Feb 7, 2026 07:41 AM Asia/Kathmandu
ہمیں فالو کریں:
عنوان: سوانحِ حیات  حضور فقیہِ ملت:

عنوان: سوانحِ حیات حضور فقیہِ ملت:

21 Nov 2025
1 min read

عنوان: سوانحِ حیات  حضور فقیہِ ملت:

محمد صادق الاسلام اتر دیناجپور، مغربی بنگال متعلم: جماعت رابعہ دارالعلوم علیمیہ، جمدا شاہی، اترپردیش

حضرتِ علامہ مفتی جلال الدین احمد امجدی رحمۃُ اللہ علیہ، جنہیں علمی و دینی حلقوں میں ان کے فقہی تبحّر کی وجہ سے ’’فقیہِ ملت‘‘ کے لقب سے یاد کیا جاتا ہے، برصغیرِ پاک و ہند کی ایک عظیم، ہمہ جہت اور مبارک علمی شخصیت تھے۔ آپ کا شمار اہلِ سنت و جماعت کے اُن اکابر علمائے کرام میں ہوتا ہے جنہوں نے اپنی پوری زندگی درس و تدریس، افتاء نویسی، تصنیف و تالیف اور اصلاحِ امت کے لیے وقف کر دی۔

فقیہِ ملت حضرت علامہ الحاج الشاہ الحافظ مفتی جلال الدین احمد امجدی قدس سرہٗ، بانی ’’فقیہ مرکز تربیتِ افتاء‘‘ دارالعلوم امجدیہ اہلِ سنت ارشد العلوم اوجھا گنج، ضلع بستی (یوپی)، ایک جید عالمِ دین، باکمال مصنف، محقق، مستند مدرس اور عالم گیر خدمات رکھنے والی شخصیت کا نام ہے۔

ولادت باسعادت:

۱۳۵۲ھ مطابق ۱۹۳۳ء میں ضلع بستی (یوپی) کی معروف آبادی ’’اوجھا گنج‘‘ میں آپ کی ولادت ہوئی۔ یہ مقام شہرِ بستی سے تقریباً بیس کلو میٹر مغرب کی جانب ’’فیض آباد روڈ‘‘ سے دو میل جنوب میں واقع ہے۔

نام و نسب:

نام: جلال الدین۔

لقب: فقیہِ ملت۔

خاندانی حالات:

آپ کا خاندان ضلع فیض آباد کے مشہور ’’بڑہر‘‘ علاقے کے معروف راجپوت گھرانے سے تعلق رکھتا تھا، جو ’’مرا سنگھ‘‘ کے نام سے مشہور تھے

۔ اسلامی تعلیمات سے متاثر ہو کر جب وہ دائرۂ اسلام میں داخل ہوئے تو ’’مراد علی‘‘ کہلائے۔ گھر والوں نے جب اسلام چھوڑنے کے لیے دباؤ ڈالا تو آپ نے زمینداری چھوڑ کر ’’قصبہ شہزاد پور‘‘ (فیض آباد) میں سکونت اختیار کرلی، جہاں آج بھی ان کی اولاد کثیر تعداد میں آباد ہے۔

انہی کی نسل میں سے جناب ضیاء الدین مرحوم تجارت کے سلسلے میں ضلع بستی کے مختلف بازاروں میں آتے رہتے تھے۔ اسی دوران اوجھا گنج کے مسلمانوں سے تعلق بڑھا اور مشورے سے زمین خرید کر وہیں مستقل سکونت اختیار کرلی۔

تعلیم و تربیت:

آپ نے سات سال کی عمر میں اپنے والدِ گرامی جناب جان محمد صاحب کے شاگرد مولوی محمد زکریا صاحب 

سے قرآنِ کریم ناظرہ مکمل کیا اور ساڑھے دس سال کی عمر میں حفظ مکمل فرمایا۔

ابتدائی عربی و فارسی کی تعلیم کے بعد 1947ء کے فسادات کے فوراً بعد ناگپور تشریف لے گئے۔ دن بھر محنت مزدوری کر کے پچیس تیس روپے والدین کی خدمت میں بھیجتے، اور اپنے اخراجات بھی خود پورے کرتے۔ نمازِ مغرب کے بعد اپنے دس ساتھیوں کے ساتھ رات کے تقریباً بارہ بجے تک قائدِ اہلِ سنت رئیس القلم حضرت علامہ ارشد القادری علیہ الرحمہ کی خدمت میں مدرسہ اسلامیہ شمس العلوم، بکرا منڈی، مومن پورہ میں درسِ نظامی کی تعلیم جاری رکھی۔

24 شعبان 1371ھ مطابق 19 مئی 1952ء کو حضرت قائد اہل سنت کے دستِ مبارک سے سندِ فراغت حاصل کی۔

تدریسی خدمات:

فراغت کے بعد آپ نے دوبولیا بازار (جمشید پور، بہار)، مدرسہ قادریہ رضویہ بھاؤپور (ضلع بستی) اور پھر یکم ذی الحجہ 1375ھ مطابق 10 جولائی 1956ء سے دارالعلوم فیض الرسول براؤں شریف میں تدریسی خدمات پیش کیں۔

آخر عمر تک اپنے قائم کردہ ادارے ’’مرکز تربیت افتاء اوجھا گنج‘‘ میں درس و تدریس فرماتے رہے۔

تصنیف و تالیف و فتویٰ نویسی:

یہ وہ وصف ہے جس نے فقیہِ ملت کو عالمِ اسلام میں شہرتِ دوام عطا کی۔

آپ نے چھوٹی بڑی تقریباً بائیس کتابیں تصنیف کیں، اور مختلف موضوعات پر تحقیقی مقالات بھی تحریر فرمائے۔

آپ کی مشہور و معروف کتابوں میں:

فتاویٰ فیض الرسول,

 فتاویٰ فقیہِ ملت،فتاویٰ برکاتیہ،

انوار الحدیث،

انوارِ شریعت

،نورانی تعلیم،

 محققانہ فیصلہ ،

 عجائب الفقہ ، 

بزرگوں کے عقائد۔

خصوصی شہرت کے حامل ہیں۔

شرفِ بیعت:

مجھے مسائلِ شرعیہ جاننے کا بڑا شوق تھا، اس لیے بچپن ہی سے ’’بہارِ شریعت‘‘ کا نام سنتا تھا اور اس عظیم فقہی ذخیرے کے مؤلف صدرالشریعہ حضرت علامہ مولانا محمد امجد علی اعظمی قدس سرہٗ سے قلبی عقیدت رکھتا تھا۔جب معلوم ہوا کہ حضرت صدرالشریعہ اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان بریلوی علیہ الرحمہ 

خلیفہ ہیں، تو 29 جمادی الاولیٰ 1378ھ مطابق 1948ء کو اپنے ساتھیوں کے ساتھ حضرت کے دستِ حق پرست پر بیعت ہو کر سلسلہ رضویہ میں داخل ہوا۔

ادارہ سازی:

آپ نے اپنے آبائی وطن اوجھا گنج میں اہلِ سنت کا پہلا منفرد اور مفتی ساز ادارہ ’’مرکز تربیتِ افتاء دارالعلوم امجدیہ ارشد العلوم‘‘ قائم کیا، جہاں سے فارغ ہونے والے مفتیانِ کرام مختلف علاقوں میں نمایاں خدمات انجام دے رہے ہیں۔

کتب خانہ امجدیہ بھی آپ کی مبارک یادگار ہے، جس سے علمِ دین کی نشر و اشاعت کا کام جاری ہے۔جامع مسجد اور چھوٹی مسجد کی پختہ تعمیر بھی آپ کی ہی کوششوں کا نتیجہ ہے، اور آپ تعمیر مکمل ہونے تک ہر سال اپنی ایک ماہ کی تنخواہ مسجد کے لیے عطیہ کرتے رہے۔

وصال:

4 جمادی الثانی 1422ھ مطابق 24 اگست 2001ء بروز جمعہ آپ نے دارِ فانی سے دارِ آخرت کی طرف رختِ سفر باندھا۔ انا للّٰہ و انا الیہ راجعون۔دعا: اے اللہ عزوجل! حضرت علامہ مفتی جلال الدین احمد امجدی علیہ الرحمہ پر اپنی بے شمار رحمتیں نازل فرما۔ ان کی قبر کو نورِ ایمان سے منور فرما، ان کے علم و عمل کا فیض تا قیامت جاری فرما۔ یا رب! ہمیں ان کے نقشِ قدم پر چلنے اور عشقِ رسول ﷺ میں زندگی گزارنے کی توفیق عطا فرما۔

آمین ثم آمین یا رب العالمین، بحق سید المرسلین ﷺ۔

نام:  محمد صادق الاسلام

اتر دیناجپور، مغربی بنگال

متعلم: جماعت رابعہ 

دارالعلوم علیمیہ، جمدا شاہی، اترپردیش

Abdul Jabbar Alimi

عبدالجبار علیمی نظامی نیپالی۔

چیف ایڈیٹر نیپال اردو ٹائمز 8795979383