خواجہ غریب نواز رضی اللہ عنہ کا حسنِ کردار اور اخلاقِ کریمانہ
از: محمد مقتدر اشرف فریدی،
اتر دیناج پور، بنگال
انسانی معاشرے تعلیم و تربیت، اخلاقِ حسنہ، اعلیٰ کردار، اخوت و مساوات اور محبت و شفقت ہی سے عروج و ارتقا حاصل کرتے ہیں۔ معاشرے کے امن، خوش حالی اور استحکام کا راز اعلیٰ اخلاق اور پاکیزہ تربیت میں پوشیدہ ہے۔ بلاشبہ حسنِ اخلاق ہی کے ذریعے دلوں کو مسخر کیا جاتا ہے۔ ہمارے اسلاف نے اپنے اعلیٰ کردار اور اخلاقِ حسنہ کے ذریعے اسلام کی ترویج و اشاعت کی اور شجرِ اسلام کو سرسبز و شاداب کیا۔
اخلاقِ حسنہ کی عظمت کے پیشِ نظر اللہ کریم نے اپنے محبوب، حضور نبی اکرم ﷺ کو خُلقِ عظیم کے اعلیٰ منصب پر فائز فرمایا۔
ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
﴿وَإِنَّكَ لَعَلٰى خُلُقٍ عَظِيمٍ﴾ (سورۃ القلم)
نبی اکرم ﷺ نے اخلاق کی ترویج کو اپنی بعثت کا مقصد قرار دیتے ہوئے فرمایا:
“میں اسی لیے بھیجا گیا ہوں کہ مکارمِ اخلاق کی تکمیل کروں۔”
(البیہقی، السنن الکبریٰ)
مزید ارشاد فرمایا:
“قیامت کے دن میزان میں حسنِ اخلاق سے زیادہ بھاری کوئی چیز نہ ہوگی۔”
(جامع الترمذی)
ان آیات و احادیث سے واضح ہوتا ہے کہ اسلام میں اخلاقِ حسنہ کو بنیادی حیثیت حاصل ہے۔ انبیائے کرام، صحابۂ عظام اور اولیائے کاملین نے اپنے حسنِ کردار کے ذریعے غیر مسلم اقوام کو اسلام کے نور سے منور کیا۔
سلطانُ الہند خواجہ غریب نواز رضی اللہ عنہ ہندوستان کے عظیم صوفی، جلیل القدر بزرگ، عارف باللہ اور بے مثال ولی، سلطانُ الہند عطائے رسول حضرت خواجہ معین الدین حسن چشتی اجمیری رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا ہندوستان میں ورود مسعود اس دور میں ہوا جب ہندوستان میں گمراہی، بت پرستی، ظلم و جبر اور اخلاقی پستی عامتھی۔ اخوت و بھائی چارگی مفقود تھی اور تشدد کو عزت سمجھا جاتا تھا۔
ایسے پرآشوب ماحول میں حضرت خواجہ غریب نواز رضی اللہ نے اپنے حسنِ کردار، شیریں گفتار، حلم و بردباری، صبر و تحمل اور اخلاقِ کریمانہ کے ذریعے اس سرزمین کو توحید و رسالت کے نور سے روشن کر دیا۔ فسق و فجور کی تاریکیاں چھٹ گئیں، رشد و ہدایت کی شمعیں روشن ہوئیں اور کلمۂ حق بلند ہونے لگا۔ آپ کے اخلاق سے متاثر ہو کر لاکھوں افراد دائرۂ اسلام میں داخل ہوئے۔
اخلاقِ کریمانہ
تاریخی شواہد اس حقیقت پر شاہد ہیں کہ تبلیغِ اسلام میں آپ کے اخلاقِ کریمانہ، تواضع و انکساری، عفو و درگزر اور شیریں کلامی نے بنیادی کردار ادا کیا۔ غریب نوازی، خیر خواہی اور خدمتِ خلق آپ کی زندگی کا امتیاز تھا۔ آپ اخلاقِ نبوی ﷺ کا کامل عکس تھے۔ ایک شخص خنجر چھپا کر آپ کی خدمت میں حاضر ہوا، مگر نیت بد تھی۔ آپ نے اس کے ارادے کو بھانپ کر مسکرا کر فرمایا: “درویشوں کے پاس دلوں کی صفائی کے لیے آیا جاتا ہے، ظلم کے لیے نہیں۔” یہ سن کر وہ شخص توبہ کر کے آپ کے دامنِ کرم سے وابستہ ہو گیا۔ (اسرار الاولیا) عطا و سخا حضرت خواجہ غریب نواز نہایت سخی، غریب پرور اور منکسر المزاج تھے۔ کوئی سائل آپ کے در سے خالی نہ لوٹتا۔ حضرت خواجہ قطب الدین بختیار کاکی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے کبھی کسی فقیر کو آپ کے در سے محروم جاتے نہیں دیکھا۔ (معین الارواح)
خوفِ خدا
خوفِ الٰہی آپ پر اس قدر غالب تھا کہ اکثر گریہ و زاری میں مشغول رہتے۔ فرمایا کرتے تھے: “اگر لوگوں کو قبر والوں کا حال معلوم ہو جائے تو کھڑے کھڑے پگھل جائیں۔” (معین الارواح)
نتیجہ
خواجہ غریب نواز رضی اللہ عنہ کا حسنِ اخلاق، پاکیزہ کردار اور تعلیمات آج بھی ہمارے لیے مشعلِ راہ ہیں۔ آپ نے اپنے عمل سے یہ پیغام دیا کہ دلوں پر حکمرانی کے لیے تلوار نہیں بلکہ اخلاقِ حسنہ درکار ہوتا ہے۔۔
