Feb 7, 2026 10:48 AM Asia/Kathmandu
ہمیں فالو کریں:
حضور فقیہ ملت اور شریعت کی پاسداری

حضور فقیہ ملت اور شریعت کی پاسداری

21 Nov 2025
1 min read

حضور فقیہ ملت اور شریعت کی پاسداری

محمد مشاہد رضا مصباحی، فیض آباد مرکز تربیت افتا، اوجھاگنج، بستی، یو پی۔

گزشتہ صدی میں جن علمائے اہل سنت نے اپنے کردار و عمل کے ذریعے عوام اہل سنت کے درمیان انقلاب پیدا کرنے کا کام کیا ہے ان میں ایک درخشندہ نام فقیہ ملت مفتی جلال الدین احمد امجدی دامت فیوضہم کا بھی ہے، فقیہ ملت علیہ الرحمہ اپنی پوری زندگی خدمت دین کے لیے وقف کر کے اپنے حسن کرادر سے لوگوں کو دہلیز خدا سے وابستہ کرنے کا کام کرتے رہے۔ یوں تو فقیہ ملت کثیر الجہات شخصیت کا نام ہے، جہاں آپ بالغ نظر مفتی، نکتہ رس خطیب، صاحب طرز انشا پرداز تھے وہیں آپ وقت کے انتہائی قدرداں اور شریعت مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم پر سختی کے ساتھ عمل کرنے والے تھے۔ یہی شریعت کا پاس و لحاظ آپ کی ذات ستودہ صفات کا نمایاں وصف شمار کیا جاتا ہے یہی وجہ ہے کہ آپ شریعت کے معاملے میں ادنی کوتاہی اور کسی قسم کی بے راہ روی برداشت نہ کرتے تھے، سفر و حضر میں نماز کی پابندی، گھر اور باہر ہر جگہ سب کو شریعت پر عمل کرنے کی تلقین، بلا خوف و خطر حق بات کا اظہار کرنا ہمیں بتاتا ہے کہ پابندیِ شرع آپ کی سیرت طیبہ کا اہم رخ تھا۔

دنیا اور دنیا والوں کے نزدیک انسان کے مہتم بالشان اور عظیم ہونے کے مختلف معیار ہو سکتے ہیں، کسی کے نزدیک وہ انسان بڑا ہوتا ہے جو سب سے زیادہ دولت مند ہو تو کسی کے نزدیک "شہرت" انسان کو عظیم بناتی ہے، یونہی کچھ لوگ نام و نسب، تعلیمی ڈگریاں، منصب و جاہ کو اعزاز و عظمت کے ذرائع گردانتے ہیں، لیکن اللہ کے نزدیک معزز ہونے کا فقط ایک ہی معیار ہے، وہ ہے تقوی اور پرہیزگاری کا معیار۔ دنیا میں جو شخص جتنا تقوی اختیار کرنے والا ہے، شریعت کی پابندی کرنے والا ہے،  اللہ کے نزدیک وہ اتنا ہی زیادہ معزز و مکرم ہے۔ فقیہ ملت علیہ الرحمہ کی سوانح حیات کا مطالعہ کرنے سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ آپ اعزاز و اکرام کے دنیاوی معیار کو پس پشت ڈال کر صرف اور صرف اللہ اور اس کے رسول سے اعزازی سند حاصلکرنا چاہتے تھے، جس کے لیے آپ نے اپنی زندگی کا ہر لمحہ شریعت و سنت کی پابندی میں گزار کر اللہ رب العزت کی بارگاہ سے ایسا مقام و مرتبہ حاصل کیا جس کے سامنے دنیا کے تمام مراتب ہیچ نظر آتے ہیں۔

نماز کی پابندی

نماز اہم الفرائض اور دین اسلام کا بنیادی ستون ہے، حدیث پاک میں نماز کو مکمل دین کہا گیا ہے چنانچہ سرکار دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم ارشاد فرماتے ہیں: جس نے نماز قائم کی اس نے دین قائم کیا اور جس نے نماز ترک کر دی اس نے دین ڈھا دیا۔ اسی کے تئیں فقیہ ملت علیہ الرحمہ نماز کو اصل الاصول اور مقصد حیات سمجھ کر ہمیشہ نماز کو پابندی کے ساتھ اس کے وقت پر ادا کرنے کی پوری کوشش کرتے تھے۔ گھر تو گھر سفر میں بھی نماز کی پابندی کا یہ عالم تھا کہ آپ گھر سے نکلنے سے پہلے یہ متعین کر لیتے تھے کہ کونسی نماز، کہاں ادا کرنی ہے۔ اس بات کی تائید کرتا ہوا ایک واقعہ ملاحظہ فرمائیں۔ 

جانشین فقیہ ملت مفتی ازہار احمد امجدی صاحب قبلہ فرماتے ہیں کہ مفتی اویس احمد قادری حفظہ اللہ تعالی نے بیان کیا: ایک مرتبہ میں فقیہ ملت علیہ الرحمہ کے ساتھ سفر میں تھا، ہم اس کے ذریعے، سیتا مڑھی سے مظفر پور، ریلوے اسٹیشن آرہے تھے، آپ نے ڈرائیور سے پوچھا کہ کیا بس فلاں وقت مظفر پور پہنچ جائے گی، مجھے وہاں عصر کی نماز ادا کرنی ہے؟ 

ڈرائیور نے ہاں میں جواب دیا لیکن راستے میں بس لیٹ ہوتی رہی، فقیہ ملت علیہ الرحمہ کو جب تاخیر کا خدشہ ہوا تو آپ نے پھر کئی بار ڈرائیور سے پوچھا، ڈرائیور اپنی عادت کے مطابق ہر بار آپ کو تسلی دیتا رہا، مگر جب فقیہ ملت علیہ الرحمہ کو یہ یقین ہو گیا کہ بس وقت پر مظفر پور، نہیں پہنچ پائے گی تو آپ نے بڑے تلخ لہجہ میں ڈارئیور کو پھٹکار لگائی اور وہیں بس روک واکر، بس سے اتر گئے، جہاں ہم لوگ اترے، وہاں جنگل تھا، ہم نے نماز عصر ادا کی، پھر تھوڑی دیر بعد وہیں مغرب کینماز پڑھی،  سفر کا ارادہ بنا؛ تو وہاں کوئی سواری نہ تھی؛ ہم تقریبا آدھا کلو پیدل چلے ہی تھے کہ ایک دوکان نظر آئی، جس پر ایک باریش بزرگ بیٹھے تھے، میں نے ان سے سواری کے بارے میں پوچھا اور بتایا میرے ایک بزرگ ہستی بھی ہے؛ تو انھوں نے پوچھا یہ کون ہیں، میں نے حضرت فقیہ ملت علیہ الرحمۃ کا ذکر کیا؛ تو آپ اچھل پڑے؛ کیوں کہ اس وقت آپ حضرت فقیہ ملت علیہ الرحمۃ ہی کی کتاب 'بزرگوں کے عقیدے' ہی پڑھ رہے تھے، وہ ہمارے ساتھ، بہت ہی خوش اخلاقی سے پیش آئے اور رکشہ کا انتظام کیا، اس طرح ہم با آسانی مظفر پور پہنچ گئے۔

اصلاح عوام

فقیہ ملت علیہ الرحمہ کی مثال ایک روشن چراغ کے مانند تھی کہ جس طرح چراغ اپنے قرب و جوار کی تاریکی کو ختم کر کے روشنی کی سوغات عطا کرتا ہے اسی طرح فقیہ ملت علیہ الرحمہ جہاں بھی رہتے تھے خود تو شریعت کی پابندی کرتے ہی تھے، دوسرے لوگوں کو بھی اس کی تلقین کرتے رہتے، جب بھی کسی کو خلاف شرع کوئی کام کرتے دیکھتے، آپ بر وقت اس کی اصلاح کرکے شریعت کا حکم واضح فرماتے تھے، تاریخ میں اس طرح کے ایک نہیں بلکہ درجنوں واقعات درج ہیں، خود فقیہ ملت علیہ الرحمہ ایک جگہ لکھتے ہیں: اوجھاگنج کے بعض مسلمان بھی وہابیوں اور دیوبندیوں کے یہاں شادی کر رہے تھے۔ میں نے ہوش سنبھالتے ہی ان کو منع کیا اور پھر کچھ دنوں بعد یہ اعلان کر دیا کہ خبردار! اب کوئی ان کے یہاں رشتہ نہ کرے گا اگر کرے گا تو اس پر سختی کی جائے گی اور ہر طرح سے اس کا اسلامی بائی کاٹ کیا جائے گا۔ 

اس اعلان کو عرصہ گزر گیا مگر الحمدللہ اس وقت سے اب تک اوجھا گنج کے مسلمانوں کی کوئی شادی کسی بدمذہب کے یہاں نہیں ہوئی جس سے اس آبادی کے شب و روز نکھرتے ہی چلے گئے۔(خطبات محرم، ص:٥٣٢، ط:کتب خانہ امجدیہ)

منکرات کی تردید

فقیہ ملت علیہ الرحمہ کو اللہ نے کمال کی حق گوئی و بے باکی عطا کی تھی، آپ حق بات کہنے میں کبھی کسی کی پرواہ نہ کرتے تھے۔ جہاں بڑے بڑے لوگوں کی زبانیں مصلحت اور حالات کی دہائی دے کر خاموش ہو جاتی تھیں، فقیہ ملت علیہ الرحمہ وہاں بھی انتہائی جرات کے ساتھ منکرات کی تردید فرما کر احقاق حق کا فریضہ انجام دیا کرتے تھے۔

فقیہ ملت علیہ الرحمہ ایک مقام پر لکھتے ہیں کہ اوجھاگنج میں بھی مروجہ تعزیہ داری بڑی دھوم دھام سے ہوتی تھی۔ کئی لوگ اپنے ذاتی خرچ سے تنہا تعزیہ بناتے تھے اور دونوں مسجدوں کے دروازوں پر بھی محلہ والوں کے پنچایتی تعزیے رکھے جاتے تھے۔ آگے لکھتے ہیں: ان خرافات کو دیکھ کر بھلا میں کب خاموش رہ سکتا تھا۔ میں نے انھیں بتایا کہ اس طرح کی تعزیہ داری نا جائز، حرام اور بدعت سیئہ ہے۔ جن لوگوں کو تعزیہ کے معاملے میں اس قدر غلو تھا بھلا وہ میرے اس بیان کو کیسے برداشت کر سکتے تھے سب میرے خلاف ہو گئے اور مجھ کو وہابی کہنے لگے۔ تعزیہ علم اور شدہ یہاں تک کی ڈھول کا بھی اتنا احترام تھا کہ ان کو مسجدوں میں رکھا جاتا تھا ایک بار چھوٹی مسجد کے رکھے ہوئے علَم میں مسجد کے چراغ سے نامعلوم کیسے آگ لگ گئی جس سے مسجد بھی جل گئی مگر آگ بجھانے کے بعد مابقیہ علَم و شدے پھر اسی مسجد میں رکھ دیے گئے۔ میں کہیں باہر تھا، آنے کے بعد جب اس واقعے کی خبر ہوئی تو علَم و شدے مسجد سے باہر کیچڑ میں پھنکوا دیا اور ڈھول نکلوا کر پیروں کی ٹھوکروں سے بہت دور کروا دیا۔ اس واقعے سے پوری آبادی کے مسلمانوں میں آگ لگ گئی مگر کوئی میرے قریب نہیں آیا۔ آگے لکھتے ہیں: مگر پہلے والی باتیں اب نہیں رہ گئیں، بہت سی جہالتیں دور ہو گئیں اور زور ٹوٹ چکا ہے۔ امید ہے کہ آہستہ آہستہ بالکل ختم ہو جائے گی۔ (خطبات محرم)ایسے افراد مخلوق الہی کے لیے خدا کی طرف سے عظیم نعمت کے طور پر ہوتے ہیں، ہمیں چاہیے کہ ہم اپنے دلوں میں ان کی عقیدت کا چراغ جلا کر ان کے نقش قدم پر چل کر، اپنی زندگی کو کامیاب بنانے کی کوشش کریں۔

 اللہ تبارک و تعالی ان کی مرقد پر رحمت و انوار کی بارشیں نازل فرمائے۔ ہم سب کو صحیح معنوں میں شریعت مطہرہ کی پابندی کی توفیق عطا فرمائے اور فقیہ ملت علیہ الرحمہ کے علم و عمل اور حق گوئی و بے باکی کا صدقہ عطا کرے۔ آمین یارب العالمین بجاہ سید المرسلین صلی اللہ علیہ وسلم۔

محمد مشاہد رضا مصباحی، فیض آباد

مرکز تربیت افتا، اوجھاگنج، بستی، یو پی۔

٢٣/جمادی الأولی ٤٧ھ

 

Abdul Jabbar Alimi

عبدالجبار علیمی نظامی نیپالی۔

چیف ایڈیٹر نیپال اردو ٹائمز 8795979383