Feb 7, 2026 10:48 AM Asia/Kathmandu
ہمیں فالو کریں:
فقیہ ملت اور نماز کا اہتمام۔

فقیہ ملت اور نماز کا اہتمام۔

21 Nov 2025
1 min read

فقیہ ملت اور نماز کا اہتمام۔

محمد فریاد نوری جامعی

مرکز تربیت افتا،

 اوجھاگنج، بستی۔

نماز قرب الہی کا ذریعہ ہے ،نماز دین کا ستون ہے ،نماز نبی کریم ﷺ کی انکھوں کی ٹھنڈک ہے ,نماز گناہوں سے پاک کرنے والی ہے  حدیث پاک میں ہے: عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رضی اللہ عنہ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَرَأَيْتُمْ لَوْ أَنَّ نَهْرًا بِبَابِ أَحَدِكُمْ يَغْتَسِلُ فِيْهِ كُلَّ يَوْمٍ خَمْسًا هَلْ يَبْقٰى مِنْ دَرَنِهِ شَيْءٌ قَالُوا لَا يَبْقٰى مِنْ دَرَنِهِ شَيْءٌ قَالَ فَذَلِكَ مَثَلُ الصَّلَوَاتِ الْخَمْسِ يَمْحُو اللَّهُ بِهِنَّ الْخَطَايَا (صحیح البخاری ،کتاب الصلوة ،باب الصلوات الخمس کفارة ،ج:۱،ص:۵۳۸،ط:دار التاصیل)  ترجمہ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ نے فرمایا کہ رسول کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا کہ بتاؤ اگر تم لوگوں میں سے کسی کے دروازے پر نہر ہو اور وہ اس میں روزانہ پانچ مرتبہ غسل کرتا ہو تو کیا ان کے بدن پر کچھ میل باقی رہ جائے گا ۔ صحابہ کرام نے عرض کیا ایسی حالت میں اس کے بدن پر کچھ بھی میل باقی نہ رہےگا حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا بس یہی کیفیت ہے پانچوں نمازوں کی ، اللہ تعالیٰ ان کے بدلے سب گناہوں کو مٹا دیتا ہے۔(انوار الحدیث ،ص: ۱۱۵،ط:اویسی بک سٹال گوجرنوالہ) 

یہی وجہ ہے کہ اللہ کے برگزیدہ بندے نماز کی سختی سے پابندی کرتے ہیں نماز کا وقت ہوتے ہی ان کو بے چینی ہونے لگتی ہے اور جب تک وہ نماز ادا نہیں کر لیتے ہیں انھیں چین نہیں آتا ہے  لیکن جیسے جیسے لوگ خیر قرون سے دور ہوتے چلے جا رہے ہیں ان میں عملی انحطاط بڑھتا ہی چلا جا رہا ہے  اور جس دور میں ہم جی رہے ہیں یہ  تو قحط الرجال کا دور ہے اس میں عوام تو عوام اہل علم میں بھی  نماز سے دوری پاٸی جا رہی ہے اور جو  حضرات نمازی کہلاتے ہیں ان کا حال بھی  یہ ہے کہ نماز کو اپنے وقت پر نہیں پڑھتے ہیں یا وقت میں پڑھتے بھی ہیں  تو  جماعت کی پابندی نہیں کرتے ہیں اور چھوٹی چھوٹی تکلیف کی وجہ سے نماز ترک کر دیتے ہیں یا وقت گزار کر پڑھتے ہیں جب کہ اس طرح کی یا اس سے زائد تکلیف کے باوجود بھی وہ اپنے دنیوی امور کو انجام دیتے ہیں ، ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ وہ طاعت الہی جو مقصد حیات ہے اسے دنیوی امور پر ترجیح دیتے چاہے دنیوی معاملہ میں بظاہر نقصان ہی کیوں نہ اٹھانا پڑتا جیسا کہ ہمارے اسلاف کا طریقہ رہا ہے  جب انھوں نے اپنا سر بارگاہ خداوندی میں جھکا دیا تو رب کریم نے ان کو ایسی شان رفیع عطا فرماٸی کہ ان کے تابندہ نقوش سے آج بھی بہت سے گم گشتگان راہ ،ہدایت پا رہے ہیں انھیں قابل تقلید شخصیات میں سے ایک استاذ الفقہا فقیہ ملت مفتی جلال الدین احمد امجدی علیہ الرحمہ والرضوان کی ذات با برکات ہے جن کی زندگی شریعت کی آٸینہ دار ہے  یوں تو آپ کی حیات کا ہر گوشہ قابل تقلید و عمل ہے لیکن سفر وحضر  میں نماز کی پابندی آپ کی زندگی کا وہ عظیم گوشہ ہے جو دیگر گوشوں سے ممتاز   نظر آتا ہے۔

شہزادہ فقیہ ملت مفتی ازہار احمد امجدی دامت فیوضھم  فرماتے  ہیں کہ" انہیں حضور فقیہ ملت علیہ الرحمة و الرضوان کے ساتھ دو مرتبہ طویل سفر کرنے کا شرف حاصل ہوا ایک بریلی دوسرا ممبئی کا دونوں سفر میں حضور فقیہ ملت نے جس طرح بھی میسر آیا  خود بھی نمازوں کو اپنے وقتوں میں ادا کیا اور تقریبا ہر جگہ ان سے بھی  نماز پڑھواٸی جب کہ اس وقت ان کی عمر ۱۲ سال سے زاٸد نہ رہی ہوگی  اور انہیں دو سفروں میں سے کسی میں ٹرین میں نماز  ادا کرنے کی وجہ سے حضور فقیہ ملت علیہ الرحمہ کو   ایک شخص سے نامناسب الفاظ بھی  سننے پڑے لیکن آپ نے احکام الہی کی بجاآوری کے مقابل اس کی بالکل پروا نہیں کی"۔

اس واقعہ سے ان لوگوں کو عبرت حاصل کرنا چاہیے جو صرف لوگوں کی ملامت کے خوف سے طاعت الہی کو ترک کر دیتے ہیں مثلا کچھ لوگ شرع کے مطابق داڑھی رکھنا چاہتے ہیں  لیکن صرف اس لیے نہیں رکھتے کہ لوگ کیا کہیں گے ،کچھ خواتین شرع کے مطابق پردہ کرنا چاہتی ہیں لیکن لوگوں کے طنز کے خوف سے پردہ نہیں کرتیں، انھیں چاہیے کہ شرع کے  مطابق عمل کریں اور لوگوں کی ملامت کا خوف نہ کریں اگر وہ ایسا کریں گے تو اللہ تبارک و تعالی انھیں دونوں جہان کی بھلاٸیاں عطا فرماۓ گا۔

حضور فقیہ ملت سفر میں بھی وقت پر نماز 

پڑھنے کا اس قدر اہتمام فرماتے تھے کہ اگر وقت پر نماز  پڑھنے کے لیے  گاڑی چھوڑنے کی  نوبت آ جاۓ تو اس کے لیے بھی تیار رہتے تھے حضور فقیہ ملت فرماتے ہیں کہ گرمیوں کا زمانہ تھا ہمیں لکھنؤ سے بس کے ذریعہ فیض آباد پہنچ کر ٹانڈہ جانا تھا ہم نے وقت سے پہلے وضو کر لیا کہ بھٹریا میں بس کھڑی ہوگی تو ہم نماز پڑھ لیں گے۔ مگر وہ بھٹریا میں کھڑی نہیں ہوئی اور ڈرائیور و کنڈکٹر دونوں سادھووں کی شکل میں بڑی بڑی جٹا رکھے ہوئے ٹیکہ دھاری تھے ان سے یہ قطعی امید نہیں تھی کہ وہ کہنے پر نماز پڑھنے کے لئے بس روک دیں گے۔میں نے فیصلہ کر لیا کہ اگر فیض آباد پہنچنے سے پہلے سورج کے غروب ہونے کا اندیشہ ہوا تو میں بس چھوڑ دوں گا پھر نماز پڑھ کر ٹکسی سے چلا جاؤں گا بس چلتی رہی یہاں تک کہ عصر کا وقت بالکل آخر ہو گیا مگر فیض آباد دور رہا اور اب میں ڈرائیور سے کہنے ہی والا تھا کہ بس روک دو میں اتروں گا کہ اتنے میں اے جی۔ ایم کی کار نے بس کے سامنے آکر اسے روک دیا میرے دل کی مراد ہر آئی۔ اللہ تعالی کا شکر ادا کیا فورًا اتر کر عصر کی نماز پڑھی بس دیر تک کھڑی رہی پھر جب مغرب کی نماز بھی ہم نے پڑھ لی تو اس کے بعد وہ چل کر فیض آباد پہنچی۔ (خطبات محرم ،ص:541،ط:کتب خانہ امجدیہ،دہلی) 

اس واقعہ میں جہاں تمام مسلمانوں کے لیے نماز کی پابندی کا سبق ہے وہیں خاص ان لوگوں کے  لیے بھی سبق ہے جو ہمیشہ مال کمانے کے لیے نماز ،روزہ وغیرہ عبادتوں کو ترک کرنے کے لیے تیار رہتے ہیں ،مسلمانوں کو چاہیے کہ ہر حال میں نماز کی پابندی کریں اگر وہ نماز کی پابندی کریں گے ،اس کی فکر میں لگے رہیں گے تو جہاں بظاہر نماز پڑھنے کی امکانی صورت نہیں نظر آتی ہے وہاں بھی تاٸید غیبی سے راستے ہموار ہو جاٸیں گے اور کیوں نہ ہو حدیث پاک میں ہے  : قَالَ : سَأَلْتُ النَّبِيَّ ﷺ : أَيُّ الْعَمَلِ أَحَبُّ إِلَى اللَّهِ؟ قَالَ : « الصَّلَاةُ عَلَى وَقْتِهَا 

ترجمہ حضور ﷺ  سے پوچھا گیا کون سا عمل اللہ تبارک و  تعالی کےنزدیک سب سے پسندیدہ ہے تو حضور نےارشاد فرمایا : نماز کو اس کے وقت پر ادا کرنا

(صحیح البخاری، کتاب الصلوة،باب فضل الصلوة لوقتھا،ج:۱،ص:۵۳۷،ط:دارالتاصیل)

حضور فقیہ ملت ہمیشہ اللہ کے اس محبوب عمل یعنی وقت پر نماز کی اداٸگی کی فکر میں لگے رہتے تھے یہی وجہ ہے کہ لوٹا،مصلی اور قطب نما ہمیشہ ساتھ رکھتے تھے نماز کے وقتوں میں سفر کرنے سے پرہیز کرتے تھے اگر سفر میں نماز کی اداٸگی میں زیادہ پریشانی کا اندیشہ ہوتا تو اس سفر کو کٸی ٹکڑوں میں تقسیم فرما دیتے تاکہ بہ اسانی نماز ادا کی جا سکے۔

ایک مرتبہ حضور فقیہ ملت فیروز آباد ضلع آگرہ تقریر کے لیے گۓ واپسی  میں جلسہ والوں نے جس ٹرین میں بٹھایا اس میں  بہت زیادہ ازدحام تھا فجر کا وقت ہوا ،ٹرین اٹاوہ اسٹیشن پر کھڑی ہوگٸی لیکن نہ ٹرین میں اتنی جگہ تھی کہ نماز پڑھی جا سکے اور ازدحام کی وجہ سے باہر نکلنا بھی ممکن نہیں تھا آپ بہت پریشان ہوۓ اور اللہ تعالی سے دعا کی کہ نماز کی ادائےگی کی کوئی صورت نکل آۓ اپ کی دعا قبول ہوٸی اور ٹرین کا انجن خراب ہو گیا کٸی لوگ ٹرین سے اتر گۓ گیٹ خالی ہو گیا آپ اترے وضو  کیا ،سکون کے ساتھ نماز ادا کی تب انجن درست ہوا اور ٹرین وہاں سے روانہ ہوئی اسی طرح ممبئی کے ایک سفر میں آپ گارڈ کی بوگی کے قریب تھے آپ نماز ادا کرنے کے لیے ٹرین سےاترے اور جیسے ہی 

نیت باندھی اس نے سیٹی لگا دی پھر وہ بار بار سیٹی بجاتا رہا اور جھنڈی ہلاتا رہا لیکن ٹرین نہیں چلی اور یہ بھی نہیں کہا جا سکتا کہ حضرت کو دیکھ کر ڈراٸور نے گاڑی روک دی ہو کیوں کہ اسٹیشن پر بھیڑ زیادہ تھی اور آپ ٹرین کے آخری حصہ کی سامنے تھے ڈراٸور کا آپ کو دیکھ پانا بہت مشکل تھا پھر جب آپ نماز سے فارغ ہو کر ٹرین پر سوار ہو گۓ تب ٹرین وہاں سے روانہ ہوٸی۔

صحیح بات تو یہ ہے کہ جو لوگ حقیقی طور پر اللہ تعالی کے ہو جاتے ہیں اللہ تعالی ان کا ہو جاتا ہے اور مخلوق  کے دلوں کو ان کی طرف ماٸل فرما دیتا ہے   ایک مرتبہ حضور فقیہ ملت نے چار بجے والی پسنجر ٹرین کے ذریعہ الہ آباد سے فیض آباد کا سفر کیا آپ نے چار بجے اسٹیشن ہی پر وضو بنا لیا تھا لیکن آپ ٹرین میں اوپر کی سیٹ پر لیٹ گٸے ، آپ کو نیند آ  گٸی ، اور آپ نیند سے اس وقت بیدار ہوۓ جب ٹرین ایک معمولی اسٹیشن پر کراسنگ کے سبب کھڑی تھی اور فجر کا آخری وقت تھا  اور معلوم ہوا کہ اسٹیشن پر پانی کا انتظام نہیں ہے بوقت ضرورت کچھ دور سے  آتا ہے آپ بہت پریشان ہوۓ لیکن اللہ کا فضل ہوا کہ سامنے کی سیٹ والے شخص نے آپ سے پریشانی کا سبب پوچھا تو آپ نے صورت حال بیان فرما دی ، اس نےکہا آپ گھبراٸیے نہیں  میں انجن سے پانی لے کر آتا ہوں اس نے پانی لا کر دیا تو آپ نے وضو کر کے فجر کی نماز ادا کی۔

نیز  شہزادہ فقیہ ملت مفتی ازہار احمد امجدی دامت برکاتہم العالیہ فرماتے ہیں کہ میری یاد داشت کے مطابق دو مرتبہ فقیہ ملت علیہ الرحمۃ جب بانسی سے بستی کے لیے بس میں سوار ہوئے اور راستے میں  نماز کے قضا ہونے کا خوف ہوا تو راستہ میں ہی بس ڈراٸور سے بات کر کے بس رکواٸی اور تالاب میں وضو کر کے نماز ادا فرماٸی اتنی دیر تک بس رکی رہی اور کسی سوار کو کوٸی اعتراض نہ ہوا

ان واقعات سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ حضور فقیہ ملت علیہ الرحمہ جب سفر میں نماز کے اس قدر پابند تھے تو حضر میں کس قدر نماز کے پابند رہے ہوں گے ،آپ خود تو پوری زندگی نمازوں کو پابندی سے ادا کرتے رہے ساتھ ہی ساتھ وابستگان کو بھی نماز کی پابندی کا درس دیتے رہے، شہزادہ حضور فقیہ ملت مفتی ازہار احمد امجدی دام ظلھم فرماتے ہیں کہ ہم بھاٸیوں میں سے کسی کی رکعت  بھی چھوٹ

جاتی تو آپ علیہ الرحمہ زجر و توبیخ فرماتے تھے اور کبھی نماز میں لا پرواہی ہو جاتی تو فرماتے کہ تمھیں گھر سے نکال دیں گے تمھیں گھر میں رہنے کی ضرورت نہیں ہے ،آپ کی اسی تربیت  کا نتیجہ ہے کہ آپ کے شہزادگان دامت برکاتھم نماز کے پابند نظر آتے ہیں اللہ تعالی حضور فقیہ ملت  کے صدقہ ہمیں بھی زندگی بھر نماز پنج گانہ با جماعت ادا کرنے کی توفیق بخشے اور آپ کے علم و تقوی  سے وافر حصہ عطا فرماۓ۔

مرکز تربیت افتا، اوجھاگنج، بستی۔

٢٣/جمادی الأولی ٤٧ھ

Abdul Jabbar Alimi

عبدالجبار علیمی نظامی نیپالی۔

چیف ایڈیٹر نیپال اردو ٹائمز 8795979383