Mar 24, 2026 04:52 PM Asia/Kathmandu
ہمیں فالو کریں:
شبِ قدر: عظمت، فضیلت اور پیغامِ ہدایت

شبِ قدر: عظمت، فضیلت اور پیغامِ ہدایت

12 Mar 2026
1 min read

شبِ قدر: عظمت، فضیلت اور پیغامِ ہدایت

محمد علی شیر قادری نظامی

سکونت :روضہ شریف مہوتری نیپال

اسلامی تعلیمات میں بعض اوقات اور دنوں کو خصوصی فضیلت اور برکت عطا کی گئی ہے تاکہ انسان اپنے رب کے قریب ہو سکے۔ انہی مبارک اوقات میں ایک عظیم اور بابرکت رات لیلة القدر ہے جسے اردو میں شبِ قدر کہا جاتا ہے۔ یہ وہ مقدس رات ہے جس کی عظمت اور شان کو بیان کرتے ہوئے قرآن مجید میں ایک مکمل سورت نازل ہوئی جسے سورة القدر کہا جاتا ہے۔ اس رات کی فضیلت اس قدر عظیم ہے کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ یہ رات ہزار مہینوں سے بہتر ہے۔یہ مضمون شبِ قدر کی حقیقت، اس کی فضیلت، قرآن و حدیث میں اس کے دلائل اور اس کے روحانی پیغام کو مفصل انداز میں بیان کرتا ہے تاکہ اس عظیم نعمت کی قدر کی جا سکے۔لفظ "قدر" عربی زبان میں کئی معانی رکھتا ہے، جن میں عظمت، قدر و منزلت، تقدیر اور فیصلے شامل ہیں۔ اس لحاظ سے شبِ قدر کو وہ رات کہا جاتا ہے جس میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے بندوں کی تقدیر کے اہم فیصلے فرشتوں کے سپرد کیے جاتے ہیں۔یہی وہ رات ہے جس میں انسان کی عبادت، دعا اور توبہ کو غیر معمولی قبولیت حاصل ہوتی ہے۔ اس رات کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اسے ہزار مہینوں کی عبادت سے زیادہ افضل قرار دیا ہے۔شبِ قدر کا سب سے واضح ذکر قرآن مجید میں موجود ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:

إِنَّا أَنزَلْنَاهُ فِي لَيْلَةِ الْقَدْرِ وَمَا أَدْرَاكَ مَا لَيْلَةُ الْقَدْرِ لَيْلَةُ الْقَدْرِ خَيْرٌ مِّنْ أَلْفِ شَهْرٍ

تَنَزَّلُ الْمَلَائِكَةُ وَالرُّوحُ فِيهَا بِإِذْنِ رَبِّهِم مِّن كُلِّ أَمْرٍ سَلَامٌ هِيَ حَتَّىٰ مَطْلَعِ الْفَجْرِ

یہ آیات سورة القدر کی ہیں، جو شبِ قدر کی عظمت کو واضح کرتی ہیں۔ اس سورت سے معلوم ہوتا ہے کہ اسی رات قرآن مجید کا نزول شروع ہوا، جو انسانیت کے لیے ہدایت اور روشنی کا سرچشمہ ہے۔شبِ قدر کی سب سے بڑی خصوصیت یہ ہے کہ اسی رات قرآنمجید کا نزول شروع ہوا۔ قرآن اللہ تعالیٰ کا آخری آسمانی

پیغام ہے جو ہمارے پیارے نبی ﷺ پر نازل ہوا۔یہ نزول دراصل انسانیت کے لیے ایک عظیم رحمت اور ہدایت کا ذریعہ بنا۔ قرآن نے انسان کو زندگی گزارنے کا مکمل ضابطہ دیا، اخلاقیات، عبادات، معاشرت اور عدل و انصاف کے اصول بیان کیے۔احادیثِ مبارکہ میں بھی شبِ قدر کی عظمت اور اہمیت پر زور دیا گیا ہے۔پیارے مصطفیٰ ﷺ نے فرمایا:مَنْ قَامَ لَيْلَةَ الْقَدْرِ إِيمَانًا وَاحْتِسَابًاغُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ یعنی جو شخص ایمان اور ثواب کی نیت سے شبِ قدر میں قیام کرے، اس کے پچھلے تمام گناہ معاف کر دیے جاتے ہیں۔یہ حدیث اس بات کی طرف اشارہ کرتی ہے کہ یہ رات توبہ، مغفرت اور روحانی پاکیزگی حاصل کرنے کا بہترین موقع ہے۔شبِ قدر رمضان المبارک کے آخری عشرے میں آتی ہے۔ احادیث کے مطابق اسے رمضان کی طاق راتوں میں تلاش کرنے کی ہدایت دی گئی ہے، جیسے 21، 23، 25، 27 اور 29 کی رات۔بعض علماء کے نزدیک 27 رمضان کی رات کو زیادہ امکان ہے، لیکن قطعی طور پر کسی ایک رات کو متعین نہیں کیا گیا۔ اس حکمت کا مقصد یہ ہے کہ مسلمان پورے آخری عشرے میں عبادت اور ذکر میں مشغول رہیں۔اس مبارک رات میں مسلمان مختلف عبادات کے ذریعے اللہ تعالیٰ کا قرب حاصل کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ ان میں اہم عبادات یہ ہیں:1. اس رات نوافل اور تہجد پڑھنا بہت افضل ہے۔2. قرآن مجید کی تلاوت اور اس پر غور و فکر انسان کے ایمان کو تازگی 

بخشتا ہے۔3.اس رات کی مشہور دعا ہے:

اللَّهُمَّ إِنَّكَ عَفُوٌّ تُحِبُّ الْعَفْوَ فَاعْفُ عَنِّي

4. اللہ تعالیٰ کی حمد و تسبیح اور درود شریف کا ورد کرنا۔

5. رمضان کے آخری عشرے میں اعتکاف کرنا بھی سنت ہے۔شبِ قدر دراصل انسان کو اپنی زندگی پر غور کرنے اور اللہ تعالیٰ سے تعلق مضبوط کرنے کا موقع فراہم کرتی ہے۔ یہ رات ہمیں یاد دلاتی ہے کہ دنیا کی زندگی عارضی ہے اور اصل کامیابی اللہ کی رضا میں ہے۔اس رات کی عبادت انسان کے دل کو پاک کرتی ہے، اس کے ایمان کو مضبوط بناتی ہے اور اسے نیکی اور تقویٰ کے راستے پر گامزن کرتی ہے۔شبِ قدر کا پیغام صرف انفرادی عبادت تک محدود نہیں بلکہ یہ معاشرتی اصلاح کا بھی درس دیتی ہے۔ جب انسان اللہ سے سچا تعلق قائم کرتا ہے تو اس کی زندگی میں اخلاقعدل، رحم اور محبت پیدا ہوتی ہے۔یہی اوصاف ایک صالح معاشرے کی بنیاد بنتے ہیں۔شبِ قدر اللہ تعالیٰ کی ایک عظیم نعمت ہے جو ہر سال رمضان المبارک میں مسلمانوں کو عطا کی جاتی ہے۔ یہ رات مغفرت، رحمت اور ہدایت کی رات ہے۔اگر مسلمان اس رات کی قدر کریں، عبادت، دعا اور توبہ میں مشغول ہوں اور اپنی زندگی کو قرآن کی تعلیمات کے مطابق ڈھالیں تو یقیناً وہ دنیا و آخرت دونوں میں کامیابی حاصل کر سکتے ہیں۔

اسی لیے ضروری ہے کہ ہم اس بابرکت رات کو غفلت میں گزارنے کے بجائے اللہ تعالیٰ کی عبادت، ذکر اور تلاوتِ قرآن میں گزاریں تاکہ ہم اس کے انعامات اور برکتوں سے بھرپور فائدہ اٹھا سکیں۔ 

خادم علم وتدریس: مدرسہ اقبالیہ برکاتیہ ،لوہار پٹی

 

Abdul Jabbar Alimi

عبدالجبار علیمی نظامی نیپالی۔

چیف ایڈیٹر نیپال اردو ٹائمز 8795979383