حسین الحق معاصر اردو فکشن کا سب سے منفرد و ممتاز نام ہے ۔ پروفیسر شہاب ظفر اعظمی
پریس ریلیز
نیپال اردو ٹائمز
گیا ۱۸ نومبر
:ڈاکٹر آفتاب عالم مطلع کرتے ہیں کہ گذشتہ روز حاجی جمال الدین لائبریری کے زیر اہتمام الحمد پبلک اسکول نگمتیہ روڈ گیا کے وسیع و عریض ہال میں ایک شاندار سیمینار بعنوان ’’ حسین الحق یادوں کے آئینے میں ‘‘ اور ایک شام ’’ فرحت قادری کے نام‘‘ انعقاد زیرِ صدارت پروفیسر عین تابش ، جناب معصوم عزیز کاظمی اور ڈاکٹر سید احمد قادری کی مشترکہ صدارت میں شروع ہوااور نظامت کی ذمہّ داری اردو کے معروف و مشہور افسانہ نگار ڈاکٹر احمد صغیر نے بہ حُسن خوبی ادا کی ، اس سیمینار کی خوبصورتی یہ تھی کہ جلسے میں اردو ادب کے چاند ستاروں کی کہکشاںسجی ہوئی تھی ۔
جلسے کا آغاز تلاوت کلام پاک سے ہوا ۔ اس کے بعد ناظم سیمینار نے استقبالیہ کلمات پیش کرنے کے لئے اس سیمینار کے روح رواں اور ناظم سیمینار و مشاعرہ ڈاکٹر آفتاب عالم کو آواز دی۔ انہوں نے سب سے پہلے حاضرین مجلس کا خیر مقدم اور استقبال کیا اور حاجی جمال الدین لائبریری کا تعارف پیش کیا اور اس کے قیام کے اغراض و مقاصد کا ذکر کرتے ہوئے یہ اعلان کیا کہ اس لائبریری کی جانب سے ہر سال پروفیسر حسین الحق سیمینار و ایوارڈ کا اہتمام کیا جائے گا ۔ مقالہ خوانی کا جب دور شروع ہوا تو سب سے پہلے اردو کے منفرد لب و لہجے کے شاعر پروفیسر اشہد کریم الفت کو ناظم سیمینار نے کلیدی خطبہ پیش کرنے کی دعوت دی ۔ انہوں نے حسین الحق کی شخصیت کے مختلف جہات کو فکر و فن کے کئی زاویوں سے روشن کیا۔
مہمان خصوصی پروفیسر شہاب ظفر اعظمی کو آواز دی گئی ۔ انہوں نے بہت تفصیل سے حسین الحق کے ساتھ اپنے ذاتی مراسم اور ان کے فکر و فن پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ حسین الحق معاصر اردو فکشن کے تنہا قلمکار ہیں جو افسانہ اور ناول دونوں میں یکساں اور ممتاز مقام رکھتے ہیں ۔ کلام حیدری کے بعد حسین الحق نے شہر گیا کو ادبی اعتبار سے وقار بخشا۔ مہمان اعزازی ارشد فیروز چیرمینگورنمنٹ اردو لائبریری نے کیا کہ حسین الحق اردو ناول و افسانے کا ایک بڑا نام ہے ۔ مہمان اعزازی پروفیسر قاسم فریدی نے حسین الحق کے ناول ’’ بولو مت چُپ رہو‘‘ اور ناول ’’فرات‘‘پر روشنی ڈالی۔پرنسپل شمس الاسلام نے کہا کہ حسین الحق ایک اچھے انسان تھے۔گیا کالج کے صدر شعبہ اردو ڈاکٹر عبد الحی نے کہا کہ حسین الحق کی افسانہ نگاری زندگی کے تلخ و شیریں حقائق کا فنی اظہار ہے ۔ ڈاکٹر سمّی اقبال شعبہ اردو مگدھ یونیورسٹی نے حسین الحق کی کہانی ’’ناگہانی‘‘ پر روشنی ڈالی ۔ان کے بعددرجِ ذیل مقالہ نگاروں نے حسین الحق کے فکر و فن پر مقالے پڑھے ۔ ان مقالہ نگاروں کے درمیان صرف ایک مقالہ حسین الحق کے تصوف کے حوالے سے ڈاکٹر منصور فریدی نے پڑھا اور حق ادا کر دیا ۔ڈاکٹر محمد ارمان ،ڈاکٹر شبیر عالم،ڈاکٹر نزہت پروین،معراج غنی نے بھی اپنے اپنے مقالے پیش کئے ۔ اس کے بعد صدارتی دور کی باری آئی ۔ ڈاکٹر احمد صغیر نے حسین الحق کے ساتھ ذاتی تعلقات و مراسم کا ذکر کرتے ہوئے ان کو ایک بڑا افسانہ نگار بتایا ۔ جناب معصوم عزیز کاظمی نے اپنی صدارتی تقریر میں حسین الحق کے ساتھ اپنے دیرینہ تعلقات کا ذکر کیا اور کہا کہ وہ محبت کے فنکار تھے اور آخر میں معروف شاعر اور پروفیسر حسین الحق کے چھوٹے بھائی
پروفیسر عین تابش نے کہا کہ بنیادی طور پر وہ ایک فکشن نگار تھے لیکن اس کے علاوہ بھی ان کے تنقیدی ،فکری اور صوفیانہ پہلوؤں پر گفتگو کرنے کی ضرورت ہے ۔ اس تاریخی اور یادگار سیمینار کے بعد ایوارڈ کا دور شروع ہوا ۔ پروفیسر شہاب ظفر اعظمی اور ڈاکٹر سید احمد قادری کو پروفیسر حسین الحق ایوارڈ بالترتیب پروفیسر قاسم فریدی اور جناب معصوم عزیز کاظمی کے دست مبارک سے پیش کیا گیا ۔ اور فرحت قادری ایوارڈ پروفیسر عین تابش کو معصوم عزیز کاظمی کے دستِ مبارک سے پیش کیا گیا۔ان حضرات کے علاوہ اردو ادب میں نمایاں خدمات کے لئے جناب معصوم عزیز کاظمی ، جناب ارشد فیروز،جناب قاسم فریدی کو خصوصی مومنٹو سے نوازا گیا ۔
اس کے بعد پہلے اجلاس کا اختتام ہوا۔
دوسرا اجلاس زیرِ صدارت پروفیسر عین تابش بعنوان ’’ ایک شام فرحت قادری کے نام‘‘ شروع ہوا جس میں ڈاکٹر تبسم فرحانہ نے اپنے ابّا جناب فرحت قادری کے فکر و فن پر مفصل اظہار خیال کیا اور لائبریری کے صدر جناب مناظر حسن شاہین نے فرحت قادری جیسی اہم اور قابلِ قدر شخصیت گیا میں جنم لیا یہ ہمارے لئے فخر کی بات ہے ۔ یہ ایک معتبر اور مستند شاعر تھے جن کے شاگردوں کی تعداد اچھی خاصی تھی ۔ سید غفران اشرفی نے فرحت قادری پر مختصر روشنی ڈالی ۔ اس کے بعد انور حسین انور ،ڈاکٹر سلطان احمد،مہتاب عالم مہتاب،مسعود گیاوی،بابر جعفری،اقبال اختر دل،شاہد حسن جیک،تبسم فرحانہ،نوشاد ناداں،شاہد نظامی،ڈاکٹر عرفان آصف ،گھائل مانپوری،ہریندر گری شاد،احساس گیاوی،مصباح الدین طارق،عرفانمانپوری،خالق حسین پردیسی،ڈاکٹر آفتاب عالم اطہر،اشراق حمزہ پوری،ڈاکٹر آفتاب عالم سالک،اعجاز مانپوری،ندیم جعفری،اسعد کریم اُلفت،سید غفران اشرفی، مناظر حسین شاہین،عین تابش نے اپنے تازہ ترین کلام سے سامعین کو محظوظ کیا ۔ مشاعرے کے آخر میں اشہد کریم اُلفت کا شعری مجموعہ ’’پانی کے چراغ‘‘ ڈاکٹر تبسم فرحانہ کا دوسرا شعری مجموعہ ’’ افکارِ تاباں‘‘ اور شعاع گیاوی کا دوسرا شعری مجموعہ ’’ کرنوں کا سفر کی رسم اجراء بھی بدست صدر نشیں اور دیگر حضرات عمل میں آئی اور تمام شرکاء نے لائبریری کے صدر مناظر حسن شاہین کو اس قدر خوبصورت اور کامیاب محفل سجانے پر مبارک باد دی اور با لکل آخر میں لائبریری کے سکریٹری جناب نوشاد ناداں نے تمام شرکاء کا شکریہ ادا کرتے ہوئے اس محفل میں شعر و ادب کے اختتام کا اعلان کیا ۔
