حضور سیدنا خواجہ معین الدین حسن چشتی اجمیری علیہ الرحمۃ اشاعتِ دین اور خداداد روحانی تصرفات کے آئینے میں
مفتی قاضی فضل رسول مصباحی
استاذ دارالعلوم اہل سنّت قادریہ سراج العلوم برگدہی مہراج گنج یوپی
اسلامی تاریخ کی روحانی روایت میں بعض نفوسِ قدسیہ ایسے ہوتے ہیں جن کی ذات محض ایک عہد کی ترجمان نہیں رہتی بلکہ فکری، اخلاقی اور روحانی سطح پر آنے والی نسلوں کے لیے معیار بن جاتی ہے۔ برصغیر ہند کی دینی تاریخ میں حضور سیدنا خواجہ معین الدین حسن چشتی علیہ الرحمۃ کی شخصیت اسی ہمہ گیر تاثیر کی حامل ہے۔ آپ کا مقام صرف ایک صوفی، داعی یا مصلح کا نہیں بلکہ ایک ایسے روحانی معمار کا ہے جس نے دعوتِ اسلام کو اخلاق، فقر ، انسان دوستی اور مودت دینی کے پائدار اصولوں پر استوار کیا۔
برصغیر کا پس منظر اور دعوتی حکمت:
٠ جس زمانے میں خواجۂ ہند علیہ الرحمۃ نے اجمیر کی سرزمین کورشد و ہدایت کامرکز بنایا، وہ عہد فکری اضطراب، سماجی تفریق اور مذہبی بے یقینی کا دور تھا۔ ایسے ماحول میں آپ نے جو دعوتی منہج اختیار کیا وہ قرآنی حکمت اور نبوی اسوہ کا عملی نمونہ تھا۔ آپ نے معاشرے کے کمزور طبقات کو اپنی توجہ کا مرکز بنایا اور یہ باور کرایا کہ اسلام طاقت کا نہیں بلکہ رحمت اور عدل کا دین ہے۔ آپ کی خانقاہ نہ صرف اہلِ سلوک کے لیے جائے پناہ تھی بلکہ معاشرتی ودینی اصلاح کا ایک ہمہ جہت ادارہ بھی تھی، جہاں علم، اخلاق اور خدمتِ خلق کو یک جا کر کے پیش کیا جاتا تھا۔ یہی ہم آہنگی آپ کی دعوت کی سب سے بڑی قوت تھی۔
تصوفِ چشتی: شریعت، طریقت اور حقیقت کا امتزاج:
٠ خواجہ معین الدین چشتی علیہ الرحمۃ کا تصوف شریعت سے ہم آہنگ، سنت سے وابستہ اور حقیقت سے معمور تھا۔ آپ نے اس تصور کی جڑ کاٹ دی کہ تصوف محض وجدانی کیفیات یا ماورائی مظاہر کا نام ہے۔ آپ کے نزدیک تصوف دراصل تزکیۂ نفس، اطاعتِ الٰہی اور خدمتِ خلق کا جامع نظام تھا۔ یہی سبب ہے کہ آپ کے فیض یافتہ افراد معاشرے کے لیے مفید، متوازن اور باکردار ثابت ہوئے۔
روحانی تصرفات: مقصدیت اور اعتدال:
٠ اللہ تعالیٰ نے آپ کو جو خداداد روحانی تصرفات عطا فرمائے، وہ آپ کی دعوت کے معاون تو تھے مگر محور کبھی نہ بنے۔ آپ کی کرامات کا ظہور بھی اسی وقت ہوا جب وہ اصلاحِ خلق اور تقویتِ ایمان کا سبب بنیں۔ آپ نے ہمیشہ اخفا، انکساری اور فقر کو اختیار کیا اور کرامت کو ولایت کا معیار بنانے سے اجتناب فرمایا۔ یہ رویہ دراصل اکابرِ اہلِ سنت کے متفقہ منہج کی نمائندگی کرتا ہے۔
انسان دوستی,مودت دینی اور آفاقی پیغام
حضور خواجۂ ہند علیہ الرحمۃ کی تعلیمات کا سب سے نمایاں پہلو آپ کی آفاقی انسان دوستی بمقصد تبلیغ اسلامی ہے۔ آپ کے نزدیک انسان کی قدر و منزلت اس کے منصب یا نسب سے نہیں بلکہ اس کی انسانیت سے متعین ہوتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آپ کی مجلس میں ہر شخص کو عزت اور احترام میسر آتا، اور یہی طرزِ عمل اسلام کی حقانیت کا سب سے مؤثر تعارف بنا۔ سلسلۂ چشتیہ کی فکری تشکیل آپ کی قائم کردہ روحانی روایت، یعنی سلسلۂ چشتیہ، برصغیر میں اسلامی فکر و تہذیب کی تشکیل میں بنیادی کردار ادا کرتی ہے۔ اس سلسلے نے علمائے ظاہر اور صوفیائے باطن کے درمیان ایک صحت مند توازن پیدا کیا اور اسلام کو اس کی اصل روح کے ساتھ عوام تک پہنچایا۔ یہی وجہ ہے کہ چشتی روایت نے دلوں میں گھر کیا اور صدیوں تک زندہ و تابندہ رہی۔
عصرِ حاضر میں معنویت:٠
آج جبکہ دنیا مذہب بیزاری، فکری انتشار اور اخلاقی زوال سے دوچار ہے، حضور خواجہ معین الدین چشتی علیہ الرحمۃ کا پیغام ایک مؤثر فکری و روحانی علاج کی حیثیت رکھتا ہے۔ آپ ہمیں یہ سبق دیتے ہیں کہ اصلاحِ معاشرہ کا راستہ طاقت، تصادم یا نفرت سے نہیں بلکہ اخلاق، حکمت اور محبت سے ہو کر گزرتا ہے۔
نتیجہ:
٠ یہ حقیقت روزِ روشن کی طرح عیاں ہے کہ حضور سیدنا خواجہ معین الدین حسن چشتی علیہ الرحمۃ محض ایک دینی بزرگ ہی نہیں بلکہ ایک مستقل دعوتی، فکری اور روحانی مکتب ہیں۔ آپ کی زندگی، تعلیمات و تحریکات اور روحانی تصرفات سب کا مرکز انسان کو خدا سے جوڑنا اور معاشرے کو عدل و اخلاق سے آراستہ کرنا ہے۔ اگر آج بھی ہم اس پیغام کو سمجھ لیں تو فرد اور سماج دونوں کی اصلاح ممکن ہے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں خواجۂ ہند علیہ الرحمۃ کے فیوض و برکات سے حقیقی حصہ عطا فرمائے اور ان کے پیغامِ محبت و ہدایت کو عام کرنے کی توفیق دے۔ آمین۔
