کر سکتے تھے جو اپنے زمانے کی امامت!
فکری غلامی سے نجات، علمی خود کفالت اور دورِ حاضر میں امتِ مسلمہ کی قیادت کا لائحۂ عمل
از:محمد شمیم احمد نوری مصباحی
خادم:دارالعلوم انوارِ مصطفیٰ سہلاؤشریف، باڑمیر(راجستھان)
امتِ مسلمہ آج جس دور سے گزر رہی ہے، وہ محض سیاسی انتشار، معاشی کمزوری یا سماجی پسماندگی کا معاملہ نہیں، بلکہ ایک گہرے فکری، تہذیبی اور اخلاقی بحران کی نشان دہی کرتا ہے۔ دنیا کے مختلف خطوں میں مسلمان جنگ، ظلم، بے گھری، تعلیمی پسماندگی اور معاشی ناہمواری سے دوچار ہیں۔ کہیں ان کے حقوق پامال ہو رہے ہیں، کہیں نئی نسل شناخت کے بحران میں مبتلا ہے اور کہیں صلاحیتیں مناسب مواقع نہ ملنے کے باعث ضائع ہو رہی ہیں۔
اس صورتِ حال کا ایک افسوس ناک پہلو یہ ہے کہ ہم کبھی اپنی ناکامیوں کا ذمہ دار دوسروں کو ٹھہراتے ہیں اور کبھی تقدیر کے حوالے کرکے مطمئن ہو جاتے ہیں۔ ماضی کی عظمت پر فخر تو کرتے ہیں، لیکن حال کی تعمیر کے لیے درکار محنت سے جی چراتے ہیں۔
سوال یہ ہے کہ جس امت کو علم، عدل، امانت، اخلاق اور انسانیت کی رہنمائی کا پیغام دے کر دنیا میں بھیجا گیا، وہ آج فکری انتشار اور علمی کمزوری کا شکار کیوں ہے؟ یہ سوال احساسِ کمتری پیدا کرنے کے لیے نہیں، بلکہ احساسِ ذمہ داری بیدار کرنے کے لیے ہے؛ کیوں کہ زوال کا اعتراف اگر اصلاح کی بنیاد بن جائے تو عروج کی پہلی سیڑھی ثابت ہو سکتا ہے۔
دوسروں کی ترقی سے مرعوبیت اور اپنی صلاحیتوں سے غفلت:
موجودہ دور سائنس، ٹیکنالوجی، مصنوعی ذہانت، جدید تحقیق اور معاشی منصوبہ بندی کا دور ہے۔ آج قوموں کی قوت کا تعین صرف آبادی، رقبے اور قدرتی وسائل سے نہیں، بلکہ علمی معیار، فکری آزادی، مضبوط اداروں اور معاشی خود کفالت سے بھی ہوتا ہے۔
افسوس کہ ہمارے معاشرے کے بعض طبقات نے جدید ترقی سے فائدہ اٹھانے کے بجائے اس سے مرعوب ہونا سیکھ لیا ہے۔ وہ ترقی یافتہ قوموں کے ہر نظریے اور ہر طرزِ زندگی کو قابلِ تقلید سمجھتے ہیں، حالاں کہ جدید علوم و فنون سے استفادہ کرنا اور کسی قوم کے تمام تہذیبی تصورات کو بلا تنقید اپنا لینا دو الگ الگ باتیں ہیں۔
اسلام علم، تحقیق اور غور و فکر کی راہ میں رکاوٹ نہیں، بلکہ جستجوئے حق اور صلاحیتوں کے مثبت استعمال کی دعوت دیتا ہے۔ اس لیے ہمیں جدید علوم سے فائدہ اٹھاتے ہوئے اپنی دینی شناخت اور اخلاقی اقدار کی حفاظت کرنی چاہیے۔ حقیقی ترقی اپنی شناخت سے دست برداری نہیں، بلکہ اپنی شناخت پر قائم رہتے ہوئے زمانے کے مفید علوم و وسائل سے آراستہ ہونے کا نام ہے۔
مذہبی وابستگی، فکری کمزوری اور شکست خوردہ ذہنیت:
ہمارے معاشرے میں ایک طبقہ ایسا بھی ہے جو اسلام سے قلبی وابستگی تو رکھتا ہے، مگر جدید زندگی کے مسائل میں اسلامی تعلیمات کو ناکافی سمجھنے لگتا ہے۔ اس کے نزدیک اسلام انفرادی عبادات اور چند مذہبی رسوم تک محدود ہے، جب کہ تعلیم، معیشت اور اجتماعی زندگی کی رہنمائی میں اس کا کردار محدود سمجھا جاتا ہے۔
یہ تصور اسلام کے جامع پیغام کو نظر انداز کرنے کے مترادف ہے۔ اسلام عبادت کے ساتھ عدل، امانت، دیانت، حقوق العباد اور انسانی خدمت کی بھی تعلیم دیتا ہے۔ البتہ ان تعلیمات کو اجتماعی زندگی میں مؤثر بنانے کے لیے فقط جذبات نہیں، بلکہ صحیح علم، حکمت، مشاورت، ادارہ سازی اور مسلسل محنت بھی ضروری ہے۔
اگر ہمارے تعلیمی ادارے تحقیق میں پیچھے، کاروبار دیانت سے محروم اور معاملات انصاف کے بجائے ذاتی مفادات کے تابع ہوں تو اسلامی تعلیمات کی برتری کے دعوے مؤثر نہیں ہو سکتے۔ اسلام کی سربلندی کا تقاضا ہے کہ ہمارا کردار اس کی حقانیت، رحمت اور اخلاقی عظمت کا عملی گواہ بنے۔
زوال کی ایک بڑی علامت یہ بھی ہے کہ انسان اپنی صلاحیتوں پر اعتماد کھو بیٹھے اور دوسروں کی قوت کو ناقابلِ تسخیر سمجھنے لگے۔ حقیقی خود اعتمادی بلند بانگ دعووں سے نہیں، بلکہ اپنی کمزوریوں کے اعتراف، غلطیوں سے سیکھنے اور مسلسل محنت سے پیدا ہوتی ہے۔ امتِ مسلمہ میں علم، تحقیق، تجارت، صنعت، ٹیکنالوجی اور قیادت کے میدانوں میں آگے بڑھنے کی صلاحیت موجود ہے؛ ضرورت معیاری تعلیم، مضبوط اداروں اور منظم کوششوں کی ہے۔
حالات سے فرار نہیں، ان کی اصلاح:
بعض لوگ موجودہ دنیا کے فکری و اخلاقی انتشار سے متاثر ہو کر اپنی مذہبی وابستگی کو انفرادی عبادات تک محدود کر لیتے ہیں اور اجتماعی زندگی کی اصلاح سے کنارہ کش ہو جاتے ہیں۔ بلاشبہ نماز، روزہ، تلاوت اور ذکر و اذکار مسلمان کی زندگی کا بنیادی سرمایہ ہیں، لیکن دین کا پیغام انفرادی اصلاح کے ساتھ اجتماعی ذمہ داریوں کو بھی اہمیت دیتا ہے۔
اگر کوئی شخص عبادت گزار ہو، مگر معاملات میں بددیانت، دینی شعائر کا پابند ہو، مگر دوسروں کے حقوق پامال کرتا ہو، تو اسے اپنی دینی زندگی کے عملی اثرات کا جائزہ لینا چاہیے۔ دین داری کا تقاضا دنیا سے فرار نہیں، بلکہ دنیا میں رہتے ہوئے حق، خیر، عدل اور امانت کے ساتھ زندگی گزارنا ہے۔
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:إِنَّ اللَّهَ لَا يُغَيِّرُ مَا بِقَوْمٍ حَتَّىٰ يُغَيِّرُوا مَا بِأَنْفُسِهِمْ۔
ترجمہ: بے شک اللہ تعالیٰ کسی قوم کی حالت نہیں بدلتا، جب تک وہ خود اپنی حالت نہ بدلیں۔
یہ آیت خود احتسابی، اصلاحِ احوال اور عملی جدوجہد کی اہمیت واضح کرتی ہے۔ ہمیں تعلیمی پسماندگی کا شکوہ کرنے کے ساتھ تعلیمی نظام بہتر بنانے، معاشی کمزوری پر افسوس کے ساتھ تجارت و صنعت کو فروغ دینے اور اجتماعی بے اثری پر ماتم کرنے کے بجائے اداروں میں مشاورت، شفافیت، اہلیت اور جواب دہی کو مضبوط بنانے کی کوشش کرنی ہوگی۔
باہمی انتشار: اپنی قوت کو اپنے ہاتھوں ضائع کرنا
امتِ مسلمہ کی کمزوری کا ایک اہم سبب اختلافات کا غیر صحت مند طرزِ اظہار بھی ہے۔ علمی اختلاف ہر زندہ معاشرے کا فطری حصہ ہے، لیکن جب وہ تعصب، بدگمانی، کردار کشی اور ذاتی دشمنی میں بدل جائے تو اصلاح کے بجائے فساد کا ذریعہ بن جاتا ہے۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:وَلَا تَنَازَعُوا فَتَفْشَلُوا وَتَذْهَبَ رِيحُكُمْ۔
ترجمہ: اور آپس میں جھگڑا نہ کرو، ورنہ تم کمزور پڑ جاؤ گے اور تمہاری ہوا اکھڑ جائے گی۔ (سورۃ الأنفال: 46)
اس قرآنی ہدایت کا تقاضا ہے کہ اختلاف کو علم، دلیل، تہذیب اور انصاف کے دائرے میں رکھا جائے۔ حق و باطل اور صحیح و غلط کا فرق مٹانا مقصود نہیں، بلکہ اختلاف کو دشمنی اور تحقیر میں بدلنے سے بچانا ضروری ہے۔
ہمیں اپنی توانائیاں باہمی مناقشوں کے بجائے تعلیمی اداروں کی تعمیر، نئی نسل کی تربیت اور سماجی خدمت پر صرف کرنی چاہییں۔ ہماری جدوجہد کا مرکز شخصیات کی مخالفت نہیں، اصولوں کی سربلندی؛ گروہی مفادات نہیں، اجتماعی خیر؛ اور باہمی کشمکش نہیں، علمی و اخلاقی تعمیر ہونا چاہیے۔
جدید دنیا میں امامت و قیادت کا حقیقی مفہوم:
شاعر مشرق ڈاکٹر اقبال کے شعر میں مذکور امامت و قیادت سے مراد محض سیاسی اقتدار یا دوسروں پر غلبہ حاصل کرنا نہیں، بلکہ علمی رہنمائی، اخلاقی بلندی، عدل، انسانی حقوق کے احترام، معاشرتی خدمت اور مسائل کے مؤثر حل کی صلاحیت بھی ہے۔
قرآنِ کریم میں ارشاد ہے:
وَكَذَٰلِكَ جَعَلْنَاكُمْ أُمَّةً وَسَطًا لِتَكُونُوا شُهَدَاءَ عَلَى النَّاسِ۔
ترجمہ: اور اسی طرح ہم نے تمہیں ایک معتدل امت بنایا، تاکہ تم لوگوں پر گواہ ہو۔ (سورۃ البقرۃ: 143)
یہ مقام محض اعزاز نہیں، بلکہ عظیم ذمہ داری ہے۔ اس کا تقاضا ہے کہ مسلمان اپنے عقیدے، کردار، معاملات اور اجتماعی رویّوں سے عدل و اعتدال کی گواہی دیں۔
آج دنیا کو ایسے علما کی ضرورت ہے جو دینی بصیرت کے ساتھ عصرِ حاضر کے فکری سوالات کو سمجھیں؛ ایسے اساتذہ جو نئی نسل میں علم کی محبت پیدا کریں؛ ایسے محققین جو علمی و سائنسی مسائل پر سنجیدہ کام کریں؛ ایسے تاجر جو دیانت کی مثال ہوں؛ ایسے ماہرین جو جدید ٹیکنالوجی میں مہارت رکھتے ہوں؛ اور ایسے قائدین جو ذاتی مفادات کے بجائے اجتماعی خیر کو ترجیح دیں۔
قومیں محض تعداد سے نہیں، بلکہ علم، کردار، صلاحیت اور خدمات سے دنیا میں مؤثر مقام حاصل کرتی ہیں۔
فلسطین اور عالمِ اسلام: جذبات کے ساتھ حکمت و تدبیر بھی
فلسطین کا المیہ، غزہ کی تباہی، بے گناہ شہریوں کی ہلاکتیں اور انسانی بحران امتِ مسلمہ کے ضمیر کو جھنجھوڑنے کے لیے کافی ہیں۔ دنیا کے مختلف خطوں میں ظلم اور انسانی حقوق کی پامالی کا شکار مسلمانوں سمیت تمام مظلوم انسان ہماری توجہ اور ہمدردی کے مستحق ہیں۔
ایسے حالات میں غم، اضطراب اور احتجاج فطری ہیں، لیکن ان جذبات کو ذمہ دارانہ عمل میں تبدیل کرنا ضروری ہے۔ مظلوموں کے لیے دعا کے ساتھ انسانی امداد، مستند معلومات کی اشاعت، قانونی و سفارتی کوششوں کی حمایت اور عالمی سطح پر انصاف کے مطالبے میں اپنا کردار ادا کیا جائے۔ افواہوں اور غیر مصدقہ خبروں سے بچتے ہوئے حقائق کی بنیاد پر بات کی جائے۔
انسانی جان کی حرمت، شہریوں کا تحفظ اور ظلم کی مخالفت کسی قوم، مذہب یا نسل کے امتیاز کے بغیر ہماری اخلاقی ترجیحات میں شامل ہونی چاہیے۔ مسلم ممالک کے حالات یکساں نہیں، تاہم علمی صلاحیت، معاشی استحکام، باہمی اعتماد اور دور اندیش قیادت اجتماعی قوت کے لیے ناگزیر ہیں۔ محض جذباتی بیانات سے تاریخ کا رخ نہیں بدلتا؛ اس کے لیے حکمت، منصوبہ بندی اور مسلسل جدوجہد ضروری ہے۔
تعلیم، معاشی خود کفالت اور جدید ٹیکنالوجی
امتِ مسلمہ کو علمی و تہذیبی اعتبار سے مؤثر کردار ادا کرنا ہے تو تعلیم کو اولین ترجیحات میں شامل کرنا ہوگا۔ تعلیم فقط ڈگریوں کے حصول کا نام نہیں، بلکہ فہم و بصیرت، تحقیق و تجزیہ، اخلاقی ذمہ داری اور مسائل حل کرنے کی صلاحیت پیدا کرنے کا ذریعہ ہے۔
دینی مدارس کو قرآن و حدیث، فقہ، عقائد، عربی زبان اور اسلامی علوم کی مضبوط بنیادیں برقرار رکھتے ہوئے طلبہ میں ضروری عصری زبانوں، ڈیجیٹل خواندگی، بنیادی سائنسی فہم اور معاصر فکری مسائل کے مطالعے کا ذوق بھی پیدا کرنا چاہیے۔ اسی طرح عصری اداروں میں زیرِ تعلیم نوجوانوں کو دینی و اخلاقی شناخت اور تہذیبی شعور سے غافل نہیں ہونا چاہیے۔ دینی اور عصری تعلیم کو ایک دوسرے کا حریف بنانے کے بجائے ان کے درمیان مفید تعاون کے امکانات تلاش کیے جائیں۔
اس مقصد کے لیے ضروری ہے کہ:
- غریب اور مستحق طلبہ کے لیے وظائف اور تعلیمی معاونت کا منظم نظام قائم ہو۔
- دینی و عصری علوم کے ماہرین کے درمیان علمی رابطے اور مشترکہ منصوبوں کو فروغ دیا جائے۔
- مطالعے، تحقیق، تحریر، تقریر اور تنقیدی فکر کی صلاحیت پیدا کی جائے۔
- سائنس، ٹیکنالوجی اور پیشہ ورانہ علوم میں مسلمانوں کی شرکت بڑھائی جائے۔
- طالبات کی معیاری تعلیم اور محفوظ تعلیمی مواقع پر خصوصی توجہ دی جائے۔
- تعلیمی اداروں میں معیارِ تعلیم، کردار سازی اور عملی مہارتوں کو یکساں اہمیت دی جائے۔
تعلیم کے ساتھ معاشی خود کفالت بھی ضروری ہے۔ تجارت، صنعت، زراعت، ہنرمندی اور کاروباری تربیت کے ذریعے نوجوانوں کو روزگار کے نئے مواقع پیدا کرنے کی ترغیب دی جائے۔ کامیاب کاروباری افراد دوسروں کی تربیت اور روزگار کی فراہمی میں بھی کردار ادا کریں۔
مصنوعی ذہانت، سافٹ ویئر، ڈیجیٹل ابلاغ، سائبر تحفظ اور جدید زراعت جیسے شعبوں میں مہارت حاصل کی جائے۔ مسلمان صرف دوسروں کی ایجادات سے استفادہ کرنے والے نہ رہیں، بلکہ تحقیق، ایجاد اور مقامی مسائل کے حل میں بھی اپنا حصہ ڈالیں۔
معاشی ترقی کو اخلاقی ذمہ داری سے الگ نہیں کیا جا سکتا۔ دولت جب دیانت، انصاف اور انسانی خدمت سے وابستہ ہو تو معاشرے کی تعمیر کا ذریعہ بنتی ہے؛ لیکن جب اس کا مقصد صرف ذاتی آسائش اور نام و نمود اور نمائش رہ جائے تو وہ اجتماعی ترقی کی ضمانت نہیں بن سکتی۔
ڈیجیٹل دور اور فکری خود مختاری:
آج سوشل میڈیا نے معلومات کی ترسیل کو غیر معمولی رفتار عطا کی ہے، مگر اسی کے ساتھ جھوٹی خبریں، گمراہ کن پروپیگنڈا اور نفرت انگیز مواد بھی تیزی سے پھیلتا ہے۔ فکری خود مختاری کا تقاضا ہے کہ ہر مشہور بات کو سچ اور ہر وائرل پیغام کو معتبر نہ سمجھا جائے، بلکہ معلومات کی تحقیق، ذرائع کی جانچ اور ذمہ دارانہ اظہار کو اجتماعی عادت بنایا جائے۔
دینی معاملات میں مستند علما سے رجوع کیا جائے اور علمی و تاریخی دعووں کے لیے معتبر مآخذ دیکھے جائیں۔ ڈیجیٹل وسائل کو محض تفریح اور باہمی بحث و تکرار کے بجائے تعلیم، تحقیق، دعوت، زبان و ادب اور سماجی خدمت کے لیے استعمال کیا جائے۔
مسلمان صرف معلومات کے صارف نہ رہیں، بلکہ علم کے تخلیق کار اور مفید ڈیجیٹل مواد کے مؤثر پیش کار بھی بنیں۔ جو قوم تحقیق و تمیز کی صلاحیت کھو دیتی ہے، وہ دوسروں کے بیانیوں کی تابع ہو سکتی ہے؛ جب کہ دلیل اور حقائق کی بنیاد پر رائے قائم کرنے والی قوم فکری طور پر مضبوط ہوتی ہے۔
علما، دانش وروں اور اہلِ قلم کی ذمہ داری:
کسی قوم کی فکری تعمیر میں علما، اساتذہ، دانش وروں، اہلِ قلم اور ذرائعِ ابلاغ سے وابستہ افراد کا کردار بنیادی اہمیت رکھتا ہے۔ ان کی ذمہ داری صرف ماضی کے واقعات بیان کرنا نہیں، بلکہ نئی نسل کو حالات کی صحیح تفہیم، مسائل کے اسباب اور عملی حل سے بھی آگاہ کرنا ہے۔
اہلِ قلم مایوسی پھیلانے کے بجائے امید کو حقیقت پسندانہ بنیاد فراہم کریں، جذبات بھڑکانے کے بجائے شعور بیدار کریں اور محض شکایت کے بجائے اصلاح کی راہیں دکھائیں۔ علمائے کرام عصرِ حاضر کے فکری سوالات کو سنجیدگی سے سمجھیں اور نوجوانوں کے سوالات کا جواب تحقیر کے بجائے علم، حکمت اور شفقت سے دیں۔
نوجوان بزرگوں کے تجربات سے فائدہ اٹھاتے ہوئے مطالعے، تحقیق، مشاورت اور مسلسل سیکھنے کو اپنی زندگی کا حصہ بنائیں۔ روایت اور تحقیق، علم اور تجربہ، بزرگوں کی بصیرت اور نوجوانوں کی توانائی جب ایک دوسرے کے معاون بنتے ہیں تو قوم کی فکری قیادت مضبوط ہوتی ہے۔
اب ہمیں کیا کرنا چاہیے؟ ایک قابلِ عمل لائحۂ عمل
امتِ مسلمہ کی صورتِ حال میں حقیقی بہتری کے لیے درج ذیل اقدامات کو انفرادی اور اجتماعی زندگی کا حصہ بنانا ضروری ہے:
۱۔ خود احتسابی اور اصلاحِ کردار: ہر شخص اپنے اخلاق، معاملات، وقت کے استعمال اور معاشرتی رویّوں کا جائزہ لے اور جھوٹ، بددیانتی، وعدہ خلافی، ناانصافی، حسد اور تعصب کی اصلاح کرے۔
۲۔ علم کو اولین ترجیح دینا: گھر، مدرسہ، اسکول، مسجد اور سماجی اداروں میں تعلیم و مطالعے کی حوصلہ افزائی ہو اور بچوں و نوجوانوں کے لیے علمی و فنی مواقع پیدا کیے جائیں۔
۳۔ اختلاف میں تہذیب اور اتحاد میں حکمت: اختلافات کو دلیل اور احترام کے دائرے میں رکھا جائے اور مشترکہ مسائل کے حل کے لیے باہمی تعاون کو فروغ دیا جائے۔
۴۔ اداروں کو مضبوط اور شفاف بنانا: مدارس، تعلیمی تنظیموں اور رفاہی اداروں میں اہلیت، مشاورت، منصوبہ بندی، شفافیت اور جواب دہی کو بنیادی اہمیت دی جائے۔
۵۔ نوجوانوں کی صلاحیتوں کی تربیت: نوجوانوں کو فقط نصیحت نہ کی جائے، بلکہ تعلیم، ہنر، کاروبار، تحقیق اور قیادت کے عملی مواقع فراہم کیے جائیں۔
۶۔ معاشی تعاون اور سماجی خدمت: زکوٰۃ، صدقات اور رفاہی وسائل کو مستحقین تک مؤثر انداز میں پہنچانے کے ساتھ تعلیم، صحت، روزگار اور ہنرمندی کے منصوبے بنائے جائیں۔
۷۔ جدید ذرائع کا مثبت استعمال: سوشل میڈیا کو علم، تحقیق، دعوت، تربیت اور مثبت سماجی سرگرمیوں کے لیے استعمال کیا جائے اور غیر مصدقہ خبروں سے اجتناب کیا جائے۔
۸۔ چھوٹے مگر مستقل اقدامات: ہر فرد، خاندان، مسجد، مدرسہ اور ادارہ اپنی استطاعت کے مطابق ایک یا دو قابلِ پیمائش اہداف طے کرے؛ مثلاً کسی مستحق طالب علم کی تعلیم کی ذمہ داری، مطالعہ حلقے کا قیام یا نوجوانوں کے لیے فنی تربیت کا انتظام۔
یاد رکھیے! بڑی تبدیلیوں کی بنیاد اکثر چھوٹے مگر مسلسل اقدامات پر ہوتی ہے۔ قوموں کی تعمیر ایک دن میں نہیں ہوتی، لیکن ہر دن کی سنجیدہ محنت اس تعمیر میں اپنا حصہ ضرور ڈالتی ہے۔
ڈاکٹر اقبال کا پیغام اور ہماری ذمہ داری:
شاعرِ مشرق،مفکرقوم ڈاکٹر محمد اقبال نے مسلمانوں کے فکری زوال، تقلید پسندی اور قیادت سے محرومی کے المیے کو ان اشعار میں سمیٹ دیا ہے:
کر سکتے تھے جو اپنے زمانے کی امامت
وہ کہنہ دماغ اپنے زمانے کے ہیں پیرو
یہ شعر فقط شکوہ نہیں، بلکہ پوری قوم کے لیے فکری بیداری کا پیغام ہے۔ اس میں اس ذہنیت پر تنقید کی گئی ہے جو اپنی تخلیقی صلاحیتوں کو بروئے کار لانے کے بجائے دوسروں کی اندھی تقلید کو اپنا شعار بنا لیتی ہے۔
یہاں ایک بنیادی فرق سمجھنا ضروری ہے: ہر نئی چیز کو صرف نیا ہونے کی وجہ سے قبول کرنا دانش مندی نہیں، اور ہر پرانی چیز کو صرف قدیم ہونے کی وجہ سے رد کر دینا بھی عقل مندی نہیں۔ حقیقی بصیرت یہ ہے کہ حق و باطل، مفید و مضر اور اصول و مصلحت کے درمیان فرق کرنے کی صلاحیت پیدا کی جائے۔
جو قوم اپنے اسلاف کے علمی و اخلاقی ورثے سے وابستہ رہتے ہوئے نئے سوالات کے جواب تلاش کرتی ہے، وہ اپنی روایت کو زندہ رکھتی ہے۔ اس کے برعکس جو قوم صرف ماضی کی عظمت کے قصے دہراتی ہے، مگر حال کے تقاضوں اور مستقبل کی تیاری سے غافل رہتی ہے، اس کا تاریخی فخر رفتہ رفتہ عملی قوت سے محروم ہو جاتا ہے۔
اقبال کا پیغام یہی ہے کہ مسلمان اپنی فکری آزادی، خود اعتمادی اور تخلیقی صلاحیت کو بیدار کرے، زمانے کے حالات کو سمجھے، اپنے اصولوں کی روشنی میں ان کا جائزہ لے اور اپنے عمل سے بہتر دنیا کی تعمیر میں حصہ ڈالے۔
ماضی کا فخر نہیں، مستقبل کی تعمیر
آج امتِ مسلمہ کو سب سے زیادہ ضرورت اس بات کی ہے کہ وہ احساسِ زوال کو احساسِ ذمہ داری، مایوسی کو امید، انتشار کو تعاون، تقلیدِ محض کو فکری بصیرت اور بے عملی کو مسلسل جدوجہد میں تبدیل کرے۔
ہمیں نہ اپنی کمزوریوں سے آنکھیں چرانا چاہیے اور نہ اپنی صلاحیتوں سے مایوس ہونا چاہیے۔ نہ دوسروں کی ترقی سے مرعوب ہو کر اپنی شناخت کھو دینی چاہیے اور نہ اپنی روایت کے نام پر مفید علم و تجربے سے منہ موڑنا چاہیے۔
اسلام کی سربلندی کا راستہ علم، ایمان، عدل، اخلاق، حکمت، دیانت اور خدمت سے ہو کر گزرتا ہے۔ اس راستے پر چلنے کے لیے بلند دعووں سے زیادہ مضبوط کردار، معیاری تعلیم، علمی تحقیق، معاشی خود کفالت اور اجتماعی تعاون درکار ہے۔
ہمیں اپنی نئی نسل کو ایسا بنانا ہوگا جو اپنے دین سے محبت کرے، اسلاف کے علمی و اخلاقی ورثے سے واقف ہو، عصرِ حاضر کے مسائل کو سمجھے، جدید علوم سے فائدہ اٹھائے اور انسانیت کے لیے نفع بخش ثابت ہو۔
یاد رکھیے! امتوں کی تقدیر صرف حالات کے ہاتھوں نہیں بنتی؛ ان کی فکری ترجیحات، اجتماعی فیصلے، علمی محنت، اخلاقی رویّے اور مسلسل جدوجہد بھی ان کے مستقبل کی تشکیل کرتے ہیں۔ اگر ہم واقعی اپنے زمانے کی امامت کا خواب دیکھتے ہیں تو ہمیں سب سے پہلے اپنے اندر وہ علمی صلاحیت، اخلاقی قوت، فکری پختگی اور عملی اہلیت پیدا کرنی ہوگی جو قیادت کے لیے ضروری ہے۔ دنیا کی رہنمائی کا حق اسی قوم کو حاصل ہوتا ہے جو اپنے کردار سے رہنمائی کا نمونہ پیش کرے۔
آئیے! ماضی کی عظمت پر محض فخر کرنے کے بجائے حال کی اصلاح اور مستقبل کی تعمیر کا عزم کریں۔ اپنی صفوں میں اتحاد، اداروں میں استحکام، درسگاہوں میں علم، معاملات میں دیانت اور زندگیوں میں اسلام کی حقیقی تعلیمات کو جگہ دیں۔
ہماری اصل ذمہ داری صرف تاریخ کے روشن ابواب میں اپنا نام تلاش کرنا نہیں، بلکہ اپنے علم، کردار، خدمت اور عمل سے ایسا روشن باب رقم کرنا ہے جس سے آنے والی نسلیں بھی رہنمائی حاصل کر سکیں۔
کیونکہ امتِ مسلمہ کا مستقبل فقط ہماری خواہشات سے نہیں، بلکہ ہماری ترجیحات، محنت اور کردار سے وابستہ ہے۔ اب فیصلہ ہمیں کرنا ہے کہ ہم اقبال کے اس شعر کو صرف پڑھ کر داد دیتے رہیں گے یا اس کے پیغام کو اپنی زندگیوں میں اتار کر علم، کردار، خود اعتمادی اور عمل کی نئی تاریخ رقم کرنے کی کوشش بھی کریں گے!
کر سکتے تھے جو اپنے زمانے کی امامت
وہ کہنہ دماغ اپنے زمانے کے ہیں پیرو
