نئی نسل اور دین سے دوری: ایک لمحۂ فکریہ
ازقلم:محمد شمیم احمد نوری مصباحی
خادم:دارالعلوم انوارِ مصطفیٰ
سہلاؤشریف،باڑمیر(راجستھان)
……………………
دنیا مادی ترقی کے آسمانوں کی بلندیوں کو چھو رہی ہے، لیکن روحانیت کی روشنی آہستہ آہستہ مدھم پڑتی جا رہی ہے۔ باہر کی چمک دمک میں روز بروز اضافہ ہو رہا ہے مگر دلوں کی بستیوں میں تاریکی بڑھ رہی ہے۔ ایمان کے گلستان کی جگہ خشک سالی نے لے لی ہے، عبادت کی لذت، ذکر کا سکون اور دین سے قلبی وابستگی کم ہوتی جا رہی ہے۔ نئی نسل کی محرومی یہ نہیں کہ ان کے پاس دنیا کم ہے، اصل محرومی یہ ہے کہ دلوں میں ایمان کا شوق اور عبادت کا ذوق باقی نہیں رہا۔ یہ صورت حال پوری امت کے لیے گہرا لمحۂ فکریہ ہے۔
اصل سوال یہ نہیں کہ نئی نسل دین سے کیوں دور ہے؟ اصل سوال یہ ہے کہ ہم نے انہیں دین کے قریب لانے کے لیے کیا کیا؟
نئی نسل کے دین سے دور ہونے کے بنیادی اسباب:
نئی نسل کے دین سے دور ہونے کے بنیادی اسباب میں سب سے پہلا سبب گھر کے دینی ماحول کا ختم ہو جانا ہے۔ گھر بچے کی اولین درسگاہ ہے۔ اگر گھر میں قرآن کی تلاوت کی آوازیں خاموش ہو جائیں، ذکر و اذکار اور درود کے چراغ بجھ جائیں، نبی کریم ﷺ کی سیرت کا ذکر کم ہو جائے اور والدین عملی نمونہ نہ بنیں تو بچوں کے دلوں سے ایمان کی روشنی ماند پڑنے لگتی ہے۔ یاد رکھیں! بچے وہی کرتے ہیں جو والدین کرتے ہیں۔ نماز پڑھنے والا والد نمازی بیٹا بناتا ہے، اخلاق والا گھر اخلاق والے بچے دیتا ہے۔ جب گھر میں دین کا چراغ بجھ جائے تو باہر اندھیرا ہی اندھیرا ملتا ہے۔
دوسرا بڑا سبب
موبائل، انٹرنیٹ اور سوشل میڈیا کا بے لگام سیلاب ہے۔ آج کی اسکرین دلوں اور ذہنوں پر قبضہ کر چکی ہے۔ گھنٹوں موبائل پر گزر جاتے ہیں مگر دین کے لیے چند منٹ بھی بھاری محسوس ہوتے ہیں۔ سوشل میڈیا کی چمک نے نوجوانوں کی نگاہوں سے حقیقی نور چھین لیا ہے۔ فحاشی، بے حیائی، تشدد، ملحدانہ نظریات اور اخلاق سوز مواد نے نوجوانوں کی بنیادوں کو کمزور کر دیا ہے۔ ایسے میں ضرورت یہ نہیں کہ سوشل میڈیا کو دشمن سمجھا جائے بلکہ اسے دین کی خدمت، پیغامِ مصطفیٰ ﷺ کی اشاعت اور تربیت کا ذریعہ بنایا جائے۔
تیسرا سبب
دینی تعلیم کی قدر میں کمی ہے۔ بہت سے والدین دین کو رسم و رواج سمجھتے ہیں۔ ان کی ترجیحات میں دنیاوی کامیابی تو ہے مگر دینی تعلیم کی فکر نہیں۔ ڈاکٹر، انجینئر، آئی اے ایس بنانا چاہتے ہیں مگر اچھا مسلمان بنانے کی کوشش کم دکھائی دیتی ہے۔ نتیجہ یہ کہ دنیاوی اسناد تو مل جاتی ہیں مگر ایمانی بنیادیں کمزور رہ جاتی ہیں۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ دینی و دنیاوی تعلیم میں توازن قائم ہو۔
چوتھا سبب
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
غلط صحبت اور گمراہ کن ماحول ہے۔ صحبت انسان کے ذہن، اخلاق اور راستے کو بدل دیتی ہے۔ نوجوان اگر غلط دوستوں، غلط محفلوں اور غلط نظریات کے درمیان رہیں تو ان کا رخ گمراہی کی طرف ہو جاتا ہے۔ صالح صحبت اور نیک ماحول نوجوانوں کے لیے سب سے قیمتی نعمت ہے۔ پانچواں سبب علماء اور نوجوانوں کے درمیان ذہنی فاصلہ ہے۔ نوجوان جب اپنے سوالات کا جواب نہیں پاتے، جب ان کی بات کو گستاخی سمجھا جاتا ہے، جب ان کی ذہنی الجھنوں کو اہمیت نہیں دی جاتی تو وہ انٹرنیٹ کی
اندھی دنیا میں جواب تلاش کرتے ہیں جہاں زیادہ تر گمراہ ذہن بیٹھے ہیں۔ ضرورت ہے کہ علماء محبت سے بات کریں، سوالات کا آسان اور مدلل جواب دیں۔نئی نسل کی دین سے دوری کے نتیجے میں روحانی و اخلاقی زوال پیدا ہوتا ہے۔ جھوٹ، بے حیائی، گستاخی، ضد، والدین کی نافرمانی عام ہو جاتی ہے۔ دلوں سے سکون چھن جاتا ہے، ذہنی بے چینی بڑھ جاتی ہے۔ الحاد، لبرل ازم اور مغربی نظریات ذہنوں میں گھر کر جاتے ہیں اور اسلامی شناخت کمزور ہوتی ہے۔ نوجوان جب بگڑتے ہیں تو پورے خاندان اور معاشرے کا توازن بگڑتا ہے نئی نسل کو دین سے قریب لانے کی مؤثر اور عملی تدابیر:
نئی نسل کو دین سے قریب لانے کے لیے عملی تدابیر میں سب سے پہلے گھر کے دینی ماحول کی تجدید ضروری ہے۔ روزانہ قرآن کی تلاوت، بسم اللہ سے کھانا شروع کرنا، سلام کا اہتمام، نبی کریم ﷺ کی سیرت کا ذکر اور والدین کا عملی نمونہ۔۔۔یہ سب ایمان کے وہ چراغ ہیں جو گھروں کو روشن کرتے ہیں۔ جدید وسائل کا مثبت استعمال بھی ضروری ہے۔ سوشل میڈیا کے ذریعے اخلاقی پیغامات، سیرت کی گفتگو اور قرآنی تعلیم نوجوانوں تک پہنچ سکتی ہے۔ دینی و دنیاوی تعلیم میں توازن قائم کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ نوجوانوں کو عزت، اعتماد اور محبت دینا بھی ضروری ہے کیونکہ نصیحت تب اثر کرتی ہے جب دل جیت لیا جائے۔ صالح صحبت اور نیک ماحول نوجوانوں کی زندگی بدل سکتا ہے۔ مسجد و مدرسہ سے رشتہ مضبوط کرنا بھی بے حد ضروری ہے؛ یہی ادارے ایمان کی شمع روشن کرتے ہیں۔ نوجوانوں کے سوالات کا حکمت، دلیل اور محبت بھرے انداز میں جواب دینا وقت کی سب سے اہم ضرورت ہے۔
مایوسی کی ضرورت نہیں۔ نئی نسل کھوئی ہوئی نہیں بلکہ امت کی امانت اور مستقبل کی روشنی ہے۔ اگر آج ہم محبت، حکمت اور مثبت تربیت سے ان کا ہاتھ تھام لیں تو یہی نوجوان کل دین کے خادم، امت کے محافظ اور قوم کی شان بن کر اُبھریں گے۔بارگاہِ خداوندیمیں دعا ہے کہ اے پروردگار عالم! ہماری نئی نسل پر اپنا خاص فضل و کرم فرما، ان کے دل ایمان کی روشنی سے بھر دے، ان کے اخلاق سنوار دے، ان کی سوچوں میں پاکیزگی اور دلوں میں دین کی محبت ڈال دے۔ اے اللہ! انہیں ہر فتنہ، ہر گمراہی، ہر بری صحبت اور ہر باطل نظریے سے محفوظ فرما۔ صالح رفیق، نیک ماحول، صحیح سمجھ اور مضبوط ایمان عطا فرما۔ ہمارے گھروں کو ایمان و محبت کا گہوارہ بنا دے، اور ہماری اولاد کو دنیا و آخرت کی بھلائیوں کا خزانہ بنا دے۔ اے رب کریم! انہیں دین کی عزت، امت کی خدمت اور اسلام کی سربلندی کا ذریعہ بنا دے۔
محرر کا مختصر تعارف
حضرت مولانا محمد شمیم احمد نوری مصباحی ضلع سدھارتھ نگر کے ایک معروف علمی و دینی خانوادے سے تعلق رکھنے والے سنجیدہ، باوقار اور باصلاحیت عالمِ دین ہیں۔ آپ اس وقت دارالعلوم انوارِ مصطفیٰ سہلاؤ شریف، باڑمیر،راجستھان میں ناظمِ تعلیمات اور سینئر مدرس کی حیثیت سے نہایت مؤثر خدمات انجام دے رہے ہیں۔ اس سے قبل آپ جامعہ لطیفہ نعیمیہ بلاری، الجامعۃ النظامیہ شکرولی، جامعہ صدیقیہ مٹیریا،نیپال اور دارالعلوم سلطان الہند بھیلواڑہ سمیت متعدد اداروں میں تدریسی خدمات پیش کر چکے ہیں۔ آپ کی تحریر میں سنجیدگی، روانی، فصاحت اور فکری گہرائی کا حسین امتزاج پایا جاتا ہے جو آپ کی علمی وقعت میں مزید اضافہ کرتا ہے۔ آپ کی شخصیت میں علمی رسوخ، سلاستِ بیان، حسنِ اخلاق اور اصلاحِ امت کا سچا درد نمایاں ہوتا ہے، اور آپ 2007ء سے مسلسل دارالعلوم انوارِ مصطفیٰ کی علمی و تربیتی ترقی میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔
