Feb 7, 2026 06:11 AM Asia/Kathmandu
ہمیں فالو کریں:
سالِ نو: غفلت کا جشن نہیں، خود احتسابی اور تجدیدِ عزم کا پیغام

سالِ نو: غفلت کا جشن نہیں، خود احتسابی اور تجدیدِ عزم کا پیغام

05 Jan 2026
1 min read

سالِ نو: غفلت کا جشن نہیں، خود احتسابی اور تجدیدِ عزم کا پیغام

از: محمد شمیم احمد نوری مصباحی

خادم:دارالعلوم انوارِ مصطفیٰ

سہلاؤ شریف،باڑمیر(راجستھان)

جنوری سے عیسوی کلینڈر کی شروعات ہوتی ہے، جب کہ محرم الحرام سے قمری و ہجری سال کا آغاز ہوتا ہے۔ عموماً ماہِ جنوری کے آنے سے پہلے ہی نئے سال کی آمد کا لوگوں کو بے چینی سے انتظار رہتا ہے۔ دسمبر کی آخری تاریخ اور جنوری کی پہلی تاریخ[دن ہو یا رات]لوگ جشن و طرب کی محفلیں سجا کر خوب موج و مستی کرتے ہیں، اور نہ جانے کتنے واہیات، لغویات اور خرافات پر عمل پیرا ہو جاتے ہیں۔

’’نیو ایئر‘‘ کے نام پر طوفانِ بدتمیزی برپا کر کے اس کا استقبال کیا جاتا ہے، اور اس موقع پر یہ بات بالکل فراموش کر دی جاتی ہے کہ سالِ نو کی آمد صرف خوشی و مسرت ہی نہیں، بلکہ دراصل فکر، تدبر، خود احتسابی اور اصلاحِ احوال کی دعوت ہے۔

ہم اپنی منزلِ حقیقی کی طرف رواں دواں ہیں، ہماری بہارِ عمر خزاں کی طرف تیزی سے بڑھ رہی ہے، ہم قبر کے قریب ہو رہے ہیں اور دنیا سے داغِ مفارقت دینے کا وقت دن بدن نزدیک آتا جا رہا ہے۔ فیّاضِ ازل نے ہماری جو متعینہ زندگی لکھی تھی، وہ اختتام کے مرحلے میں داخل ہو چکی ہے، اور ہر گزرتا ہوا سال ہمیں خاموش زبان میں یہ پیغام دے رہا ہے کہ زندگی کی پونجی کم ہوتی جا رہی ہے۔

اس لیے سالِ نو کی آمد پر بے جا رسوم، لغویات اور خرافات پر عمل کے بجائے ہمیں اپنا محاسبہ کرنا چاہیے۔ بہر حال، سالِ نو کے موقع پر لایعنی مشاغل، عیاشی و فحاشی سے پُر مجالس کے انعقاد اور ان میں شرکت کے بجائے خود احتسابی سے کام لینا ہی عقل و دانش، دینی شعور اور ایمانی غیرت کا تقاضا ہے۔

حقیقت تو یہ ہے کہ اس دنیا میں انسان ایک مسافر ہے، اور اس کی زندگی سراسر مسافرانہ ہے۔ ہم سب گویا کسی اسٹیشن پر بیٹھے ہوئے ہیں؛ جس کی گاڑی آئی وہ اپنے اگلے سفر کے لیے روانہ ہو گیا، اور باقی مسافر اپنی اپنی گاڑی کے انتظار میں ہیں کہ کب بلاوا آ جائے اور تمام اسباب و سامان سمیٹ کر چل دیا جائے۔ نہ کوئی یہاں ہمیشہ رہنے آیا ہے اور نہ ہی کسی کو ہمیشہ کی مہلت ملی ہے۔

ہم میں سے کتنے ایسے ہیں جو غفلت اور لاپرواہی میں اپنی عمر کے بیش قیمت لمحات ضائع کر رہے ہیں، اپنی موت کو بھلا کر، انجام سے بے پروا ہو کر، کھانے پینے، کھیل کود اور نفسانی خواہشات میں مصروف ہیں؛ حالاں کہ سانسوں کی تعداد بڑھنے کے ساتھ ساتھ عمر کی مقدار گھٹتی جا رہی ہے، اور موت ہر لمحہ ہم سے ایک قدم کے فاصلے پر کھڑی ہے۔

رفتہ رفتہ انسان اپنی منزلِ مقصود کی طرف بڑھ رہا ہے۔ اس لیے انسان کو اپنے اعمال و افعال کا سنجیدگی سے جائزہ لینا چاہیے، نہ کہ محض مبارکبادوں اور وقتی خوشیوں کے ذریعے دل کو تسلی دے لینا۔ ہر گزرا ہوا دن آنے والے دن کی یاد دہانی ہے، اور جو وقت گزر گیا وہ کبھی واپس نہیں آئے گا، البتہ وہ ہمارے لیے ایک گواہ بن چکا ہے۔

درحقیقت سالِ نو ہمیں یہی پیغام دیتا ہے کہ جو وقت گزرنا تھا وہ گزر گیا، اب مستقبل کی فکر کرنی ہے؛ غفلت و لاپرواہی کے ماحول کو چھوڑ کر اپنی سمتِ سفر متعین کرنی ہے، اور آخرت کے طویل سفر کے لیے زادِ راہ کا انتظام کرنا ہے۔

ویسے بھی نیا سال محض وقتی مسرتوں اور خوشیوں کے جذبات لے کر نہیں آتا، بلکہ ایک نئے سفر کی شروعات، تازہ عزم کے ساتھ زندگی کو آگے بڑھانے کا شوق، اپنے اندر پوشیدہ صلاحیتوں کو بیدار کرنے اور بکھرے ہوئے معاملات کو سمیٹنے کا حوصلہ بھی دیتا ہے۔ دنیا کی تاریخ گواہ ہے کہ سب سے زیادہ پُرعزم اور بلند حوصلہ حضرات انبیائے کرام علیہم السلام گزرے ہیں، جن کی پوری زندگی مضبوط عزائم اور شدید مخالفتوں کے مقابل دیوارِ آہن بنی رہی، اور انہوں نے اپنے متبعین کو بھی صبر، استقامت اور عملِ مسلسل کا درس دیا۔

نبی کریم ﷺ کی ذاتِ گرامی اس کی روشن ترین مثال ہے۔ کن حالات میں اور کیسی کیسی مخالفتوں کے باوجود حضورنبی کریم ﷺ نے دینِ حق کی دعوت کو عام کیا اور انسانیت تک اللہ وحدہٗ لا شریک کے پیغام کو پہنچایا، اور یہ ثابت کر دیا کہ اگر ارادہ مضبوط ہو تو حالات کی آندھیاں بھی راستہ نہیں روک سکتیں۔

یقیناً اگر عزائم سرد پڑ جائیں اور ارادوں میں تھکن در آئے تو کامیابی و کامرانی ایک ادھورا خواب بن کر رہ جاتی ہے۔ اسی لیے کسی شاعر نے کیا خوب کہا ہے؎

ٹھہرو نہ ارادوں کی تھکن جاگ پڑے گی

ایک لمحہ کو رکنا بھی قیامت ہے سفر میں

پس ہر نیا سال خفتہ عزائم کو بیدار کرنے، سوئے ہوئے جذبات کو جگانے، مضبوط قوتِ ارادی کے ساتھ آگے بڑھنے اور غفلتوں سے دامن جھاڑ کر میدانِ عمل میں اترنے کی دعوت دیتا ہے-

نیا سال اور دو بنیادی تقاضے:

یوں تو نیا سال ہمیں بہت سی باتوں کی طرف متوجہ کرتا ہے، مگر بالخصوص ہم مسلمانوں کو اس موقع پر دو بنیادی امور پر سنجیدگی سے توجہ دینے کی اشد ضرورت ہے: (1) ماضی کا احتساب:

نیا سال ہمیں دینی و دنیوی دونوں میدانوں میں اپنا محاسبہ کرنے کا موقع فراہم کرتا ہے کہ ہماری زندگی کا ایک اور سال کم ہو گیا...ہم نے اس میں کیا کھویا اور کیا پایا؟

عبادات، معاملات، اخلاق، حلال و حرام، حقوقُ اللہ اور حقوقُ العباد...ان سب کے آئینے میں اپنی پوری زندگی کی ورق گردانی کرنی چاہیے۔ اس لیے کہ انسان دوسروں کی نظروں سے تو اپنی کوتاہیوں کو چھپا سکتا ہے، مگر خود اپنے ضمیر کی عدالت سے نہیں بچ سکتا۔

اسی حقیقت کی طرف حضور نبی اکرم ﷺ نے توجہ دلاتے ہوئے فرمایا:"حاسِبُوا أَنفُسَكُم قَبلَ أَن تُحاسَبُوا"(کنز العمال: 3044)

’’تم اپنا محاسبہ خود کرو، اس سے پہلے کہ تمہارا حساب کیا جائے۔‘‘

لہٰذا ہمیں دیانت داری کے ساتھ اپنا مواخذہ کرنا چاہیے اور ملی ہوئی مہلت سے فائدہ اٹھانا چاہیے، قبل اس کے کہ یہ مہلت ہمیشہ کے لیے ختم ہو جائے۔ قرآنِ کریم سورۂ منافقون میں نہایت بلیغ انداز میں ہمیں متنبہ کرتا ہے کہ موت کا وقت آنے سے پہلے پہلے ہوش کے ناخن لے لیے جائیں۔

(2) آئندہ کا لائحۂ عمل:

خود احتسابی کے بعد اگلا مرحلہ یہ ہے کہ اس کی روشنی میں آئندہ کے لیے واضح منصوبہ بنایا جائے۔ یہ دیکھا جائے کہ گزشتہ سال ہماری کمزوریاں کیا رہیں، اور انہیں کس طرح دور یا کم کیا جا سکتا ہے۔

انسان خطا کا پتلا ہے، اس سے غلطیاں ہوتی رہیں گی، مگر اصل خرابی یہ نہیں کہ انسان سے غلطی ہو جائے؛ اصل خرابی یہ ہے کہ وہ اس سے سبق نہ لے اور بار بار اسی راہ پر چلتا رہے۔

نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا: “اغتنم خمساً قبل خمس…”(المستدرک للحاکم: 6487)یہ حدیث دراصل وقت کی قدر، زندگی کی قیمت اور مواقع کی اہمیت کو اجاگر کرتی ہے، اور ہمیں بتاتی ہے کہ عقل مند وہی ہے جو فرصت کو غنیمت جانے اور آج کے لمحے کو کل کی کامیابی کا زینہ بنائے۔

دینی و دنیوی دونوں محاذوں پر محاسبہ:

یہ بھی حقیقت ہے کہ ہماری کامیابی اور ناکامی کا دار و مدار اسی دنیا کے اعمال پر ہے۔ جیسا کہ قرآنِ کریم میں ارشادِ باری تعالیٰ ہے:"وَأَن لَّيْسَ لِلْإِنسَانِ إِلَّا مَا سَعَىٰ…"(النجم)

اس لیے ضروری ہے کہ ہم اپنی دنیاوی زندگی- تجارت، ملازمت، تعلیم اور معاش۔ سب کا جائزہ لیں، اور اسی کے ساتھ اپنے دینی احوال۔ نماز، روزہ، اخلاق، معاملات اور تعلق باللہ کا بھی بے لاگ محاسبہ کریں۔

ناکامی بذاتِ خود کوئی عیب نہیں، عیب یہ ہے کہ انسان ناکامی کے باوجود بے حس رہے، اس کے اسباب پر غور نہ کرے اور سنبھلنے کی کوشش نہ کرے۔ جو شخص اپنے نقصانات کا جائزہ لیتا ہے، وہی گر کر سنبھلتا ہے اور اپنی منزل کی طرف دوبارہ قدم بڑھاتا ہے۔

حاصلِ کلام یہ ہے کہ سال کی تبدیلی اور کلینڈر کی شروعات محض جشن و مسرت کا نام نہیں، بلکہ خود احتسابی، فکرِ آخرت، اصلاحِ کردار اور تجدیدِ عزم کی دعوت ہے۔جس طرح ایک تاجر دن کے اختتام پر حساب کتاب کرتا ہے، اسی طرح مسافرِ دنیا کو بھی سال کے اختتام پر اپنی زندگی کی کتاب کا جائزہ لینا چاہیے۔نیا سال عبرت ہے، موعظت ہے اور فکر و عمل کی پُراثر دعوت ہے۔

مرزا غالبؔ نے کیا خوب کہا ہے؎

رو میں ہے رخشِ عمر، کہاں دیکھیے تھمے

نے ہاتھ باگ پر ہے، نہ پا ہے رکاب میں

اللہ تعالیٰ ہمیں وقت کی قدر کرنے، اپنا محاسبہ کرنے اور اپنی زندگی کو مقصدِ تخلیق کے مطابق ڈھالنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین بجاہ  

Abdul Jabbar Alimi

عبدالجبار علیمی نظامی نیپالی۔

چیف ایڈیٹر نیپال اردو ٹائمز 8795979383