قربانی ایک عظیم عبادت اور اس کے تقاضے ۔
از قلم:* محمد صادق الاسلام ۔ اتر دیناج پور مغربی بنگال ۔
*متعلم:*(جماعت :خامسہ ) دارالعلوم علیمیہ، جمدا شاہی، یوپی
اسلام کی دو اہم عیدوں میں سے ایک عید " عید قربانی" ہے ذی الحجہ کی دسویں تاریخ کو سارے عالم میں منائی جاتی ہے۔ جسے عربی میں" عیدالاضحیٰ" اور اردو میں عید قربانی کہتے ہیں ۔ یہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کے بیٹے کی قربانی کی عظیم یادگار ہے جسے اللہ رب العزت نے رہتی دنیا تک کے لیے شعائرِ اسلام اور ایک دائمی عبادت بنا دیا ہے۔
*قربانی ہے کیا؟:*
لفظ قربانی کی لغوی تعریف: یہ اردو زبان کا لفظ ہے جو عربی کے لفظ قربان سے ماخوذ ہے، اصل مادہ قرب ہے ، قریب ہونا، یا قریب حاصل کرنا۔
*اصطلاحی میں:*
قربانی اس عبادت کو کہتے ہیں جس میں خاص ایام ١٠,١١٠١٢, ذوالحجہ میں مخصوص جانور کو اللہ تعالیٰ کی رضا کے لئے ذبح کیا جائے ۔
*قربانی کا مقصد:*
قربانی کا اصل مقصد رب العالمین کی رضا ، رب کی خوشنودی اور اس کا قرب حاصل کرنا ہے، اس لیے میرے بھائیو! جب بھی قربانی کرو! تو بالکل بھی اس میں دیکھاوے یا ریاکاری نہیں ہونی چاہیے بلکہ خالص اللہ کی رضا اور ثواب کی نیت سے قربانی کرنا چاہئے گویا قرآن کی زبان میں یوں کہنا چاہیے:
" إِنَّ صَلَاتِي وَنُسُكِي وَمَحْيَايَ وَمَمَاتِي لِله رَبِّ الْعَلَمِينَ " میری نماز اور میری قربانی اور میری زندگی اور میری موت سب اللہ ہی کے لیے ہے جو تمام جہانوں کا رب ہے ۔
*قربانی کیوں کرتے ہیں ؟:*
بندہ مومن کی بندگی کی یہ معراج ہے کہ اسے جس بات کا حکم دیا جائے بلا چوں و چرا اسے بجالائے اور اللہ کا شکر ادا کرے کہ اس نے اسے اپنے حکم پر سر نیا زخم کرنے کی توفیق عطا فرمائی ، یہ تصور حیات ایک عام بندہ مومن کے بارے میں ہے اور جو لوگ اللہ کے محبوب اور منتخب بندے ہیں ، وہ ہر لمحہ اور ہر لہجہ خود کو رضائے مولی کے لیے تیار رکھتے ہیں، خصوصاً حضرات انبیائے کرام علیہم الصلاة والسلام چنانچہ ابوالانبیاء حضرت سیدنا ابراہیم خلیل اللہ علیہ السلام کو جب اللہ تعالیٰ نے اپنی محبت میں مخلص پایا اور انہیں اپنا خلیل بنالیا تو بطور آزمائش حکم دیا کہ اپنے اکلوتے اور پیارے بیٹے حضرت اسماعیل (علیہ السلام ) کو میری راہ میں قربان کرو، اللہ تعالیٰ کا حکم پاتے ہی آپ راضی برضائے الہی ہوگئے اور اپنے بیٹے کو راہ حق میں قربان کرنے میں کچھ دیر نہ فرمایا، رب تعالیٰ نے حضرت ابراہیم علیہ السلام کے اس جذ بہ شکر اور ادائے بندگی کو پسند فرما کر آپ کے درجات و مراتب میں مزید بلندی عطا فرمائی اور آپ کی اس محبوب ادا کو صبح قیامت تک زندہ رکھنے کے لیے آپ کے بعد کی امتوں میں اس کا حکم باقی رکھا، قرآن کریم میں مختلف مقامات پر اس حقیقت کو واضح کیا گیا ہے، ایک مقام پر رب تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے :
"وَ نَادَیْنٰهُ اَنْ یّٰۤاِبْرٰهِیْمُ(104) قَدْ صَدَّقْتَ الرُّءْیَاۚ-اِنَّا كَذٰلِكَ نَجْزِی الْمُحْسِنِیْنَ(105) اِنَّ هٰذَا لَهُوَ الْبَلٰٓؤُا الْمُبِیْنُ(106) وَ فَدَیْنٰهُ بِذِبْحٍ عَظِیْمٍ(107) وَ تَرَكْنَا عَلَیْهِ فِی الْاٰخِرِیْنَ"(کنز العرفان )
*ترجمہ:*اور ہم نے اسے ندا فرمائی کہ اے ابراہیم!۔ بیشک تو نے خواب سچ کردیکھایا ہم نیکی کرنے والوں کو ایسا ہی صلہ دیتے ہیں ۔ بیشک یہ ضرور کھلی آزمائش تھی۔ اور ہم نے اسماعیل کے فدیے میں ایک بڑا ذبیحہ دیدیا۔ اور ہم نے بعد والوں میں اس کی تعریف باقی رکھی۔
مذکورہ بالا آیت مبارکہ سے معلوم ہوا کہ قربانی ابوالانبیاء حضرت سیدنا ابراہیم خلیل اللہ علیہ الصلوۃ والسلام کی محبوب یادگار ہے جو امت محمدیہ ( علی صاحبھا الصلوۃ والسلام ) میں باقی رکھی گئی ہے، اسی عظیم یادگار کو قائم رکھنے اور اللہ کے حکم سے حضرت سید نا ابراہیم خلیل اللہ علیہ السلام کی سنت پر عمل پیرا ہونے کے لیے ہم قربانی کرتے ہیں اور صبح قیامت تک اہل ایمان قربانی کرتے رہیں گے۔
*قربانی کا شرعی حکم:*
قربانی کبھی واجب ہوتی ہے ، کبھی سنت ہوتی ہے، کبھی نفل ہوتی ہے، کبھی مستحب ہوتی ہے ۔
*قربانی کس پر واجب ہے؟:*
قربانی ہر وہ مسلمان مرد عورت پر واجب ہے ، جو عاقل ہو ، بالغ ہو ، مقیم ہو ، اور مالک نصاب ہو۔
*قربانی کب سنت ہوتی ہے؟:*
قربانی سنت مؤکدہ اس شخص پر ہوتی ہے ،جس پر قربانی واجب نہ ہو ، لیکن پھر بھی وہ قربانی کرے۔
*قربانی کب نفل ہوتی ہے؟:*
اگر کوئی شخص قربانی کی نیت سے جانور خریدے ، اور وہ شرعی طور پر قربانی کا مکلف نہ ہو پھر بھی قربانی کریں ۔ یا کوئی شخص اپنے مرحوم والدین یا رشتے داروں کے لے کرائے۔
*قربانی مستحب کب ہوتی ہے؟:*
اگر کسی شخص پر قربانی واجب نہ ہو بلکہ سنت ہو تبھی وہ رب ذوالجلال کی رضا کے لئے قربانی کرنے تب یہ عمل مستحب ہے۔
*قربانی کے فوائد و برکات:*
جب آپ کی قربانی خالص اللہ تعالیٰ کی رضا کے لیے ہوگی ، اور خوش دلی کے ساتھ ہوگی تو پھر ایسی قربانی کی قبولیت کا عالم یہ ہوگا کہ جیسے ہی آپ کی قربانی کے جانور کا خون اس کی رگوں سے نکلے گا زمین پر گرنے سے پہلے ہی آپ کی قربانی قبول ہو چکی ہوگی سبحان اللہ! اور ایسی قربانی کا فائدہ آپ کو دنیا میں بھی ملے گا اور آخرت میں بھی ملے گا چناں چہ حدیث پاک میں آیا حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالی عنہا بیان کرتی ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا :
مَا عَمِلَ ابْنُ آدَمَ مِنْ عَمَلٍ يَوْمَ النَّحْرِ أَحَبَّ إِلَى اللَّهِ مِنْ إِهْرَاقِ اللَّهِ وَإِنَّهُ بَرَاقِ اللَّهِ وَإِنَّهُ بَرَاقِهُ لَيُؤْتَى يَوْمَ الْقَامِهُ لَيُؤْتَى وَأَشْعَارِهَا وَأَخْلَافِهَا وَإِنَّ اللَّهَ لَيَقَعُ مِنَ الله بمكان قبل أن يقع بِالْأَرْض فيطبوا بها نفسا ۔ ( پیغامِ عید الاضحی ۔
بحوالہ مشکاة المصالح۔)
انسان بقر عید کے دن کوئی ایسی نیکی نہیں کرتا جو خون بہانے سے خدا کو زیادہ پیاری ہو، یہ قربانی قیامت میں اپنے سینگوں بالوں اور کھروں کے ساتھ آئے گی اور خون زمین پر گرنے سے پہلے اللہ کے ہاں قبول ہو جاتا ہے لہذا خوش دلی سے قربانی کرو۔
اس حدیث سے یہ بھی معلوم ہوا کہ عید الاضحٰی کے دن نیکیوں میں سب سے پیاری نیکی قربانی کرنا ہے۔ اس لیے قربانی کی اسلام مذہب میں بہت ہی زیادہ اہمیت ہے یہاں تک کہ حدیث پاک میں آیا نبی کریم ﷺ نے ارشاد فر مایا:
یا مَنْ كَانَ لَهُ سَعَةٌ وَلَمْ يُضَحَ فَلَا يَقْرَبَنَ مصلانا، جس شخص میں قربانی کرنے کی وسعت ہو پھر بھی وہ قربانی نہ کرے تو وہ ہماری عید گاہ کے قریب نہ آئے ۔ *حاصل گفتگو:* قربانی ایک عظیم الشان عبادت اور شعائرِ اسلام میں سے ہے، جو ہمیں حضرت ابراہیم علیہ السلام اور( ذبیح اللہ )حضرت اسماعیل علیہ السلام کی عظیم قربانی اور اطاعتِ الہی کی یاد دلاتی ہے۔رب ذوالجلال نے اسے امتِ محمدیہ کے لیے ایک دائمی سنت اور تقرب کا ذریعہ بنا دیا ہے، جیسا کہ ارشادِ باری تعالیٰ ہے: "فَصَلِّ لِرَبِّكَ وَانْحَرْ" (الکوثر) ترجمہ: پس اپنے رب کے لیے نماز پڑھو اور قربانی کرو۔ احادیثِ مبارکہ کی روشنی میں قربانی کے جانور کے ہر بال کے بدلے نیکی کا وعدہ ہے ، اور عید کے دن اللہ کی راہ میں مال خرچ کرنا رب ذوالجلال کو سب سے زیادہ محبوب ہے۔ لہٰذا ہر صاحبِ نصاب، عاقل اور بالغ مسلمان کو چاہیے کہ وہ محض نام و نمود اور دکھاوے سے بچ کر، خالص اللہ کی رضا کے لیے اس فریضے کو انجام دے۔ یہ عمل نہ صرف آخرت میں نجات کا ذریعہ ہے، بلکہ بارگاہِ الہی میں بندے کی وفاداری کا امتحان بھی ہے۔ ہمیں اور آپ کو اس عظیم کام سے محروم نہیں رہنا چاہیے ۔*از قلم:* محمد صادق الاسلام ۔ اتر دیناج پور مغربی بنگال ۔
*متعلم:*(جماعت :خامسہ ) دارالعلوم علیمیہ، جمدا شاہی، بستی، اترپردیش ۔
