نیپال امن و امان کا بہترین گہوارہ
محمد رضوان احمد مصباحی
نمائندہ : نیپال اردو ٹائمز
ـــــــــــــــــــــــــــــــ
حالیہ دنوں دھنوشا ضلع میں پیش آئے افسوسناک واقعہ کے بعد اگرچہ ملک کے بعض حصوں میں وقتی طور پر کشیدگی دیکھی گئی، تاہم نیپال کے ہندو اور مسلمان امن پسند شہریوں نے جس دانش مندی، بردباری اور بھائی چارگی کا مظاہرہ کیا، وہ نہ صرف قابلِ ستائش ہے بلکہ ملکی اتحاد و سالمیت کے لیے ایک روشن مثال بھی ہے۔
دھنوشا، بیرگنج اور دیگر حساس علاقوں میں حالات بگڑنے کے خدشات کے باوجود دونوں مذاہب کے معزز علماء، سماجی رہنماؤں، نوجوانوں اور دانشور طبقے نے فوری طور پر صلح پسندانہ اقدامات اٹھاتے ہوئے عوام سے صبر، تحمل اور قانون کی پاسداری کی اپیل کی۔ کئی مقامات پر مشترکہ امن کمیٹیاں قائم کی گئیں، جن میں ہندو اور مسلم نمائندوں نے مل کر حالات کو معمول پر لانے میں اہم کردار ادا کیا۔
دھنوشا اور بیرگنج میں ہندو-مسلم مشترکہ اجلاس منعقد ہوئے، جہاں مذہبی رہنماؤں نے ایک دوسرے کے جذبات کا احترام کرنے اور شرپسند عناصر سے ہوشیار رہنے کی تلقین کی۔ بعض علاقوں میں امن مارچ بھی نکالے گئے جن میں دونوں برادریوں کے افراد نے ہاتھوں میں پلے کارڈ اٹھا رکھے تھے جن پر“امن ہی نیپال کی پہچان ہے”
اور "نفرت نہیں، بھائی چارگی”
جیسے نعرے درج تھے۔
قابلِ ذکر بات یہ ہے کہ نیپال کے نوجوان طبقے نے سوشل میڈیا پر بھی ذمہ داری کا ثبوت دیا۔ اشتعال انگیز مواد سے گریز کرتے ہوئے انہوں نے امن، بھائی چارگی اور اتحاد کے پیغامات عام کیے، جس سے افواہوں اور غلط فہمیوں کے پھیلاؤ کو روکنے میں مدد ملی۔. امن پسند شہریوں نے مقامی انتظامیہ اور سیکیورٹی اداروں کے ساتھ مکمل تعاون کیا۔ عوامی نمائندوں نے واضح کیا کہ نیپال ایک کثیر مذہبی اور کثیر ثقافتی ملک ہے جہاں باہمی احترام اور رواداری ہی ترقی کی بنیاد ہے۔
مبصرین کے مطابق، حالیہ حالات میں ہندو-مسلم اتحاد کا یہ مظاہرہ اس بات کا ثبوت ہے کہ نیپال کی اکثریت تشدد اور نفرت کے بجائے امن، مکالمے اور بھائی چارگی پر یقین رکھتی ہے۔ یہی جذبہ ملک کو مستقبل میں ایسے چیلنجز سے نمٹنے کی طاقت فراہم کرے گا۔
آخر میں دونوں مذاہب کے رہنماؤں نے مشترکہ بیان میں اس عزم کا اعادہ کیا کہ نیپال میں مذہبی ہم آہنگی کو ہر قیمت پر برقرار رکھا جائے گا اور کسی بھی صورت میں شرپسند عناصر کو اپنے مقاصد میں کامیاب نہیں ہونے دیا جائے گا۔ حالانکہ کچھ ابھی بھی اس کو ہوا دینے کی کوشش میں لگے ہوئے ہیں ۔ اللہ تعالیٰ تا قیام قیامت اس ملک امن و امان اور سکون و شانتی قائم و دائم رکھے آمین ۔
