Feb 7, 2026 11:05 AM Asia/Kathmandu
ہمیں فالو کریں:
خانقاہ برکاتیہ علم وعرفان کا تابندہ مرکز

خانقاہ برکاتیہ علم وعرفان کا تابندہ مرکز

13 Nov 2025
1 min read

خانقاہ برکاتیہ علم وعرفان کا تابندہ مرکز

از قلم : محمد ثاقب رضا علیمی نیپالی

برصغیر کے ہند و پاک میں  تصوف و طریقت کے وہ سلاسل جنہوں نے ، علم و عمل ،عبادت و ریاضت ، اصلاح و تبلیغ کے  میدان میں گہرے نقوش چھوڑے ہیں ان میں سلسلہ برکاتیہ کو نمایاں  حیثیت حاصل ہے ، یہ وہ فیض  رساں روحانی شجر ہے  ، جس کی  جڑ یں عشق و محبت، اور اتباع سنت میں پیوست ہیں  ۔  یہ وہ خانقاہ ہے جس کی بنیاد علم ، اخلاق ، اور دین وسنت کی نشر و اشاعت  پر رکھی گئی  ہے  جہاں بڑے  بڑوں نے سر عقیدت خم کئے ہیں  جس کو اپنے دور کے اساطین طریقت  نے مرکز عقیدت بنایا ہے ، جہاں سے بہت سے تشنگان نے  جام معرفت کو نوش کر کے ہدایت کے راستے پرگامزن ہوگئے  ۔جہاں سے علم و عرفان  کی وہ شعائیں پھوٹی ہیں جس نے تمام مسلمانان ہند کے لیے  مشعل ہدایت  کا کردار ادا کیا ہے ۔ خانقاہ برکاتیہ صدیوں سے   امت مسلمہ کی رشد وہدایت اور اہل سنن کے لیے روحانی بالیدگی کا سامان فراہم کرتی چلی آرہی ہے ۔ 

 اس خانقاہ کے اکابر علماء    میں ١٠ ويں صدی ہجری میں  علامہ عبد الواحد بلگرامی گزرے ہیں  ، جنہوں نے اپنے دور میں اٹھنے والے فتنے اور  اسلام سے جدا راہیں تلاش کرنے والوں کا قلع قمع کرکے اسلام کے فصیل کی  حفاظت کی ، اس باب میں ان کی کتاب  سبع سنابل آج بھی رہبرو  رہنما کی حیثیت رکھتی ہے ۔اور  انہیں نامور علماء میں سے میر غلام  علی آزاد بلگرامی ہیں جنہوں نے اپنے  محدثانہ اور مؤرخانہ کارناموں سے  ١٢ ویں صدی  ہجری میں عالم اسلام میں شہرت حاصل کی  ، آپ کی کئی کتابیں ایسی ہیں   جو آج  محققین کے لیے مرجع و مصدر  کی  حیثیت رکھتی ہیں جن میں  سے سبحة المرجان في   آثار هندوستان ، روضة الاوليا ، ماثر الكرام تاريخ بلگرام ،   سرو آزاد ،خزانہ عامرہ  ،قابل ذکر    ہیں ۔ اسی طرح اگر یہ کہا جائے کہ اردو ادب کے  حسن وجمال میں نکھار پیدا کرنے  میں خانقاہ برکاتیہ کا ایک اہم کردار رہا ہے تو یہ مبالغہ نہ ہوگا کیونکہ اس خانقاہ کے بانی حضرت علامہ  شاہ برکات اللہ  عشقی مارہروی جن کی ذات علم و حکمت کی خزینہ تھی آپ اپنے دور کے عربی ، فارسی ، اور اردو ، زبان کے زبردست شاعر تھے ،  آپ نے اردو کے ابتدائی دور میں سستہ نثر اور رواں نظم کا ایک بہترین نمونہ پیش کیا  ۔ آپ کی متعدد تصنیفات ہیں جن میں سے  عوارف ہندی ، دیوان عشقی ، پریم پرکاش ، رسالہ سوال وجواب شہرت کی  حامل ہیں ۔

  یوں ہی اس خانقاہ نے ہر دور میں   ایسے ایسے لعل وگوہر پیدا کئے ہیں جنہوں نے  اسلام کی  شمع پوری دنیا میں روشن کی    اور درس وتدریس کے میدان میں  بھی   ایک نمایا ں کام انجام دیا ۔ حضرت شاہ آلرسول مارہروی  جن کا  سلسلہ حدیث میں حضرت شاہ ولی اللہ محدث دہلوی سے جاملتا ہے ، انہوں نے    دین وسنت کی نشر واشاعت میں بہت ہی اہم کردار  ادا کیا ۔  اور انہیں لال و گوہر میں سے ایک ذات جلیل  البرکات نورالعارفین  حضرت مولانا سید شاہ  ابو الحسن احمد نوری میاں مارہروی  کی ہے،  جو بالخصوص خاندان برکات اور بالعموم عالم اسلام کے لئے  اللہ کی نعمتوں میں سے ایک نعمت ہیں جن کی پرورش ہی  ایک ولی کامل کے  دست مبارک سے ہوئی ، جن کے تقوےکا یہ عالم  تھا کہ محرمات تو دور کی بات ہے مکروہات سے بھی حد درجہ کنارہ کشی اختیار فرماتے تھے ،  جن کی تصنیفات نے ایسے دور میں  کہ جب ملک پر انگریز قابض تھے ، مدارس اور    خانقاہیں زوال پزیری کی طرف بڑھ رہی تھیں  ، اور فتنے تیزی سے پھیل رہے  تھے باطل فرقے مسلمانوں کے عقائد کو متزلزل کر رہے تھے  اور جب جنگِ جمل و صفین کے نام پر اتحاد  امت پر شب خون مارنے کی کوشش ہورہی تھی ، تو ان کی تصانیف نے فتنوں کا قلع قمع کیا ارو گمراہ ذہنوں کے لیے چراغِ ہدایت اور زخمی قلوب کے لیے مرہم کا کردار ادا کیا۔ آپ نے بہت ساری کتابیں تصنیف  کی  ہیں جن میں سے چند مشہور کتابیں    در ذیل ہیں   العسل المصطفی فی عقائد ارباب سنۃ المصطفی ﷺ، عقیدہ اہل سنت نسبت محاربین جمل  وصفین و نہروان ،  کشف القلوب ،  تحقیق التراویح ، دلیل الیقین من کلمات العارفین ،  الجفر ،  النجوم ، آپ کی عظمت کا اعتراف   حضور  اعلی حضرت امام احمد رضا خان        نے کچھ یوں کیا ہے    ۔ اے رضا یہ احمد نوری کا فیض نور ہے ، 

ہوگئی میری غزل بڑھ کر قصیدہ نور کا ۔

 اس خانقاہ نے لوگوں کو نہ  صرف علم و حکمت کا جام  پلایا بلکہ تصوف کے زیور سےبھی آراستہ کیا ۔ حضرت میر ابو القاسم  اسماعیل حسن شاہ حاجی میاں نے سلسلہ قادریہ ، برکاتیہ کو    تروتازگی بخشی اور اپنے مکاتیب  (مفاوضات طیبہ) کے ذریعہ   تصوف کی اقدار کو تروتازگی اور تقویت بخشی ۔

اور جب  شدھی تحریک  کے تحت مسلمان ارتداد کا  شکار ہورہے تھے اس وقت آپ  ان مجاہدین کی جماعت میں شامل تھے جنہوں نے فتنہ ارتداد کا ڈٹ کر مقابلہ کیا اور باطل قوتوں کے سامنے سینہ سپر  رہیں ۔ گویا کہ خانقاہ برکاتیہ نے ہر دور میں زمانہ  کے تقاضوں  کے مطابق دین و سنیت   کی نشر واشاعت  اور اس کے  حفاظت میں ایک نمایا ں کردار ادا کیا ۔ اور  مسلمانوں میں تعلیمی بیداری  پیدا کرنے کی غرض سے  ایک نعرہ بلند کیا   کہ آدھی روٹی کھائے اور بچوں کو پڑھائے  اور صرف نعرہ ہی بلند نہیں کیا بلکہ سادات  مارہرہ نے اس کو عملی جامہ بھی پہنایا اور اپنے شہزادگان کو دینی اور عصری دونوں علوم  سے مزین   کیا جس کا نتیجہ یہ رہا کہ شہزاد گان اعلی  مناصب پر فائز ہوئے ،   خود موجودہ    صاحب سجادہ تاج المشائخ حضور امین ملت سید شاہ محمد امین میاں قادری  ﷿علی گڑھ یونیورسٹی  کے اردو ڈپارٹمنٹ کے چیرمین ہیں تو وہیں  سید محمد اشرف میاں صاحب قبلہ  انکم ٹکس سیٹیلمنٹ کمیشن کے  عہدہ پر فائز تھے  ، اسی طرح سید شاہ نجیب حیدر میاں﷿ مارہرہ ایجوکیشنل سوسائٹی کے تحت چلنے والے اداروں کی صدارت سنبھالی  ،۔ اور  یوں ہی ارباب خانقاہ نے قوم کو صرف نعرہ نہیں  دیا بلکہ ان کی   فلاح و بہبود اور بچوں کو زیورتعلیم سے آراستہ کرنے کے لئے ادارے قائم کیے  اور سینکڑوں اداروں کی مالی معاونت  اور سرپرستی فرمائی۔ اب بطور مثال    ہم   یہاں پر مارہرہ مطہرہ اور علی گڑھ میں خانقاہ برکاتیہ کے  زیر انتظام چلنے والے چند دینی اور عصری ارداروں  کو ذکر  کر تے ہیں ۔

مدرسہ القاسم البرکات ، مارہرہ ایٹہ یوپی ،

 جامعہ احسن البرکات  ،مارہرہ شریف ایٹہ یوپی 

، مارہرہ پبلک اسکول، مارہرہ شریف یوپی ، 

البرکات پبلک اسکول  ، جمال پور علی گڑھ  یوپی ، 

البرکات اسلامک ریسرچ اینڈ ٹریننگ انسٹی ٹیوٹ ، 

البرکات انسٹی ٹیوٹ آف انفارمیشن ٹیکنا لوجی ،

ان کے علاوہ  ان کے ماتحتی میں  چلنے والے اور بھی بہت ایسے  ادارے ہیں  جو مسلم سماج میں  تعلیمی انقلاب برپا کرنے کے لیے  ہمہ وقت کوشاں ہیں ۔ 

 ساتھ ہی   خانقاہ برکاتیہ  نے مسلمانوں کے عبادت وریاضت کے لئے مساجد بھی قائم کی جن میں سے دو یا تین  کا نام میں یہاں  پر ذکر کر رہا ہوں ۔ 

قادری مسجد ، کبیر قالونی علی گڑھ

 ، مسجد البرکات ، جمال پور علی گڑھ ،

 مسجد حمید ، بھو جپورا علی گڑھ ، 

اور مشائخ  مارہرہ نے اپنی گراں قدر  علمی خزانے کو اہل سنت و الجماعت کے بقا و بہبود  میں خرچ کئے اور  عقیدہ ،تفسیر ، فقہ ، تصوف ، طب ، فلسفہ ، توقیت ، جفر ، مناظرہ ،ادب شعرو شاعری جیسے اہم علوم عقلیہ اور نقلیہ پر طبع آزمائی کی اور عربی ،فارسی ،اردو ،ہندی ،اور انگریزی میں گراں قدر کتابیں تصنیف  فرمائیں ۔ اور آج   مسلم معاشرہ کو ترقی کے اعلی معیار پر پہنچانے کے لئے ان کے اندر تعلیمی انقلاب لانا ایک  اہم فریضہ بن چکا ہے الحمد للہ اس فریضہ کو پورا کرنے کے لئے  شہزادگان برکاتیہ  ہمہ وقت کوشاں رہتے ہیں اللہ تعالی خانقاہ برکاتیہ اور اس کے جانشین کو  دنیا وآخرت کی سرخ روئی سے سرفراز فرمائے اور قوم کی زبوں حالی کے تدارک کے لیے جس تعلیمی مشن کا آغاز کیا ہے اللہ تعالی  اسے پائے تکمیل تک پہنچائے  ۔ آمین 

Abdul Jabbar Alimi

عبدالجبار علیمی نظامی نیپالی۔

چیف ایڈیٹر نیپال اردو ٹائمز 8795979383