اسلام کے پانچ ارکان اور ان کی فضیلت
تحریر:
(نکہت فاطمہ مہراج گنجوی)
اسلام ایک سچا اور مکمل دین ہے جو ہمیں اچھا انسان بننے اور اللہ کی عبادت کرنے کا طریقہ سکھاتا ہے۔ اسلام کی بنیاد پانچ اہم چیزوں پر ہے جنہیں "ارکانِ اسلام" کہا جاتا ہے۔ حدیثِ مبارکہ میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اسلام کی بنیاد پانچ چیزوں پر قائم ہے۔
کلمہ شہادت
لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ
یعنی: اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے رسول ہیں۔یہ اسلام کی سب سے پہلی اور اہم بنیاد ہے۔ جو شخص سچے دل سے اس کا اقرار کرتا ہے وہ مسلمان بن جاتا ہے۔ اس کے بغیر کوئی شخص مسلمان نہیں بن سکتا اور یہ انسان کو شرک سے بچاتا ہے۔کلمہ شہادت اسلام کی بنیاد اور جنت کی کنجی ہے۔ اس کا اقرار انسان کو کفر و شرک کی تاریکیوں سے نکال کر ایمان کی روشنی میں لاتا ہے۔ یہ کلمہ دل کو اطمینان بخشتا ہے اور انسان کو صرف ایک اللہ کے سامنے جھکنا سکھاتا ہے۔
نماز
دن میں پانچ وقت کی نماز ادا کرنا ہر مسلمان پر فرض ہے۔ نماز انسان کو برائیوں سے بچاتی ہے اور دل کو سکون دیتی ہے۔ نماز حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی آنکھوں کی ٹھنڈک ہے۔ یہ گناہوں کو مٹاتی ہے اور اللہ نماز پڑھنے والوں سے خوش ہوتا ہے۔ قیامت کے دن سب سے پہلے نماز کا ہی حساب ہوگا۔نماز دین کا ستون اور مومن کی معراج ہے۔ اس کی سب سے بڑی فضیلت یہ ہے کہ یہ انسان کو فحش اور برے کاموں سے روکتی ہے۔ پانچ
وقت اللہ کے حضور سر بسجود ہونا روح کو پاکیزگی عطا کرتا ہے اور انسان کے گناہ اس طرح جھڑ ؎جاتے ہیں جیسے درخت سے سوکھے پتے گرتے ہیں۔ یہ اللہ سے گفتگو کا براہِ راست ذریعہ ہے۔
روزہ
رمضان کے مہینے میں مسلمان صبح سے شام تک کھانے پینے سے رکتے ہیں، یہ عبادت روزہ کہلاتی ہے۔ رمضان اسلامی سال کا ایک مقدس مہینہ ہے۔ روزہ صبر اور برداشت پیدا کرتا ہے اور غریبوں کی بھوک کا احساس دلاتا ہے۔ روزہ دار کے لیے جنت میں ایک خاص دروازہ ہوگا۔روزے کی فضیلت کے بارے میں حدیثِ قدسی ہے کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: "روزہ میرے لیے ہے اور میں ہی اس کا اجر دوں گا"۔ روزہ انسان میں تقویٰ اور پرہیزگاری پیدا کرتا ہے۔ یہ صرف بھوکا پیاسا رہنے کا نام نہیں بلکہ نفس پر قابو پانے کی تربیت ہے۔ روزہ دار کے لیے جنت میں 'بابِ ریان' نامی خاص دروازہ ہے جس سے صرف روزہ دار ہی داخل ہوں گے۔
زکوٰۃ
زکوٰۃ مالدار مسلمان پر فرض ہے کہ وہ اپنے مال کا ایک مخصوص حصہ غریبوں اور ضرورت مندوں کو دے۔ زکوٰۃ سے مال میں برکت پیدا ہوتی ہے، معاشرے میں محبت اور ہمدردی پروان چڑھتی ہے اور غریبوں کی مدد سے اللہ راضی اور خوش ہوتا ہے۔زکوٰۃ مال کو پاک کرنے کا ذریعہ ہے۔ اس کی فضیلت یہ ہے کہ یہ معاشرے سے غربت کا خاتمہ کرتی ہے اور امیر و غریب کے درمیان محبت کا رشتہ قائم کرتی ہے۔ زکوٰۃ دینے سے مال کم نہیں ہوتا بلکہ اللہاس میں مزید برکت عطا فرماتا ہے۔ یہ بخل جیسی اخلاقی بیماری سے نجات دلاتی ہے اور اللہ کی راہ میں خرچ کرنے کا جذبہ پیدا کرتی ہے۔
حج
اگر کسی مسلمان کے پاس استطاعت ہو تو زندگی میں ایک بار خانہ کعبہ کا حج فرض ہے۔ خانہ کعبہ کی زیارت اور مخصوص عبادات کا نام حج ہے جو مکہ مکرمہ میں ادا کی جاتی ہیں۔ حج گناہوں کو مٹا دیتا ہے اور حاجی ایسے پاک ہو جاتا ہے جیسے ابھی پیدا ہوا ہو۔ حج کے ذریعے بندہ اللہ کے بہت قریب ہو جاتا ہے۔صاحبِ استطاعت پر زندگی میں ایک بار حج فرض ہے۔ اس کی عظیم فضیلت یہ ہے کہ 'حجِ مبرور' (مقبول حج) کا بدلہ صرف جنت ہے۔ حج کے دوران مسلمان کالے گورے اور عربی عجمی کی تمیز مٹا کر ایک ہی لباس (احرام) میں اللہ کے گھر کا طواف کرتے ہیں، جو وحدتِ اسلامی کی بہترین مثال ہے
حاصلِ کلام:
اسلام کے یہ پانچ ارکان مسلمان کی زندگی کا بنیادی حصہ ہیں۔ اگر کوئی مسلمان سچے دل سے ان پر عمل کرے تو وہ دنیا اور آخرت میں کامیاب ہو سکتا ہے۔
اسلام کے یہ پانچ ارکان انسانی زندگی کو نظم و ضبط اور بندگی کے سانچے میں ڈھالتے ہیں۔ اگر ہم ان ارکان پر ان کی روح کے مطابق عمل کریں تو نہ صرف ہماری انفرادی زندگی بلکہ پورا معاشرہ امن و سکون کا گہوارہ بن سکتا ہے۔
