Feb 7, 2026 10:48 AM Asia/Kathmandu
ہمیں فالو کریں:
فقیہ ملت اور انجمن اساتذہ کا قیام

فقیہ ملت اور انجمن اساتذہ کا قیام

21 Nov 2025
1 min read

فقیہ ملت اور انجمن اساتذہ کا قیام

از اشتیاق احمد خان رضوی مصباحی امجدی

فاضل جلیل حضرت مولانا مفتی ازہار احمد صاحب قبلہ مصباحی ازہری

السلام عليكم ورحمة المولى تعالى

مزاج ہمایوں!

عرس فقیہ ملت میں شرکت کا دعوت نامہ تینوں بھائیوں کے موبائل سے دستیاب ہوا،انشاء المولی تعالی حاضری کا شرف حاصل کروں گا،مجھے جہاں تک یاد ہے کہ آج استاذ گرامی حضور فقیہ ملت علیہ الرحمہ کے وصال کو سترہ سال ہو رہے ہیں،بلا ناغہ ہر عرس میں میری حاضری رہی،یہ حضور کا فیض ہی ہے ورنہ اتنی پابندی ہم جیسے لوگوں سے متوقع نہیں۔ریاض الصالحین کی شرح پڑھ کر بہت خوشی حاصل ہوئی،کتب حدیث کی جو شروحات اردو زبان میں میں نے دیکھی ہیں،ان میں آپ کی شرح کا انداز منفرد المثال ہے۔طلاق ثلاثہ پر مشتمل مضمون بھی  پڑھنے کو ملا ماشاء اللہ بہت عمدہ ہے،آپ کے ان دینی و علمی کاموں سے حضور فقیہ ملت کی روح مبارک قبر میں یقینا مسرور ہو رہی ہوگی۔مولا تعالی آپ کو مزید دینی خدمات کی توفیق بخشے اور آپ کو استاذ گرامی حضور فقیہ ملت کا سچا جانشین بنا کر مادر علمی کو عروج و ارتقاء کی منزل پر پہنچانے کی توفیق بخشے،

آپ نے انجمن اساتذہ کے حوالے سے کچھ لکھنے کو کہا تھامیں نے اپنی علمی کم مائیگی کے باوجود چند لائنیں کج مج تحریر کر دی ہیں 

گر قبول افتد زہے عز و شرف 

روانہ کرنے میں تاخیر کا سبب کچھ مصروفیات رہیں اور زیادہ حصہ تساہلی کا ہے،اس لیے معذرت خواہ ہوں آئیندہ خیال رکھوں گا،بقیہ حالات بہتر ہیں۔برادر گرامی حضرت علامہ مفتی ابرار احمد صاحب قبلہ دام ظلہ اور والدہ ماجدہ کو السلام علیکم۔

فقط والسلام اشتیاق احمد مصباحی 

31/01/18

فقیہ ملت اور انجمن اساتذہ کا قیام :

اس خاک دان گیتی پر بے شمار شخصیات جلوہ گر ہوئیں اور منازل زیست طے کرنے کے بعد پیوند خاک ہو گئیں، اس جہان فانی سے ان کے

رحلت کر جانے کے بعد زمین نے ان کی عزت و دولت اور جاہ و حشمت کو اپنے سینے میں روپوش کر لیا۔ ان کی یادوں کے نقوش لوگوں کے قلوب و اذہان سے مٹ چکے ہیں،مگر اسی کرہ ارض پر کچھ بر گزیدہ اور نادر ۂروزگار شخصیتیں بھی تو لد پزیر ہوئیں ‍ جنہوں نے اپنی پوری زندگی اللہ و رسول کی خاطر وقف کر دی تھی،حوادثات زمانہ بھی انہیں نہ مٹا سکے وہ آج بھی مہ کامل کی طرح روشن و تابندہ ہیں۔

انہیں یگانہ روزگار شخصیتوں میں ایک انتہائی قد آور شخصیت حضور فقیہ ملت حضرت علامہ مفتی جلال الدین احمدا مجدی قدس سره العلیم القوی کی ہے۔ یقینا آپ کی ذات بابرکات ملت اسلامیہ کے لیے ایک بے مثال نعمت تھی مولی تبارک و تعالی نے آپ کو گونا گوں فضائل و کمالات سے نوازا تھا۔ علم و فضل ، خشیت ربانی ،زہد و ورع اور اتباع شریعت میں یگانہ عصر تھے۔ اسلام و سنیت کی نشر و اشاعت اور دین مصطفوی کی تبلیغ و ترویج مقصد زندگی تھا، حق گوئی و بے باکی میں اپنی الگ شناخت رکھتے تھے۔ آپ کے دل میں مذہب و مسلک کا سچا درد وکرب تھا، قوم کی زبوں حالی ،جہالت کی تاریکی اور بڑھتی ہوئی بد عقیدگی کو دیکھ کر مضطرب ہو جاتے تھے اور اس کے دفع کے لیے شب و روز کوشاں رہتے تھے۔ آپ نے تقریر ،تدریس،تصنیف، تالیف،افتا اور قضاءوغیرہ مختلف جہات سے دین متین کی گراں قدر خدمات انجام دی ہیں ۔ اس مختصر سے مضمون میں آپ کی جملہ خدمات جلیلہ کا تفصیلی احاطہ ممکن نہیں اور نہ ہی یہ میرا عنوان ہے۔ مجھے تو صرف اور صرف یہ بتانا ہے کہ حضور فقیہ ملت علیہ الرحمہ نے انجمن اساتذہ کے قیام کی تحریک کب اور کس مقصد کے لیے چلائی ۔ انجمن اساتذہ کا قیام : حضور فقیہ ملت علیہ الرحمہ خود بھی نائب رسول کی حیثیت سے پوری زندگی  خدمت دین میں مصروف عمل رہے اور اپنے تلامذہ نیز دوسرے علما کو بھی نائب رسول کی صورت میں دیکھنے کے متمنی تھے ، آپ اکثر

فرماتے تھے کہ ہر عالم کو اپنے علم کے مطابق حتی الوسع دین کی خدمت کرنی چاہیے، اگر مضمون نگار ہے تو اپنا مضمون ماہناموں میں شائع کرائے، مصنف ہے تو کتابیں لکھے اگر اس کی  صلاحیت نہیں ہے تو علمائے اہل سنت کی کتابیں خرید کر مفت تقسیم کرے۔ الحاصل حضور فقیہ مات علیہ الرحمہ اہل سنت و جماعت کے فروغ و استحکام  میں خوب سر گرم عمل رہے، ان کی مسلکی حمیت کا اندازہ اس بات سے بھی بخوبی لگایا جا سکتا ہے کہ انہوں نے اپنی عمر کے آخری دور میں اسلام و سنیت کی نشر و اشاعت کے لیے انجمن اساتذہ کے قیام کی تحریک چلائی اور اس دور میں آپ کی ملاقات جب کسی دار العلوم کے مدرس سے ہوتی تو آپ اس کے سامنے انجمن اساتذہ کے قیام کا تذکرہ ضرور کرتے اور اسے بھی انجمن قائم کرنے کا مشورہ دیتے ۔ اللہ تبارک و تعالی کے فضل و کرم اور حضور نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے طفیل آپ کی یہ مخلصانہ کوشش بار آور ہوئی اور مادر علمی مرکز تربیت افتا دار العلوم امجدیہ اہل سنت ارشد العلوم،اوجھا گنج ،بستی کے علاوہ بعض دوسرے مدارس میں بھی انجمن اساتذہ قائم ہوئی۔

چنانچہ حضور فقیہ ملت علیہ الرحمۃ و الرضوان اپنے تلمیذ حضرت مولانا طیب علی  فیضیاور مولانا اکبر علی صاحبان مدرسہ فیض العلوم فاضل نگر کشی نگر (یوپی) کو انجمن اساتذہ کے قیام کی طرف اشارہ کرتے ہوئے یوں فرماتے ہیں۔ ''مولانا اب تو آپ لوگوں کی تنخواہ خاطر خواہ ہوگئی ہے۔ آپ لوگ پڑھاتے ہیں تنخواہ پاتے ہیں لہذاثواب کے حصول کے لیے کوئی ذریعہ بنائے چنانچہ کچھ دیر خاموشی کے بعد آپ نے طریقہ بتایا کہ فرض کیجئے کہ اسٹاف میں کل پندرہ لوگ ہیں دو دو سو روپیہ ہرماه جمع کیجئے ایک ماہ میں تین ہزار روپیہ جمع ہوگا اس پیسے سے دینی کام کیجئے مثلا کوئی طالب علم غریب ہے اس کے لیے عمدہ تعلیمی بندو بست کیجئے، لائبریری میں کسی کتاب کی ضرورت ہے، موجود نہیں ہےاسے خریدئے ،علاقے کے اعتبار سے اعلیٰ حضرت کے کسی رسالہ کے اشاعت کی ضرورت ہےاشاعت کیجئے"(مکتوبات فقیہ ملت  ص:۲۱۴)

اور مجھ بے مایہ علم کو جب حضور فقیہ ملت نے دینی خدمات کے لیے علاقہ بندیل کھنڈ کی مرکزی درس گاہ دار العلوم جماعتیہ طاہر العلوم چھتر پور ( ایم پی بھیجا تو روانہ ہوتے وقت یہ حکم دیا تھا کہ انجمن اساتذہ ضرور قائم کرنا۔ جب میں چھتر پور پہنچ گیا اور کچھ دن بعد دار العلوم کے احوال و کوائف سے متعلق ایک خط حضور والا کی خدمت اقدس میں روانہ کیا تو آپ نے اس کے جواب میں بھی انجن اساتذہ کے قیام کی تاکید فرمائی ۔ چنانچہ رقم طرازہیں:  " اساتذہ کی میٹنگ کر کے انجمن اساتذہ دار العلوم جماعتیہ طاہر العلوم ضرور قائم کریں اور ہر مہینہ سارے اساتذہ  فی سیکڑہ اپنے مشاہرہ میں سے چندہ ضرور دیں۔ جب کچھ رقم جمع ہو جائے تو اس انجمن کی طرف سے کوئی اشتہار شائع کیا جائے مگر کسی صاحب مضمون کا اپنے لوگوں میں سے نام نہ رہے۔ کسی بزرگ کا مضمون ہو تو ان کا نام ضرور رہے" (مکتوبات فقیہ ملت ص:۱۳۷)

 جب حضور والا کاگرامی نامہ موصول ہوا تو میں نے دارالعلوم کے ناظم اعلیٰ حضرت مولانا محمد عزیز الدین نوری دام ظلہ اور اساتذہ کرام کے 

درمیان یہ بات رکھی تو بفضلہ تعالی سب لوگوں نے بخوشی منظوری دیدی اور فروری ۲۰۰۱ء میں انجمن اساتذہ قائم ہوگئی۔ میں نے خط کے ذریعہ جب انجمن کے قیام کی اطلاع حضور کو دی تو آپ نے بڑی مسرت و شادمانی کا اظہار فرمایا۔ چنانچہ جوابی خط میں یوں رقم طراز ہیں : "انجمن اساتذہ دار العلوم جماعتیہ قائم ہوگئی اس خبر سے بڑی مسرت ہوئی، اس کی جانب سے جو اشتہار شائع ہو اس کا مضمون کوئی بھی بنائے مگر اشتہار میں اس کا نام نہ ہو ورنہ دیگر اساتذہ میں حسد پیدا ہو جائے گا اور کچھ دنوں بعد انجمن ختم ہو جائے گی "۔(مکتوبات فقیہ ملت ص:۱۳۹)

انجمن اساتذہ دارالعلوم جماعتیہ طاہر العلوم کے جملہ ارکان و ممبران نے چندہ وصولنے اور اسے رکھنے کی ذمہ داری مجھ نا چیز کو سونپی، ہر ماہ پابندی کے ساتھ چندے وصول کر کے جمع رکھتا جب تقریبا پانچ یا چھ ہزار روپے جمع ہو گئے تو ممبران نے باہمی مشورہ کے بعد یہ طے کیا کہ حضور جلالۃ العلم حافظ ملت علیہ الرحمۃ والرضوان بانی الجامعۃ الاشرفیہ مبارک پور اعظم گڑھ کی تصنیف کردہ کتاب "عقائد علمائے دیوبند" ہندی زبان میں شائع کرکے چھتر پور اور اس کے اطراف میں مفت تقسیم کی جائے۔ چنانچہ ایسا ہی ہوا، جب کتاب لوگوں تک پہنچی تو کثیر افراد نے بہت پسند کیا اور یہ تاثر پیش کیا کہ اس کتاب کے مطالعہ سے ہمارا ایمان و عقیدہ اور پختہ ہو گیا ہے ۔ اس کے علاوہ وقتاً فوقتاً ضرورت کے مطابق پوسٹر و پمفلٹ کی اشاعت ہوئی جس کے اچھے نتائج سامنے آئے۔

۲۰۰۵ءمیں جب میں اپنے مخدوم زادگان کی طلب پر مادر علمی مرکز تربیت افتادینی خدمت کے لیے چلا گیا تو چند ماہ بعد انجمن اساتذہ دار العلوم جما عتیہ کا کام بند ہو گیا اور آج بھی وہ تعطل کا شکار ہے ۔ مولا تبارک و تعالٰی اس کی نشاۃ ثانیہ کے اسباب پیدا فرمائے اور جن مدارس میں اب تک انجمن اساتذہ کا قیام نہیں ہوا ہے وہاں کے اساتذہ کرام کو انجمن قائم کرنے اور اس کے ذریعہ دینی خدمات انجام دینے کی توفیق رفیق بخشے۔

از اشتیاق احمد خان رضوی مصباحی امجدی

 دار العلوم جماعتیہ طاہر العلوم چھتر پور(ایم پی)

 

 

Abdul Jabbar Alimi

عبدالجبار علیمی نظامی نیپالی۔

چیف ایڈیٹر نیپال اردو ٹائمز 8795979383