فقیہ ملت علیہ الرحمہ، تفقہ اور تصلب فی الدین
محمد کلام الدین نعمانی مصباحی امجدی بنوٹا، مہوتری، نیپال نائب ایڈیٹر نیپال اردو ٹائمز
برصغیر میں فقہ اسلامی کی ترویج و اشاعت اور اجتماعی رہنمائی کے سلسلے میں جن گراں قدر شخصیات نے خدمات انجام دیں، ان میں ’’حضور فقیہ ملت مفتی محمد جلال الدین امجدی علیہ الرحمہ‘‘ کا نام نمایاں و ممتاز ہے۔ آپ نے دین کے فکری و فقہی محاذ پر جو علمی بصیرت، اصولی جراءت، اور شریعت کا استحضار پیش کیا، وہ آپ کو محض ایک مفتی نہیں بلکہ فقہی شعور کی علامت بنا دیتا ہے۔ آپ کی شخصیت میں جہاں تفقّہ کی عظیم خصوصیت تھی، وہیں تصلّب فی الدین کے بلند معیار نے آپ کے فتاویٰ کو اعتدال، بصیرت اور حکمت کا جامع نمونہ بنا دیا۔
آپ امت کے حالات کا بصیرت شناس رہنما ،اور ایسے فقیہ تھے جنہوں نےاصولیت، بصیرت اور حکمت کے ساتھ امت کی رہنمائی کی۔ آپ کی زندگی ہمیں یہ پیغام دیتی ہے کہ:
فقہ کو صرف کتب میں نہیں، عمل میں زندہ رکھنا فقیہ کی ذمہ داری ہے۔ دین کی پختگی جمود یا بے جا سختی کا نام نہیں، بلکہ اصولوں پر استقامت ہے۔ صحیح فقہ وہی ہے جس میں تفقہ اور تصلب کا امتزاج ہو۔
یہی وہ فقہی اسلوب ہے جو امت کو اعتدال، فکری تحفظ اور عملی رہنمائی عطا کرتا ہے، جو کہحضورفقیہ ملت علیہ الرحمہ کی ذات میں بدرجہ اتم موجود تھا۔ آپ علیہ الرحمہ کے فتاویٰ اور علمی بیانات میں چند خصوصیات واضح طور پر نمایاں تھیں۔جو آپ کے علمی جلال اور فقہی شان و شوکت کے معیار کو مزید بلندی پر لے جاتیں ہیں۔
آپ نے فقہ کو جامد نہیں سمجھا بلکہ اسے زمانے کی ضرورتوں کے ساتھ تعامل رکھنے والا علم قرار دیا۔
تاہم اس تعامل کی حد شریعت کی بنیادیں تھیں، نہ کہ مصلحت کے نام پر دین سے انحراف۔
آپ نے ہمیشہ قرآن و سنت،اقوالِ ائمہ، فقہی نظائراور اصولی ضوابط کے ساتھ فتاوی کو مضبوط بنیاد فراہم کیا، آپ اپنے مزاج میں فقہی شدت پسند نہیں تھے مگر جہاں اصول ٹوٹتا، وہاں آپ کے لہجے میں صلابتِ دین واضح ہو جاتی، یہی امتزاج فقہ کو زندگی دیتا ہے اور دین کو تحفظ فراہم کرتا ہے۔
آپ علیہ الرحمہ عقائد و دینی معاملات میں اس قدر متصلب تھے کہ آپ نے ہمیشہ شریعت کے اصولوں پر کسی دباؤ کے بغیر قائم رہنے کا درس دیا،مصلحت کو دلائل اور اصولوں کے تابع رکھا، دین میں غیر ضروری توسع اور غیر علمی سختی دونوں سے احتراز کیا، عقائد و شعائر کے معاملے میں غیرتِ دینی اور غیر متزلزل موقف اپنایا، یہی ’’تصلّب فی الدین‘‘ تھا جس نے آپ کے فیصلوں کو عزیمت و اعتدال کی راہ پر قائم رکھا۔
آپ علیہ الرحمہ نے کئی عظیم کارنامے انجام دیے، جو اپنے معاصر میں ممتاز ہیں۔
(الف): برصغیر کا پہلا مفتی ساز ادارہ ’’مرکز تربیت افتا‘‘ ہے، جہاں 27 سالوں سے مفتیان کرام کی جماعت خدمت خلق کے لئے مزین ہو کر نکل رہی ہے۔
(ب) اردو فتاوے جات کا انسائیکلوپیڈیا ’’فتاوی فیض الرسول‘‘، ’’فتاوی فقیہ ملت‘‘، ’’فتاوی مرکز تربیت افتا‘‘، جو عالم فقہ و افتا میں اپنی الگ شناخت قائم کر چکے ہیں۔
(ج) ان کے علاوہ علمی ورثاء مفتی و مفتی گرشہزادگان (حضرت مولانا انوار احمد، قاضی شرع ضلع بستی نائب فقیہ ملت حضرت علامہ مفتی محمد ابرار احمدامجدی، جانشین فقیہ ملت محدث بستی حضرت مفتی ازہار احمد امجدی ازہری مصباحی صاحبان) کوچھوڑے،جن کی علمی و دینی خدمات پورے ہند کو محیط ہے۔ان کے علاوہ بہت سے نمایاں کارنامے ہیں، لیکن طوالت مانع ہے۔
اخیر میں اپنی پوری ٹیم کی جانب سے عالم اسلام کو عرس حضور فقیہ ملت علیہ الرحمہ کی بہت ساری مبارک بادیاں پیش کرتے ہیں۔
دعا گو ہوں کہ مولی تعالی ہمیں حضور فقیہ ملت کے فیوض و برکات سے مالا مال فرمائے، اور ان کی نقوش میں عمل پیرا ہونے کی توفیق بخشے۔ آمین
