Feb 7, 2026 10:48 AM Asia/Kathmandu
ہمیں فالو کریں:
فقیہ ملت اور پردہ

فقیہ ملت اور پردہ

21 Nov 2025
1 min read

فقیہ ملت اور پردہ

از حضرت مولانا قاری شبیر احمد صاحب ٹانڈہ

انسان کو چاہیے کہ اپنے عمل کو درست رکھے اچھی باتوں کی طرف کوشاں رہے  ۔اس لیے اللہ تعالی نے ارشاد فرمایا :  ((اِنَّ اللّٰهَ لَا یُغَیِّرُ مَا بِقَوْمٍ حَتّٰى یُغَیِّرُوْا مَا بِاَنْفُسِهِمْ)) (الرعد:۱۳،آیت:۱۱)

ترجمہ:" بیشک اللہ کسی قوم سے اپنی نعمت نہیں بدلتا جب تک وہ خود اپنی حالت نہ بدل دیں"۔اھ(کنز الایمان)

خدا نے آج تک اس قوم کی حالت نہیں بدلی 

نہ ہو جس قوم کو احساس اپنی حالت کے بدلنے کا 

یہ بات کسی سے پوشیدہ نہیں کہ آج مسلمانوں کی اکثریت ضلالت و گمراہی کے سخت اندھیروں میں گم ہوتی جا رہی ہے ،اورہر ایک آدمی کف افسوس مل رہا ہے؛ اس لیے کہ اصل سرمایۂ زندگی طرح طرح کے گناہوں کے سبب پامال ہو رہا ہے ،یہ دنیاوی دولت وثروت کی طرف شریعت کی راہ پر پردہ ڈالے ہوئے بے خوف و خطر بڑھتا چلا جا رہا ہے ،اورآخرت کی کمائی کمانے کے بجائے لہو ولعب میں مشغول ہو کر اپنی زندگی برباد کر رہا ہے۔ اگر مسلمان عقل سلیم سے کام لے تو با آسانی سمجھ جائے گا کہ وہ ایک تاجر کی سی حیثیت رکھتا ہے ،اور دور حیات اس کی ایک دکان کے مانند ہے اور عمل صالح اس کا ایک قیمتی سودا ہے، اگر یہ اچھا سودا یعنی نیک عمل کی جانب راغب ہوگا تو اس کا خریدار رحمن ہوگا اور اگر سودا اچھا نہیں تو اس کا خریدار شیطان ہوگا۔ رحمن کی جانب سے جنت ملے گی اور شیطان دوزخ میں ڈال دے گا۔ عمل چراغ ہیں راہ ثواب کے لیکن چراغ خود نہیں جلتے جلائے جاتے ہیں ۔آج مسلمان اپنی ظاہری شکل وشباہت سنوارنے اور اسے اچھے سے اچھا بنانے میں مصروف ہے جبکہ باطنی صفائی ظاہری صفائی کے مقابل زیادہ اہم بلکہ وہی معتبر ہے ،اس لیے کہ اللہ تعالی ظاہری بناؤ سنگار کے بجائے دلوں کو دیکھتا ہے، اور اسی کے اعتبار سے بدلہ دیتا ہے ۔

حدیث پاک میں ہے:  "عن ابی هريرة رضی الله عنه قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: ((إن الله لا ينظر إلى أجسادكم۔۔۔الخ" (صحیح مسلم ،کتاب البر والصلة والاداب ،باب تحريم ظلم المسلم ج:۴،حدیث نمبر ۲۵۶۴،ط:  داراحیاء التراث العربی-بیروت)‍‍‍‍‍‍‍‍‍‍‍

             دوسری حدیث شریف  میں ہے: عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ((لاَ تَزُولُ قَدَمُ ابْنِ آدَمَ يَوْمَ القِيَامَةِ مِنْ عِنْدِ رَبِّهِ حَتَّى يُسْأَلَ عَنْ خَمْسٍ، عَنْ عُمُرِهِ فِيمَ أَفْنَاهُ، وَعَنْ شَبَابِهِ فِيمَ أَبْلاَهُ، وَمَالِهِ مِنْ أَيْنَ اكْتَسَبَهُ وَفِيمَ أَنْفَقَهُ، وَمَاذَا عَمِلَ فِيمَا عَلِم))۔ (سنن الترمذی ابواب صفة القيامۃ، باب القيامۃ، ج:۴،ص۶۱۲،حدیث نمبر: ۲۴۱۶ ،ط:شرکۃ مکتبۃ ر مطبعۃ مصطفی البابی الحلبی-مصر)

حضرت ابن مسعود رضی اللہ تعالی عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا (( قیامت کے دن آدمی کو اس وقت تک خدا کے حضور سے پاؤں ہٹانے کی اجازت نہ ہوگی جب تک کہ اس سے پانچ چیزوں کے بارے میں سوال نہ کر لیا جائے۔

 ۱۔ اس نے عمر کس طرح صرف کی ۔

۲۔جوانی کس طرح گزاری۔

 ۳۔ مال کس طرح کمایا ۔

۴۔اور اسے کہاں خرچ کیا ۔

۵۔ اورعلم حاصل کرنے کے مطابق کہاں تک عمل کیا ۔

اس حدیث پاک سے واضح ہو گیا کہ بروز قیامت انسان کی زندگی کے متعلق سوال کیا جائے گا مگر افسوس صد افسوس کہ اس کے باوجود سماج میں بہت ساری برائیاں و خرابیاں موجود ہیں اور کم ہونے کے بجائے برائیوں میں اضافہ ہی ہو رہا ہے ۔اے مسلمانو! اپنی عمر کے قیمتی وقت کو گناہوں سے برباد نہ کرو اور اپنی جوانی کی حفاظت کرو یقینا جوانی کی حفاظت اشد ضروری ہے ۔مال کو جائز طور پر حاصل کرو اور جائز جگہ خرچ کرو ،آج ناجائز طور پر رقم حاصل کرنے کی پوری کوشش ہوتی ہے، اور ناجائز چیزوں میں جھونک دی جاتی ہے۔ اسی طرح تعلیم اسلام سے حد درجہ  بے اعتنائی بڑتی جاتی ہے ، اس پر خرچ کرنے سے گریز کیا جاتا ہے اور دنیاوی علوم حاصل کرنے کرانے کی شدید جدوجہد ہوتی ہے اور ساری رقم اسی علم کےحاصل کرنے میں صرف کر دی جاتی ہے ،اورتعلیم اسلام سے سوتیلا پن برتا جاتا ہے ،جب کہ اللہ تعالی ارشاد فرماتاہے: ((اِنَّ السَّمْعَ وَ الْبَصَرَ وَ الْفُؤَادَ كُلُّ اُولٰٓىٕكَ كَانَ عَنْهُ مَسْـٴُـوْلًا)) (سورۃ بنی اسرائیل:۱۷،آیت:۳۶)  ترجمہ:" بیشک کان اور آنکھ اور دل ان سب سے سوال ہونا ہے"۔ (کنز الایمان )یعنی کان آنکھ اور دل ان سب سے سوال ہونا ہے کہ انہیں کہاں کہاں کیسے کیسے استعمال کیا ۔

اب ہم ایک ایسی شخصیت کے متعلق کچھ ذکر کرنے کی کوشش کرتے ہیں جس نے قرآن و حدیث کے احکام پر نظر و فکر کرتے ہوئے محتاط زندگی گزارنے کی بھرپور کوشش کی اور پھر اس دار فانی سے کوچ کر گیا ،جسے دنیا فقیہ ملت کے نام سے جانتی  وپہچانتی ہے آپ کی زندگی کے مختلف جہات آج کے علماء خصوصا اور عموما عوام کے لیے مشعل راہ  ہدایت ہے ، میں ان کی زندگی کی ایک جہت پردہ کے متعلق مختصر روشنی ڈالنے کی کوشش کرتا ہوں ،ملاحظہ فرمائیں ۔

حضور فقیہ ملت مفتی جلال الدین احمد امجدی علیہ الرحمہ جس طرح مسائل شرعیہ پر دسترس رکھتے تھے اسی طرح آپ مسائل شرعیہ پر بڑی شدت کے ساتھ عمل پیرا بھی رہتے تھے، خود عمل کرنے کے ساتھ ساتھ دوسروں سے بھی عمل کرانے کی پوری پوری کوشش رہتی تھی۔

آج کے اکثر مفتیان کرام صرف نام کے مفتی، نہ ان کا عمل علم کے مطابق ہوتا ہے،نہ اپنے بچوں کو اسلامی تربیت دیتے ہیں نہ گھر کے افراد کو شریعت پر عمل کی تنبیہ کرتے ہیں،نہ ان کے بچے اسلامی لباس میں نظر آتے ہیں انہیں علامہ مفتی فقیہ اعظم کے القاب سے نوازا جاتا ہے، ممبر رسول پر وہ پرجوش خطاب محسوس ہوتا ہے کہ اب ان جیسا متقی پرہیزگار کوئی نہیں حالانکہ حقیقت حال ان کے مقال کے خلاف نظر آتی ہے ،وہ عموما نفسانی خواہش کے مطابق عمل کرتے ہوئے نظر آتے ہیں ،الا ماشاءاللہ۔

 مگر فقیہ ملت علیہ الرحمہ کی وہ ذات ہے کہ ان کا ایک ایک نفس احکام شرعیہ کے مطابق گزرتا تھا۔ عورتوں ،مردوں، بڑوں، بچوں کے ساتھ رشتہ داروں سب میں ان کی پوری کوشش رہی کہ ہر آدمی اسلامی تہذیب وتمدن کے دائرہ میں زندگی گزارے۔ یہی وجہ ہے ان کے گھر کا ہر فرد اسلامی لباس میں اور عورتیں باپردہ ہوا کرتی ہیں۔ حضور فقیہ ملت کا علمی جلال اس قدر تھا کہ اکثر ملاقات کرنے والوں کے دلوں میں ایک خوف سا معلوم ہوتا تھا کہ کہیں کچھ علمی سوال نہ کر لیں ،کہیں شرح کے خلاف کچھ کرتے ہوئے دیکھ لیں تو جلال میں نہ آجائیں ۔ 

لیکن محترم بھائیوں! بزرگوں کی شان ہی بڑی ارفع و اعلی ہوا کرتی ہے اگر اتفاق سے کوئی غلطی سرزد ہوبھی جائے تو فورا تنبیہ کرکے بڑی نرمی سے سمجھاتے ہیں اور مکمل اچھے اخلاق کا سمندر بن کر بڑے پیار سے مسئلہواضح فرماتے ہیں۔ نا چیز راقم الحروف جب حضور فقیہ ملت علیہ الرحمہ سے ملاقات کا شرف حاصل کرتا  تو وہ بڑے اچھے اخلاق سے ملاقات فرماتے اور بڑی خوش مزاجی سے سلام کا جواب مرحمت فرماتے اور خیریت پوچھتے اور کچھ ہی منٹ احوال پوچھنے کے بعد فرماتے، دیکھو میرے پاس وقت بہت کم ہے اور کام زیادہ ہے عشاء کی نماز کے بعد تم سے ملاقات بحیثیت مہمان کروں گا۔ دیکھو ہر آدمی کو اپنے وقت کی قیمت سمجھنا چاہیے؛ لہذا مجھے کچھ کام کرنے دو، ہاں اگر کوئی مسئلہ پوچھنا ہے تو اس کے لیے میں تیار ہوں ؛کیونکہ اللہ تعالی مجھے اس کام کے لیے چن لیا ہے؛ اس لیے مسئلہ کے بتانے اور سمجھانے میں جو وقت صرف ہوتا ہے ضائع نہیں ہوتا بلکہ تھوڑی دیر مسئلہ میں غور و خوض کرنا سال بھر کی عبادت سے بہتر ہے ۔اسی فکر و نظر کا بھرپور لحاظ کرتے ہوئے اگر کوئی سوال ہوتا تو اس کا تشفی بخش جواب مرحمت فرما کر اپنے کام کتاب و فتوی نویسی وغیرہ میں مصروف ہو جاتے۔

دن بھر کے مطالعہ اور تصنیفی اور دیگر کاموں سے فراغت حاصل کرنے کے بعد جب عشاء کا وقت ہو جاتا تو نماز پڑھ کر مہمان خانہ میں تشریف لاتے اور ارشاد فرماتے دیکھو عشاء کی نماز کے بعد باتیں کرنا مکروہ ہے لیکن مہمان سے گفتگو کرنا جائز ہے، لہذا اب تم اپنی خیریت بتاؤ خیریت معلوم کرنے کے بعد پھر کوئی نہ کوئی مسئلہ ضرور چھیڑ دیتے؛اس لیے کہ آپ کی فطرت میں یہ طریقہ کوٹ کوٹ کر بھرا ہوا تھا کہ کوئی نہ کوئی مسئلہ گفتگو کرنے والے سے ضرور بیان فرماتے اور ایسا بہت کم ہوتاتھا کہ کوئی ان کے سامنے ہو اور مسئلہ نہ بیان کریں۔

چنانچہ اسی عادت حسنہ کی بنا پر مجھے راقم الحروف کو بہت سارے مسائل بیان کرنے کے بعد ایک ایسا مسئلہ بیان فرماتے ہیں کہ جس کو سن کر میرا وجود کانپ گیا اور یہ اس وقت کی بات ہے جبکہ میں طالب علم تھا ہدایت النحو وغیرہ پڑھتا تھا۔

 حضرت فقیہ ملت علیہ الرحمہ میرے سامنے ایک ایسا مسئلہ بیان فرماتے ہیں جس سے ابھی میں ناواقف تھا ،تعجب تو اس بات پر ہے کہ اس مسئلہ کو بڑے بڑے مفتی و علمائے کرام جانتے ہیں اور جاننے کے باوجود عمل نہیں کرتے، اور بالفرض اگر خود عمل بھی کر لیں لیکن دوسروں سے اس مسئلہ پر عمل کرانا ان کے لیے ایک امر مشکل ہے ہاں جس کے دل میں خوف خدا راسخ ہو اس کے لیے بڑی بات نہیں اور وہی شخص خود بھی عمل کرے گا اور دوسروں سے بھی عمل کرا سکے گا انہی میں سے حضور فقیہ ملت علیہ الرحمہ کی ذات ہے کہ مسئلہ پر پہلے خود سختی کے ساتھ عمل کرتے ہیں پھر دوسروں کو بھی اس پر سختی سے تنبیہ فرماتے ہیں۔

قارئین کرام! ناچیز کے ساتھ جو مسئلہ درپیش آیا اور جو بات میں عرض کرنا چاہتا ہوں اس کی طرف توجہ فرمائیں۔وہ مسئلہ ایسا ہے جو حضور فقیہ ملت کے دہن مبارک سے حق و صداقت کے پھول جھڑنے کے مترادف ہے ،جو سونے کی سیاہی اور چاندی کے ورق پر لکھنے کے قابل ہے، ملاحظہ فرمائیں :

"دیکھو اب تم بڑے ہو گئے ہو تمہارے چہرے پر داڑھی کے چند بال نکل آئیں ہیں جس سے ظاہر ہے کہ تم بالغ ہو گئے ہو ؛لہذا اس بار تو تم گھر کے اندر آ جا سکتے ہو مگر اس کے بعد اب جب تم آنا تو اسی مہمان خانہ میں رہنا اس مہمان خانے میں ایک بٹن گھنٹی بجانے کے لیے لگی ہے جس کتعلق گھر کے اندر سے ہے جب کوئی ضرورت پڑے اس سے ضرورت پوری کر لینا گھنٹی بجنے سے کوئی نابالغ بچہ اندر سے آئے گا اور اس سے اپنی ضرورت پوری کر لینا"۔

یہ کلام سن کر میں مدہوش ہو گیا چونکہ اس وقت میرا بچپنا ،تھا اس بات کی تاب نہ لا سکا، گویا کی مجھ پر بجلی سی گر گئی ہو ۔اور بات صحیح بھی ہے کہ جسے بھی بچپن ہی میں اپنے ننہال میں گھر کے اندر آنے جانے سے روکا جائے اس کے دل پر کیا گزرے گی اس کی دشواری وہی سمجھ سکے گا جسے روکا جائے گا ۔

چونکہ بچپن میں نواسہ سے بہت زیادہ پیار کرنا یہ پرانی ریت ہے جسے ہمارے پیارے آقا جناب محمد رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے امام حسن و حسین کریمین رضی اللہ تعالی عنہما کے ساتھ کر کے ہمیں اس بات کی تعلیم دی کہ نواسہ کا ننہال میں کیا درجہ ہے ۔اور کتنی محبت نواسہ سے کرنی چاہیے جسے دنیا جانتی ہے ۔

اس قدر محبت ملنے کے بعد کسی کو گھر میں آنے جانے سے روکا جائے اور دیگر لوگوں سے نہ ملنے دیا جائے تو اس نواسہ کے اوپر کیا گزرے گی اندازہ نہیں لگایا جا سکتا! جب حضور فقیہ ملت علیہ الرحمہ نے اتنی باتیں کہنےکے بعد میرے چہرے کا رنگ بدلتے دیکھا تو میرے دل کی کیفیت سے آگاہ ہو گئے اور بڑے اخلاق و محبت وسنجیدگی سے ارشاد فرماتے ہیں: "دیکھو اس بات سے تم کو تکلیف نہیں ہونی چاہیے ؛کیونکہ اللہ اور اس کے رسول کا یہی فرمان ہے کہ بہن کا لڑکا یعنی بھانجہ کو ماموں زاد بہن اور مامی اور ان کی بہواور دیگر غیر محرم سے پردہ ہے؛ اس لیے میں تم کو اس مسئلے سے آگاہ کر رہا ہوں"۔

 اتنا سننے کے بعد میں نے کسی بات کی پرواہ کیے بغیر یہ بات اپنے ذہن میں بسا لیا کہ جب مجھے اندر آنے جانے سے روک دیا گیا تو اب میں یہاں نہیں رکوں گا اور نہ اب یہاں آؤں گا اکیلا بغیر بتائے پیدل اوجھاگنج سے ٹانڈہ چل دیا اور گھر پہنچ کر سارا قصہ رو رو کر اپنی والدہ سے بیان کر دیا اور کہہ دیا اب میں مامو کے یہاں نہیں جاؤں گا ،

لیکن جب میں چند برسوں میں عقل و شعور والا ہوا اور علم سے آراستہ ہوا تو حضور فقیہ ملت کی بات مجھے تسلیم کرنی پڑی کہ حضرت نے جو بھی فرمایا درست فرمایا اس طرح کے صبر آزما مسائل حضرت بڑی ہی بے باقی سے ہر کس و ناکس کے سامنے بیان فرما دیا کرتے تھے ،سامنے والے کو چاہے کتنا ہی برا معلوم ہو حق ببانگ دہل بیان کر دیتے تھے ۔

پھر سات آٹھ سال کے بعد حضرت سے بڑی خوشی خوشی ملاقات کیا،اور کیوں نہ ہو کہ آپ ہی کی وہ ذات  جس نے مجھ پر بڑی کرم فرمائی کی اور احسان عظیم فرمایا اور بے پردگی جیسے حرام فعل سے بچالیا اور آپ کے منع کرنے کے بعد اب تک میں نے اپنی ماموں زاد بہن کو نہ دیکھا۔

اللہ تعالی اپنے حبیب کے صدقے میں حضور فقیہ ملت کو غریق رحمت فرمائے اور ہر مسلمان کو اسی طرح ایک دوسرے کو نیکی کی دعوت دینے اور برے کاموں سے روکنے کی توفیق رفیق عنایت فرمائے آمین بجاہ سید المرسلین صلی اللہ تعالی علیہ وسلم ۔

جب سب ماموں زاد بہنوں کی شادی ہو گئی اور میری مامی جان بوڑھی ہو چکیں تب آپ نے مامی سے ملنے کی اجازت فرمائی اور ساتھ ساتھ یہ بھی تنبیہ فرمائی؛" صرف خیر خیریت پوچھنے تک ان سے ملاقات کریں دیر تک ان سے گفتگو نہیں کر سکتے"۔جس طرح آپ کی ذات نے مجھ سے عمل کروایا اسی طرح میں نے اپنی ماتھے کی آنکھوں سے آپ کو عمل کرتے ہوئےبھی دیکھا قارئین کرام اس بات کے تحت ایک واقعہ اور ملاحظہ فرمائیں: ایک مرتبہ کا واقعہ ہے کہ میں مہمان خانے میں بیٹھا ہوا تھا چند علماء کرام آپ کی خدمت میں موجود تھے کسی مسئلے پر گفتگو چل رہی تھی اس وقت اتفاقا گھر میں کوئی نابالغ بچہ موجود نہ تھا، علماء کرام کی چائے پانی وغیرہ سے خدمت بھی کرنی تھی، آپ نے کئی بار مہمان خانہ سے گھنٹی بجائی لیکن گھر میں کوئی آدمی ہو تب تو آئے جب بار بار گھنٹی بجی تو عورتوں نے مشورہ کیا کہ میری امی جان جو بوڑھی ہو چکی ہیں یہی جائیں پانی وغیرہ لے کر پہنچا دیں ور نہ حضرت جلال میں آجائیں گے تو بہت برائی ہو جائے گی والدہ سے عورتوں نے کہا آپ بوڑھی ہیں آپ جا سکتی ہیں اور والدہ محترمہ حضور فقیہ ملت سے بڑی بھی تھی ڈرتے ہوئے پانی لے کر آئیں اور مہمان خانہ میں پہنچ گئیں ابھی میری والدہ کا پہنچنا ہی تھا کہ جیسے کوئی حادثہ ہو گیا ہو بہت تیزی سے دوڑ کر اپنے ہاتھوں میں ٹرے کو سنبھالا او فورا رکھ کر گھر میں پہنچ گئے اس وقت اس قدر جلال کہ والدہ کہتی ہیں:  ایسا لگا کہ ابھی مار دیں گے سب عورتیں دنگ ہو گئی کہ اب کیا ہوگا آپ اس وقت بار بار یہی کہتے رہے: " تمہاری ہمت کیسے پڑی وہاں تک پہنچنے کی، تمہاری ہمت کیسے پڑی غیروں کے سامنے جانے کی"۔ شاید اگر میری والدہ نہ ہوتی اور ان کی جگہ پر کوئی دوسراہوتا تو ضرور اپنا جلال اس پر اتار دیتے حالانکہ میری والدہ برابر کہتی رہیں کہ گھر میں کوئی موجود نہ تھا میں مجبورا لے کر پہونچی، لیکن والدہ کے بڑی بوڑھی  اور عذر ہونے کے باوجود بس وہیں پر جلال لہجہ کی تمہاری ہمت کیسے پڑی تمہاری ہمت کیسے پڑی؟!

 اللہ اللہ اس قدر خیال کہ اگرچہ بوری عورت ہو غیر محرم کے سامنے ہونا گوارا نہیں ۔قارئین  کرام! حضور ملت علیہ الرحمہ کس قدر پردے کا لحاظ کرتے تھے ،اس کی ایک اور جھلک مندرجہ ذیل واقعے میں ملاحظہ فرمائیں:  ایک مرتبہ کا واقعہ ہے کہ حضور فقیہ  ملت علیہ الرحمہ مدرسہ حنفیہ جونپور میں تشریف لے گئے یہ اس وقت کی بات ہے جب آپ کو مدرسہ امجدیہ ارشد العلوم کی بنیاد رکھنی تھی اور حضرت بڑھاپے میں بڑی جاں فشانی فرماتے ہوئے جون پور تشریف لائے یہاں سے سیٹ عبدالسلام بھدوہی مدرسہ کی امداد کے واسطے پہنچے تھے، ایک دن جونپور میں قیام فرمایا اس وقت اقبال احمد نامی  محلہڈھال گر ٹولہ جون پور جو حضرت کا بہت عقیدت مند تھا حصول برکت کے لیے حضرت کو دعوت دی، بہت آپ نے انکار کیا لیکن بہت اصرار پر آپ نے اس کی دعوت قبول فرما لی، دعوت طعام کے بعد آپ نے دعا فرمائی پھر اقبال احمد سے اجازت چاہی اس وقت اقبال احمد کی اہلیہ نے حضرت کی دست بوسی کا اظہار کیا،تو آپ نے انکار کیا پھر ان کی اہلیہ نے کپڑا چھونے کی اجازت چاہی تو اس پر آپ نے سختی سے منع فرمایا۔

اس کے بعد آپ نے بڑی سنجیدگی سے ارشاد فرمایا : "میں ان عالموں اور پیروں کی طرح نہیں ہوں کہ بے حجاب عورتوں سے باتیں کروں اور اپنا ہاتھ پیر چومواؤں جیسا کہ آج کل کے اکثر پیر و عالم عورتوں کو بے پردہ سامنے بٹھا کر باتیں کرتے ہیں، مرید بھی کرتے ہیں ہاتھ پیر دبواتے ہیں اور نہ جانے کیا کیا کام ان سے بے پردگی کے ساتھ لیتے ہیں اور پردے کا بالکل خیال نہیں کرتے "۔پھر فرماتے ہیں: " اگر ان کی خواہش یہی ہے کہ دست بوسی کروں تو انما الاعمال بالنیات کے تحت انہوں نے دست بوسی کر لی اور زیارت بھی کر لی ان شاءاللہ ان کی اس نیت و عقیدت و اخلاص کاانہیں  صلہ و  ثواب ملے گا "۔

حضرات ایسے جلیل القدر عالم متبع سنت و شریعت عاشق رسول نائب رسول نایاب نہیں تو کمیاب ضرور ہیں جو اس قدر پردے کا خیال کرتے ہوں ،شدت سے شرح مطہر پر خودعمل کرتے ہوں اور دوسروں کو بھی اس پر عمل کرنے کی ترغیب دلاتے ہوں۔

 ابر رحمت تیری مرقد پر گہر باری کرے 

حشر تک شان کریمی ناز برداری کرے 

فنا کے بعد بھی باقی ہے شان رہبری تیری

 خدا کی رحمتیں ہوں اے امیر کارواں تجھ پر

 حضور فقیہ ملت علیہ الرحمہ کی نظر غائر تمام احکام کی طرح پردہ کے متعلق احادیث کی طرف ہر وقت رہا کرتی تھی جن کومشکوۃ شریف اور دیگر کتابوں میں نقل کیا گیا ہے، اور صرف نظر ہی نہیں بلکہ ان کی روشنی میں عملی اقدام بھی فرماتے تھے، موقع کی مناسبت سے پردہ کے متعلق کچھ احادیث پیش خدمت ہیں ملاحظہ فرمائیں: حضرت سیدنا صائب رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں کہ ایک نوجوان صحابی کی نئی نئی  شادی ہوئی تھی ایک بار آپ باہر سے اپنے گھر جب تشریف لائے تو یہ دیکھ کر انہیں بڑی غیرت آئی کہ ان کی دلہن گھر کے دروازے پر کھڑی تھی، بہت جلال میں آکر نیزہ تان کر اپنی دلہن کی طرف لپکےوہ گھبرا کر پیچھے ہٹ گئی اور رو کر پکاری میرے سرتاج مجھے مت مارو میں بے قصور ہوں ذرا گھر کے اندر چل کر دیکھو کہ کس چیز نے مجھے باہر نکالا ہے چنانچہ وہ صحابی اندر تشریف لے گئے کیا دیکھتے ہیں کہ ایک خطرناک زہریلا سانپ کنڈی مارے بچھونے پر بیٹھا ہے بے قرار ہو کر نیزے سے سانپ پر حملہ کیا اور اس کو نیزے میں پیرو لیا زخمی سانپ نے تڑپ کر ان کو ڈس لیا اور وہ زخمی سانپ تڑپ تڑپ کر مر گیا اور وہ غیرت مند صحابی بھی سانپ کے زہر کے اثر سے جام شہادت نوش کر لیا۔(حوالہ)

غیرت مند برادران اسلام ! دیکھا آپ نے ہمارے صحابۂ کرام  رضی اللہ عنھم کس قدر با مروت ہوا کرتے تھے انہیں یہ بھی منظور نہ تھا کہ ان کے گھر کی عورت گھر کے دروازے پر کھڑی ہو۔

یہی وجہ ہے کہ جب تک آپ فقیہ ملت علیہ الرحمہ باحیات تھے کوئی غیر محرم عورت کا چہرہ دیکھے یا عورت بے پردہ باہر نکلے یہ تو بہت بعید بات ہے عورت کی آواز بھی گھر سے باہر نہیں آنے دیتے تھے،بسا اوقات اگر اپنے گھر کی عورتوں کی آواز باہر آتےجان لیتے تو برداشت نہیں کرتے تھے اور ضرور تنبیہ فرماتے تھے۔ 

چنانچہ ایک مرتبہ کا واقعہ ہے کہ میں نا چیز راقم الحروف مہمان خانہ میں موجود تھا اور آپ رحمۃ اللہ تعالی علیہ مہمان خانے کے برآمدے میں تشریف رکھتے تھے کہ یکا یک آپ کی زوجہ محترمہ کی آواز کسی لڑکے کے پکارنے میں بلند ہو گئی جیسے ہی ان کی آواز آپ نے سنی دوڑ کر پہنچے اور بڑے جلال میں زوجہ محترمہ پر برس پڑے یہاں تک کہ آپ کے دست مبارک میں ہاتھ کا پنکھا تھا اسی سے مارنا شروع کر دیا اس وقت میری والدہ نے بڑھ کر مارنے سے بچایا تو بڑی مشکل سےآپ رکے۔

 برادران ملت! آج کون ہیں کہ اس پر عمل کرے ارے آج جو عورتیں عالمہ ہیں انہیں اپنی آواز پر کنٹرول نہیں رکھتی جبکہ ان کی صرف آواز ہی عورت نہیں بلکہ ان کا سارا وجود عورت ہے آج کی عالمہ جس مدرسے میں پڑھاتی ہیں باقاعدہ عورتوں کا جلسہ ہوتا ہے اور مائک کے ذریعے عورتوں کے ساتھ ساتھ غیر مردوں کو اپنی تقریریں سناتی ہیں۔ یہ کب آپ کے نزدیک جائز ہو سکتا ہے کہ مائک سے تقریر کریں اور غیر مرد ان کی آواز سنے جب کی آپ گھر سے عورتوں کی آواز سننا گوارا نہیں کرتے تھے۔ کیا بغیر مائک تقریر نہیں ہو سکتی کہ صرف موجودہ عورتیں ہی سنیں؟ اگر فقیہ ملت علیہ الرحمہ کے زمانے میں ایسا ہوتا تو وہ ضرور اس پر پابندی لگا تے بالفرض اگر ان کے زمانے میں ایسا ہوتا رہا ہو لیکن آپ کو معلوم نہیں ہوگا، کیونکہ اگر آپ کو معلوم ہو جاتا یا عورتوں کو مائک پر تقریر کرتے سن لیتے توضرور آپ اس پر پابندی لگاتے لیکن وائے نیرنگئےزمانہ اب اس دور میں کون اس پر پابندی لگائے کیا انہیں معلوم نہیں ہے کہ عورتوں کی آواز بھی عورت ہے کہ ان کی آواز سے بھی مردوں کو لذت ملتی ہے ان کی آواز سے لوگوں کے شہوات بڑھتے ہیں ان کی آواز سے بہت سے منچلے مدہوش ہو جاتے ہیں انہیں سب شہوات کی وجہ سے شرع نے عورتوں کو دھیرے بولنے کی تاکید فرمائی ہے فی زمانہ اس بے شرمی پرپابندی کون لگائے؟! اللہ رحم فرمائے۔ حوا کی بیٹیوں پر!

محترم بھائیوں! آج عورت کی آواز تو آواز اس سے بڑھ کر عریانیت عروج پر ہے کہ لوگ اپنی بیویوں کو گاڑیوں پر سرعام لے جاتے ہیں اور ہوٹلوں اور شوپنگ سینٹروں میں بڑے فخر کے ساتھ گھماتے ہیں اور بیوی محترمہ اپنے بالوں کو لہراتی ہوئی اپنے حسن و جمال کو دکھاتے ہوئے فخر محسوس کرتی ہیں اور شوہر دل ہی دل میں بہت خوش ہوتا ہے۔

سیدنا امام محمد غزالی رحمۃ اللہ تعالی علیہ نے تو اس قدر پردے کی تاکید فرمائی کہ عورت سفید یا جاذب نظر چادر یا خوبصورت برقعہ پہن کر اوڑھ کر باہر نہ نکلے۔

 غور کریں امام محمد غزالی رحمۃ اللہ تعالی علیہ تو جاذب نظر چادروبرقعہ اوڑھنے پر پابندی لگائی اور جس نقاب کے اوڑھنے سے غیروں کی نظر اس کی طرف اٹھے ایسے نقاب کو لگانے سے روک رہے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ((انما یخشی الله من عبادہ العلماء )) کے مصداق لوگ ایسے لباس ایسی چادریں اور ایسے نقاب پہننے پر جس میں عریانیت کی جھلک بھی ہو  پابندی لگا رکھی تھی اور ایسی چوڑی جس سے آواز پیدا ہو اور وہ پاؤ زیب جو گھنگروں والا ہو جس سے چھن چھن کی آواز پیدا ہو اور ہر اس چیز کے پہننے سے منع فرماتے تھے جس کی وجہ سے لوگوں کا دھیان عورت کی طرف جائے۔

 لیکن یہ وقت کا بہت بڑا المیہ ہے کہ اب عورتیں اس کے خلاف نظر آتی ہیں اور جتنی چیزیں شرع کی جانب سے ممنوع ہیں سب کو جان بوجھ کر عورتیں پہنتی ہیں۔

 اب نقاب ایسا ایسا چلا ہے کہ خدا کی پناہ ایسے ایسے کپڑے کی جس سے ستر کیا ہو بلکہ جسم کے تمام اعضاء کی نمائش ہوتی ہے اور نقاب اتنا چست و باریک کہ نقاب کے اوپر سے ان کے اندرونی کپڑے نظر آتے ہیں یہ مشاہدہ ہے لفاظی نہیں،ان کی جتنی بھی شرم کی چیزیں ہیں سب نقاب کے اوپر سے نظر آتی ہیں اور موٹا کپڑا تو چھوڑ دیجئے ہر اس کپڑے کو عورتیں استعمال میں ضرور لاتی ہیں جس سے بے پردگی ہو اور بعد میں جو بھی ہو اس کو برداشت کرنے کے لیے تیار رہتی ہیں ۔

خلاصہ یہ ہے کہ اسلام نے سب سے پہلے پردے کی سخت تاکید کی ہے جس سے تمام برائیوں کا سدباب ہو جاتا ہے لیکن اس اسلامی قانون پر کون عمل کرے اور دوسرے کو عمل کرائے غیر تو غیر اب مسلمانوں میں بھی یہ عریانیت وبے پردگی کی وبا بڑھتی چلی جا رہی ہے جبکہ آیت کریمہ ((وَ قَرْنَ فِیْ بُیُوْتِكُنَّ وَ لَا تَبَرَّجْنَ تَبَرُّجَ الْجَاهِلِیَّةِ الْاُوْلٰى)) پر بڑے بڑے بزرگان دین اور علماء شرع متین فقہاء کرام دل میں خوف خدا رکھنے والے اس حکم خداوندی پر عمل کر کے دنیا و آخرت سوار کر دار فانی کی طرف کوچ کر گئے۔ انہی ذات گرامی میں سے ایک ذات گرامی فقیہ ملت مفتی جلال الدین احمد امجدی قدس سر ہ العزيز کی بھی تھیآپ نے جہاں تک ہو سکا احکام شرح پر خود عمل کیے اور دوسروں کوبھی عمل کی تاکید فرماتے رہے۔ رحمۃاللہ علیھم اجمعین ۔ 

اللہ تعالی  سے دعا ہے کہ مسلم معاشرہ کی آنکھیں کھولے اور انہیں  قرآن و حدیث  پر عمل کرنے اور فقہاء و علمائے عاملین کے نقش قدم پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے

 از حضرت مولانا قاری شبیر احمد صاحب ٹانڈہ

 

 

 

 

Abdul Jabbar Alimi

عبدالجبار علیمی نظامی نیپالی۔

چیف ایڈیٹر نیپال اردو ٹائمز 8795979383