خانقاہ حافظ روشن علی شاہ کے زیرِ اہتمام علماء کو خود کفیل بنانے کا مشاورتی اجلاس کامیاب
ائمہ و مدرسین کی تنخواہیں بقدرِ کفایت ہونی ضروری :مفتی کمال احمد علیمی
نیپال اردو ٹائمز
پریس ریلیز
سنت کبیر نگر
(اخلاق احمد نظامی)
شہر پنچایت بکھرا بازار میں واقع خانقاہ حضرت حافظ روشن علی شاہ علیہ الرحمہ لیڈوامہوا امرڈوبھا کے زیر اہتمام منگل کو روشن جامع مسجد میں مجلس مشاورت علمائے اہلسنت بستی ،سنت کبیر نگر کا ایک مشاورتی اجلاس منعقد ہوا جس میں علمائے کرام کو خود کفیل بنانے اور ان کے وقار میں مزید اضافہ کرنے کے تحت علماء،مشائخ اور مسلم دانشوران نے کھل کر اپنی بات رکھی
مرکزی درسگاہ دارالعلوم علیمیہ جمداشاہی بستی کے سینئر استاذ شیخ الادب فضیلتہ الشیخ مولانا مفتی کمال احمد علیمی نظامی نے اپنی بات رکھتے ہوئے کہا کہ ائمہ مساجد اور دینی مدارس کے مدرسین کی تنخواہیں بقدرِ کفایت ہونی ضروری ہے مگر آج کل بیشتر مدارس و مساجد میں رائج تنخواہیں کسی بھی اعتبار سے قدرِ کفایت کی تعریف پر پورا نہیں اترتی انہوں نے کہا کہ مدارس و مساجد کی زینت و آرائش پر لاکھوں روپے خرچ کردئے جاتے ہیں مگر ہماری قوم کے ذمہ داران کو اتنی توفیق نہیں ہوتی کہ اساتذہ و ائمہ کی تنخواہوں کے بارے میں بھی سوچ بچار کریں کہ کس طرح ایک مدرس اور امام انتہائی قلیل تنخواہ پر گزر اوقات کرنے پر مجبور ہوتا ہے۔
مولانا مفتی علیمی نے کہا کہ ہم نے ملک کی مختلف ریاستوں کے شہروں اور علاقوں کے مدارسِ و مساجد کے بارے میں ایک معلوماتی جائزہ لیا اور اپنے احبابِ دینی سے ان کے شہروں اور علاقوں کے اساتذہ و ائمہ کی تنخواہوں اور مراعات کے بارے میں رائج عرف دریافت کیا تو جو کچھ نتیجہ سامنے آیاوہ انتہائی تکلیف دہ ہے شہری علاقوں میں اساتذہ مدارس و ائمہ مساجد کی اوسطا تنخواہ 5 ہزار سے 10 ہزار ہوتی ہے، گاؤں دیہات کی صورتحال اس سے بھی ابتر ہے مولانا مفتی علیمی نے کہا کہ جو تنخواہیں ہمارے یہاں رائج ہے وہ اس قدر نہیں ہے کہ جس کے بل بوتے اساتذہ و امام اپنا گھر بار چلاسکیں مجبورا اساتذہ و ائمہ ٹیوشن کراتے ہیں،گھروں میں جاکر قرآن پڑھتے ہیں اور یوں وہ اپنے فارغ اوقات کو معاشی ضروریات حل کرنے میں صرف کردیتے ہیں۔
مولانا علیمی نے کہا کہ اس صورتحال میں ہم کیسے توقع کرسکتے ہیں کہ علاقائی سطح پر گلی محلوں میں اساتذہ مدارس و ائمہ مساجد قوم کی ذہنی و فکری تربیت کا کام انجام دیں گے جبکہ وہ خود ذہنی و فکری طور پر معاشی مسائل میں گھرے ہوتے ہیں۔
مفتی کمال احمد علیمی نے کہا کہ حقائق کی اس مختصر داستان کے بعد ہم مدارس کے اساتذہ اور ائمہ مساجد کی تنخواہ پر فقہی پہلو میں کلام کرنا چاہتے ہیں اور بتانا چاہتے ہیں کہ معاشرے میں رائج ائمہ مساجد کی غیر معیاری تنخواہ کسی صورت بھی عقل اور شریعت کے مطابق نہیں ہے بلکہ فقہِ اسلامی تقاضا کرتی ہے کہ ائمہ مساجد کی تنخؤاہ کا معیار انکی ضرورت و حاجت کے مطابق ہونا چاہئے
تنظیم علمائے اہلسنت ممبئی کے جنرل سکریٹری و عروس البلاد ممبئی کےمشہور بلڈر مولانا محمد عمر نظامی نے اپنی گفتگو میں کہا کہ کم تنخواہ کی وجہ سے “دینی و دنیوی تعلیم سے آراستہ مذہبی افراد” اس اہم شعبہ کی طرف مائل نہیں ہوتے، جس کے مضر اثرات براہِ راست مسلم قوم پر پڑ رہے ہیں۔
جیسے جو پڑھے لکھے مخلص و محنتی اساتذہ و ائمہ اس شعبہ منسلک ہیں وہ خونِ جگر پی کر اپنا گزر بسر کرتے ہیں گوکہ اپنی زندگی صبر و تحمل سے گزارنے پر راضی ہیں مگر گھر بار کی معاشی ضروریات انہیں سخت قسم کے اعصابی دباؤ سے دوچار رکھتی ہے۔ جو ائمہ و اساتذہ اس شعبہ سے وابستہ ہیں ان میں سے اکثر درس وتدریس و امامت کے ساتھ معاشی ضروریات کے لئے کوشاں رہتے
ہیں نہ مضبوط و وسیع مطالعہ ہوپاتا ہے، نہ اپنی تعلیم کے لئے وقت نکال پاتے ہیں نہ قوم کی اصلاح کے لئے کچھ کرپاتے ہیں، ایسے حالات میں ائمہ و اساتذہ کس طرح علمی و صحت مند مواد قوم کو فراہم کرسکتے ہیں؟ ظاہر ہے 12 ماہ کی تقریروں سے ہی گزارا کرنا پڑتا ہے۔
مولانا نظامی نے کہا کہ آج حالات اس بات کی متقاضی ہے کہ مدارس کے اساتذہ و مساجد کے ائمہ کی تنخواہیں معیاری رکھی جائیں جو کم سے کم قدرِ کفایت ہوں اس سے کم کی کسی طرح بھی گنجائش نہیں ہے۔
مولانا نظامی نے قوم کے ذمہ داران سے گذارش کی کہ وہ چوکیداروں ،چپراسیوں اور باورچیوں کی تنخواہوں کو دیکھیں اور اپنے دل سے سوال کریں اور پوچھیں کہ ائمہ مساجد اور اساتذہ مدارس مخلوقاتِ خداوندی کے کس طبقے میں شمار ہوتے ہیں۔مولانا نظامی نے کہا کہ لاکھوں روپے مسجد کے مینار و محراب بنانے اور سجانے میں خرچ کردیتے ہیں مگر ائمہ کرام کی تنخواہیں بڑھانے پر توجہ نہیں کرتے، سچ پوچھئے تو ہم نے نیکیوں میں بھی اپنی پسند ، ناپسند کو جگہ دی ہوئی ہے ، حال یہ ہے کہ اپنی من پسند نیکیوں سے اللہ کو راضی کرنا چاہتے ہیں اس طرف توجہ نہیں ہوتی کہ شریعت ہم سے اِس وقت کس نیکی کا تقاضا کررہی ہے۔ مولانا نظامی آخر میں اہل ثروت اور مخیر حضرات نیز مسجد کمیٹیوں سے کہا کہ مساجد سجانا اچھا عمل ہے مگر ائمہ مساجد کی خدمت کرنا اور انہیں دینی کاموں کے لئے معاشی فکروں سے آزاد زادکردینا عظیم نیکی ہے مولانا مقصود احمد سبحانی لوہرسنوی نے علمائے کرام کو خود کفیل بنانے کےلیے ایک تنظیم بنانے کا مشورہ دیا ،مولانا محمد مؤنس عالم نظامی گورکھپور نے کہا کہ علماء دینی و تبلیغی کاموں میں حصہ لیتے ہوئے تجارت کو اپنانے پر زور دیں ،مولانا محمد اظہر الدین قادری پچپوکھری بازار نے علماء و ائمہ مساجد کی زبوں حالی دور کرنے کےلئے خصوصی فنڈ یکجا کرنے کی گزارش کی ، مولانا محمد شمیم قادری نوروں نے کہا کہ سب سے بہترین راستہ ہے کہ دوسروں سے توقع رکھنے کے بجائے کم از کم ضلعی سطح پر تنظیم بنا کر سرمایہ اکٹھا کیا جائے تا کہ مجبور و پریشان علماء کی مدد کی جا سکے اس کے لئے میں اپنے لوگوں سے بیس ہزار روپیہ ہر سال ادا کروں گا ، مولانا محمد عمر نظامی نے کہا ہر مدرسے کم سے کم دو تین لاکھ روپے چندے کے طور پر جمع ہوتے ہیں اگر ان روپیوں سے تجارت کی جائے مثلاً مورنگ ،سیمینٹ سریا وغیرہ اور ایک آدمی اس کام کے لیے رکھ لیا جائے تو اس سے کافی منافع ہوسکتاہےآخر میں مشاورتی اجلاس کے روحِ رواں و دارالعلوم قطبیہ اہلسنت روشن العلوم امرڈوبھا کے پرنسپل قاری نثار احمد نظامی نے کہا یہ مشاورتی اجلاس منعقد کرنے کا مقصد علماء کرام کی تنخواہوں میں اضافہ کرنا اور علماء و مشائخ کی آراء کے پیشِ نظر اس پر مستعدی سے کام کرنا ہے تاکہ علمائے کرام اپنی دینی و تعلیمی خدمات کے ساتھ تجارت میں حصہ لے سکیں نیز مدارس و مساجد کے ذمہ داران سے مل کر اساتذہ و ائمہ کی تنخواہوں میں اضافہ کروائیں ساتھ ہی ایک تنظیم بنا کر علماء کی دامے درمے قدمے سخنے مدد کرنا شامل ہے انہوں نے بستی ،سنت کبیر نگر اور گورکھپور اضلاع کے اجلاس میں کثیر تعداد میں علماء کی شرکت پر شکریہ ادا کیا اور خوشی کا اظہار کیا
اس موقع پر مولانا راشد علی نظامی خلیل آباد،مولانا وجیہ الدین قادری مہنداول، مولانا محمد ارشاد مصباحی پکری آراضی ، مولانا علی اکبر نظامی مہدیوا نندور ، مولانا اختر القادری سوائچ پار، مولانا محمد اسمعیل نوری دھرم سنگھوا، مولانا محمد ریاض احمد ، مولانا محمد فیضان نجمی، مولانا غلام غوث قادری ،مولانا محمد سلیم نظامی سعی بزرگ ،قاری نواب علی ، قاری غلامنبی احمد نظامی گلرہا،قاری عبد المعبود قادری ،قاری عبدالقیوم، قاری نبی حسین قادری قاری عزیز الحق قادری ،قاری قمر الزماں قادری ،قاری قمر الدین قادری اور مولانا مجیب الرحمٰن قادری کے علاوہ دیگر علماء ،حفاظ اور مشائخ موجود تھے آخر میں مولانا قاری غلام محی الدین قادری استاذ مرکزی درسگاہ دارالعلوم اہلسنت تنویر الاسلام امرڈوبھا نے 15 طلباء کو قرآن مجید کی آخری چند سورتوں کو پڑھا ان حفظ مکمل کروایا اس دوران حفاظ کرام کی گل پوشی کی گئی اجلاس کا اختتام صلوٰۃ و سلام اور دعا سے ہوا
