Feb 7, 2026 06:10 AM Asia/Kathmandu
ہمیں فالو کریں:
اردو شاعری کا معتبر نام۔ سنجے مصرا شوق

اردو شاعری کا معتبر نام۔ سنجے مصرا شوق

25 Dec 2025
1 min read

اردو شاعری کا معتبر نام۔ سنجے مصرا شوق

از۔ضیا تقوی، لکھنؤ، انڈیا

اردو غزل کی تاریخ  شاہد ہے کہ یہ صنفِ سخن مذہب و ملّت کی قید سے ہمیشہ آزاد رہی۔ اس نے ہمیشہ اپنے مداحوں، چاہنے والوں اور قدردانوں کی پُشت پناہی اور پذیرائی کی ہے۔ غیر مسلم شعرا میں سکھ اور عیسائی شعراء سے زیادہ ہندو شعراء اور ادیب اُردو دُنِیا میں موجود ہیں۔ اردو غزل کے اُفق پر چاند، سورج کی مانند نمایاں غیر مسلم شعرا کی فہرست کافی طویل ہے، جو عاشقان اُردو کی حیثیت سے اُردو ادب میں بلند اور نمایاں مقام رکھتے ہیں۔ پنڈت دیا شنکر نسیم، برج نارائن چکبست، پنڈت برج موہن دتاتریا۔ کیفیؔ، رتن ناتھ سرشار، منشی پریم چند، منشی نول کشور، رگھو پتی سہائے فراقؔ گورکھ پوری، ساحرؔ لدھیانوی، جگن ناتھ آزاد، کرشن بہاری نور، جیسے بلند مرتبہ شعراء اور ادباء کی اِس فہرست میں سنجے مصرا شوق نے بھی اپنی بالیدا فکر شاعری کے ذریعے اپنا نام درج کرا لیا ہے۔ شوق کی شاعری میں قدماء کی تقلید کے ساتھ ساتھ فکر کی جدّت اور موضوعات کی ہمہ گیری بھی پائی جاتی ہے۔ اُن کے اشعار میں سادگی، روانی، ندرت خیال اور معنی آفرینی بہ درجہ اتم پائی جاتی ہے۔ کلام میں شائستگی اور لکھنوی رنگ صاف نظر آتا ہے۔ اُن کے اشعار میں طنز بہت مؤثر طریقے سے ملتا ہے۔

میرا اخلاق ہی ایسا ہے کہ میرے سر پر 

جِس کو دیکھو وہی رکھتا ہے مصیبت اپنی

کر گئی بوڑھا یہی اِک آرزو 

سر چھپانے کو ٹھکانہ چاہیے 

 

ہم نے غیروں کی رعونت کا بھی شکوہ نہ کیا

تم تو اپنے ہو میاں، تم سے شکایت کیسی

 

حمد اِلٰہی اُن کے اشعار کو مزید جاذب نظر بنا کر اُن کے حُسن میں اضافے کا سبب بنتی ہے۔ 

 

خدا خود مرے دل کے اندر مکیں ہے 

مگر مجھ کو اِس کی خبر تک نہیں ہے 

 

فقط اس سبب سے وہ پردہ نشیں ہے 

کہ دیدار کی تاب ہم میں نہیں ہے 

 

عہدِ جدید کی برق رفتار زندگی اور جلد بازی پر بھی شوق صاحب کی نگاہ ہے۔ وہ فرماتے ہیں:

 

ہتھیلی پر اگانا چاہتے ہیں کھیت سرسوں کے

مرے بچّے تو اپنی عمر سے آگے نکل آئے 

 

شاعر ہمیشہ حساس طبیعت کا مالک ہوتا ہے، وہ سماج کی غلطیوں اور بد عنوانیوں پر نہ صرف نظر رکھتا ہے بلکہ اُنھیں کلام کا موضوع بھی بناتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ وہ نظام مملکت پر بہت سلیقے سے طنز بھی کرتے نظر آتے ہیں۔ 

 

امن کے شہر میں یہ حکمِ زباں بندی کیوں 

اپنا حق مانگ لے کوئی تو بغاوت کیسی

جِس میں مزدور کو دو وقت کی روٹی نہ مِلے 

وہ حکومت بھی اگر ہے تو حکومت کیسی

 

سنجے مصرا شوق وحدانیت کے قائل ہیں اور ذیل کے شعر میں اپنے عقیدے کا اِظہار بڑی بے باکی سے کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ 

 

میں بنا کلمہ پڑھے بھی تو مسلماں ٹھہرا

ہاں مرے دوش پہ زنار ہے، میں جانتا ہوں 

 

  ایک شعر میں وہ اُردو ادب کی جمودی کیفیّت کی جانب بڑے سلیقے سے اشارہ کرتے ہوئے اہلِ ادب کو بیدار کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ 

 

میاں اردو ادب میں آج تک مردہ پرستی ہے 

یہاں کے لوگ قبرستان سے باہر نہیں آتے

 

اِس شعر میں وہ صاف لفظوں میں شکایت کرتے ہیں کہ بحر ادب میں لاکھوں گوہر اپنے قدر دانوں کے اِنتظار میں ہیں۔ لیکن سکہ بند نقاد چند شعراء اور ادباء پر ہی قلم کی سیاہی صرف

کرتے ہیں۔سنجے مصرا شوق اچھے عروضی اور رباعیات کے ماہر ہیں۔

اُن کو اپنی اِس صلاحیت پر فخر بھی ہے۔ حالانکہ اِس فخر و افتخار میں خود ستائی کی کیفیت بھی نظر آتی ہے۔ وہ فرماتے ہیں۔ 

 

شعر کہتے ہیں بہت ٹھونک بجا کر ہم شوق 

خود پہ تنقید کے پتھر نہیں اُٹھنے دیتے

 

شوق صاحب سے بِالْمُشافَہ میری ملاقات ڈاکڑ منصور حسن خان کے سینٹ روز پبلک اسکول کے ایک مشاعرے میں ہوئی۔ اِس سے قبل میری ان سے شناسائی نہیں تھی۔ وہ میرے چچا، شاعرو ادیب جناب عابد نظر صاحب کے اچھے شناسا ہیں۔ شوق صاحب اپنی شاعری اور پیش کش کے سبب سامعین سے داد حاصل کرنے میں کامیاب ہیں۔ گزشتہ دنوں رضوان فاروقی صاحب نے بروقت ملاقات دیگر کتابوں کے ہمراہ سنجے صاحب کی اول کتاب " رات کے بعد رات" یہ کہہ کر سونپی کہ میرا غالب پر لکھنے والوں کی کمی نہیں ہے۔ آپ اپنے دور پر لکھئے۔ آس پاس کی شخصیات کو موضوع بنائیے۔ ترجمان عصر حاضر بنئے۔ بات سمجھ میں آئی اور سنجے صاحب کے مجموعہ کو بغور پڑھا۔ بلکہ یہ کہنا زیادہ مناسب ہوگا کہ کلام ایسا ہے کہ جس نے خود کو پڑھوالیا۔ مجموعہ کا عنوان بھی اُن کی نگاہِ دور اندیش کا غماز ہے۔ "رات کے بعد رات" یعنی رات کے بعد دن تو ہوتا ہے مگر سیاہی برقرار ہے، تیرگی حاوی ہے، لوگ خوابِ غفلت میں پڑے ہوئے ہیں، بے حسی کا عالم ہے۔ شوق صاحب کے مجموعہ کلام "رات کے بعد رات" میں ادیب و ناقد پروفیسر شارب ردولوی صاحب نے اِس خصوصیت کا بھی ذکر کیا ہے، اسی کے ساتھ وہ لکھتے ہیں کہ "سنجے مصرا شوق اِس نسل سے تعلق رکھتے ہیں جو ملک کی آزادی کے بيس سال بعد پیدا ہوئی، جب سماجی حالات درست ھونے لگے تھے اور اُردو کی محافظت کا بھی وہ عالم نہیں ره گیا تھا۔ اُردو زبان اور شاعری سے ان کے تعلّق خاطر بلکہ محبّت کا یہ عالم ہے کہ انھوں نے اِس زمانے میں اُردو میں ایم اے کیا جب اُردو پر معاشی دروازے بند ہو چُکے تھے۔ انھوں نے اُردو کے ساتھ فارسی میں بھی ایم اے کیا۔ یہ ان کا شوق ہی تھا کہ جو انھیں حصول علم کے لیے مختلف زبانوں کے کوچے میں لئے پھر رہا تھا۔ اِس طرح وہ صرف ذو لسانی نہیں بلکہ پنج لسانی ہیں کہ وہ ہندی، سنسکرت، انگریزی کا علم بھی رکھتے ہیں جو ان کی انفرادیت کی ایک پہچان ہے"

 عنبر بہرائچی صاحب ہوں رقم طراز ہیں۔ "میرا ذاتی خیال ہے کہ غزلوں کے ساتھ رباعی کے ضمن میں اردو تنقید انھیں فراموش نہیں کرے گی، میں انھیں مستقبل میں ان کی تخلیقی کاوشوں میں اور زیادہ برگ و بار لہلہانے کی بشارت دیتا ہوں"

راقم الحروف کی ذاتی رائے ہے کہ سنجے مصرا شوق کی شاعری میں قدیم و جدید کا خوبصورت امتزاج ہے۔ اُن کی فکر بلیغ ہے۔ امید ہے کہ ان کا تخلیقی عمل بدستور جاری رہے گا۔

قلم کی روانی میں اضافہ ہوگا۔ رباعیات کا مجموعہ منظر عام پر آئے گا اور فکرو احساس کی روشنی چہار سمت بکھرے گی۔

خدا کرے کہ یہ سورج کبھی غروب نہ ہو۔

از۔ضیا تقوی، لکھنؤ، انڈیا

فون رابطہ

9451134187

Abdul Jabbar Alimi

عبدالجبار علیمی نظامی نیپالی۔

چیف ایڈیٹر نیپال اردو ٹائمز 8795979383