نوجوان نسل اور سوشل میڈیا کے منفی اثرات
تحریر
ڈاکٹر مولانا محمد عبد السمیع ندوی
اسسٹنٹ پروفیسر، مولانا آزاد کالج آف آرٹس، سائنس اینڈ کامرس، اورنگ آباد
موبائل: 9325217306
جدید دور میں جب ٹیکنالوجی زندگی کے ہر شعبے میں دخیل ہو چکی ہے، سوشل میڈیا نے نوجوان نسل کی سوچ اور طرزِ عمل پر سب سے زیادہ اثر ڈالا ہے۔ آج کے نوجوان صبح آنکھ کھلتے ہی سب سے پہلے موبائل کی اسکرین دیکھتے ہیں اور رات کو سونے سے پہلے بھی اسی کو آخری سرگرمی بناتے ہیں۔ اس مسلسل وابستگی نے ان کی ذہنی، اخلاقی، معاشرتی اور عملی زندگی کو غیر معمولی طور پر متاثر کیا ہے۔ ایسے حالات میں اس موضوع پر سنجیدہ گفتگو ناگزیر ہے تاکہ نئی نسل کو صحیح رہنمائی دی جا سکے۔
نوجوانوں پر اس کا سب سے پہلا اثر ذہنی اور نفسیاتی سطح پر ظاہر ہوتا ہے۔ ہر وقت آن لائن رہنے کا دباؤ، لائکس اور تبصروں کی دوڑ، دوسروں کی زندگیوں سے اپنا موازنہ، اور غیر حقیقی نمائش کا ماحول نوجوانوں کے اندر بے چینی، گھبراہٹ اور احساسِ کمتری پیدا کر رہا ہے۔ وہ اپنے حقیقی حالات کو کم تر سمجھنے لگتے ہیں، جس کی وجہ سے ذہنی تھکن، تنہائی اور کشمکش بڑھ جاتی ہے۔ مسلسل اسکرین استعمال کرنے سے نیند بھیمتاثر ہوتی ہے، جبکہ ذہنی یکسوئی اور فیصلہ کرنے کی صلاحیت کمزور ہوتی چلی جاتی ہے۔
تعلیمی میدان میں بھی سوشل میڈیا کے اثرات نمایاں ہیں۔ مختصر اور تیز رفتار ویڈیوز نے نوجوانوں کی توجہ کی قوت کو کمزور کر دیا ہے۔ سنجیدہ مطالعہ، گہری سوچ اور مستقل محنت ان کے لیے مشکل بنتی جا رہی ہے۔ کتاب سے دلچسپی کم ہو رہی ہے اور علم کے بجائے سطحی معلومات ان کی ذہنی غذا بنتی جا رہی ہیں۔ اس سے نہ صرف ان کی تعلیمی کارکردگی متاثر ہوتی ہے، بلکہ ان کی علمی صلاحیتیں بھی محدود ہوتی چلی جاتی ہیں۔
اخلاقی سطح پر بھی صورتحال تشویش ناک ہے۔ سوشل میڈیا نے نمائش کو ایک عام رویہ بنا دیا ہے۔ نوجوان اپنی روزمرہ زندگی، اپنے جذبات، اپنے خاندان اور حتیٰ کہ اپنی نجی باتوں تک کو دوسروں کے سامنے پیش کرنے لگے ہیں۔ اس سے حیا، سنجیدگی اور وقار جیسے اوصاف کمزور ہوتے جا رہے ہیں۔ غیر ضروری تصویریں، نامناسب مواد، وقت کی فضول خرچی اور شہرت کا شوق اخلاقی بگاڑ کا سبب بنتا جا رہا ہے۔ معاشرتی اقدار متاثر ہو رہی ہیں اور نوجوان اپنی شخصیت کی اصل بنیاد سے دور ہوتے جا رہے ہیں۔
خاندانی زندگی بھی اس دباؤ سے محفوظ نہیں رہی۔ ایک ہی گھر میں رہنے والے افراد ایک دوسرے کے قریب ہونے کے بجائے اسکرینوں کے ذریعے دور ہوتے جا رہے ہیں۔ والدین اور اولاد کے درمیان گفتگو کم ہو گئی ہے، محبت اور قربت کی فضا کمزور پڑ رہی ہے۔ نوجوان اپنے مسائل والدین سے بیان کرنے کے بجائے سوشل میڈیا کے نامعلوم ماحول سے متاثر ہو کر فیصلے کرنے لگتے ہیں۔ اس سے خاندانی نظام کی مضبوطی کو خطرہ لاحق ہو رہا ہے۔
وقت کا ضیاع اس مسئلے کا ایک اور بڑا پہلو ہے۔ نوجوان اپنے قیمتی گھنٹے محض سکرولنگ میں گنوا دیتے ہیں۔ اگر یہی
وقت مطالعہ، ہنر سیکھنے، عبادت، جسمانی سرگرمیوں یا خاندان کے ساتھ بیٹھنے میں لگے تو ان کی زندگی میں حیرت انگیز تبدیلی آ سکتی ہے۔ لیکن سوشل میڈیا کی لت انہیں مفید سرگرمیوں سے دور اور بے مقصد مصروفیات میں الجھا دیتی ہے۔
اس صورتحال میں نوجوانوں کے لیے ضروری ہے کہ وہ سوشل میڈیا کے استعمال میں اعتدال پیدا کریں۔ وقت کی پابندی کریں، غیر ضروری مواد سے بچیں، مطالعہ کا معمول بنائیں، گھریلو تعلقات کو مضبوط کریں، اور اپنی زندگی کے مقصد کو پہچان کر اس کے مطابق اپنے اوقات اور سرگرمیوں کو ترتیب دیں۔ مقصدِ زندگی کا شعور جب بیدار ہوتا ہے تو انسان خود بخود فضول چیزوں سے دور اور مفید سرگرمیوں کی طرف متوجہ ہو جاتا ہے۔
والدین اور معاشرے کی ذمہ داری بھی کم نہیں ہوتی۔ والدین کو چاہیے کہ وہ بچوں کے ساتھ محبت اور اعتماد کا ماحول قائم کریں، ان کے ساتھ وقت گزاریں، ان کی دلچسپیوں کو سمجھیں اور انہیں مثبت راستے دکھائیں۔ اساتذہ اور علماء کو بھی اس مسئلے پر رہنمائی دینی چاہیے۔ مدارس، اسکولوں اور مساجد میں اس موضوع پر بیداری پیدا کی جائے تاکہ نوجوان اپنی زندگی کو بہتر راستے پر ڈال سکیں۔
آخر میں یہ حقیقت تسلیم کرنا ہوگی کہ سوشل میڈیا سے دور رہنا ممکن نہیں، لیکن اس کے نقصانات سے بچنا ممکن ہے۔ اگر نوجوان نسل کو صحیح سمت دکھا دی جائے تو یہی ٹیکنالوجی فائدہ بھی دے سکتی ہے، لیکن اگر اس کا استعمال بے راہ روی کے ساتھ جاری رہا تو ذہن، اخلاق، خاندان اور مستقبل سب خطرے میں پڑ سکتے ہیں۔ نوجوانوں کو چاہیے کہ وہ اسے اپنا آقا نہ بنائیں بلکہ اسے اپنی ضرورت تک محدود رکھیں اور اپنی اصل زندگی کی قدر کریں۔
مضمون نگار کا تعارف
ڈاکٹر محمد عبد السمیع ندوی
معروف معلم، محقق، خطیب اور سماجی رہنما۔
اسسٹنٹ پروفیسر، مولانا آزاد کالج آف آرٹس، سائنس اینڈ کامرس، روضہ باغ، اورنگ آباد۔
اصلاحِ معاشرہ، تعلیم و تربیت، دینی و ادبی تحریروں، عربی و اسلامیات اور علمی رہنمائی کے میدان میں ممتاز مقام رکھتے ہیں۔
موبائل: 9325217306
