الحاد اور اس کا سدباب
رشحات قلم: قیصر رحمانی جماعت خامسہ
انسان جب اپنی عقل کو خالق کائنات سے آزاد سمجھنے لگتا ہے تو وہ راہ حق سے بھٹک جاتا ہے یہی بھٹکنا الحاد کہلاتا ہے الحاد عربی زبان کا لفظ ہے جس کا معنی ہے انحراف کرنا، راستے سے ہٹ جانا الحاد کو انگریزی میں (ATHEISM) کہتے ہیں جس کا مطلب لادینیت اور لا مذہبیت ہے-
اصطلاحی معنی میں الحاد اس فکر کا نام ہے جس میں خدا اور مذہب کا کوئی تصور نہ ہو نہ مذہب کی بنیاد پر وارد ہونے والے جزا اور سزا کا کوئی تصور ہو اس نظریے کے پیروکار کو ملحد، مادہ پرست اور انگریزی میں (ATHEIST) کہتے ہیں ماہرین سماجیات کے عالمی مطالعہ کے جائزے کے مطابق پوری دنیا میں ایک عرب ملحد پائے جاتے ہیں-
بعض لوگوں کا خیال ہے کہ الحاد ایک نئی فکر اور نئی سوچ ہے جس کا ظہور جدید سائنسی انقلاب میں پیدا ہوا ہے بالخصوص چارلس ڈارون (CHARLES DARWIN)
کے نظریہ ارتقا کے ظہور کے بعد الحادی فکر دنیا میں عام ہوئی لیکن یہ کسی صورت درست نہیں کیونکہ الحاد کی تاریخ مذہب کی تاریخ کی طرح بہت قدیم ہے یہ الگ بات ہے کہ الحاد کے اسباب ہر دور میں مختلف رہے ہیں یہ فرقہ اس وقت ظہور میں آیا جب اسلام ترقی کے منازل طے کر رہا تھا تو دشمنان اسلام یہود و نصاری کی کوشش سے یہ فرقہ قائم کیا گیا تاکہ لوگوں کو اسلام قبول کرنے سے روکا جائے اور جو قبول کر چکے ہیں ان کے دلوں میں شکوک و شبہات پیدا کیے جائیں اس لیے کہ مسلمانوں نے یہود و نصاری کو بہت سی جنگوں میں شکست فاش سے دوچار کیا تھا صلیبی جنگوں جیسی بڑی تخریبی کاروائیوں کے باوجود مسلم اقوام میں کبھی تذبذب اور جذبہ شکستگی کا احساس تک پیدا نہ ہوا بلکہ ہر میدان میں ثابت قدمی کا ثبوت پیش کیا-
جب ملحدین نے دیکھا کہ اسلام کے چاہنے والوں پر اس کا کوئی اثر نہیں ہو رہا ہے تو انہوں نے بڑی چالاکی سے فکری الحاد کی راہ اختیار کی اور ہوشیاری سے دنیوی تعلیم کے بڑے ادارے قائم کیے جن میں سیکولرزم جیسا خوبصورت نام رکھ کر الحاد کو پروسا گیا لوگ اعلی تعلیم کے نام پر ان اداروں میں جاتے رہے اور انجانے میں الحاد کا شکار ہوتے رہے ساتھ ہی مرد و زن کی مخلوط تعلیم کا سلسلہ بھی شروع کیا تاکہ نفس کے پجاری اس جال سے نکل ہی نہ سکے ہماری آنکھیں اس امر کی گواہ ہیں کہ اعلی تعلیم کے نام پر جو ادارے قائم کیے گئے انہوں نے الحاد کو گھر گھر تک پہنچایا-
اس ماڈرن زمانے میں وہ تمام افراد جو گناہ کرنے کی آزادی چاہتے ہیں جس کی اجازت مذہب انہیں ہرگز نہیں دے سکتا تو ایسے افراد بھی الحاد اور لادینیت کا سہارا لے کر اپنی ناجائز خواہشات کو پورا کرتے ہیں کیوں کہ اگر دین کو گلے کا پھندا بنائیں گے تو دین جن باتوں سے روکتا ہے ان سے باز رہنا پڑے گا اور جن باتوں کا حکم دیتا ہے اسے
مکمل کرنا ہوگا اور الحاد ان تمام چیزوں سے بے نیاز کر دیتا ہے جو آپ کا دل کرے کرتے جائیں کوئی بندش نہیں کوئی روکنے اور ٹوکنے والا نہیں اگر دین کو مانیں گے تو دین کے احکام کو بھی ماننا پڑے گا جو کہ من مانی کی راہ میں بڑی رکاوٹ ہے چنانچہ رب لم یزل ارشاد فرماتا ہے:
كنتم خير امة اخرجت للناس تامرون بالمعروف وتنهون عن المنكر وتؤمنون بالله (آل عمران)
ترجمہ: تم بہتر ہو ان سب امتوں میں جو لوگوں میں ظاہر ہوئیں بھلائی کا حکم دیتے ہو اور برائی سے منع کرتے ہو اور اللہ تعالی پر ایمان رکھتے ہو-
الحاد لوگوں کے اندر یا تو دین اسلام سے بغض و عداوت کی وجہ سے آتا ہے یا جاہ و حشمت کی وجہ سے آتا ہے لہذا: الحاد کے سد باب کے لیے بھرپور طریقے سے کوئی ایسی تحریک چلائی جائے جو صرف مساجد و مدارس تک ہی محدود نہ رہے بلکہ کالج اور یونیورسٹیوں کے کونے کونے تک پہنچے طلباء و طالبات کو اکابر امت کی مختصر اور مؤثر کتابیں پڑھائی جائیں تاکہ ان کے دلوں میں اسلام کی حقانیت مستحکم ہو قرآن و حدیث کے صحیح تراجم و تفاسیر ہر جگہ
دستیاب کرائیں اگر مخالفین کے پاس سوشل میڈیا جیسے ذرائع ہیں تو ہمارے پاس بھی ممبر و محراب مساجد و مدارس اور خانقاہیں موجود ہیں صرف جمعہ کے خطبوں میں اصلاح امت کی سچی دعوت دی جائے تو لاکھوں دلوں تک پیغام حق پہنچایا جا سکتا ہے جیسے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کرام کو کتاب و حکمت سکھائی ویسے ہی آج کے تعلیمی اداروں میں دینی اور عصری تعلیم کا حسین امتزاج پیدا کیا جائے تاکہ نئی نسل کو ایمان، علم اور اخلاق کے ذریعے الحاد کے سیلاب سے محفوظ رکھا جا سکے-
غلط روی سے منازل کا بعد بڑھتا ہے
مسافروں روش کارواں بدل ڈالو
سفینہ اب بھی کنارے پہ لگ تو سکتا ہے
ہوا کے رخ پہ چلو بادباں بدل ڈالو
متعلم: جامعہ اشرفیہ مبارک پور
