جہیز کی لعنت سماج کے ماتھے پر بدنما داغ بیٹیوں کے مستقبل پر سنگین خطرہ
نورالقمر نورانی قادری
آج کا معاشرہ ایک ایسے خطرناک موڑ پر کھڑا ہے جہاں بیٹی جیسی رحمت بھی بعض لوگوں کو بوجھ محسوس ہونے لگی ہے۔ اس کی سب سے بڑی وجہ جہیز جیسی لعنت ہے، جس نے نہ صرف نکاح کو مشکل بنا دیا ہے بلکہ انسانی قدروں کو بھی شدید نقصان پہنچایا ہے۔ آئے دن اخبارات میں ایسی خبریں پڑھنے کو ملتی ہیں کہ کہیں جہیز کی خاطر ایک معصوم لڑکی کو ستایا گیا، کہیں اسے زندہ جلا دیا گیا، اور کہیں اس نے خودکشی پر مجبور ہو کر اپنی جان لے لی۔ یہ سب واقعات ہمارے ضمیر کو جھنجھوڑنے کے لیے کافی ہیں، مگر افسوس کہ ہم پھر بھی خاموش تماشائی بنے ہوئے ہیں۔ جہیز دراصل ایک غیر اسلامی رسم ہے،جس کا دین اسلام سے کوئی تعلق نہیں۔ اسلام نے نکاح کو نہایت سادہ اور آسان بنایا ہے۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ سب سے بابرکت نکاح وہ ہے جو سب سے آسان ہو۔ لیکن ہم نے اپنی جھوٹی شان و شوکت، دکھاوے اور سماجی دباؤ کی وجہ سے نکاح کو ایک بوجھ بنا دیا ہے۔ آج شادی کا مطلب بڑے بڑے ہال،لمبی چوڑی باراتیں، قیمتی تحفے اور لاکھوں روپے کے خرچ تک محدود ہو کر رہ گیا ہے۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ اس برائی کے خلاف آواز اٹھانے والے بھی بعض اوقات خود اس میں ملوث نظر آتے ہیں۔
جو لوگ اسٹیجوں پر کھڑے ہو کر جہیز کے خلاف تقریریں کرتے ہیں، وہی اپنے بیٹوںکی شادی میں مالدار گھرانوں کی تلاش میں لگ جاتے ہیں اور خوب دھوم دھام سے بارات لے جاتے ہیں۔ اس دوغلے پن نے معاشرے میں اصلاح کے دروازے بند کر دیے ہیں۔ اس کا سب سے زیادہ نقصان سفید پوش اور غریب گھرانوں کو ہوتا ہے، جہاں بیٹیاں صرف اس وجہ سے عمر گزار دیتی ہیں کہ والدین جہیز کا انتظام نہیں کر پاتے۔یہ صورتحال نہایت افسوسناک ہے اور اگر یہی حالات جاری رہے تو وہ وقت دور نہیں جب لوگ بیٹیوں کو واقعی بوجھ سمجھنے لگیں گے، جیسا کہ زمانۂ جاہلیت میں ہوتا تھا۔ اب سوال یہ ہے کہ اس مسئلے کا حل کیا ہے؟ حل بہت مشکل نہیں، لیکن ہمت اور خلوص کا تقاضا کرتا ہے۔ سب سے پہلے ہمیں خود سے شروعات کرنی ہوگی۔ ہمیں اپنے گھروں میں سادگی کو اپنانا ہوگا، جہیز لینے اور دینے سے صاف انکار کرنا ہوگا، اور اپنے بچوں کی شادی سنت کے مطابق کرنی ہوگی۔ جب تک ہم خود مثال قائم نہیں کریں گے، تب تک معاشرے میں تبدیلی ممکن نہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ علماء، سماجی رہنما اور بااثر افراد پر بھی بڑی ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ صرف تقریروں تک محدود نہ رہیں بلکہ عملی طور پر بھی سادگی کو فروغ دیں۔ اگر وہ خود اپنے عمل سے مثال قائم کریں گے تو یقیناً معاشرہ ان کی پیروی کرے گا۔ جہیز صرف ایک رسم نہیں بلکہ ایک ظلم ہے، جس کے خلاف آواز اٹھانا ہم سب کی ذمہ داری ہے۔ اگر ہم نے آج اس کے خلاف قدم نہ اٹھایا تو کل ہماری بیٹیاں اس کا خمیازہ بھگتیں گی۔ اصلاح کا آغاز ہم سے ہیں گر ہم بدل جائیں، تو معاشرہ بھی بدل سکتا ہے۔محمد نورالقمرنورانی قادری
