مسلم معاشرے میں داخلی زوال کی چند سنگین صورتیں
✍🏻 محمد پالن پوری
یہ داغ داغ اُجالا یہ شب گزیدہ سحر
وہ انتظار تھا جس کا یہ وہ سحر تو نہیں
ہم سب عموماً یہ سمجھتے ہیں اور کسی حد تک بجا بھی سمجھتے ہیں کہ مسلم معاشرے کا سب سے بڑا المیہ بیرونی دباؤ، سیاسی چالیں اور عالمی ناانصافیاں ہیں۔ یہ حقیقت ہے اس سے انکار ممکن نہیں مگر سوال یہ ہے کہ کیا صرف انہی عوامل کو ہمارے زوال کی جڑ مان لینا درست ہوگا؟ کیا یہ فکری دیانت کے مطابق ہے کہ ہم ہر شکست، ہر بگاڑ اور ہر خرابی کو باہر سے آنے والی سازشوں کے کھاتے میں ڈال کر خود کو برئ الذمہ قرار دے دیں؟ اگر ہم ذرا توقف کے ساتھ خود سے بات کریں تو ماننا پڑے گا کہ خارجی دباؤ اگر طوفان ہیں تو داخلی کمزوریاں وہ دراڑیں ہیں جن سے یہ طوفان اندر داخل ہوتا ہے۔ کوئی بھی معاشرہ صرف باہر سے نہیں ٹوٹتا۔ وہ پہلے اندر سے کمزور ہوتا ہے پھر بیرونی طاقتیں اسے بکھیر دیتی ہیں۔ اور یہی وہ نکتہ ہے جہاں مسلم معاشرے کے داخلی زوال پر سنجیدہ گفتگو ناگزیر ہو جاتی ہے۔۔۔۔
داخلی زوال کی سب سے نمایاں صورت دین کے ساتھ ہمارا وہ تعلق ہے جو جذبات تک محدود اور عمل سے خالی ہوتا جا رہا ہے۔ ہم مذہب کو شناخت کے طور پر تو اپناتے ہیں مگر اخلاق، معاملات اور اجتماعی رویّوں میں اسے پسِ پشت ڈال دیتے ہیں۔ عبادات موجود ہیں مگر عدل ناپید، زبان پر کلمہ ہے مگر لین دین میں جھوٹ، وعدہ خلافی اور حق تلفی عام ہے گویا دین مسجد کی دہلیز پر رک جاتا ہے اور بازار میں داخل ہوتے ہی اس کی گرفت ڈھیلی پڑ جاتی ہے۔۔ قربان جاؤں اقبال پر کہ اقبال نے اسی تضاد کو برسوں پہلے یوں آشکار کیا تھا کہ
مسجد تو بنا دی شب بھر میں ایماں کی حرارت والوں نے
من اپنا پرانا پاپی ہے برسوں میں نمازی بن نہ سکااس زوال کی دوسری سنگین صورت خاندانی نظام کی کمزور پڑتی بنیادیں ہیں۔ والدین اور اولاد کے درمیان اعتماد کی جگہ بدگمانی، ادب کی
جگہ تلخی اور قربت کی جگہ فاصلے بڑھتے جا رہے ہیں۔ نکاح مشکل اور گناہ آسان ہوتا چلا گیا ہے۔ عورت یا تو مظلوم ہے یا محض ایک استعمالی شیئ اور مرد ذمہ داری کے بوجھ سے بچ کر اقتدار کے احساس میں جیتا ہے جس کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ گھر جو کبھی سکون اور تربیت کا مرکز تھا اب اضطراب اور کشمکش کی علامت بنتا جا رہا ہے حالاں کہ یہی وہ اکائی تھی جہاں سے ایک صالح معاشرہ جنم لیتا تھا۔
تیسری صورت فکری سطحیّت اور شعوری غفلت ہے۔ ہم سننے سے پہلے ردّعمل دیتے ہیں، سمجھنے سے پہلے فتویٰ صادر کر دیتے ہیں، تحقیق کے بجائے افواہ اور دلیل کے بجائے جذبات پر یقین کر لیتے ہیں۔ اختلاف اب برداشت نہیں رہا بلکہ دشمنی بن چکا ہے اور سوال کرنا بغاوت سمجھا جانے لگا ہے۔ ایسے ماحول میں نہ فکر پروان چڑھتی ہے نہ اصلاح کی کوئی صورت نکلتی ہے بس ایک ہجوم پیدا ہوتا ہے اور ہجوم ہمیشہ کسی نہ کسی کے ہاتھ میں استعمال ہوتا ہے۔۔سالوں پہلے فیض کی نکلی ہوئی آواز یوں محسوس ہوتی ہے جیسے آج کے لیے ہو
یہ داغ داغ اُجالا یہ شب گزیدہ سحر
وہ انتظار تھا جس کا یہ وہ سحر تو نہیں
داخلی زوال کی ایک نہایت خطرناک شکل اخلاقی حس کا مفلوج ہو جانا ہے۔ ظلم اگر اپنے ہاتھ سے ہو تو اسے حکمت کا نام دے دیا جاتا ہے، ناانصافی اپنے مفاد میں ہو تو تاویلیں تراش لی جاتی ہیں اور کمزور کے کچلے جانے پر خاموشی کو مصلحت کا لبادہ اوڑھا دیا جاتا ہے۔ یہی وہ مرحلہ ہے جہاں معاشرہ مظلوم ہونے کے بجائے ظلم کا عادی ہو جاتا ہے اور عادت بن جانے والا ظلم سب سے زیادہ ہلاکت خیز ثابت ہوتا ہے۔۔۔۔۔۔
پانچویں صورت مادّہ پرستی اور نمائش کا وہ سیلاب ہے جس نے اقدار کو بہا کر رکھ دیا ہے۔سادگی غربت، قناعت ناکامی اور وقار کمزوری سمجھا جانے لگا ہے، عزت کردار سے نہیں بلکہ حیثیت سے ناپی جاتی ہے اور کامیابی کا معیار تقویٰ کے بجائے ظاہری چمک دمک بن چکا ہے۔ اس دوڑ میں وہ سب پیچھے رہ گیا جو انسان کو انسان بناتا تھا یعنی حیا، حلم، شکر اور صبر۔
یہ تحریر کسی فرد یا طبقے پر الزام عائد کرنے کے لیے نہیں لکھ رہا بلکہ اجتماعی خود احتسابی کی ایک سنجیدہ کوشش کر رہا ہوں کیونکہ تاریخ کا واضح سبق یہ ہے کہ کوئی قوم بیرونی حملوں سے اتنی نہیں ٹوٹتی جتنی اندرونی زوال سے بکھر جاتی ہے اور جب اندر کی خرابی پہچان لی جائے تو اصلاح کی راہیں خود بخود کھلنے لگتی ہیں۔۔ اقبال کا یہ یقین آج بھی ہمارے لیے چراغِ راہ بن سکتا ہے کہ افراد کے ہاتھوں میں ہے اقوام کی تقدیر
ہر فرد ہے ملت کے مقدر کا ستارہ
مسلم معاشرے میں داخلی زوال کی یہ صورتیں اگر ہمیں بے چین کر رہی ہیں تو یہی بے چینی پہلی علامتِ حیات ہے کیونکہ جو معاشرہ اپنی بیماری کو پہچان لے وہ علاج سے دور نہیں رہتا۔۔۔۔۔
اصل سوال صرف یہ ہے کہ کیا ہم آئینہ دیکھنے کا حوصلہ رکھتے ہیں یا ہر بار آئینہ توڑ کر مطمئن ہو جانا ہی ہماری عادت بن چکا ہے۔۔ اور یہ بھی یاد رکھیں کہ اصلاح کا سفر ہمیشہ اندر سے شروع ہوتا ہے اور وہیں سے کامیاب بھی ہوتا ہے۔۔۔۔۔۔۔
