیش و عشرت کی خاطر حصول مال میں اس قدر محو ہے کہ حلال و حرام کی تمیز کھو بیٹھا ہے اور خواہش کے مطابق مال جمع کرنے میں مصروف عمل ہے، خودداری جیسی عظیم صفت کو پس پشت ڈال کر دست سوال دراز کردیا ہے؟

حضور سرور کائنات صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:

 اوپر والا ہاتھ نیچے والے ہاتھ سے بہتر ہے۔

(صحيح البخاري)

ایک دوسری جگہ فرمایا:

 ”سب سے پاکیزہ کھانا وہ ہے جو آدمی اپنی (محنت کی) کمائی سے کھائے۔ (النسائي)

ایک اور مقام پر ارشاد فرمایا:

یعنی اللہ عَزَّ  وَجَلَّ پیشہ وَر( کام کاج کرنے والے )مُومِن کو پسندفرماتا ہے۔ (المعجم الأوسط)

ان کے علاوہ دیگر کئی قولی و فعلی احادیث شاہد ہیں کہ انسان کو مالی طور پر حلال و خودمختار زندگی گزارنی چاہیے اور ضروریات زندگی کے حصول میں اپنی صلاحیتوں اور خوبیوں کو بروئے کار لانا چاہیے ۔

خود احتسابی کے فوائد:

خود احتسابی کے کثیر فوائد ہیں؛ ذہنی، جسمانی، روحانی حتی کہ زندگی کے جس پہلو میں بھی اس کو شامل کریں راہ زندگی ہموار اور پُرسکون نظر آتی ہے اس لیے کہ انسان جب خود احتسابی کرتا ہے تو اپنی غلطیوں پر کار بند نہیں رہتا ہے بلکہ ان کا ادراک کرکے ان کی اصلاح کی کوشش کرتا ہے۔ وہ اپنی کوتاہیوں کو تسلیم کرنے، اپنی کمزوریوں پر قابو پانے اور اپنے کردار و عمل کو بہتر بنانے کی جانب متوجہ ہوتا ہے۔ یوں خود احتسابی انسان کے اندر احساسِ ذمہ داری، خود اعتمادی، نظم و ضبط اور اصلاحِ ذات کا جذبہ پیدا کرتی ہے۔

روحانی اعتبار سے یہ انسان کو غفلت سے بیدار، گناہوں سے متنفر اور نیکیوں کی طرف راغب کرتی ہے، جبکہ معاشرتی زندگی میں اسے اپنے حقوق و فرائض کا احساس دلاتی اور دوسروں کے ساتھ بہتر برتاؤ کی ترغیب دیتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ خود احتسابی محض اپنی خامیوں کی نشان دہی کا نام نہیں، بلکہ اپنی شخصیت کو مسلسل سنوارنے اور زندگی کو بہتر سمت دینے کا ایک مؤثر ذریعہ ہے۔

خود احتسابی کی راہ میں رکاوٹیں:

جہاں خود احتسابی ایک بہترین عمل ہے وہیں اس کی راہ میں بہت ساری رکاوٹیں بھی حائل ہیں؛ انا، خود پرستی، دوسروں پر الزام تراشی اور کوتاہیوں کو دوسروں کے سر ڈالنا ایسی ہی رکاوٹیں ہیں لیکن یہ بات یاد رکھنی چاہیے کہ ان رکاوٹوں پر قابو پانا ہی خود احتسابی کا پہلا زینہ ہے ۔

خلاصہ کلام یہ کہ خود احتسابی ہی اصل احتساب ہے جب ہر فرد اپنی غلطیوں، کوتاہیوں اور ذمہ داری کا محاسبہ کرتا ہے تو کسی دوسرے کو شکوہ اور تنقید کرنے کی نوبت نہیں آتی ہے اور یوں ایک پُرلطف اور خوشگوار معاشرہ تشکیل پاتا ہے۔ لہٰذا، ہمیں اپنی زندگی میں خود احتسابی کو ایک مستقل عمل کے طور پر اپنانا چاہیے تاکہ ہم ایک بہتر فرد اور ایک بہتر معاشرہ تشکیل دے سکیں۔

نیاز احمد 

البرکات علی گڑھ

Abdul Jabbar Alimi

عبدالجبار علیمی نیپالی۔

چیف ایڈیٹر (9701714929) (8795979383)