May 10, 2026 05:27 PM Asia/Kathmandu
ہمیں فالو کریں:
مدارسِ دینیہ کی اہمیت اور ان کے خلاف پروپیگنڈا

مدارسِ دینیہ کی اہمیت اور ان کے خلاف پروپیگنڈا

07 May 2026
1 min read

مدارسِ دینیہ کی اہمیت اور ان کے خلاف پروپیگنڈا

از: محمد شمیم احمد نوری مصباحی

خادم: دارالعلوم انوار مصطفیٰ 

سہلاؤ شریف، باڑمیر(راجستھان)

آج کا دور فکری انتشار، تہذیبی یلغار اور دینی بے حسی کا دور ہے، جہاں حق و باطل کی تمیز مٹانے کی منظم کوششیں جاری ہیں۔ ایسے نازک ماحول میں کچھ ادارے ایسے بھی ہیں جو خاموشی کے ساتھ ایمان کی حفاظت، علمِ دین کی اشاعت اور اخلاقی قدروں کی بقا کا فریضہ انجام دے رہے ہیں۔ یہی وہ مقدس مراکز ہیں جنہیں ہم "مدارسِ دینیہ" کے نام سے جانتے ہیں۔ مگر المیہ یہ ہے کہ انہی اداروں کو آج شکوک و شبہات کا نشانہ بنا کر ان کی افادیت کو مشکوک بنانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

مدارسِ دینیہ: دین کے محافظ

مدارسِ دینیہ صرف تعلیمی ادارے نہیں بلکہ روحانی، فکری اور تہذیبی مراکز ہیں، جہاں قرآن مجید کی تعلیم وتعلم و تلاوت ہوتی ہے...

احادیثِ نبویہ ﷺ کا درس دیا جاتا ہے...

فقہ و شریعت کی باریکیاں سکھائی جاتی ہیں...

اخلاق و کردار کی تعمیر کی جاتی ہے...

یہی وہ ادارے ہیں جنہوں نے ہر دور میں اسلام کی اصل روح کو محفوظ رکھا۔ جب جب دین پر آزمائش آئی، انہی مدارس نے ایسے علماء پیدا کیے جنہوں نے امت کی رہنمائی کی اور فتنوں کا مقابلہ کیا۔

بزرگانِ دین نے بجا فرمایا ہے کہ"علمِ دین کی حفاظت ہی اصل کامیابی ہے"

اور یہ حقیقت مدارسِ دینیہ کی خدمات سے پوری طرح ظاہر وباہر اور آشکار ہے۔

ہندوستان میں مدارسِ دینیہ کا کردار: تعمیرِ قوم و ملت

ہندوستان کی سرزمین مدارسِ دینیہ واسلامیہ کی خدمات سے کبھی خالی نہیں رہی۔ یہ ادارے صرف دینی تعلیم تک محدود نہیں بلکہ ملک کی سماجی، اخلاقی اور تہذیبی تعمیر میں بھی نمایاں کردار ادا کرتے رہے ہیں۔

مدارس نے عوام میں اخلاق، دیانت، صبر اور رواداری جیسی اعلیٰ قدروں کو فروغ دیا، جو کسی بھی مضبوط قوم کی بنیاد ہوتی ہیں۔

ملک کے طول و عرض میں ہزاروں مدارس ایسے ہیں جو مفت یا نہایت کم خرچ پر تعلیم فراہم کرتے ہیں، جس سے غریب اور پسماندہ طبقے کو تعلیم کے حصول کے مواقع ملتے ہیں۔

مدارس کے فارغین نہ صرف مساجد و دینی اداروں 

میں خدمات انجام دیتے ہیں بلکہ معاشرے میں امن، بھائی چارہ اور مذہبی ہم آہنگی کے سفیر بھی بنتے ہیں۔

اسی کے ساتھ ایک اہم حقیقت یہ بھی ہے کہ اکثر مدارسِ دینیہ میں جہاں دینی تعلیم پر خصوصی توجہ دی جاتی ہے وہیں ضروری عصری تعلیم کا بھی معقول نظم کیا جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بہت سارے مدارس کے فارغ التحصیل علماء نہ صرف دینی میدان میں نمایاں خدمات انجام دے رہے ہیں بلکہ عصری دانشگاہوں میں بھی اپنا پرچم لہراتے ہوئے مختلف عصری شعبوں میں اعلیٰ مناصب پر فائز ہو کر قوم و ملت اور ملک کی خدمت انجام دے رہے ہیں۔ یہ ہم آہنگی اس بات کی روشن دلیل ہے کہ مدارس کا نظام محض محدود نہیں بلکہ وقت کے تقاضوں کو سمجھتے ہوئے ایک متوازن اور مثبت کردار ادا کر رہا ہے۔

یہ حقیقت بھی قابلِ توجہ ہے کہ ہندوستان میں لاکھوں افراد چاہے وہ براہِ راست مدارس سے وابستہ ہوں یا نہ ہوں ان اداروں سے محبت، عقیدت اور تعاون کا رشتہ رکھتے ہیں۔ زکوٰۃ، صدقات اور عطیات کے ذریعے مدارس کی کفالت دراصل عوام کی دینی وابستگی اور اعتماد کا واضح ثبوت ہے۔

یوں کہا جا سکتا ہے کہ مدارس صرف “تعلیمی ادارے” نہیں بلکہ عوامی تعاون سے چلنے والی ایک زندہ تحریک ہیں، جو قوم و ملت کے باطن کو سنوار رہی ہے۔

مدارس کے خلاف پروپیگنڈا: حقیقت یا فریب؟

آج مختلف ذرائع ابلاغ اور فکری حلقوں میں مدارس کے خلاف کئی اعتراضات اٹھائے جا رہے ہیں، جن کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں۔

① مدارس کو پسماندگی کی علامت قرار دینا:یہ کہا جاتا ہے کہ مدارس جدید دور کے تقاضوں سے ہم آہنگ نہیں، اس لیے یہ ترقی میں رکاوٹ ہیں۔ جب کہ حقیقت یہ ہے کہ مدارس کا مقصد دنیاوی دوڑ نہیں بلکہ دین کی بقا اور اخلاق کی تعمیر ہے۔ ہر ادارہ اپنے مقصد کے مطابق کامیاب ہوتا ہے، اور مدارس اپنے اصل ہدف میں کامیاب ہیں۔

② انتہاپسندی کا بے بنیاد الزام:

مدارس پر یہ الزام لگایا جاتا ہے کہ وہ شدت پسندی کو فروغ دیتے ہیں حالانکہ

حقیقت حال یہ ہے کہ

مدارس امن، اعتدال اور محبت کا درس دیتے ہیں۔ یہاں دیگر فنون کے ساتھ سیرتِ نبوی ﷺ پڑھائی جاتی ہے جو سراسر رحمت، برداشت اور انسانیت کا پیغام ہے۔

③ مدارس کے فارغین کو غیر مؤثر سمجھنا:

یہ تاثر بھی دیا جاتا ہے کہ مدارس کے طلبہ معاشرے میں کوئی نمایاں کردار ادا نہیں کرتے جب کہ

حقیقت یہ ہے کہ

مدارس کے فارغین مساجد کے امام و خطیب بنتے ہیں

دینی رہنمائی فراہم کرتے ہیں

معاشرے کی اصلاح میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔۔۔

عوام کے عقائد و عبادات کی حفاظت کرتے ہیں۔۔۔

یہ کردار کسی بھی مہذب معاشرے کے لیے ناگزیر ہے، بلکہ ایک پرامن اور بااخلاق معاشرہ انہی خدمات کا مرہونِ منت ہوتا ہے۔

پروپیگنڈا کے اسباب:

مدارس کے خلاف منفی مہم کے پیچھے چند بنیادی عوامل ہیں:

دین سے دوری اور مغربی فکر کا اثر، اسلامی تشخص سے خوف، میڈیا کی یکطرفہ تصویر کشی، بعض انفرادی کمزوریوں کو پورے نظام پر تھوپ دینا۔

مدارس کی افادیت: ایک ناقابلِ تردید حقیقت اگر ہم انصاف کی نظر سے دیکھیں تو معلوم ہوگا کہ:

مدارس نے قرآن و حدیث کی حفاظت کی۔۔۔

اسلامی علوم کو نسل در نسل منتقل کیا۔۔۔

امت کو فکری و روحانی رہنمائی فراہم کی۔۔۔

اخلاقی اقدار کو زندہ رکھااور ہندوستان جیسے کثیر مذہبی معاشرے میں امن و ہم آہنگی کے فروغ میں اہم کردار ادا کیا۔۔۔

اہلِ علم نے درست کہا ہے کہ:

"علماء کا وجود دین کی بقا کی ضمانت ہے"

اور یہی علماء مدارس کی گود میں پروان چڑھتے ہیں۔

اسی حقیقت کو نبی کریم ﷺ کے اس ارشاد سے بھی تقویت ملتی ہے:

"العلماء ورثة الأنبياء"(سنن ابی داؤد: 3641)

یعنی علماء انبیاء کے وارث ہیں۔

ہماری ذمہ داریاں:

ایسے نازک وقت میں ہم سب کی چند اہم ذمہ داریاں بنتی ہیں:

صحیح تعارف عام کریں:

مدارس کی حقیقی خدمات کو لوگوں تک پہنچائیں۔

مالی و اخلاقی تعاون:

مدارس کا استحکام دراصل دین کا استحکام ہے۔

اصلاح اور بہتری کی کوشش:

جہاں کمی ہو اسے دور کیا جائے، مگر پورے نظام کو بدنام نہ کیا جائے۔

اعتدال کے ساتھ ہم آہنگی:

مدارس اپنی دینی شناخت برقرار رکھتے ہوئے محدود حد تک عصری تقاضوں کو بھی شامل کریں تاکہ ان کا اثر مزید وسیع ہو۔

خلاصۂ کلام یہ ہے کہ مدارسِ دینیہ اسلام کے وہ مضبوط قلعے ہیں جنہوں نے ہر دور میں دین کی حفاظت کی ہے۔ خصوصاً ہندوستان میں یہ ادارے نہ صرف دین کے محافظ ہیں بلکہ اخلاقی و سماجی استحکام کے ستون بھی ہیں۔ ان کے خلاف ہونے والا پروپیگنڈا دراصل ایک فکری یلغار ہے، جس کا مقابلہ علم، حکمت اور بصیرت سے کرنا وقت کی اہم ترین ضرورت ہے۔

آئیے ہم سب مل کر یہ عہد کریں کہ ہم مدارسِ دینیہ کے محافظ بنیں گے۔۔۔

ان کے خلاف ہونے والے ہر منفی پروپیگنڈے کا حکمت کے ساتھ مدلل جواب دیں گے۔۔۔

اور اس عظیم دینی نظام کو مزید مضبوط بنانے میں اپنا کردار ادا کریں گے۔۔۔

اللہ تعالیٰ ہمیں حق کو پہچاننے اور اس پر ثابت قدم رہنے کی توفیق عطا فرمائے، اور مدارسِ دینیہ کو تا قیامت قائم و دائم رکھے۔

آمین یا رب العالمین بجاہ سیدالمرسلین ﷺ

Abdul Jabbar Alimi

عبدالجبار علیمی نیپالی۔

چیف ایڈیٹر نیپال اردو ٹائمز (9701714929) (8795979383)