آئینی ترمیم پر ٹاسک فورس کی سابق اٹارنی جنرلز سے مشاورت
پریس ریلیز
نیپال اردو ٹائمز
محمد رضوان احمد مصباحی
کا ٹھمنڈو — آئین میں ترمیم کے حوالے سے مباحثاتی دستاویز (ڈسکشن پیپر) تیار کرنے کے مقصد سے قائم ٹاسک فورس نے بدھ کے روز سابق اٹارنی جنرلز اور قانونی ماہرین کے ساتھ تفصیلی مشاورت کی۔ یہ اجلاس وزیر اعظم کے سیاسی مشیر "اسیم شاہ" کی سربراہی میں وزیر اعظم و کونسل آف منسٹرز کے دفتر میں منعقد ہوا۔ اجلاس میں شریک سابق اٹارنی جنرلز نے حکومتی نظام، انتخابی طریقہ کار، وفاقی ڈھانچہ، عدلیہ کی تنظیمِ نو، آئینی اداروں کی
تعداد اور شمولیت جیسے اہم موضوعات پر اپنی تجاویز پیش کیں۔ سابق اٹارنی جنرل ڈاکٹر یووراج سنگرولا نے آئینی ترمیم کے مقصد اور ضرورت کو واضح طور پر متعین کرنے پر زور دیا۔ انہوں نے مقامی حکومتوں کو غیر جماعتی بنانے اور صوبائی سربراہ کو براہِ راست منتخب کرنے کی تجویز بھی دی، ساتھ ہی بین الاقوامی تجربات کے مطالعے کی ضرورت پر بھی زور دیا۔ سابق اٹارنی جنرل سبیتا بھنڈاری نے کہا کہ آئین یا قانون سے زیادہ اس پر عمل درآمد کرنے والوں کی سوچ اور رویہ اہم ہوتا ہے۔ انہوں نے حکومتی نظام میں تبدیلی کی ضرورت کو مسترد کرتے ہوئے ماہرین اور اراکینِ پارلیمنٹ کو وزیر بننے کیاجازت دینے کی حمایت کی۔ بیرون ملک مقیم نیپالیوں کو ووٹ کا حق دینے، صوبوں کی تعداد کم کرنے اور وزارتوں میں موجود دہرا پن ختم کرنے کی بھی تجویز دی۔سابق اٹارنی جنرل رمن کمار شریستھ نے براہِ راست منتخب ایگزیکٹو سربراہ کے قیام کی وکالت کی، جبکہ اراکینِ پارلیمنٹ کے وزیر نہ بننے اور عدلیہ کی تنظیمِ نو کی ضرورت پر زور دیا۔ سابق اٹارنی جنرل مہادیو پرساد یادو نے آئین کے مؤثر نفاذ میں قیادت کے کردار اور اخلاقیات کو اہم قرار دیا اور آئینی کمیشنوں کی تعداد پر نظرثانی کی تجویز دی۔
سابق اٹارنی جنرل مکتینارائن پردھان نے
موجودہ اختیارات کے تحفظ کے ساتھ مزید اختیارات کی فراہمی پر زور دیا۔ انہوں نے براہِ راست منتخب ایگزیکٹو، پارلیمنٹ کے سامنے جوابدہی اور عدالتی نظام کو مزید مضبوط بنانے کی بات کی۔ سابق وزیر قانون اگنی پرساد کھریل نے حکومتی نظام کے بارے میں واضح سیاسی مؤقف کی ضرورت پر زور دیا اور مقامی حکومتوں کو مزید بااختیار بنانے اور شمولیت کو آئین کی بنیاد کے طور پر برقرار رکھنے کی حمایت کی۔ آئین ساز اسمبلی کے رکن سریش آلے مگر نے مکمل متناسب نمائندگی کے انتخابی نظام کی حمایت کی، جبکہ رکن پارلیمنٹ پرشورام تامانگ نے مدھیسی، مسلم اور آدیواسی طبقات کے مسائل کو آئینی ترمیم کے مباحث میں شامل کرنے پر زور دیا۔ سابق قانون سیکرٹری راجیو گوتم نے حکومتی نظام کی وضاحت، آئینی کمیشنوں کی تعداد پر نظرثانی اور قانون سازی کے عمل کو مزید مؤثر بنانے کی ضرورت پر زور دیا۔ٹاسک فورس کے سربراہ اسیم شاہ نے کہا کہ آئین کے نفاذ کے 10 سال بعد بڑھتی ہوئی سیاسی بحث اور نئی نسل (Gen Z تحریک) کی جانب سے بدعنوانی کے خاتمے اور اچھی حکمرانی کے مطالبات نے آئینی ترمیم کی ضرورت کو اجاگر کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ماہرین کی آراء مباحثاتی دستاویز کی تیاری میں اہم کردار ادا کریں گی۔
