Feb 7, 2026 11:06 AM Asia/Kathmandu
ہمیں فالو کریں:
حضور مجدد برکاتیت اور آپ کی اولاد پاک

حضور مجدد برکاتیت اور آپ کی اولاد پاک

13 Nov 2025
1 min read

حضور مجدد برکاتیت اور آپ کی اولاد پاک

رشحات قلم: محمد ارشد القادری مصباحی، متعلم شعبہ صحافت و ترسیل عامہ مانو حیدرآباد

خاندان برکات کی بکھرتی روایات کو سنبھالنے والے مجدد برکاتیت حضور سید شاہ ابو القاسم محمد اسمٰعیل حسن قادری برکاتی شاہ جی میاں قدس سرہ کی ولادت مبارکہ ٣/محرم الحرام ١٢٧٢ھ کو مارہرہ مطہرہ میں ہوئی۔ بڑے دادا حضرت سید شاہ آل رسول احمدی نے کنیت ابوالقاسم اور لقب شاہ جی تجویز فرمایا۔ آپ کے نانا سید شاہ غلام محی الدین امیر عالم نے سید اسمعیل حسن نام رکھا۔ اہل سلسلہ کے درمیان بعد میں حاجی میاں کی عرفیت سے مشہور ہوۓ۔

(تاریخ خاندان برکات:ص،٥٧ مطبوعہ برکاتی پبلشرز کراچی،صاحب عرس قاسمی، از: علامہ ساحل شہسرامی،ص٩ مطبوعہ دارالاشاعت برکاتی مارہرہ)

*خاندانی پس منظر:*

آپ کے جد اعلی سید علی عراقی رضی اللہ عنہ ترک وطن کرکے قریہ واسطہ میں تشریف لاکر قیام پذیر ہوئے۔ یہ قریہ عراق عجم اور عراق عرب کے درمیان واقع ہے۔

حضرت علی عراقی کے اخفاد سے حضرت ابو الفرح واسطی اپنے چار صاحبزادوں کے ساتھ سلطان غزنوی کے زمانہ میں واسطہ سے غزنیٰ تشریف لائے۔ ان میں سے ایک صاحبزادے سید ابو فراس ہیں جو سادات بلگرام کہلاتے ہیں۔ سید ابو الفرح تو کچھ عرصہ بعد ایک صاحبزادے کے ہمراہ واسطہ واپس تشریف لے گئے اور بقیہ تین صاحبزادوں نے ہندوستان کا قصد فرمایا۔ سید ابو فراس نے جاجیز میں اقامت اختیار فرمائی ان ہی کے اخفاد میں سے حضرت سید محمد صغریٰ رحمۃ اللہ علیہ ہیں جنھوں نے سلطان شمس الدین التمش کے ایما پر راجہ بلگرام سے جہاد کیا اور اس کے قتل کے بعد ٦١٤ھ میں فتح پائی۔ سلطان شمس الدین نے اس فتح کی خوشی میں بلگرام کا وسیع علاقہ حضرت کی جاگیر میں دے دیا۔ بلگرام کا اصل نام پہلے(سری) تھا حضرت نے تبدیل فرماکر اس کا نام بلگرام رکھا اس وقت سے حضرت کا خاندان حضرت سید میر عبد الواحد بلگرامی رحمۃ اللہ علیہ تک بلگرام میں رہا اس کے بعد حضرت میر عبدالواحد بلگرامی کے بڑے صاحبزادے حضرت سید شاہ میر عبد الجلیل (م١٠٥٧ھ) ١٠١٧ھ میں مارہرہ شریف تشریف لائے اور اسے آباد فرمایا۔ اس وقت سے آج تک سید شاہ میر عبد الجلیل کی اولاد مارہرہ شریف میں ہے۔

(ماہنامہ اشرفیہ ٢٠٠٢سیدین نمبر،ص:٢٧٨، تاج العلما، ص،٨،٩ مطبوعہ کراچی) 

حضرت میر عبد الجلیل کے فرزند خورد حضرت سید شاہ اویس (م١٠٩٧ھ) تھے۔ اور ان کے فرزند اکبر صاحب البرکات حضرت سید شاہ برکت اللہ مارہروی (م١١٤٢) ہیں جن کی نسبت سے سلسلہ قادریہ برکاتیہ رواں دواں ہے۔ 

امید ہے قارئین کرام باآسانی یہاں تک پہنچ گئے ہوں گے اب آپ کی تفہیم بلیغ کے لیے مزید بتاتے چلے کہ حضور مجدد برکاتیت کا صاحب سلسلہ حضور برکت اللہ صاحب تک سلسلہ نسب کی تفصیل کچھ یوں ہے۔ حضرت سید شاہ ابوالقاسم محمد اسماعیل حسن بن سید محمد صادق بن سید شاہ آل برکات ستھرے میاں بن حضرت سید شاہ حمزہ بن حضرت سید شاہ آل محمد بن سید شاہ صاحب البرکات سید برکت اللہ صاحب پھر اسی طرح ہوتے ہوئے حضرت قاسم البرکات قدس سرہ کا سلسلہ نسب تقریباً ٤٤ واسطوں سے حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے مل جاتا ہے۔

*عائلی زندگی:*

صاحب عرس قاسمی حضرت ابوالقاسم کا عقد مسنون آپ کے حقیقی ماموں زاد بہن سیدہ منظور فاطمہ بنت سید نور المصطفی ابن سید غلام محی الدین امیر عالم کے ہمراہ ہوا جن سے دو صاحبزادے سید غلام محی الدین فقیر عالم و تاج العلما سید اولاد رسول فخر عالم محمد میاں اور چار صاحبزادیاں تولد ہوئیں۔

زاہد فاطمہ، اعجاز فاطمہ، حمیرا خاتون رضیہ بیگم اور اکرام فاطمہ۔ چھوٹی صاحبزادی اکرام فاطمہ شہر بانو حضرت سید العلما اور حضرت احسن العلما کی والدہ ماجدہ ہیں۔

(صاحب عرس قاسمی: مصنف، علامہ ساحل شہسرامی، ص ١٥، تاریخ خاندان برکات)

عنقریب ہم تمام اولاد پاک کو بالتفصیل بیان کریں گے قبل اس کے کہ صاحب عرس قاسمی پر کچھ روشنی ڈال دی جائے۔

صاحب عرس قاسمی بلند کردار، نیک طبیعت، دیندار، اور انتہائی متقی و پرہیزگار تھے۔ آپ کی پوری زندگی عبادت الہٰی اور عشق رسالت سے عبارت تھی۔ سادہ طبیعت، باحوصلہ، پُرخلوص اور ہمدرد بزرگ تھے۔ فکری ژولیدہ آپ کو چھو کر بھی نہیں گزرتی تھی۔ علم پروری، صاف معاملی، جرأت مندی، کنبہ پروری، اور خاندانی روایات کو اخلاف تک پہنچانے میں خصوصی دلچسپی رکھتے تھے۔ دنیاوی رعب بالکل قبول نہ کرتے تھے۔ صحت اچھی تھی۔ دراز قد، گندمی رنگ، ستواں باریک ناک، باریک لب، خوبصورت چھوٹے دانت اور شانہ کشادہ تھا۔ شمشیر زنی، گھوڑ سواری اور تیرا کی میں ماہر تھے۔ ایسے بہترین پیراک تھے کہ بڑے گھر کے شہتیر سیتا پور سے ندیوں میں تیرا کے لائے تھے۔ آثار و تبرکات سے خصوصی دلچسپی تھی۔ ۳۰۰ھ میں حج بیت اللہ سے مشرف ہو کر جب واپس تشریف لائے تو مدینہ طیبہ سے عجوا کھجور کا بیچ ساتھ لائے اور حویلی کے صحن میں لگایا۔ کھجور کا یہ مبارک درخت آج بھی موجود ہے، جس کی عمر۱٢٦برس ہو چکی ہے۔ آپ کی حوصلہ مندانہ غیرت، جبلی شجاعت اور ہمدردانہ طبیعت و سخاوت کے واقعات سے کتب میں بھرمار لگے ہیں۔ 

دین و سنیت پر استقامت، اکابرین کی روایات کا احترام و تحفظ، اعتدال فکر، ثبات عمل آپ کی بنیادی خوبیاں تھیں۔ آپ صورتاً سیرتاً بزرگان سلف کا نمونہ اور زہد و اتقا میں اکابرین برکاتیہ کی سچی تصویر تھے۔ آپ نے خاندان برکات کی دیرینہ روایات کو برقرار رکھا اور اس کی تجدید و احیا کا جو سلسلہ شروع فرمایا تھا آپ کے چھوٹے صاحبزادے تاج العلما نے اپنے علمی اور تربیتی سطح پر تفشی بخش حد تک اس کی تکمیل فرما دی ہے۔ 

سلسلہ وار اب آپ کی اولاد پاک کا ذکر کیا جاتا ہے۔

(١) آپ صاحب عرس ابوالقاسم کے بڑے صاحبزادے ہیں۔ نام مبارک غلام محی الدین عرف فقیر عالم لقب ثابت حسن تھا۔ اور ایک دوسرا نام غلام حمید الدین بھی تھا۔ یہ سب آپ کے والد ماجد مرشد برحق سیدنا شاہ ابو القاسم شاہ جی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے رکھے تھے۔ آپ کی ولادت شریف ٤ ربیع الآخر شریف ١٣٠٢ھ بوقت شب چہار شنبہ مارہرہ میں آپ کے حضرات اب وجد کریمین رضی اللہ تعالیٰ عنہما کی تعمیر فرمائی ہوئی محل سرائے خانقاہ برکاتی دیوان خانہ حضرت جد اعلى برکات ثانی سید شاہ حقانی قدس سرہ العزیز النورانی میں ہوئی۔(صاحب عرس قاسمی،ص،١٥)

*پرورش:*

 بچپن میں اپنی جدہ ماجدہ اور والدہ ماجدہ کے آغوش شفقت میں پرورش پائی۔ اور خانقاہ برکاتی کی خادمہ مسماۃ مخمل ایاّ مرحومہ نے اور مارہرہ کے شرفا میں سے بنت الفاطمہ دختر چودھری مومن علی خان کمبوہ نے آپ کو کچھ دنوں تک دودھ پلایا۔

*ابتدائی تعلیم و تربیت:*

رسم تسمیہ خوانی حضرت سیدی جد امجد بقیۃ الاسلاف حجۃ الاخلاف حضرت شاه محمد صادق تاجدار مسند قادری برکاتی قدس سرہ العزیز نے ادا فرمائی۔ قاعدہ بغدادی اور قرآن مجید حفظ ڈیڑھ پارہ تک حافظ عبد الحفیظ صاحب خلف استاذی حافظ عبد الکریم صاحب ملک پوری مرحومین نے پڑھایا۔ باقی تمام قرآن مجید برعایت قواعد تجوید استاذ محترم حافظ شاہ عبد الکریم صاحب قادری برکاتی آل رسول ملک پوری مرحوم و مغفور نے حفظ کرایا۔ بارہ برس کے سن میں حضرت مکمل قرآن کے حافظ ہو گئے۔ ( ماہنامہ اہلسنت کی آواز ٢٠١٠، خصوصی شمارہ: اکابر مارہرہ)

*اعلی تعلیم:*

دوران حفظ قرآن مجید ہی در سیات مروجہ فارسی کی تکمیل اور مشق خوش نویسی منشی فرزند حسن صاحب پالوی مہتم مطبع صبح صادق سیتا پور اور ان کے بڑے بھائی منشی آل حسن صاحب پالوی سے کی۔ یہ دونوں بالخصوص منشی آل حسن صاحب اپنے وقت کے مشہور خطاط اور خوش نویسیوں کے استاد تھے۔

ختم قرآن مجید کے بعد آپ نے حضرت مولانا سیدنا فخر العلما، افتخار العرفا علامہ مفتی الشاہ تاج الفحول محب الرسول مظہر حق عبد القادر صاحب بدایونی قادری برکاتی مجیدی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے میزان الصرف شروع فرمائی اور پھر صرف ونحو عربی کی تکمیل اپنے والد ماجد مرشد برحق قدس سره نیز مولوی محب احمد صاحب بدایونی سے کی۔ اور فقہ، منطق، فلسفہ اور علم معانی، علم بیان و عقائد کے مختصرات اور متوسطات درسیات مروجہ مولوی حافظ حیکم محمد امیر اللہ صاحب بریلوی سے پڑھیں۔ 

(مسائل امامت بنام رسالہ مباحث امامت،ص ٦ مطبوعہ مشہور آفسٹ کراچی) 

اس تحصیل علم کے دوران آپ اپنے والد ماجد حضورابوالقاسم اور استاذ گرامی مولوی امیر اللہ بریلوی کے ہمراہ پٹنہ میں (مدرسہ اہلسنت) پٹنہ کے عظیم الشان جلسہ میں جو بسلسلہ امتحان طلبہ مدرسہ رجب المرجب ١٣١٨ھ میں ہوا تھا، جس میں بکثرت علما نے شرکت کی تھی حاضر ہوۓ اور مصری لہجہ میں آیات قرآنی پڑھ کر سامعین کے دل جیت لیے۔ دیکھیں.......(روداد بنام دربار حق و ہدایت، ص،١٤) 

*تعلیم خاندانی:*

خاندانی تعلیم و تربیت والد ماجد حضور سید شاہ محمد اسماعیل حسن قادری برکاتی سے پائی اور آپ ہی کے دست حق پرست پر سلسلہ قادریہ برکاتیہ کالپویہ میں شرف بیعت سے اپنے داداجان سید شاہ محمد صادق کے چہلم شریف کے دن ٤ ذی الحجہ ١٣٢٦ھ مطابق ٢٨دسمبر ١٩٠٨ بروز دوشنبہ بوقت عصر یہاں کی حویلی سجاد کی قدیم خاندانی میں مشرف ہوئے۔ اور والد محترم مرشد برحق سے تمام اوراد و وظائف کی اجازت عامہ و خاصہ پائی۔ اور اپنی والدہ کے حقیقی ماموں نانا قبلہ و کعبہ سید ابو الحسین احمد نوری میاں علیہ الرحمہ سے بھی جملہ سلاسل و جمیع اوراد و اشغال و اذکار و اسناد و احادیث و مصافحات وغیرہا برکات سے اجازت و خلافت پائی۔ پھر حضور سید شاہ ابو الحسین احمد نوری نے ایک خلافت نامہ اپنے دست مبارک سے لکھا۔ دیکھیں خلافت نامہ:(اہلسنت کی آواز ٢٠١٠ء خصوصی شمارہ: اکابر مارہرہ) 

قارئیں کرام کے علم میں مزید اضافہ کے لیے بتاتا چلوں کہ حضور ابو الحسین احمد نوری وہی پاک ہستی ہیں جن کے دادا شیخ سید شاہ آل رسول مارہروی قدس سرہ کے دست مبارک پر اعلیٰ حضرت علیہ الرحمہ اور آپ کے والد بزرگوار علامہ نقی خاں علیہ الرحمہ نے بیعت کی۔

 آپ ہی کی وہ ذات بابرکات ہے جسے اپنے دادا جان سید آل رسول مارہروی کی جانشینی کا شرف حاصل ہوا۔ (فتنوں کا ظہور،ص،١٦٩)

آپ مرشد برحق حضور مفتی اعظم ہند مولانا مصطفیٰ رضا خاں بریلوی علیہ الرحمہ کے مرشد گرامی ہیں۔

(ماہنامہ استقامت کان پور مفتی اعظم نمبر مئ ١٩٨٣ء) 

حضور مفتی اعظم ہند کی ولادت سے  پہلے ہی آپ کے مرشد برحق حضور سید ابو الحسین احمد نوری میاں نے مارہرہ میں اعلی حضرت کو آپ کے تولد کی بشارت دی تھی اور ولادت کے چھ ماہ بعد بریلی تشریف آوری ہوئی تو بیعت سے نوازا پھر خلافت و اجازت بھی مرحمت فرمائی۔ (مقالات مصباحی، مرتب توفیق احسن برکاتی، ص، ٣٢٤)

*نکاح:*

 ۲۵ شوال المکرم ١٣١٨ ھ میں حضرت غلام محی الدین ابن ابو القاسم محمد اسمٰعیل حسن صاحب کا عقد مسنون حضرت سید شاہ نور احمد بن سید شاہ نور الحسنصاحب مغفور سجادہ نشین سرکار کلاں مارہرہ مطہرہ کی صاحبزادی سعید فاطمہ سے ہوا جو آپ کی حقیقی پھوپھی کی لڑکی ہیں۔ آپ کو کوئی اولاد نہیں ہوئی۔

(تاریخ خاندان برکات، ص،٥٩)

*تصانیف:* نو عمری سے ہی آپ کو تعلیم و تصنیف کا شغف تھا۔ آپ کی تصانیف میں مباحث امامت، عقائد نامہ منظوم، طرد المبتدعین وغیرہ خاص طور پر قابل ذکر ہیں۔ (صاحب عرس قاسمی، ص١٥)

طرد المبتدعین کو ملاحظہ فرماکر اعلی حضرت نے آپ کے چھوٹے بھائی تاج العلما کو تحریر فرمایا مولوی امجد علی اعظمی نے رسالہ مبارکہ طرد المبتدعین مجھے دے دیا ہے۔ 

سبحان اللہ (ماشاء اللہ) بارک اللہ فیکم و علیکم ولکن وبکم.

فقیر احمد رضا قادری عفی عنہ 

٢١(ذی الحجہ ١٣٣٧ھ)

ان رسائل کے علاوہ مشہور شعر نعت شریف”یا حبیبی سیدی روحی فداک الی آخرہ“ پر اُردو میں ایک مختصر تضمین رسالہ مبارکہ ماہنامہ اہلسنت کی آواز میں مطبوع ہے۔ اس کے علاوہ ایک مکتوب رد قادیانی اور ایک بعض نامہربان عزیزوں کے جواب میں اور ایک ترک اسلام دھرم پال آریہ کے رد میں اور کئی اور تحریرات حمایت دین متین میں ہیں جو ابھی قلمی صورت میں غیر مطبوع ہیں۔

(رسالہ مباحث امامت)

*حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا دیدار:*

١٣٢٩ھ کے آخر میں وزیر صاحب ریاست خیر پور سندھ سے آپ کی پہلی ملاقات ہوئی۔ انہوں خاندان برکاتیہ کو خوب سراہا اور خوشخبری سنائی کہ وہ اپنے وطن انبیٹھ میں ایک مدرسہ قائم کئے ہوئے ہیں مگر اس کا انتظام درست نہیں ہو پاتا اگر آپ توجہ فرمائیں گے تو درست ہوجائے گا۔ آپ نے والد گرامی کی اجازت لےکر انبیٹھ کا سفر فرمایا اسی دوران سفر ریل میں حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے دیدار مبارک سے مشرف ہوئے‌۔ قدم مبارک بوسہ لےکر عرض کیا:

”حضور میں بہت گناہگار ہوں اور نگاہ کرم کا امید وار“

 حضور نے ارشاد فرمایا:  ”تم جیسے ہو ہمیں خوب معلوم ہے اب ہمارے پاس چلے آؤ ہمیں تم سے بہت کام لینا ہے۔“

(مباحث امامت: ص،١٢-١٣ و اہلسنت سنت کی آواز ٢٠١٠ء صفحہ: ٢٣٣)

اسی سفر سے آپ کی طبیعت ناساز اور سستی سی جسم میں پیدا ہو گئی۔ بغرض علاج مارہرہ ضلع ایٹہ میں لاۓ گیے، پھر لکھنؤ اور تقریباً پانچ چھ ماہ جوائی ٹولہ کے مشہور حکیم عبد الحفیظ لکھنوی نے علاج کیا مگر طلب تو کسی اور ہی خدمت کے لیے ہوچکی تھی۔ مرض بڑھتا گیا جوں جوں دوا کی۔

*تاریخ وفات:*

 آخر ٢٨/ رمضان المبارک ١٣٣٠ھ بدھ کے دن ظہر کے اول وقت لکھنؤ محلہ کٹرہ مکان محمد بشیر میں آپ نے انتقال فرمایا۔ وہاں سے آپ کا جنازہ مارہرہ شریف لایا گیا۔ بریلی اسٹیشن پر جب جنازہ حضرت کا پہنچا تو اعلیحضرت قدس سرہ العزیز نے اپنے چند رفقا کے ساتھ تشریف لاکر حضور سیدی ابوالقاسم محمد اسماعیل حسن قادری برکاتی سے تعزیت مسنونہ ادا فرمائی۔ وصال پر عربی منظوم تعزیت جو کہ دس عربی اشعار قطعہ پر مشتمل ہے۔ (عقائد نامہ منظوم، صفحہ نمبر ٢٤)

جمعہ شوال المکرم ١٣٣٠ھ صبح صادق کے وقت دالان پائین گنبد درگاہ معلی متصل مزار پاک (اپنے نانا حضرت سید شاہ ابو الحسین احمد نوری میاں صاحب) دفن ہوئے۔(تاریخ خاندان برکات،ص ٥٩)

(٢) حضرت تاج العلما آپ صاحب عرس قاسمی کے چھوٹے صاحبزادے ہیں۔اسم گرامی اولاد رسول ہے اور مشہور محمد میاں سے ہیں۔ آپ کا لقب تاج العلما ہے۔ آپ کی ولادت ٢٣/ رمضان المبارک ١٣٠٩ھ سیتاپور میں آپ کے دادا سید شاہ محمد صادق علیہ الرحمہ کے دولت کدے پر ہوئی۔اولاد رسول فخر عالم محمد پر عقیقہ کیا گیا اور محمد میاں کے نام سے مشہور ہوئے۔ بعض بزرگ ان کو محمد عالم بھی کہتے ہیں اس مناسبت سے کہ آپ کے برادر اکبر غلام محی الدین کو فقیر عالم کہا جاتا تھا۔ (اہلسنت کی آواز ٢٠١٠ء) 

*ابتدائی تعلیم:* درسیات مروجہ مختصرہ فارسی اپنے والد ماجد حضور ابو القاسم اور منشی فرزند حسن صاحب ساکن قصبہ پالی ضلع ہردوئی اور مولوی میاں جی رحمت اللہ مارہروی سے پڑھیں۔ اور اپنے برادر اکبر حضور سید الشاہ غلام محی الدین فقیر عالم سے مشق خط کی‌۔ اور درسیات مروجہ مسائل درس نظامی فقہ، اصول فقہ، منطق، علم معانی و علم بیان و نحو و صرف وغیرہ اپنے والد ماجد، مولوی سید حیدر شاہ صاحب، مولوی شاہ غلام رحمانی، حافظ امیر اللہ بریلوی، مولوی عبدالمقتدر بدایونی سے پڑھیں۔ علم حدیث وغیرہ کی سند خاندانی سلسلہ والد ماجد اور نانا سید ابو الحسین احمد نوری میاں جو آپ کی والدہ ماجدہ کے حقیقی ماموں جان تھے حاصل ہے۔ 

(ماہنامہ اشرفیہ ٢٠٠٢ سیدین نمبر، ص٣٠٥)

آپ نے قرآن مجید اپنے والد ماجد اور برادر معظم سید شاہ غلام محی الدین فقیر عالم اور ہمشیرہ معظمہ اعجاز فاطمہ اہلیہ مہدی حسن صاحب اور جناب استاد مکرم حافظ عبدالکریم صاحب ملکپوری سے حفظ کیا۔ (تاریخ خاندان برکات ،ص،٦٥،٦٦)

آپ کو اعلی حضرت امام احمد رضا خان مجدد بریلوی سے تلمذ رسمی حاصل نہیں پھر بھی اعلی حضرت کو اپنے اکثر اساتذہ سے بہتر اور برتر استاذ جانتے اور مانتے تھے۔ چنانچہ اپنی ایک منقبت میں فرماتے ہیں:

تیری الفت میرے مرشد نے مجھے

دی ہے گھٹی میں پلا احمد رضا

لاکھ حاسد کچھ بکیں لیکن فقیرؔ

تیرا تیرا ہے تیرا أحمد رضا (صاحب عرس قاسمی، از: علامہ ساحل شہسرامی)

*بیعت و خلافت:* اس سلسلہ میں آپ تحریر فرماتے ہیں: کہ فقیر کو والد گرامی سے تمام سلاسل، اوراد و وظائف کی اجازت عامہ حاصل ہوئی اور نانا جان ابو الحسین احمد نوری میاں علیہ الرحمہ سے بھی حاصل ہے۔(تاریخ خاندان برکات)

 

Abdul Jabbar Alimi

عبدالجبار علیمی نظامی نیپالی۔

چیف ایڈیٹر نیپال اردو ٹائمز 8795979383