Mar 24, 2026 04:59 PM Asia/Kathmandu
ہمیں فالو کریں:
جہاں بنکر ہیں وہاں خوف ہے، جہاں ایمان ہے وہاں سکون ہے

جہاں بنکر ہیں وہاں خوف ہے، جہاں ایمان ہے وہاں سکون ہے

12 Mar 2026
1 min read

جہاں بنکر ہیں وہاں خوف ہے، جہاں ایمان ہے وہاں سکون ہے

راشد سيف اللہ

     غزہ کا منظر انسان کے دلوں کو ہلا دینے والا ہے، قلب کو جھنجھوڑ دینے والا ہے، چاروں طرف تباہی پھیلی ہوئی ہے، اونچی عمارتیں جو کبھی لوگوں کے گھروں اور زندگیوں کا مرکز تھیں اب ملبے کے ڈھیر بن چکی ہیں، عالیشان عمارتیں دھوست ہوچکی ہیں، دیواریں ٹوٹ کر زمین پر بکھری پڑی ہیں، کہیں چھتیں گری پڑی ہیں، کہیں کھڑکیوں کے فریم مڑے ہوئے لوہے کی طرح باہر لٹک رہے ہیں، سڑکیں جو کبھی لوگوں کی آمد و رفت سے آباد رہتی تھیں اب گرد و غبار اور ٹوٹے پتھروں سے بھری پڑی ہیں، ایسا لگتا ہے جیسے پورا محلہ کسی زبردست طوفان سے گزر کر خاموشی میں ڈوب گیا ہو، نہ بجلی ہے، نہ کھانا میسر، نہ پانی کی سہولت، نہ بازاروں کی رونق، نہ زندگی گزارنے کا بنیادی سامان، نہ گھروں کی وہ زندگی جو کبھی یہاں سانس لیتی تھی، ہر طرف تباہی کی ایک ایسی تصویر ہے جسے دیکھ کر عام انسان کا دل بیٹھ جائے اور وہ خوف اور مایوسی میں ڈوب جائے۔

 

   مگر اسی ملبے کے درمیان ایک عجیب منظر نظر آتا ہے، سڑک کے بیچوں بیچ چند بچے اور نوجوان ایک چھوٹی سی میز اور چند کرسیاں رکھ کر بیٹھے ہوئے ہیں، ان کے سامنے افطار کے لیے معمولی سا کھانا رکھا ہوا ہے، گرد و غبار سے بھری فضا کے درمیان وہ روزہ کھولنے کے لیے جمع ہیں، حیرت کی بات یہ ہے کہ ان کے چہروں پر خوف یا گھبراہٹ نہیں بلکہ ایک عجیب سی مسکراہٹ اور سکون ہے، وہ ایسے بیٹھے ہیں جیسے یہ ٹوٹی ہوئی سڑک ہی ان کا گھر ہو اور یہ ملبہ ہی ان کی دنیا ہو، مگر ان کے دلوں میں زندگی کی حرارت باقی ہے، انسان سوچتا ہے کہ جس جگہ ہر طرف تباہی ہو، جہاں گھر نہ ہوں، سہولتیں نہ ہوں، ہر لمحہ خطرہ ہو، وہاں انسان کے چہرےپر مسکراہٹ کیسے باقی رہ سکتی ہے، مگر شاید اس کا راز مسلمانوں کے اس یقین میں پوشیدہ ہے کہ زندگی اور موت اللہ کے ہاتھ میں ہے اور مصیبتیں ہمیشہ باقی نہیں رہتیں، یہی وجہ ہے کہ جہاں عام حالات میں لوگ ذرا سی آہٹ سے خوفزدہ ہو جاتے ہیں وہاں یہ لوگ بموں کی گرج کے باوجود اپنی زندگی کے معمولات جاری رکھتے ہیں، وہ روزہ بھی رکھتے ہیں، افطار بھی کرتے ہیں اور ایک دوسرے کے ساتھ بیٹھ کر مسکرا بھی لیتے ہیں، گویا ملبے کے اس ڈھیر کے درمیان وہ دنیا کو خاموشی سے یہ پیغام دے رہے ہیں کہ عمارتیں گر سکتی ہیں، سڑکیں ٹوٹ سکتی ہیں، گھر مٹ سکتے ہیں مگر انسان کے دل سے امید اور ایمان کو مٹانا اتنا آسان نہیں ہوتا۔

دوسری طرف ایک بالکل مختلف منظر بھی دنیا کے سامنے آتا ہے، وہاں جدید ترین ٹیکنالوجی ہے، مضبوط دفاعی نظام ہیں، آسمان میں نگرانی کرنے والے آلات ہیں، اور ایسا نظام موجود ہے جسے 

Iron Dome کہا جاتا ہے جو آنے والے 

میزائلوں کو فضا ہی میں روک لینے کی صلاحیت رکھتا  ہے، وہاں مضبوط پناہ گاہیں ہیں، بنکر ہیں، حفاظتی انتظامات ہیں اور ہر طرح کی سائنسی سہولتیں موجود ہیں، مگر اس کے باوجود جیسے ہی خطرے کا سائرن بجتا ہے تو ایک عجیب منظر دیکھنے کو ملتا ہے، سڑکوں پر دوڑ شروع ہو جاتی ہے، مرد ہوں یا عورتیں، بوڑھے ہوں یا جوان، بچے ہوں یا بڑے، سب کے چہروں پر خوف کی ایک جھلک دکھائی دیتی ہے اور لوگ جلدی جلدی بنکروں کی طرف بھاگتے ہیں تاکہ کسی محفوظ جگہ میں پناہ لے سکیں۔

     یوں آخرکار یہ فرق صرف ہتھیاروں یا وسائل کا نہیں بلکہ دل کے یقین اور انسان کے تصورِ حیات کا فرق بن جاتا ہے، ایک طرف وہ لوگ ہیں جو ملبے کے درمیان بھی افطار کر لیتے ہیں اور مسکرا لیتے ہیں، اور دوسری طرف وہ لوگ ہیں جو مضبوط قلعوں اور دفاعی نظاموں کے باوجود ایک سائرن کی آواز سے بنکروں کی طرف دوڑ پڑتے ہیں، شاید یہی وہ لمحہ ہے جہاں انسان سمجھتا ہے کہ اصل طاقت عمارتوں، میزائلوں اور ٹیکنالوجی میں نہیں بلکہ انسان کے دل کے اندر موجود یقین، امید اور ایمان میں ہوتی ہے، اور یہی وہ قوت ہے جو کسی قوم کو خوف کے سایوں میں جینے والی قوم بنانے کے بجائے مصیبتوں کے درمیان بھی زندہ اور باوقار رہنے کا حوصلہ عطا کرتی ہے، سچ کہا تھا حضرت ٹیپو سلطان رح نے "شیر کی ایک دن کی زندگی گیدڑ کے سو سال کی زندگی سے بہتر ہے" الحمد اللہ ہمیں ایمان کی نعمت میسر ہے۔

مدینہ منورہ

 

 

Abdul Jabbar Alimi

عبدالجبار علیمی نظامی نیپالی۔

چیف ایڈیٹر نیپال اردو ٹائمز 8795979383