Oct 30, 2026 03:52 PM Asia/Kathmandu
ہمیں فالو کریں:
پردہ حیا کی تہذیب اور ایمان کی سربلندی

پردہ حیا کی تہذیب اور ایمان کی سربلندی

29 Oct 2026
1 min read

*پردہ حیا کی تہذیب اور ایمان کی سربلندی*

_از: محمد عمران ندوی_

انسانی تہذیب کی تاریخ میں لباس کبھی محض جسم ڈھانپنے کا ذریعہ نہیں رہا، بلکہ اس کے افکار، اقدار، اخلاق اور تصورِ زندگی کا ترجمان بھی رہا ہے۔ قومیں اپنے ظاہری مظاہر میں اپنے باطن کی جھلک پیش کرتی ہیں، اور ان کے اجتماعی رجحانات اس حقیقت کی نشان دہی کرتے ہیں کہ ان کے نزدیک زندگی کی اصل قدر کیا ہے۔ جب اسلام نے انسان کو عزتِ نفس، پاکیزگیِ کردار اور بندگیِ رب کا شعور عطا کیا تو اس کی زندگی کے کسی گوشے کو بھی اخلاقی ذمہ داری سے خالی نہیں چھوڑا۔ اسی جامع نظامِ حیات کا ایک اہم باب حیا اور پردہ ہے۔

پردہ محض چند ظاہری پابندیوں کا مجموعہ نہیں، بلکہ ایک ایسے تصورِ زندگی کا حصہ ہے جس میں انسان اپنی خواہشات کو اخلاق کے تابع، اپنی آزادی کو ذمہ داری سے وابستہ اور اپنے اعمال کو رضائے الٰہی کے معیار پر پرکھنے کی کوشش کرتا ہے۔ یہ اس شعور کا اظہار ہے کہ انسان کی زندگی محض دنیا کی نگاہوں کے لیے نہیں، بلکہ اپنے خالق کے حضور جواب دہی کے احساس سے بھی وابستہ ہے۔ اس کی کامیابی کا معیار صرف یہ نہیں کہ دنیا اس کے بارے میں کیا رائے قائم کرتی ہے، بلکہ یہ بھی ہے کہ اس کا طرزِ زندگی اللہ تعالیٰ کی ہدایت سے کس قدر ہم آہنگ ہے۔

*قرآنی حکم:*

قرآنِ مجید نے حیا اور عفت کو محض معاشرتی آداب کے طور پر پیش نہیں کیا، بلکہ انہیں ایمان اور کردار کی تعمیر سے وابستہ کیا ہے۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے:

وَقُلْ لِلْمُؤْمِنَاتِ يَغْضُضْنَ مِنْ أَبْصَارِهِنَّ وَيَحْفَظْنَ فُرُوجَهُنَّ وَلَا يُبْدِينَ زِينَتَهُنَّ إِلَّا مَا ظَهَرَ مِنْهَا ۖ وَلْيَضْرِبْنَ بِخُمُرِهِنَّ عَلَىٰ جُيُوبِهِنَّ

ترجمہ: ’’اور مومن عورتوں سے کہہ دیجیے کہ وہ اپنی نگاہیں نیچی رکھیں، اپنی عصمت کی حفاظت کریں، اپنی زینت ظاہر نہ کریں، سوائے اس کے جو خود ظاہر ہو جائے، اور اپنے دوپٹے اپنے گریبانوں پر ڈالے رکھیں۔‘‘

(سورۃ النور: 31)

اس آیتِ کریمہ میں نگاہ کی حفاظت، عفت کی پاس داری اور لباس کی پاکیزگی کو ایک ساتھ بیان کیا گیا ہے۔ گویا اسلام انسان کی اصلاح کو محض ظاہر تک محدود نہیں رکھتا، بلکہ ظاہر اور باطن کے درمیان ایک گہرا اخلاقی رشتہ قائم کرتا ہے۔ لباس اس کے دینی شعور کا مظہر ہے، نگاہ اس کی اخلاقی تربیت کی علامت اور کردار اس کے ایمان کی عملی شہادت۔

اسی سلسلے میں ارشادِ ربانی ہے:

يَا أَيُّهَا النَّبِيُّ قُلْ لِأَزْوَاجِكَ وَبَنَاتكَ وَنِسَاءِ الْمُؤْمِنِينَ يُدْنِينَ عَلَيْهِنَّ مِنْ جَلَابِيبِهِنَّ

ترجمہ: ’’اے نبی! اپنی بیویوں، اپنی بیٹیوں اور مومنوں کی عورتوں سے کہہ دیجیے کہ وہ اپنے اوپر اپنی چادریں لٹکا لیا کریں۔‘‘

(سورۃ الأحزاب: 59)

یہ آیتِ کریمہ پردے کے حکم کو محض کسی معاشرتی روایت یا تہذیبی علامت کے درجے میں نہیں رکھتی، بلکہ اسے اللہ تعالیٰ کی ہدایت سے وابستہ کرتی ہے۔ اس سے واضح ہوتا ہے کہ پردے کی بنیاد لوگوں کی پسند، معاشرتی دباؤ یا وقتی رجحانات پر نہیں، بلکہ بندگی اور اطاعت کے شعور پر قائم ہے۔

رسول اللہ ﷺ کی تعلیمات میں بھی پردے کے لیے لباس اور چادر کے اہتمام کو اہمیت دی گئی ہے۔ حضرت اُمِّ عطیہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے عورتوں کو عید کے اجتماع میں شرکت کی ترغیب دی۔ ایک خاتون نے عرض کیا کہ اگر کسی عورت کے پاس چادر نہ ہو تو؟ آپ ﷺ نے فرمایا:

«لِتُلْبِسْهَا صَاحِبَتُهَا مِنْ جِلْبَابِهَا»

ترجمہ: ’’اس کی ساتھی اپنی چادر میں سے اسے چادر پہنا دے۔‘‘

(صحیح البخاری)

اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ چادر اور پردے کے اہتمام کو معمولی معاملہ نہیں سمجھا گیا، بلکہ اس ضرورت کی تکمیل کے لیے بھی رہنمائی فرمائی گئی کہ جس خاتون کے پاس چادر نہ ہو، اسے بھی اس کا انتظام کرکے اجتماع میں شریک ہونے کا موقع دیا جائے۔ اس میں پردے کی اہمیت کے ساتھ عورت کی دینی و اجتماعی زندگی میں شرکت کا پہلو بھی نمایاں ہے۔

پردے اور لباس کی اہمیت کے سلسلے میں رسول اللہ ﷺ نے ایسے لباس سے بھی خبردار فرمایا جو بظاہر لباس ہونے کے باوجود ستر پوشی کا مقصد پورا نہ کرے۔ صحیح مسلم میں آپ ﷺ کے الفاظ ہیں:

«نِسَاءٌ كَاسِيَاتٌ عَارِيَاتٌ»

ترجمہ: ’’ایسی عورتیں جو لباس پہنے ہوئے ہونے کے باوجود برہنہ ہوں گی۔‘‘

(صحیح مسلم)

یہ تنبیہ اس حقیقت کی طرف متوجہ کرتی ہے کہ لباس کی اصل غرض محض جسم پر کپڑا موجود ہونا نہیں، بلکہ ستر پوشی اور حیا کے تقاضوں کا لحاظ رکھنا بھی ہے۔ چنانچہ لباس کا انتخاب کرتے ہوئے اس کی ظاہری شکل کے ساتھ اس مقصد کو بھی پیشِ نظر رکھنا ضروری ہے جس کے لیے شریعت نے لباس اور پردے کی تعلیم دی ہے۔

ان قرآنی ہدایات اور نبوی تعلیمات سے واضح ہوتا ہے کہ پردہ مسلمان عورت کی دینی زندگی کا ایک اہم حصہ ہے۔ اس کی تفہیم قرآن و سنت کی روشنی میں، علم و بصیرت اور اخلاص کے ساتھ ہونی چاہیے، نہ اس کے حکم کو غیر اہم سمجھا جائے اور نہ اس کی آڑ میں دین کے دوسرے اخلاقی تقاضوں کو نظر انداز کیا جائے۔

*حیا اور ایمان کا رشتہ:*

رسول اللہ ﷺ نے ایمان اور حیا کے باہمی تعلق کو نہایت جامع الفاظ میں بیان فرمایا:

الْحَيَاءُ شُعْبَةٌ مِنَ الْإِيمَانِ

ترجمہ: ’’حیا ایمان کی ایک شاخ ہے۔‘‘

(صحیح البخاری، صحیح مسلم)

حیا انسان کے باطن میں بیدار ہونے والا وہ احساس ہے جو اسے اپنے خالق کی نگرانی، اپنے اعمال کی جواب دہی اور اپنے کردار کی ذمہ داری سے آگاہ کرتا ہے۔ جب یہ احساس زندہ ہو تو انسان محض لوگوں کی نگاہوں سے بچنے کے لیے نہیں، بلکہ اللہ تعالیٰ کی رضا کے لیے بھی اپنی زندگی کو پاکیزہ بنانے کی کوشش کرتا ہے۔

حیا کا دائرہ لباس سے وسیع تر ہے۔ یہ نگاہ میں بھی مطلوب ہے، گفتگو میں بھی، معاملات میں بھی، تعلقات میں بھی اور زندگی کے ان تمام گوشوں میں بھی جہاں انسان کے ضمیر اور ایمان کا امتحان ہوتا ہے۔ اسی لیے پردے کو صرف ظاہری وضع قطع تک محدود کر دینا اس کے وسیع اخلاقی مفہوم کو نظر انداز کرنا ہے۔

پردے کی ظاہری پابندی کے ساتھ کردار کی پاکیزگی، زبان کی شائستگی اور معاملات کی دیانت بھی ضروری ہے۔ ظاہری نیکی انسان کو باطنی اصلاح سے بے نیاز نہیں کرتی، بلکہ اسے اپنے اندر مزید بہتری پیدا کرنے کی طرف متوجہ کرتی ہے۔ دین کا مقصود انسان کی شخصیت کے ایک پہلو کو سنوار کر دوسرے پہلوؤں سے غافل چھوڑ دینا نہیں، بلکہ اس کی پوری زندگی کو ایمان، اخلاص اور حسنِ اخلاق سے آراستہ کرنا ہے۔

*بدلتے ہوئے پیمانے:*

عصرِ حاضر میں انسان کی قدر و منزلت کا تعین بڑی حد تک اس کی ظاہری نمائش، سماجی مقبولیت اور دوسروں کی نگاہ میں اس کی حیثیت سے ہونے لگا ہے۔ اشتہارات، ذرائع ابلاغ اور معاشرتی رجحانات نے خوب صورتی، کامیابی اور آزادی کے بعض ایسے تصورات کو فروغ دیا ہے جن میں انسان کی داخلی صلاحیتوں اور اخلاقی خوبیوں کے مقابلے میں اس کی ظاہری کشش کو زیادہ اہمیت دی جاتی ہے۔

اس ماحول میں اصل مسئلہ صرف لباس کی تبدیلی نہیں، بلکہ وہ ذہنیت ہے جو انسان کی قدر کو دوسروں کی پسند اور قبولیت سے وابستہ کر دیتی ہے۔ جب شخصیت کا معیار اپنے اصولوں کے بجائے دوسروں کی نگاہ بن جائے تو آزادی کا دعویٰ بھی ایک نئی قسم کے دباؤ میں تبدیل ہو سکتا ہے۔ انسان بظاہر اپنی پسند سے فیصلے کرتا ہے، لیکن کبھی کبھی اس کی پسند بھی معاشرتی توقعات اور مقبول رجحانات کی تشکیل کردہ ہوتی ہے۔

اسلام انسان کو اس ذہنی غلامی سے نکال کر ایک بلند تر معیار عطا کرتا ہے۔ اس کے نزدیک انسان کی حقیقی قدر کا تعلق ایمان، تقویٰ، کردار اور اعمال سے ہے۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ ہر معاشرتی تبدیلی قابلِ مذمت ہے، بلکہ یہ کہ ہر تبدیلی کو محض نیا یا مقبول ہونے کی بنا پر حق کا معیار نہیں بنایا جا سکتا۔ دینی بصیرت کا تقاضا ہے کہ زمانے کے رجحانات کو سمجھا جائے، مگر اپنے اصولوں کا فیصلہ محض زمانے کی پسند پر نہ چھوڑ دیا جائے۔

*عورت کا مقام اور دینی وقار:*

اسلام نے عورت کی عزت کو کسی ایک ظاہری وصف میں محصور نہیں کیا، بلکہ انسانی فضیلت کو ایمان، تقویٰ اور نیک اعمال سے وابستہ کیا ہے۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے:

إِنَّ أَكْرَمَكُمْ عِنْدَ اللّٰهِ أَتْقَاكُمْ

ترجمہ: ’’بے شک اللہ کے نزدیک تم میں سب سے زیادہ عزت والا وہ ہے جو تم میں سب سے زیادہ تقویٰ والا ہے۔‘‘

(سورۃ الحجرات: 13)

یہ قرآنی اصول انسانی عظمت کا حقیقی معیار متعین کرتا ہے۔ کسی عورت کی پوری شخصیت کو صرف اس کے لباس تک محدود کر دینا اس کی علمی، فکری اور اخلاقی حیثیت کو نظر انداز کرنا ہے۔ اسی طرح پردے کے دینی حکم کو غیر اہم قرار دینا بھی اس کی اسلامی حیثیت سے صرفِ نظر کرنے کے مترادف ہے۔ اعتدال یہ ہے کہ عورت کی شخصیت کے تمام پہلوؤں کو ان کے مناسب مقام پر سمجھا جائے۔

اسلامی تاریخ میں خواتین نے علم، تعلیم، روایتِ حدیث، تربیتِ نسل اور خدمتِ معاشرہ کے میدانوں میں نمایاں کردار ادا کیا۔ ازواجِ مطہرات رضی اللہ عنہن اور صحابیات رضی اللہ عنہن کی زندگیاں اس حقیقت کی گواہ ہیں کہ دینی وقار اور علمی فعالیت ایک دوسرے کے مخالف نہیں۔ حیا علم کی راہ میں رکاوٹ نہیں، اور علم و ترقی کے لیے دینی ذمہ داریوں سے بے نیازی بھی ضروری نہیں۔

اس لیے پردے کی بحث کو عورت کے حقوق، تعلیم، جائز معاشرتی سرگرمیوں اور انسانی وقار کے مقابل کھڑا کرنا درست نہیں۔ جس طرح دینی احکام کی پابندی ضروری ہے، اسی طرح عدل، احترام اور حسنِ معاشرت بھی اسلامی تعلیمات کا حصہ ہیں۔ کسی خاتون کے ظاہری عمل کی بنیاد پر اس کے پورے کردار یا ایمان کے بارے میں فیصلہ صادر کرنا ہمارے محدود علم سے تجاوز ہے۔ اصلاح کی کوشش میں خیرخواہی اور حکمت کو بنیادی حیثیت حاصل ہونی چاہیے۔

*حیا کا امتحان اور استقامت:*

دینی اقدار پر عمل کی راہ ہمیشہ یکساں آسان نہیں ہوتی۔ کبھی معاشرتی دباؤ، کبھی طنز و تنقید اور کبھی بدلتے ہوئے رجحانات انسان کے لیے اپنے اصولوں پر قائم رہنے کو مشکل بنا دیتے ہیں۔ ایسے حالات میں استقامت کے لیے محض جذبات کافی نہیں ہوتے۔ علم، اخلاص، صبر اور اپنے مقصد کی صحیح معرفت بھی ضروری ہوتی ہے۔

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:

إِنَّ اللّٰهَ مَعَ الصَّابِرِينَ

ترجمہ: ’’بے شک اللہ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے۔‘‘

(سورۃ البقرۃ: 153)

جو خاتون اللہ تعالیٰ کی رضا کے لیے پردے کو اختیار کرتی ہے، اس کے لیے یہ عمل محض ظاہری امتیاز نہیں، بلکہ بندگی اور اطاعت کے شعور کا حصہ ہے۔ اس راستے پر ثابت قدمی کا تقاضا ہے کہ وہ اپنے عمل کو علم و اخلاص سے مضبوط کرے، مشکلات میں صبر سے کام لے اور لوگوں کی تنقید یا تعریف کو اپنی زندگی کا آخری معیار نہ بنائے۔

لیکن استقامت کا حقیقی حسن اس وقت نمایاں ہوتا ہے جب اس کے ساتھ انکسار بھی ہو۔ دینی عمل انسان میں برتری کا احساس پیدا کرنے کے بجائے اسے اپنے عیوب کی پہچان اور مزید اصلاح کی طرف متوجہ کرے۔ نیکی پر شکر، کوتاہی پر استغفار اور دوسروں کے لیے خیرخواہی، ایک مومن کے کردار کو متوازن بناتے ہیں۔

اسی طرح دینی احکام سے متعلق سوالات اور اختلافات کا جواب تحقیر یا سخت کلامی سے نہیں، بلکہ دلیل، حکمت اور حسنِ اخلاق سے دیا جانا چاہیے۔ دین کی دعوت کا مقصد دلوں کو حق سے قریب کرنا ہے، نہ کہ انسانوں کو ان کی کمزوریوں کے سبب مایوسی یا دوری میں مبتلا کر دینا۔

 *مشترکہ اخلاقی ذمہ داری:*

حیا اور عفت کے باب میں قرآنِ مجید کا خطاب مردوں اور عورتوں دونوں سے ہے۔ اللہ تعالیٰ نے خواتین کے احکام بیان کرنے سے پہلے مومن مردوں کو نگاہیں نیچی رکھنے اور اپنی عصمت کی حفاظت کا حکم دیا:

قُلْ لِلْمُؤْمِنِينَ يَغُضُّوا مِنْ أَبْصَارِهِمْ وَيَحْفَظُوا فُرُوجَهُمْ

ترجمہ: ’’مومن مردوں سے کہہ دیجیے کہ وہ اپنی نگاہیں نیچی رکھیں اور اپنی عصمت کی حفاظت کریں۔‘‘

(سورۃ النور: 30)

اس حکم میں اس حقیقت کی طرف واضح اشارہ ہے کہ پاکیزہ معاشرے کی تشکیل کسی ایک جنس کی ذمہ داری نہیں۔ مرد کی نگاہ، اس کی گفتگو، اس کے تعلقات اور اس کا کردار بھی اسی اخلاقی معیار کے تابع ہیں جس کا تقاضا عورت سے کیا جاتا ہے۔ خواتین کے لباس پر گفتگو کرتے ہوئے مردوں کی ذمہ داریوں کو نظر انداز کر دینا قرآن کے متوازن خطاب کو یک طرفہ بنا دینا ہے۔

کسی خاتون کے لباس پر نامناسب تبصرہ کرنا، اسے تضحیک کا نشانہ بنانا یا اس کی عزت و سلامتی کو نظر انداز کرنا حیا کی تعلیم سے مطابقت نہیں رکھتا۔ اختلاف اور نصیحت کے باوجود انسانی احترام برقرار رہنا چاہیے۔ مرد کی اخلاقی ذمہ داری یہ بھی ہے کہ وہ اپنی خواہشات کو قابو میں رکھے اور دوسروں کے حقوق و وقار کی حفاظت کرے۔

خاندانوں، تعلیمی اداروں اور معاشرتی رہنماؤں کے لیے بھی ضروری ہے کہ نئی نسل کی تربیت میں صرف ظاہری پابندیوں پر اکتفا نہ کریں، بلکہ ان کے پیچھے موجود دینی حکمت، اخلاقی ذمہ داری اور روحانی مقصد کو سمجھائیں۔ محبت، اعتماد، علم اور عملی نمونہ وہ بنیادیں ہیں جن پر پائیدار تربیت استوار ہوتی ہے۔

*حرفِ آخر:*

پردہ ایک دینی حکم بھی ہے اور حیا پر قائم اخلاقی تصورِ زندگی کا اہم مظہر بھی۔ اس کی معنویت اس وقت زیادہ واضح ہوتی ہے جب اسے ایمان، ضبطِ نفس، کردار کی پاکیزگی اور رضائے الٰہی کے وسیع تر تناظر میں سمجھا جائے۔ اسے محض معاشرتی رسم بنا دینا اس کی روح کو محدود کرنا ہے، اور اسے انسانی شخصیت کے تمام دوسرے پہلوؤں کا متبادل سمجھ لینا بھی درست نہیں۔

انسان سے لغزش ہو سکتی ہے، اس کے عمل میں کمی آ سکتی ہے اور اس کی زندگی میں کمزوریاں پیدا ہو سکتی ہیں؛ لیکن اصلاح، توبہ اور رجوع کا دروازہ ہمیشہ کھلا رہتا ہے۔ اس لیے دینی اقدار کی حفاظت کا راستہ مایوسی، تحقیر اور خود پسندی سے نہیں، بلکہ علم، اخلاص، صبر اور مسلسل محاسبۂ نفس سے گزرتا ہے۔

ایک زندہ تہذیب وہ نہیں جو صرف اپنے ماضی پر فخر کرے، بلکہ وہ ہے جو اپنے اصولوں کو سمجھتی، اپنے حال کا محاسبہ کرتی اور اپنی نسلوں تک اپنی اقدار کو شعور و بصیرت کے ساتھ منتقل کرتی ہے۔ حیا اسی تہذیبی شعور کی ایک روشن علامت ہے، اور پردہ اس دینی نظام کا ایک اہم حصہ جس کا مقصد انسان کو اپنے رب کی اطاعت، اپنے کردار کی پاکیزگی اور دوسروں کے حقوق کے احترام کے ساتھ زندگی گزارنے کی رہنمائی فراہم کرنا ہے۔

اے اللہ! ہمارے دلوں کو ایمان، ہماری نگاہوں کو حیا اور ہمارے کردار کو پاکیزگی عطا فرما۔ ہماری ماؤں، بہنوں اور بیٹیوں کو دین کی صحیح سمجھ، پردے کی حکمت، عفت و وقار اور نیکی پر استقامت نصیب فرما۔ ہمارے گھروں اور معاشرے کو علم، عدل، اخلاص اور حسنِ اخلاق سے آراستہ فرما، اور ہماری نسلوں کو ایمان و عمل کا روشن چراغ بنا دے۔

رَبَّنَا تَقَبَّلْ مِنَّا إِنَّكَ أَنْتَ السَّمِيعُ الْعَلِيمُ۔

آمین یا رب العالمین۔!

Abdul Jabbar Alimi

عبدالجبار علیمی نیپالی۔

چیف ایڈیٹر (9701714929) (8795979383)