Oct 30, 2026 03:54 PM Asia/Kathmandu
ہمیں فالو کریں:
کیا لڑکی ہونا جرم ہے ؟

کیا لڑکی ہونا جرم ہے ؟

29 Oct 2026
1 min read

*کیا لڑکی ہونا جرم ہے؟*

 

 اسلام نے جس طرح بنی نوع انسان کے ادنی اور پسماندہ طبقے کو ترقی یافتہ لوگوں کے شانہ بشانہ کھڑا کیا اور انہیں انسانی حقوق سے مالا مال کیا، اسی طرح اس نے صنف نازک کو بھی دور جاہلیت کے ظالمانہ اور وحشیانہ ماحول سے نکال کر انہیں عزت و وقار کے بلند مقام پر فائز کیا اور انہیں انسانی حقوق سے بہرہ ور کیا، جس سے وہ دور جاہلیت میں محروم ہو چکی تھیں۔

اسلام سے پہلے عرب معاشرہ میں ہی نہیں بلکہ پوری دنیا میں عورت کا کوئی مقام نہیں تھا، لوگ لڑکیوں کی پیدائش کو اپنے لیے باعث عار سمجھتے تھے، اور بعض قبیلوں میں لڑکیوں کو زندہ درگور کر دیا کرتے تھے۔ جس کو اللہ عزوجل نے قران مقدس میں یوں ذکر کیا ہے:

وَ اِذَا بُشِّرَ اَحَدُهُمْ بِالْاُنْثٰى ظَلَّ وَجْهُهٗ مُسْوَدًّا وَّ هُوَ كَظِیْمٌۚ. یَتَوَارٰى مِنَ الْقَوْمِ مِنْ سُوْٓءِ مَا بُشِّرَ بِهٖؕ-اَیُمْسِكُهٗ عَلٰى هُوْنٍ اَمْ یَدُسُّهٗ فِی التُّرَابِؕ-اَلَا سَآءَ مَا یَحْكُمُوْنَ.

(النحل، 16/58،59)

ترجمہ کنز الایمان: اور جب ان میں کسی کو بیٹی ہونے کی خوش خبری دی جاتی ہے، تو دن بھر اس کا منہ کالا رہتا ہے اور وہ غصہ کھاتا ہے، لوگوں سے چھپتا پھرتا ہے،اس بشارت کی برائی کے سبب کیا اسے ذلت کے ساتھ رکھے گا یا اسے مٹی میں دبا دے گا۔

اور صراط الجنان میں امام فخر الدین رازی رحمۃ اللہ علیہ کے حوالے سے بیان کیا گیا ہے: کہ زمانۂ جاہلیت میں کفار مختلف طریقوں سے اپنی بیٹیوں کو قتل کر دیتے تھے، ان میں سے بعض گڈھا کھودتے اور بیٹی کو اس میں ڈال کر گڈھا بند کر دیتے حتی کہ وہ مر جاتی۔ اور بعض اسے پہاڑ کی چوٹی سے پھینک دیتے، بعض اسے غرق کر دیتے،اور بعض اسے ذبح کر دیتے، ان کا بیٹیوں کو قتل کرنا بعض اوقات غیرت اور حمیّت کی وجہ سے ہوتا تھا، اور بعض اوقات فقر و فاقہ اور نان و نفقہ لازم ہونے کے خوف سے وہ ایسا کرتے تھے۔ ایسے خوفناک اور پرآشوب ماحول میں جب اسلام آیا تو اس نے عورتوں کو معاشرے میں ان کے حقوق عطا کیے، لڑکیوں کو دفن کر دینے والی ظالمانہ رسم کا خاتمہ کیا، اور ان کی عزت و وقار کو بلند کیا۔ اسلام نے بیٹی کو بوجھ نہیں بلکہ اللہ تعالی کی عطا کردہ نعمت قرار دیا، اور اس کے حقوق کی ادائےگی پر زور دیا۔ مگر افسوس کی آج ہمارے معاشرے میں کچھ ایسے افراد موجود ہیں، جو دور جاہلیت کے اطوار کو اپناتے ہوئے بیٹیوں کی پیدائش کو اپنے لیے باعث عار سمجھ رہے ہیں، ان کے ساتھ حسن سلوک کرنے کے بجائے بدسلوکی کر رہے ہیں، اور بیٹوں کو بیٹیوں پر فضیلت نہ دینے کے بجائے ان کو کمتر اور حقیر سمجھ رہے ہیں۔

ایسے حالات میں یہ سوال نہایت اہمیت اختیار کر جاتا ہے کہ کیا لڑکی ہونا جرم ہے؟ کیا محض لڑکی پیدا ہونے کی وجہ سے کسی انسان کو کمتر سمجھنا انسانیت، عدل و انصاف اور اسلامی تعلیمات کے منافی نہیں ہے؟

جب کہ بیٹے اور بیٹیاں دینے یا نہ دینے کا اختیار صرف اللہ کے پاس ہے۔

اللّٰہ عزوجل ارشاد فرماتا ہے:

لِلّٰهِ مُلْكُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِؕ-یَخْلُقُ مَا یَشَآءُؕ-یَهَبُ لِمَنْ یَّشَآءُ اِنَاثًا وَّ یَهَبُ لِمَنْ یَّشَآءُ الذُّكُوْرَۙ. اَوْ یُزَوِّجُهُمْ ذُكْرَانًا وَّ اِنَاثًاۚ-وَ یَجْعَلُ مَنْ یَّشَآءُ عَقِیْمًاؕ-اِنَّهٗ عَلِیْمٌ قَدِیْرٌ.

(الشورى، 42/49،50)

ترجمہ کنزالایمان: اللہ ہی کے لیے ہے آسمانوں اور زمین کی سلطنت، پیدا کرتا ہے جو چاہے، جسے چاہے بیٹیاں عطا فرمائے اور جسے چاہے بیٹے دے۔ یا دونوں ملا دے بیٹے اور بیٹیاں اور جسے چاہے بانجھ کر دے۔ بے شک وہ علم و قدرت والا ہے ۔

ان مذکورہ آیات کریمہ سے یہ بات روز روشن کی طرح واضح ہے کہ کسی کے یہاں بیٹے پیدا کرنے یا صرف بیٹیاں پیدا کرنے یا بیٹے اور بیٹیاں دونوں پیدا کرنے کا اختیار و قدرت صرف اللہ تعالیٰ کے پاس ہے ۔ تو بیٹی پیدا ہونے پر عورت کو مشقِ ستم بنانا،اسے طرح طرح کی اذیتیں دینا، بات بات پہ طعنوں کے نشتر چبھونا، آئے دن ذلیل کرتے رہنا، صرف بیٹیاں پیدا ہونے پر اسے منحوس سمجھنا اور طلاق دے دینا،قتل کی دھمکیاں دینا بلکہ بعض اوقات قتل کر ڈالنا یہ اس مجبور اور بے بس کے ساتھ کہاں کا انصاف ہے۔ اللّٰہ عزوجل ایسے لوگوں کو عقل سلیم عطا فرمائے تاکہ ایسے بےہودہ کام کرنے سے باز آجائیں ۔

آئیے حدیث پاک کی روشنی میں ہم بیٹیوں کی عظمت و شان کو سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں تاکہ بیٹیوں کے ساتھ ناانصافی کرنے والے لوگ اپنی حرکتوں سے باز آئیں اور ان کے ساتھ حسن سلوک کریں ۔

*جنت میں داخلہ*

نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جس کے ہاں دو بیٹیاں پیدا ہوئیں، اس نے ان کو زندہ دفن نہ کیا، ان کو برا نہ جانا، اور نہ ہی بیٹوں کو ان پر ترجیح دی، تو اللہ تعالی اس کے بدلے میں اس کو جنت میں داخل فرمائے گا۔

( المستدرک، کتاب البر والصلۃ، حدیث: 7348 )

 اور حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جس شخص کی تین بیٹیاں یا تین بہنیں ہوں اور وہ ان کے ساتھ اچھا سلوک کرے تو وہ شخص جنت میں داخل ہو گا۔

(جامع ترمذی، کتاب البر والصلۃ، حدیث: 1835)

*محبت کرنے والیاں*

حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے ارشاد فرمایا: بیٹیوں کو برا نہ سمجھا کرو ، بے شک وہ محبت کرنے والیاں ہیں ۔

(مسند امام احمد، حدیث: 17508)

*جہنم سے حفاظت*

حضرت سیدہ عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا بیان کرتی ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جو شخص بیٹیوں کی پرورش کی آزمائش میں مبتلا کیا گیا اور اس نے صبر سے کام لیا تو وہ بچیاں اس کے لیے جہنم سے رکاوٹ بن جائیں گی۔

(جامع ترمذی، کتاب البر والصلۃ، حدیث: 1836)

*جنت واجب ہوجاتی ہے*

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے فرمایا: جس کی تین بیٹیاں ہوں، وہ ان کی پرورش کرے اور ان کی کفالت کرے تو اس کے لیے جنت واجب ہو جائے گی۔ ہم نے عرض کی: یا رسول اللہ! اگر دوہوں تو؟ آپ نے فرمایا: وہ بھی، ہم نے عرض کی، ایک، آپ نے فرمایا: ایک بھی ۔

(المعجم الاوسط للطبرانی، حدیث 6199)

*بیٹیوں کے ساتھ ہمارے پیارے نبی کا طرز عمل*

ہمارے پیارے نبی کی پیاری بیٹی سیدہ کائنات حضرت بی بی فاطمہ رضی اللہ تعالی عنہا جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آتیں، تو آپ کھڑے ہو کر ان کی طرف متوجہ ہوتے، پھر اپنے پیارے پیارے ہاتھ میں ان کا ہاتھ لے کر اسے بوسہ دیتے، پھر انہیں اپنی جگہ بٹھاتے۔ اسی طرح جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم حضرت بی بی فاطمہ رضی اللہ تعالی عنہا کے ہاں تشریف لے جاتے، تو وہ بھی کھڑی ہو جاتیں، آپ کا مبارک ہاتھ اپنے ہاتھ میں لے کر چومتیں، اور آپ کو اپنی جگہ بٹھاتیں۔

(سنن ابو داؤد، کتاب الادب، حدیث: 5217)

عزیزان محترم!

قرآن کریم اور احادیث مبارکہ کی روشنی میں یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ بیٹی ہونا جرم نہیں بلکہ بیٹی اللّٰہ تعالیٰ کی ایک عظیم نعمت اور رحمت ہے، جو رنج و الم میں ساتھ دینے والی اور محبت کرنے والی ہے، جس کے ساتھ حسن سلوک کرنے سے جنت واجب ہو جاتی ہے، یاد رہے کہ صنف نازک کسی بھی روپ میں ہو وہ اپنے والد، بھائی، اولاد اور شوہر کے لیے باعث رحمت اور جنت تک پہونچانے کا ایک عظیم ذریعہ ہے ۔ اگر وہ ماں ہے تو اس کے قدموں کے نیچے جنت، بہن ہے تو بھائیوں کے لیے بہترین دوست، بیوی ہے تو شوہر کے لیے آدھا دین (ایمان) اور بیٹی ہے تو اللہ کی رحمت اور برکت ہے ۔ اس لیے ہمیں چاہیے کہ ہم بیٹیوں کے ساتھ اچھا سلوک کریں، ان کی ہر نیک و جائز تمناؤں کو پوری کرنے کی کوشش کریں اور بیٹوں کو بیٹیوں پر ترجیح نہ دیں۔ اللہ عزوجل ہم سب کو بیٹیوں کی عظمت و شان کو سمجھنے اور اپنی بیٹیوں کے ساتھ حسن سلوک کرنے کی توفیق عطا فرمائے ۔

آمین یا رب العالمین 

از: ثقلین رضا علیمی

البرکات اسلامک انسٹی ٹیوٹ علی گڑھ

Abdul Jabbar Alimi

عبدالجبار علیمی نیپالی۔

چیف ایڈیٹر (9701714929) (8795979383)