Feb 7, 2026 04:46 AM Asia/Kathmandu
ہمیں فالو کریں:
سیرتِ خواجہ غریب نواز ر اور تاریخِ سلسلۂ چشتیہ:مفتی محمد انیس الرحمن حنفی رضوی

سیرتِ خواجہ غریب نواز ر اور تاریخِ سلسلۂ چشتیہ:مفتی محمد انیس الرحمن حنفی رضوی

25 Dec 2025
1 min read

سیرتِ خواجہ غریب نواز ر اور تاریخِ سلسلۂ چشتیہ

از مفتی محمد انیس الرحمن حنفی رضوی 

جامعہ خوشتر رضائے فاطمہ گرلس اسکول

 سوار ضلع رامپور یوپی 

اسلامی تاریخ میں برصغیر ہند کو جو روحانی و دینی امتیاز حاصل ہوا، اس کی بنیاد محض فتوحات یا سیاسی اقتدار پر نہیں بلکہ ان اولیائے ربانیین کی خاموش مگر ہمہ گیر جدوجہد پر قائم ہے جنہوں نے اخلاق، محبت، ایثار اور تزکیۂ نفس کے ذریعے دلوں کو مسخر کیا۔ ان ہی نفوسِ قدسیہ میں ایک نمایاں، بلکہ مرکزی مقام عطاے رسول، سلطان الہند، حضرت خواجہ معین الدین چشتی اجمیری رحمۃ اللہ علیہ کو حاصل ہے۔

اللہ تعالیٰ نے ہندوستان میں اسلام کی اشاعت، اس کے تحفظ اور روحانی استحکام کے لیے جس سلسلۂ طریقت کو منتخب فرمایا، وہ سلسلۂ چشتیہ ہے۔ یہ سلسلہ محض ایک صوفیانہ نظام نہیں بلکہ ایک ہمہ جہت تربیتی تحریک ہے، جس نے انسان کو اس کے خالق سے جوڑنے کے ساتھ ساتھ معاشرتی اصلاح، انسانی ہمدردی اور باطنی پاکیزگی کو اپنا شعار بنایا۔ حضرت خواجہ غریب نواز رحمۃ اللہ علیہ اس سلسلہ کے وہ آفتاب ہیں جن کی ضیاء سے برصغیر کی روحانی فضا منور ہوئی۔

سلسلۂ چشتیہ کا تعارف اور تاریخی پس منظر

سلسلۂ چشتیہ کی نسبت خراسان کے مشہور شہر چشت کی طرف ہے جو موجودہ افغانستان میں ہرات کے قرب و جوار میں واقع ہے۔ یہ وہ خطہ تھا جہاں اوائل ہی سے اللہ تعالیٰ کے مقرب بندے انسانوں کی اصلاح، تزکیۂ نفس اور روحانی تربیت میں مصروف رہے۔ ان بزرگوں کے اسلوبِ دعوت میں زہد، قناعت، توکل اور محبت کو بنیادی حیثیت حاصل تھی، جس کے باعث ان کی شہرت عالمِ اسلام کے مختلف حصوں تک پھیل گئی اور اسی نسبت سے یہ روحانی سلسلہ ’’چشتیہ‘‘ کے نام سے معروف ہوا۔ سلسلۂ چشتیہ کے بانی حضرت ابو اسحاق شامی رحمۃ اللہ علیہ ہیں، جن کے نام کے ساتھ سب سے پہلے لفظ ’’چشتی‘‘ منسوب ہوا۔ تاہم اس سلسلہ کو عالمی سطح پر جو وسعت، قبولیت اور دوام حاصل ہوا، وہ حضرت خواجہ معین الدین چشتی حسن سنجری رحمۃ اللہ علیہ کی ذاتِ گرامی کا ثمر ہے۔ دیگر سلاسلِ طریقت کی طرح سلسلۂ چشتیہ کا روحانی شجرہ بھی حضرت علی مرتضیٰ کرم اللہ تعالیٰ وجہہ سے جا ملتا ہے۔

 نام و نسب

برصغیر میں سلسلۂ چشتیہ کے بانی حضرت خواجہ غریب نواز رحمۃ اللہ علیہ کا اسمِ گرامی معین الدین ہے، جبکہ بچپن میں والدین آپ کو محبت سے حسن کہہ کر پکارتے تھے۔ آپ حسنی و حسینی سید تھے اور بارہویں پشت میں حضرت علی مرتضیٰ رضی اللہ عنہ سے آپ کا سلسلۂ نسب جا ملتا ہے۔

پدری سلسلۂ نسب:

خواجہ معین الدین بن غیاث الدین بن کمال الدین بن احمد حسین بن نجم الدین طاہر بن عبدالعزیز بن ابراہیم بن امام علی رضا بن موسیٰ کاظم بن امام جعفر صادق بن محمد باقر بن امام علی زین العابدین بن سیدنا امام حسین بن علی مرتضیٰ رضوان اللہ علیہم اجمعین۔

مادری سلسلۂ نسب:

بی بی ام الورع، معروف بہ بی بی ماہ نور بنت سید داود بن سید عبداللہ حنبلی بن سید یحییٰ زاہد بن سید محمد روحی بن سید داود بن سید موسیٰ ثانی بن سید عبداللہ ثانی بن سید موسیٰ اخوند بن سید عبداللہ بن سید حسن مثنیٰ بن سیدنا امام حسن بن سیدنا علی مرتضیٰ رضوان اللہ علیہم اجمعین۔

ولادت اور ابتدائی حالات

حضرت خواجہ معین الدین چشتی رحمۃ اللہ علیہ کی ولادت باسعادت ۵۳۷ھ / ۱۱۴۲ء میں سجستان (سیستان) کے قصبہ سنجر میں ہوئی، اسی نسبت سے آپ سنجری کہلائے۔ آپ کی ولادت کو آپ کی والدہ ماجدہ بی بی ماہ نور نے غیر معمولی روحانی برکات سے تعبیر کیا اور بیان فرمایا کہ دورانِ حمل خیر و برکت میں اضافہ ہوا اور ولادت کے وقت گھر انوارِ الٰہی سے منور تھا۔

(مراۃ الاسرار)

تعلیم، تربیت اور ترکِ دنیا

آپ کی ابتدائی تعلیم خراسان میں والدِ گرامی کے زیرِ سایہ ہوئی جو خود ایک جید عالم تھے۔ کم عمری میں قرآنِ کریم حفظ کیا، پھر تفسیر، حدیث اور فقہ کی تحصیل کی۔ غیر معمولی ذہانت اور قوی حافظہ کے باعث قلیل مدت میں علمی مہارت حاصل کر لی۔

پندرہ برس کی عمر میں والدِ گرامی کا انتقال ہوا اور ترکہ میں ایک باغ اور پن چکی ملی۔ کچھ عرصہ آپ نے اسی سے معاش کا انتظام کیا، مگر اللہ تعالیٰ نے آپ کو ایک عظیم مقصد کے لیے منتخب فرما لیا۔ ایک دن مجذوبِ وقت حضرت ابراہیم قندوزی کی ملاقات نے آپ کی دنیا بدل دی۔ ان کی توجہ اور روحانی فیض سے آپ کے دل میں دنیا سے بے رغبتی پیدا ہوئی، چنانچہ آپ نے تمام جائیداد فروخت کر کے فقراء میں تقسیم کر دی اور حق کی تلاش میں سفر اختیار کیا۔

 تحصیلِ علمِ شریعت

طریقت کی راہ میں قدم رکھنے سے قبل حضرت خواجہ غریب نواز رحمۃ اللہ علیہ نے علمِ شریعت میں کمال حاصل کیا۔ اس مقصد کے لیے آپ سمرقند اور بخارا تشریف لے گئے جو اس زمانہ میں علومِ اسلامیہ کے عظیم مراکز تھے۔ یہاں آپ نے تفسیر، حدیث، فقہ اور علمِ کلام کی تحصیل کی۔ آپ کے ممتاز اساتذہ میں مولانا حسام الدین بخاری اور مولانا شرف الدین صاحب شرع الاسلام شامل ہیں۔

پیرِ کامل کی جستجو اور بیعت

علومِ شریعت کی تکمیل کے بعد حضرت خواجہ نے روحانی رہنمائی کے لیے سفر شروع کیا۔بغداد، مکہ اور مدینہ کی زیارت کے بعد آپ نیشاپور کے قصبہ ہارون پہنچے، جہاں حضرت خواجہ عثمان ہارونی رحمۃ اللہ علیہ کی خانقاہ تھی۔ وہیں آپ کو مرشدِ کامل نصیب ہوئے اور آپ ان کے دستِ حق پرست پر بیعت ہوئے۔

بیعت کا تفصیلی واقعہ خود حضرت خواجہ نے بیان فرمایا ہے، جس میں روحانی مجاہدات، اذکار اور کشفی منازل کا ذکر ہے، اور جس کے اختتام پر مرشد نے فرمایا کہ ’’میں نے تجھے خدا تک پہنچا دیا‘‘۔(انیس الارواح، ملفوظاتِ خواجہ)

خلافت، بشارتِ ہند اور اجمیر کی روانگی

حضرت خواجہ عثمان ہارونی رحمۃ اللہ علیہ نے ۵۸۲ھ / ۱۱۸۶ء میں حضرت خواجہ معین الدین چشتی کو خلافت عطا فرمائی اور فرمایا:

’’معین الدین محبوبِ خدا ہے اور مجھے اس کی خلافت پر ناز ہے۔‘‘بعد ازاں مکہ مکرمہ میں حضرت خواجہ کو بارگاہِ الٰہی سے قبولیت اور مدینہ منورہ میں بارگاہِ رسالت ﷺ سے ہندوستان کی ولایت کی بشارت حاصل ہوئی:’’اے معین الدین! ہم نے تجھے ہندوستان کی ولایت عطا کی ہے…‘‘(سیر الاقطاب) اسی بشارت کے بعد آپ نے چالیس اولیاء کے ہمراہ ہندوستان کا سفر اختیار کیا۔

اجمیر میں قیام اور تبلیغی خدمات

اکثر مؤرخین کے مطابق حضرت خواجہ غریب نواز رحمۃ اللہ علیہ ۵۸۷ھ / ۱۱۹۱ء میں اجمیر تشریف لائے۔ آپ کے اخلاق، حلم، محبت اور روحانی تاثیر نے دیکھتے ہی دیکھتے لوگوں کے دل موہ لیے۔ اجمیر جو کبھی کفر و شرک کا مرکز تھا، اسلام و ایمان کا گہوارہ بن گیا۔

وصالِ مبارک

تقریباً ۴۵ سال تک ہندوستان میں تبلیغِ اسلام کے بعد حضرت خواجہ غریب نواز رحمۃ اللہ علیہ نے ۶ رجب ۶۳۳ھ / ۱۶ مارچ ۱۲۳۶ء کو وصال فرمایا۔ آپ کی پیشانی پر یہ غیبی عبارت لکھی ہوئی تھی:

’’ھٰذا حبیبُ اللہ ماتَ فِی حُبِّ اللہ‘‘

آپ کی نمازِ جنازہ صاحبزادے حضرت خواجہ فخر الدین چشتی رحمۃ اللہ علیہ نے پڑھائی اور آپ اپنے حجرہ ہی میں مدفون ہوئے۔

ازواج و اولاد

حضرت خواجہ نے دو شادیاں کیں۔ پہلی شادی ۵۹۰ھ میں بی بی امۃ اللہ سے اور دوسری ۶۲۰ھ میں بی بی عصمۃ اللہ سے ہوئی۔

اولاد میں تین صاحبزادے اور ایک صاحبزادی شامل ہیں، جن میں حضرت خواجہ فخر الدین چشتی رحمۃ اللہ علیہ نمایاں ہیں۔

حضرت خواجہ معین الدین چشتی اجمیری رحمۃ اللہ علیہ کی ذات محض ایک صوفی یا بزرگ کی نہیں بلکہ ایک ہمہ گیر اصلاحی تحریک کی علامت ہے۔ آپ نے محبت، خدمتِ خلق اور روحانی تربیت کے ذریعے اسلام کو برصغیر کے دل میں اتار دیا۔ آج بھی آپ کا پیغام امن، رواداری اور خدا سے وابستگی کی صورت میں زندہ ہے، اور سلسلۂ چشتیہ اسی نورانی روایت کا امین ہے۔

Abdul Jabbar Alimi

عبدالجبار علیمی نظامی نیپالی۔

چیف ایڈیٹر نیپال اردو ٹائمز 8795979383