اسلام اور عقل و فکر کی دعوت: علم و حکمت کی روشنی میں
محمد سیف رضا الأزهري
اسلام صرف ایک مذہب نہیں، بلکہ ایک مکمل ضابطۂ حیات ہے جو انسان کو غور و فکر، علم و حکمت، اور سائنسی تحقیق کی دعوت دیتا ہے۔ قرآن و حدیث میں جابجا انسانوں کو کائنات کی نشانیوں پر تدبر کرنے، عقل و منطق کو بروئے کار لانے، اور جہل و توہمات سے دور رہنے کی تلقین کی گئی ہے۔ اسلام کی یہ روشن تعلیمات ہر دور کے مسائل کا حل پیش کرتی ہیں اور انسانیت کو ترقی کی راہ پر گامزن کرتی ہیں۔ -
قرآن کریم کی دعوتِ تفکر
اللہ تعالیٰ نے قرآن پاک میں متعدد مقامات پر انسانوں کو کائنات میں غور و فکر کرنے کی دعوت دی ہے۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
﴿أَفَلَمْ يَنظُرُوا إِلَى السَّمَاءِ فَوْقَهُمْ كَيْفَ بَنَيْنَاهَا وَزَيَّنَّاهَا وَمَا لَهَا مِن فُرُوجٍ﴾
"کیا انہوں نے اپنے اوپر آسمان کی طرف نہیں دیکھا کہ ہم نے اسے کیسے بنایا اور سجایا اور اس میں کوئی شگاف نہیں؟" (سورۃ ق: 6)
اسی طرح دوسری جگہ فرمایا:
﴿أَفَلَا يَنظُرُونَ إِلَى الْإِبِلِ كَيْفَ خُلِقَتْ﴾
"کیا وہ اونٹ کو نہیں دیکھتے کہ وہ کیسے پیدا کیا گیا؟" (سورۃ الغاشیہ: 17)
قرآن کریم میں بار بار "أَفَلَا تَعْقِلُونَ" (کیا تم عقل نہیں رکھتے؟)، "أَفَلَا تَتَذَكَّرُونَ" (کیا تم نصیحت نہیں پکڑتے؟)، اور "أَفَلَا تَتَدَبَّرُونَ" (کیا تم غور نہیں کرتے؟) جیسے الفاظ استعمال کیے گئے ہیں، جو واضح طور پر عقل ۔ و فکر کی اہمیت کو اجاگر کرتے ہیں حدیث نبویﷺ اور عقل و علم کی اہمیت
نبی کریم ﷺ نے بھی علم و حکمت کی ترغیب دی اور جہالت و تقلیدِ اعمیٰ (اندھی تقلید) سے منع فرمایا۔ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا:
"لَا تَكُونُوا إِمَّعَةً"
"اندھے پیروکار نہ بنو، بغیر سوچے سمجھے کسی کی بات کو قبول نہ کرو۔"
یہ حدیث ہمیں تعلیم دیتی ہے کہ ہر بات کو پرکھ کر، دلیل و برہان کی روشنی میں قبول کیا جائے۔ اسی طرح آپ ﷺ نے توہمات اور بے بنیاد رسوم و رواج کی مذمت فرمائی۔ جب آپ ﷺ کے صاحبزادے حضرت ابراہیمؓ کی وفات پر سورج گرہن لگا تو بعض لوگوں نے کہا کہ یہ آپ کے بیٹے کے غم میں ہوا ہے۔ آپ ﷺ نے فوراً اس خیال کی تردید کرتے ہوئے فرمایا:
"إِنَّ الشَّمْسَ وَالْقَمَرَ آيَتَانِ مِنْ آيَاتِ اللَّهِ لَا يَنْكَسِفَانِ لِمَوْتِ أَحَدٍ وَلَا لِحَيَاتِهِ"
"سورج اور چاند اللہ کی نشانیاں ہیں، یہ کسی کی موت یا زندگی کی وجہ سے گرہن نہیں لگتے۔" (صحیح بخاری)
اسلامی تہذیب اور سائنسی ترقی
تاریخ گواہ ہے کہ جب مسلمانوں نے قرآن و سنت کی تعلیمات پر عمل کیا تو وہ علم و حکمت کے میدان میں دنیا کے امام بن گئے۔ مسلم سائنسدانوں، فلسفیوں اور مفکرین نے طب، فلکیات، ریاضی، کیمیا اور دیگر علوم میں ناقابل فراموش کارنامے انجام دیے۔
- ابن سینا نے طب کے شعبے میں "القانون فی الطب" جیسی عظیم کتاب لکھی جو صدیوں تک یورپ کے میڈیکل کالجوں میں پڑھائی جاتی رہی۔
- ابن الہیثم نے روشنی اور بصریات پر تحقیق کر کے جدید آپٹکس کی بنیاد رکھی۔
- الخوارزمی نے الجبرا کو متعارف کرایا اور ریاضی کو نئی جہت دی۔ - ابن رشد جیسے فلسفیوں نے عقل و نقل کے درمیان ہم آہنگی قائم کی اور کہا: "شریعت نے عقل کے ذریعے کائنات میں غور و فکر کرنے کو واجب کیا ہے۔"
یہ تمام حضرات قرآن و حدیث کی تعلیمات سے متاثر تھے، جنہوں نے علم کو اللہ کی نشانی سمجھ کر اس میں گہرائی سے تحقیق کی۔
توہمات اور جہالت سے آزادی
اسلام نے ہمیشہ توہمات، جادو، ٹونے ٹوٹکوں اور بے سند روایات کی مخالفت کی ہے۔ قرآن پاک میں مشرکین مکہ کا ایک قول نقل کیا گیا:
﴿حَسْبُنَا مَا وَجَدْنَا عَلَيْهِ آبَاءَنَا﴾ "ہمیں وہی کافی ہے جس پر ہم نے اپنے باپ دادا کو پایا۔" (سورۃ المائدہ: 104)
یہ رویہ اسلام میں قابل مذمت ہے، کیونکہ یہ عقل و فکر کے بجائے اندھی تقلید پر مبنی ہے۔ اسلام چاہتا ہے کہ انسان ہر بات کو دلیل کی کسوٹی پر پرکھے، سائنسی حقائق کو سمجھے اور کائنات کے اسرار کو جاننے کی کوشش کرے۔
نتیجہ اور پیغام
اسلام ایک متوازن دین ہے جو ایمان اور عقل، وحی اور سائنس کے درمیان مکمل ہم آہنگی قائم کرتا ہے۔ ہمارا فرض ہے کہ ہم:
1. قرآن و حدیث کی تعلیمات کو سمجھیں۔
2. علم و تحقیق کو اپنا شعار بنائیں۔
3. توہمات اور جہالت سے دور رہیں۔
4. کائنات کی نشانیوں پر غور کریں اور اللہ کی عظمت کو پہچانیں۔
آئیے! ہم اسلام کی اس روشن تعلیم کو اپنائیں اور علم و حکمت کی راہ پر چلتے ہوئے اپنی دنیا و آخرت کو سنواریں۔
محمد سیف رضا الأزهري
